گواہ: خورخے لوئیس بورخیس(ترجمہ: عاصم بخشی)

        پتھر کے ایک نئے تعمیر یافتہ کلیسا کے سائے میں  واقع ایک اصطبل  میں  سرمئی آنکھوں اور  داڑھی  والا ایک آدمی جانوروں کی بُو  میں پڑا  کچھ ایسی عاجزی سے موت کا انتظار کر رہا ہے جیسے نیند کا منتظر ہو۔دن ،  لاتعداد خفیہ قوانین کے تابع ، آہستگی سے ڈھلتے ہوئے اُس  پست حال زمین پر پڑتے سایوں کوباہم گڈمڈ کررہا ہے. باہر  ہل چلے کھیت  ، مردہ پتوں سے بھرا  ایک گڑھا  اور عین اس جگہ   سیاہ کیچڑ میں کسی بھیڑئیے  کی قدموں کے نشانات ہیں  جہاں سے جنگلوں کا آغاز ہوتا ہے۔ آدمی حالتِ خود فراموشی میں  بے سدھ پڑا محوِ خواب ہے۔

کلیسا میں دعائے تجسیم کی گھنٹیوں سے اس کی نیند ٹوٹتی ہے ۔ انگلستان کی راجدھانیوں میں  گھنٹیوں کا بجنا  اب  شام  کی مذہبی رسومات میں داخل ہے مگر اِس آدمی نے بچپن میں ووڈن کا چہرہ ، سماوی دہشت  و شادمانی، رومی سکّوں اور بھاری پوشاک  سے لدا ایک  خام چوبی بت، اور گھوڑوں ، کتوں اور قیدیوں کی قربانی کے مناظر دیکھے ہیں۔ پو پھٹنے سے قبل ہی اس کی جان نکل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی پاگان رسومات کے آخری عینی شواہد بھی کبھی واپس نہ لوٹنے کے لیے دم توڑ دیں گے ۔ اس سیکسن کی موت کے ساتھ ہی دنیا کی جھولی ذرا خالی ہو جائے گی۔

         وہ چیزیں اور واقعات  جو  وسعتِ مکاں کو لبریز  توکرتے ہیں لیکن پھر بھی کسی کے مرتے ہی اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں،  شاید ہمیں ٹھٹک کر  حیرانی پر مجبور کر دیں ، لیکن   کوئی ایک چیز، یا  لامتناہی  چیزیں ہر آدمی یا عورت کی موت کےساتھ ہی مر جاتی ہیں تاوقتیکہ    کائنات کو ئی آفاقی یاداشت رکھتی ہو جیسا کہ عارفوں کا کہنا ہے ۔  زمانوں پہلے وہ دن بھی گزرا  جس نے یسوع مسیح پرنگاہ ڈالنے والی آخری آنکھوں  کی شمع بجھا دی۔  معرکۂ جنین اور ہیلن  کی محبت ایک آدمی کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔ میں مروں گا تو اس دن میرے ساتھ کیا کچھ  مر جائے گا؟ دنیا  کون سا دل سوز یا نازک عکس کھو دے گی؟ کیا مقدونیہ فرنانڈزکی آواز؟ سرانو اور چارکاس کی نکڑ والی خالی جگہ  پر کسی سرخ گھوڑے کی شبیہ؟   مہوگنی لکڑی کی بنی کسی میز کے دراز میں گندھک کا کوئی ٹکڑا؟

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search