جٹ صیب: ہیلن پاپاشولی، جورج پاپاشولی (تخلیقی ترجمہ: محمد ابراہیم)

(کراچی، 1980 کی دہائی)

کراچئے آ کر مے چے مئینا بی نئی گزار لیا تا کہ مے بندی (قیدی) بننے والے تا۔ میں کیسہ کرتا اے کے یہ کیسے او گیے۔

ادر کراچئے مے بڑا خوار نوکَری تا، چُٹی مُٹی (چھُٹی)کچ بیم (بھی) نئی تا۔ نئی ٹیم اچا گزرتا تا ہپتا کا روز میرے کو 60 روپے دے دیتے تے کہ خان صاب تمارا تنخا لیو۔

امارا کام کپڑا دونے کا کارخانہ مے تا۔ کپڑا صپا (صاف)کرتا تا، اودر گیس لگتا تا او گیس امارا سر مے گس کر گلہ او ناک او کان سب جگا گس جاتا تا۔ کانا وانا جو بیم کا جاتا تا وہ گیس کا بو کرتا تا۔

مگر اتوار کا دن بوت ٹیک گزر جاتا تا، سارا دن ام لوگ چُٹی (چھُٹی) کرتا تا اور سیل (سیر) پر جاتا تا۔ جِنا (جناح) باغ میں بڑا خوبصورت درخت اور پول پودا لگایا اُوا تا۔ اودر جا کر ام لوگ اپنا برابر دعوت کرتا تا روش بنا لیتا تا یا پلاؤ، او پکٹری مکٹری کو بُول کر دیتا تا۔ او ایک دن ام سارا لوگ انسان کی طرح زندگی کرتا تا۔

اتوار کا روز چے بج جاتے ہی بس بر جاتا تا، یرا دنیا کا بنی آدم جمع ہوتا تا، پٹان، ماجَر، بلوچ، سرائیکی ، ازاریوال۔ سب اپنا اپنا گَر والی او بچو کو لے کر نکل آتا تا۔ آت میں دری پکڑ لیا ہوتا تا، پانڑی اور روٹی وغیرا۔ چائے کے لیے بیم (بھی) سامان لے کر جاتا کوج لوگ۔ اودر جا کر اپنے اپنے خاص جگہ میں بیٹ جاتے اور کانے کیلیے سامان نکال کر رک دیتے۔ او لوگ تو کیتا تا کہ اے اتوار کا روز ختم ای نہ او جاوے۔

ابی جس اتوار کو میرے سات چَل او گیا او اپرل مئی کا مئینا اوئے گا۔ یرا بڑا مست موسم تا ٹنڈا ٹنڈا ہوا چلتا تا اور زبردست بادل آ گِیا تا۔ مے نے بولا کا یرا آج کج نہ کج او کر رے جائے گا اور بِیخی ایسا ای او گیا۔

اودر پکٹری کا لڑکا اتوار کا روز پنٹ شَٹ پہن کر نکلتا تا پیلے تو مے ان کے سات گپ کرتا تا کہ ’دامن نیچے کر‘ پر میں نے بی اتوار بازار سے زبردس پنٹ شٹ لے لیا اور لمبا لمبا قلمے چوڑ دیا سئی وئید مراد کے جیسا بن کر گیا۔

مے اوس روز بوت سُر میں تا۔

مے تا، میرے سات پانچ چے آدمی اور بیم تا، ام پارک کا سیل کیلیے نکل گیا۔ اپنا واقپ جو بیم (بھی) گَر (اپنے علاقے) والا نظر آتا اس کے پاس بیٹ کر دو تین منٹ گپ لگاتا، چائے پیتا خیر خیریت پوچ کر آگے جاتا۔

ام جا رہا تا کہ ایکدم ایک نے میرے کو آت سے پکڑ کر روک دیا۔ او کوئی بلوچ تا اس نے ایک کیاری انگلی پر کر دیا بولا ’یرا بوت پیارا پول (پھول)ہے ہم لے جاوے گا اور اپنا ماشوقا کو پونچاوے گا‘۔ خداے خبر کے یہ منَحوس کدر سے آگیا اور امارے سات آ کر مل گیا۔

اوس کا بات سن کر سب چیخوں پر ہو گیے بولتے ’ہاں نکالو نکالو پول نکالو ہم سب اپنا ماشوقا کے پاس لے جاوے گا‘۔

میں نے اون سب کو کہہ دیا کہ ’یرا باغ کو کیوں خراب کرتے اے دماغ میں بوسا تو نئی بر لیا ہے؟ عاشیقی ماشوقی کرتے تو لڑکی کو بول دیو ام تیرے کو سلیما (سینما)لے جائے بوقرا (برقع) کر کے آ جاؤ، کانا مانا کیلاو اس کو بات چیت کرو مڑا باغ سے پول چورا کر لے جاوے گا تو لڑکی کیا سوچ لے گا کہ کیا دو لمبر انسان اے‘۔

مگر او لوگ طلاق مال (اُلو کے پٹھو) میرا بات سن ہی نئی رئے تے بالکل زناور کی طرح لوٹ مار کر لیے۔ ایک دوسرے کے سات مقابلہ کرتے تے کہ کون کتنا ٹینیاں چراوے گا۔

میں نے تو صاپ صاپ بولا کہ بئی یہ تو بالکلی دوؤث توب(دیوث پیشہ) کا کام ہے کہ ماشوقا کو ایسا ٹَگی کر کے پول دیتا اے تو سخت بے ناموسی اے۔

ابی میں بول را تا کہ او بلوچ میرے کو بولا ’لالا میرا تسمہ کل گیے ذرا میرے آت سے یہ سارا ٹہنیا لے لو نے ذرا  جا کر تسمہ باند لیتا اے‘۔

ابی مے نے پول لے نئی لیا تا کہ پوُلَس کہیں سے پہونچ گیا ’اچا اچا ، سرکاری املاک کو نوقصان، اچا اچا‘۔

امارا سب سے نام ہوچ لیا اور اپنا سات کاغذ پر لک لیا۔

مے نے پلک شیر سے پوچا ’اے کیا کرتا اے‘۔

’پیشی لکتا اے‘۔

’پیشی کیا شے اے‘۔

’عدالت مے جانا ہوئے گا‘۔

’ام کو بندی (قیدی) بناتا اے؟‘

’آں ایسا ای کوئی ارامتوب (حرامخوری)کیا اے، اس کو پیسہ دیو چوڑ دیوے گا نئی دیا تو پر کتے کی ترا بگا (بھگا) لے گا‘۔

پولس والا میرے کو بولا ’تیرا نام کیا اے بئی‘۔

مے نے بول بی دیا کہ صیب مے نے صیرپ پکڑا اے، چوری نئی کیے مگر او نئی مان لیا ’بڑ بڑ نئی کر نئی ابی اندر کر دے گا تیرے کو‘۔

مے نے سات کا تین چار جنے کو بول بیم دیا کہ پوُلَس والا کو بولے میں چوری نئی کیا مگر اوس نے نئی مان لیا۔ میرا دل بڑا دک گیے کہ اس پولس والا کو تو اپنا باپ کا بات پر بیم باور نئی اوئے گا، اس غریب کا زندگی کیسا خوار اوئے گا۔

بس اوس نے پرچہ کاٹ کر لک دیا اور اپنا راستہ سیدا کر لیا۔

اوس بلوچ کا خداے خبر کیسا تسمہ تا او ابی تک نئی ا گیا تا۔

مے نے کیا ’یرا اے بڑا شَرَم او گیا‘۔

ودود نے بولا ’کیا شرم مڑا‘۔

’یرا وطن مے مے 35 سال زندگی گزار کر لیا، اوجرا (مہمان خانہ) جماعت مے میرا عزت تا جَرگے کا آدمی تا، ایک بار بی کوئی میرے کو بد نئی دیکا، کراچئی مے چے مئینا نئی او گیا کہ میرا نام چور کر دیا اے۔ تو بولتا اے ’کیا شرم مڑا‘،  جانی خیل سے مے خانَدان کا عزت تو خراب کرنے نئی آیے، میرا باپ سن لیا تو اپنے سات کیا سوچ لے گا کہ مساپَری مے اس نے میرا نام شرما دیا اے‘۔

ودود میرے کو بول لیا ’یرا عدالت مدالت کوئی نئی جاتے توڑا پیسہ لگینگا او دے دیو گر چلو، تو پارغ بوت اے کہ عدالت جاتے، توڑا جرمانو دیو جان چھڑاؤ مڑا‘۔

’مے کیا نئی اے تو جرمانہ کس کا دیوے؟‘

 ’یرا عدالت تیرے کو بلا پیسہ کاٹ لے گا، ایک دن کا تنخا جدا کٹ جاوے گا۔ ابی چلتا اے میٹادر اودر ایڈوکیٹ بیٹتا اے اوس کے سات مامیلہ کرے گا، اوس کا ادر تانڑے والو کیسات لینڑ (تعلق) اے، اے پرچہ پونچ ای نئی جاوے گا عدالت‘۔

  ’اے ایجوگیٹ کیا شے اے، ایجوگیٹ تعلیم کو بولتے نا؟‘۔

  ’یرا خو، مڑا اودر آدمی اے ایک کِدر پس مَس جاوے تو لوک اس کا پاس جاتے۔ جورمانہ مرمانہ لگے، چالان او جاوے نوٹَس ا جاوے اوس کا پاس لوک جاتے اوس کا تانڑے میں لینڑ اے او کام نکال کر دیتا اے‘۔

 ’تو ایجوگیٹ او گیا نا اتنا لینڑ اے اوس کا تو‘۔

   ’یرا ایڈوکیٹ، ابی تیرے کو ادر دَرَس نئی شوروع کر کے دے سکتے۔ ایڈوکیٹ ظالم کا بچہ اے اس کا ار جگہ تالوق نکلتے۔ بلا رشتے دار اے اسکا‘۔

  ’ایڈوُکیٹ کا دپتر پونچ گیا مے دیک لیا کہ اس نے بڑا بندوبس کیا اوے کہ لوگ سمج لیوے کہ اے بڑا عزت کا خاوند اے مگر مے دیک لیا۔ قالین اوس کا دو لمبر تا ایسا قالین تو گاؤ مے کوئی گائے کو بی نئی رک دے مگر ادر کراچئی مے لوکو کو ایتنا سمج نئی آتے اس بات پر، پانوس (فانوس) بیم میرے کو دو لمبر مالوم او گیا اور میز بیم لگتا  کدر کباڑی سے برابر کیا تا۔ مے ودود کو بول بیم دیا ’یرا اس کا تو ایسا عجیبہ دپتر اے دیک لیو کدر آدمی بیم کباڑ کا نہ اووے‘۔‘

      او میرے کو بول دیا ’یرا منہ کو تالا دیو ابی تیرے کو پیر پرچا کٹانا اے؟‘

ایڈوُکیٹ آکر بولے ’آں شازادو، مے کیا خذمت کر سکتے، لپڑا مپڑا اے کوج؟‘

مے اوس کو پرچہ دیکایا۔

’او ہو ہو ہو، پولس۔ تو ماجَر اے؟‘۔

’آں، ایدر تو ماجَر اے‘۔

’اچا ایسا کر لیو تم چے آدمی اے، عدالت تیرے کو 65 رپیا جورمانہ کرینگا میرے کو 15 رپیہ آدمی کا 105 رُوپے دو، بات ختم کر دے گا۔ میرا واقپیت اے تانڑے مے سارا کام اوکے کر دے گا۔ ویسا 25 رپیا بنتا اے مگر تم بچارہ ماجر (مہاجر) لوک اے تمارا خاطر کر کے 15 بولے‘۔

یرا میرا دل اس سے اور بی کالا او گیے کہ اے دیوث ایسا منہ کا احسان کرتے۔ مے کیے ’دیکو مے کوئی چوری موری نئی کیے، اور مے مپت مے بدنامی اپنی طرپ نئی کینچے گا ۔ میرے کو پانسی دے لو تب بی نے نئی مانتے تو 65 روپیے کیتے‘۔

خو بس بات نئی بن گیے۔ ایجوگیٹ سے کوئی بات نئی بن گیے۔ او بولتے اے آدمی کا دماغ چل گیے۔

ودود بول دیے چلو رپیق بائی کے پاس چلتے۔ او بنگالی تا مگر کچ بندوبس کر کے شَناخَتی کاٹ بنا لیا تا او دوکان بیم لگا لیا تا۔ مے گیے بولے رپیق بائی ایسا ایسا بات اے۔

او بولے ’ایجوکیٹ میجوکیٹ سب چوڑو، میرا بات سن لیو، مے ادر کا سسٹم پر اچّا سمجے  7 سال سے شناخَتی کاٹ بنایے۔ او عدالت مے جو بی الزام رک دے تیرے پر تو بول ’قبول نئی اے جج صیب‘۔‘

’قبول نئی اے جج صیب، اوس کا نام جج اے؟‘

’جج مانا قاضی، ادر سارا قاضی کو جج بولتے‘۔

’اچا قبول نئی اے جج صیب، پِر؟‘۔

’یرا ایمانداری سے اپنا بات کر دیو ٹیک اے؟ وکیل لوک تو سب جگہ ارامخور اے مگر جج بعض نیم (ایک آدھ) بڑا شریپ آ جاتے۔ یرا تیرا قسمت خراب ہوئے تو کوئی ٹکا خان کا اولاد جج بیم ا سکتے پتہ نئی لگتے مگر زیادہ جج گزارا کر لیتے، جورمانا ورمانا او جاوے پروا نئی کرو میرا پاس آ جاؤ۔ ‘

’رپیق بائی تو کیا کرے گے؟‘۔

’مے جورمانا ورمانا بر دے گا تیرا، اصیل آدمی اے تو بات پر کڑا اے اپنا۔ باد مے میرے کو توڑا توڑا کر کے دے لیو۔ ‘

ابی اگلا دن مے سویرے عدالت مے پوونچ گیے۔ میرا سات کا چے آدمی کوئی بیم نئی اے اوس سب کو ایجوگیٹ نے بچا لیے۔

ابی میرا نام لیتے مگر میں سمج نئی رے۔ میرے سے سارا سبق خطا ہو گیے، اور میرا سارا اردو بُول (بھول) گیے ۔ رپیق بائی نے کیسے بتایا تا قاضی کو کیا بولے گا؟ رئیس صیب؟ نہ یرا او تو پارسی (فارسی) اے، ابی وہ میرے کو کچھ پوچھتے اے جواب دینا ہوئے گا میں نے دل سخ (سخت) کیے اور بولے ’قبول نئی اے جٹ صیب‘۔

عدالت میں شور شرابا مچ گیے۔ ہنستے جاتے اے ہنستے جاتے اے بالکل اسپ کی طرح ہن ہن کرتے۔ جج نے اتوڑا ات مے لیے اے میز پر تین چار بار مار لیے۔ اوس کا منہ بالکل سُرَخ او گیے۔ مے کیے یرا ابی تو اے گرم او گیے میرے کو ضرور تختا کر دے گا۔

جج تو پیلے عدالت مے بیٹ گئے لوگو پر غصہ ہوگیے ’اضرات عدالت کا ایترام ملحوظ خاطر روے، اے عدالت اے ادر سوقیانہ رویہ نئی چل جائے گا‘۔

ابی او میری طرف منہ کر لیے ’میا (میاں)، جناب سے کام چل جائے گا‘۔

’جی جناب‘۔

’کیا تمے الزام سے انکار اے‘۔

’آں جی جناب، میرے کو قبول نئی اے‘۔

’مگر کانسٹیبل کیتے تم اور کچ نامالوم لوک باغ سے پول توڑ را تا‘۔

’جناب او توڑ را تا مے نئی توڑے‘۔

’کوئی ثبوت‘۔

’نئی جناب، او نامالوم لوک میرے کو مالوم اے مگر او آج نئی ا گئے او ایجوگیٹ کے سات لینڑ کر لیے‘۔

’تو تم نے کیوں نئی کیے‘۔

’جناب مے اگر جُرَم کیے مے کُلا سینہ پر مانتے کے مے کیے مگر مے نے نئی کیے تو مے مُپت مے ایسا شَرَم اپنے طرپ نئی کینچتے۔ قاضی کے سامنے جوٹ بول دے اے بی تو جُرَم اے، نئی؟‘۔

’بیشک، پاکستان آ کر تیرے کو کتنا عرصہ او گیے‘۔

’چے مئینا او گیے جناب‘۔

’یاں پیلے عدالت میں ائے‘۔

’نئی جناب‘۔

’اپنا وطن مے کسی جگڑا مے ملوث اُوے؟ قتل وغیرا؟‘۔

’آں جی جج صیب، بوت قتل کیے اے‘۔

’کتنا‘۔

’سو ایک مارا اوئے گا، پہلا سال کے بعد میں ایساب کتاب چوڑ دیے‘۔

’اے واقعات کاں پیش ائے‘۔

’جہاد مے، میرے کو بولے جو پدر نالت (اس کے باپ پر لعنت) روسی نظر آوے اس کو مار دیو، اردو کا لوگ بیم تا مگر وہ غریب پر ہم سے جان چپاتا تا‘۔

’اچا ، میرا مطلب تا عام زندگی مے۔ جنگ کے علاوا۔ کسی ہر ہات اُٹائے؟‘

’آں جی اپنا گاونڈی (پڑوسی) کا لات توڑ دیا تا‘۔

’او کیوں‘۔

’او امارا کتا کو ذار کِلا کر مار دیے اس لیے‘۔

’درست۔ بس ایک بار؟‘۔

’آں جناب‘۔

جٹ صیب نے پوُلَس والے کو پوچ لیے ’کیا تم نے خود دیک لیے کہ اے پول توڑتا تا‘۔

’جی نئی جناب، مگر نامالوم لوک کے سات یہ بیم کڑا تا، او سب باگ گیے یہ پول پکڑ کر کڑا تا‘۔

’میرے دانست مے یہ شخص بے قصور ہے، تم کو غلط پیمی ہو گیے، مقدمہ برخاست‘۔

ابی سنو، اتنا عزت مرتبے والا جج تا، او میرے طرپ مڑ گیے ، یرا مے عاجَز آدمی اے ، مسکین اے، ماَجر اے، وطن سے دور اے، پر بی او جج میرے کو کیا بولتے؟ سنو میرے کو بولتے، او بولتے ’خان ام تم سے آت ملانا چاوے گا‘۔

اور پِر اس نے ایسا کیا بیم، واللہ پورا عدالت کو دِکا کر میرے سے آت ملا لیے۔

ماخذ: unz.org

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search