رومی کی شاعری سے اسلام کا خاتمہ: روزینہ علی (مترجم: طلحہ شہاب)

نوٹ: روزینہ علی نیویارکر میگزین کے ادارتی عملے سے منسلک ہیں۔ انکا یہ مضمون پانچ جنوری، 2017 کو نیویارکر میگزین میں شائع ہوا جسکا ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

چند برس قبل، جب (برطانوی راک بینڈ) کولڈ پلے (Cold      Play) سے وابستہ موسیقار کرس مارٹن (Chris      Martin) اپنی بیوی گوینتھ پالٹرو (Gwyneth      Paltrow) سے طلاق لینے کے دوران  افسردگی سے دوچار تھا، تو اس کے دوست نے حوصلہ بڑھانے کی غرض سے اسے ایک کتاب دی۔ یہ کتاب تیرھویں صدی عیسوی کے فارسی شاعر جلال الدین رومی کی شاعری پر مشتمل تھی، جسے کولمین بارکس (Coleman      Barks)  نے فارسی سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا تھا ۔ بعد ازاں، مارٹن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ’’اس نے میری زندگی بدل  کے رکھ دی‘‘۔کولڈ پلے کی حالیہ البم  کے ایک نغمہ میں بارکس رومی کی ایک نظم پڑھتا دکھائی دیتا ہے:

انسان ہونا ایک مہمان خانہ ہونے کے مترادف ہے

ہر صبح ایک نیا مہمان آ جاتا ہے

ایک خوشی، ایک غم، ایک پستی

ایک لمحاتی آگہی بھی آن وارد ہوتی ہے

ایک غیرمتوقع مہمان کے طور پر

رومی، (مغنیہ ) میڈونا (Medonna)، (برطانوی اداکارہ)  ٹلڈا سونٹن (Tilda      Swinton) جیسی دیگر معروف شخصیات کے روحانی اسفار میں بھی مددگار ثابت ہو چکے ہیں، جن میں سے چند ایک  نے کرس مارٹن کی طرح  کلامِ رومی  کو اپنے نغموں میں شامل کیا۔ رومی سے منسوب کئی اقوال، ترغیب و تحریک کی غرض سے سوشل میڈیا پر شبانہ روز گردش کرتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق ’’ہر ایک تکلیف سے دلبرداشتہ ہونے کی صورت میں  فرد کے اندر نکھار کیسے آئے گا ‘‘   (If      you      are      irritated      by      every      rub,      how      will      you      ever      get      polished) ۔  یا پھر’’جس لمحے، میں چھینی  کے ساتھ اپنی قسمت  کی صورت گری کرتا ہوں، اس لمحے میں اپنی روح  کا بڑھئی ہوتا ہوں‘‘(Every      moment      I      shape      destiny      with      chisel.      I      am      the      carpenter      of      my      own      soul) ۔  انٹرنیٹ پر بکثرت بارکس کے تراجم کا اشتراک کیا جاتا ہے؛ یہی تراجم امریکی کتب فروشوں کے ہاں پائے جاتے ہیں نیز شادی کی تقریبات میں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ رومی کو بسا اوقات امریکہ میں ہاتھوں ہاتھ بکنے والے شاعر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ نیز ان کا ذکر ایک روحانی شخصیت، درویش، صوفی اور روشن خیال شخص کے طور پر کیا جاتا  ہے۔ تاہم تعجب کی بات ہے کہ اگرچہ رومی تاعمر اسلام اور قرآن مجید کے عالم رہے، انھیں کم کم ہی ایک مسلمان کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

مارٹن نے اپنی البم میں جن اشعار کو شامل کیا، ان کا تعلق رومی کی چھ جلدوں پر مشتمل طویل نظم ’’مثنوی‘‘ سے ہے، جسے انھوں نے زندگی کے آخری ایام میں تحریر کیا۔ پچاس ہزار مصرعوں پر مشتمل  مثنوی  کا بیشتر حصہ فارسی میں ہے، لیکن مثنوی کو مسلمانوں کی مقدس کتاب (قرآن مجید) کے عربی اقتباسات  کے ساتھ  پہیلیوں کی صورت پرویا گیا ہے۔ مثنوی میں بارہا ان قرآنی قصص کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اخلاقی درس دیتے ہیں۔ (مثنوی، جسے چند عالم نامکمل خیال کرتے ہیں، ’’فارسی قرآن‘‘ کی عرفیت سے منسوب کیا جاتا ہے)۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ (University      of      Maryland) میں فارسی کی ایک پروفیسر فاطمی کیشاورز (Fatemeh      Keshavarz) نے راقم الحروف کو  بتایا کہ رومی غالباً حافظ قرآن تھے، کیونکہ اپنی شاعری میں وہ جابجا قرآن مجید سے استدلال کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ رومی نے بذاتِ خود ’’مثنوی‘‘ کو ’’اصل مذہب کی اصل‘‘ یعنی اسلام، اور ’’قرآن مجید کی شرح‘‘ کہا۔ مگر پھر بھی امریکہ میں اس قدر کثرت سے فروخت ہونے والے تراجم میں مذہب کا سراغ کم ہی ملتا ہے۔ رٹگرز(Rutgers) میں قدیم تصوّف کے عالم، جاوید مجددی  نے حال ہی میں مجھے بتایا، ’’رومی جسے لوگ پسند کرتے ہیں، انگریزی زبان میں بہت خوبصورت ہے، لیکن آپ اس پسندیدگی کی قیمت رومی کے ثقافتی اور مذہبی تشخص کے خاتمے کی صورت میں ادا کرتے ہیں‘‘ ۔

رومی تیرھویں صدی کے اوائل میں، اس علاقے میں پیدا ہوئے جو اب افغانستان ہے۔ بعد ازاں اپنے خاندان کے ہمراہ ، موجودہ ترکی  کے شہر، قونیہ میں آ بسے۔ ان کے والد مبلغ اور مذہبی عالم تھے، اور انہوں نے ہی  رومی کو تصوّف سے متعارف کروایا ۔ رومی نے ملک شام  میں کلامی روایت کے متعلق اپنی تعلیم  کو جاری رکھا، جہاں انھوں نے سنی اسلام کے روایتی اصول و ضوابط کو سمجھا، اور بعد میں ایک مذہبی درسگاہ کے معلم کی حیثیت سے قونیہ لوٹ آئے۔ قونیہ ہی میں ان کی ملاقات، شمس تبریز نامی  ایک بزرگ مسافر سے ہوئی، جو بعد ازاں ان کے مرشد ہوئے۔ رومی و شمس تبریز کی عمیق دوستی سے متعلق بہت بحث مباحثہ ہوتا ہے، تاہم  سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ  شمس  تبریز نے رومی کے مذہبی عقائد اور شاعری پر دیر پا اثرات مرتب کیے۔ رومی کی ایک نئی سوانح ’’اسرار رومی‘‘ (Rumi’s      Secret)  کے اندر بریڈ گووچ (Brad      Gooch) بیان کرتا ہے کہ کیسے شمس  تبریز نے قرآنی آیات پر بحث کرتے ہوئے اور عبادت کے ذریعے واصل باللہ  ہونے کے  طریق پر زور دیتے ہوئے  رومی کو اس جانب مائل کیا کہ وہ اپنی مذہبی تعلیم پر سوال اٹھائیں۔ رومی نے تصوف کے ذریعے حاصل کردہ وجدانی محبتِ باری تعالیٰ  کو سنی اسلام کے  فقہی اصولوں اور شمس تبریز کی سکھائی ہوئی روحانی فکر کے ساتھ آمیز کیا۔

کیشاورز نے راقم الحروف کو بتایا کہ گوناگوں فکری سرچشموں سے فیض اٹھانا ہی رومی کو اس کے معاصرین سے ممتاز کرتا ہے۔ اس رنگا رنگی کے باوجود رومی نے قونیہ جیسے عالمگیر شہر میں، جو صوفیا، مسلمان  ظاہریوں (literalists) اور متکلمین، عیسائیوں، یہودیوں، اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی سنی سلجوق حکمرانوں  پر مشتمل تھا، اہم رسوخ حاصل کیا۔ گووچ ’’اسرارِ رومی‘‘ (Rumi’s      Secret) میں نہایت سہل انداز میں ان سیاسی واقعات اور اس مذہبی تعلیم کو بیان کرتا ہے جس نے رومی پر اثرات مرتب کیے۔ گووچ لکھتا ہے کہ ’’رومی ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ساری عمر باقاعدگی سے نماز روزے سے متعلق اصولوں پر عمل پیرا رہے‘‘ ۔ اگرچہ گووچ کی مذکورہ کتاب میں بھی ایسے حقائق اور اس نتیجے پر پہنچنے کی خواہش میں کہ رومی نے ایک اعتبار سے اپنے ماحول سے اوپر اٹھنے کی جدوجہد کی، تضاد نظر آتا ہے جیسا کہ گووچ لکھتا ہے، ’’رومی نے ’محبت کے ایسے مذہب‘ کی تشکیل کا دعوی کیا جو تمام مروجہ عقائد کی اقلیم سے ماورا تھا‘‘۔ رومی کے ایسے دورخے مطالعے میں جو شے قاری سے نظر انداز ہو سکتی ہے، وہ یہ  ہے کہ رومی کی اسلامی تعلیمات نے کس حد تک اُن کے غیر روایتی ’مذہبِ محبت‘ تصورات کو ایک صورت میں ڈھالا۔ جیسا کہ مجددی لکھتے ہیں، قرآن مجید  یہود و نصاریٰ کو ’’اہل کتاب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہے، جو آفاقیت کا نقطہ آغاز ہے۔ ’’بیشتر لوگ آج رومی کی جس آفاقیت کا احترام کرتے ہیں وہ اس کے مسلم پس منظر کا نتیجہ ہے‘‘ ۔

رومی کی شاعری سے اسلام کے کھرچے جانے  کا آغاز (برطانوی راک بینڈ)  کولڈ پلے سے بہت پہلے  ہوا۔ ڈیوک یونیورسٹی  میں مشرق وسطیٰ اور اسلامی علوم کے پروفیسر جناب اومد صفی (Omid      Safi)، بتاتے ہیں کہ وکٹورین دور سے ہی قارئین نے صوفیانہ شاعری کو اس کی اسلامی روایت سے علیحدہ کرنے کا آغاز کیا۔ اس وقت کے متکلمین اور مترجمین، غیرمعمولی اخلاقی اور قانونی اصولوں کے حامل ایک ’’صحرائی مذہب‘‘ کے متعلق اپنے تصورات اور رومی و حافظ جیسے شعرا کے کلام  کے مابین مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ اومد صفی کے بقول، ان متکلمین اور مترجمین نے اس عدم مطابقت کی یہ توجیہ تراشی کہ ’’رومی و حافظ کی روحانیت، اسلام کی بدولت نہیں بلکہ اسلام کے باوجود تھی‘‘ ۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان وہ واحد گروہ تھا جسے قانونی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا۔ 1790 کے ایک قانون نے امریکہ میں داخل ہونے کے خواہشمند مسلمانوں کی تعداد پر پابندی لگائی، اور ایک صدی کے بعد امریکی سپریم کورٹ نے ’’مسلمانوں کے ہاں دیگر مذاہب کے خلاف دشمنی، بالخصوص عیسائیوں کے ساتھ ان کی شدید عداوت کو بیان کیا‘‘۔ 1898 میں، ’’مثنوی‘‘ کے تعارفی باب میں سر جیمز ریڈ ہاؤس (Sir      James      Red      House) نے لکھا، ’’مثنوی ان سے خطاب کرتی ہے جو دنیا کو ترک کرنے، خدا کو جاننے اور اس کو پانے، اپنی ذات کو مٹا دینے، اور خود کو روحانی مراقبوں میں مشغول رکھنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔ یوں مغرب میں رومی اور اسلام کی جدائی کا آغاز ہوا۔

بیسیوں صدی میں پے در پے نمایاں مترجمین نے، جن میں آر اے نکلسن (R.     A      Nicholson)، اے جے آربری (A.     J      Arberry)، اور اینمیری شمل (Annemarie      Schimmel) شامل تھے، انگریزی ادب میں رومی کی موجودگی کو تقویت بخشی۔ لیکن یہ بارکس ہے جس کی بدولت رومی کے قارئین میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہوئی۔ وہ مترجم نہیں ہے بلکہ ترجمان ہے۔ وہ فارسی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا۔ لہذا نئے ترجمے کی بجائے، وہ انیسویں صدی کے تراجم کو امریکی طرزِ گفتگو میں منتقل کر دیتا ہے۔

یہ ایک مخصوص قسم کی شاعری ہے۔ بارکس 1937 میں چیٹا نوگا، ٹینیسی (Chattanooga      Tennessee) میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ 1971 میں اس نے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی  اور اپنی شاعری کی کتاب، ’’دی جوس‘‘ (The      Juice) شائع کی۔ بعد ازاں اسی دہائی میں اس نے پہلی دفعہ رومی کا نام سنا، جب ایک اور شاعر، رابرٹ بلائے (Robert      Bly) نے اسے اے جے آربری کے رومی کے ترجمے کا ایک نسخہ تھمایا اور بتایا کہ ’’اس مواد کو اپنے پنجروں سے ہر صورت آزاد ہونا ہے‘‘ یعنی اس ترجمہ کو امریکی زبان کی آزاد نظم کی صنف  میں منتقل کرو۔ (رابرٹ بلائے کی شاعری کو نیویارکر میں شائع ہوتے ہوئے تیس برس سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور اس کی  کتاب ’’آئرن جون(Iron      John) : مردوں کے متعلق ایک کتاب‘‘ (مطبوعہ 1990) جدید انسان کی تحریک کے بارے میں بہت زیادہ معلومات فراہم کرتی  ہے۔ اس نے بعد ازاں خود بھی رومی کی چند نظموں کا ترجمہ کیا)۔ بارکس نے کبھی اسلامی ادب کا مطالعہ نہیں کیا۔ تاہم جورجیا سے بذریعہ فون اس نے مجھے بتلایا کہ اس البم کے کچھ ہی عرصہ کے بعد اس نے ایک خواب دیکھا تھا۔ خواب میں وہ دریا کے قریب واقع ایک پہاڑی  پر سو رہا تھا جب ایک اجنبی ایک دائرہ نور میں نمودار ہوا اور  اسے کہا ’’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘۔ بارکس نے اس سے پہلے کبھی اس شخص کو نہیں دیکھا تھا، لیکن ان دونوں کی ملاقات آئندہ برس میں فلاڈلفیا کے قریب ایک متصوفانہ تقریب میں ہوئی۔ وہ شخص اس صوفی سلسلے کا رہنما تھا۔ بارکس نے بلائے (Bly) کے دیے گئے رومی کے وکٹورین تراجم کا مطالعہ کرنے اور ان کو نئے (امریکی شاعری کے) سانچوں میں ڈھالنے کے عمل میں اپنا وقت بتانا شروع کر دیا۔ اب تک بارکس، رومی سے متعلق ایک درجن سے زائد کتابیں شائع کر چکا ہے۔

ہماری گفتگو کے دوران بارکس نے کلامِ رومی کو ’’کشائش قلوب  کے اسرار‘‘ کے طور پر بیان کیا۔  بارکس کے مطابق، یہ ایک ایسی بات ہے جسے ’’بیان کرنے کے واسطے آپ کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں‘‘۔ اس ناقابل بیان مفہوم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بارکس نے کلامِ رومی کی تعبیر و تشریح کے ضمن میں تھوڑا بہت تصرف کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس نے اسلام کے حوالوں کو گھٹا دیا ہے۔ مشہور نظم ’’Like      This‘‘ کی مثال لیجیے۔ آربری (Arberry) اس کی ایک سطر کا ترجمہ، قدرے ایمانداری سے، یوں کرتا ہے ’’جو کوئی تم سے حوروں سے متعلق دریافت کرتا ہے، (اپنے) چہرے کو آشکار کرو (اور کہو)، ’اس کے مثل ‘‘‘ (Whoever      asks      you      about      the      Houris,      show      (your)      face      (and      say      ‘Like      this)۔ حوریں، وہ ناکتخدا جنتی عورتیں ہیں جن کا اسلام میں وعدہ ہے۔ بارکس اس لفظ کے لغوی ترجمے سے بھی گریز کرتا ہے، اس کے نسخے میں، یہ سطر کچھ یوں بن جاتی ہے، ’’اگر کوئی تم سے دریافت کرتا ہے کہ تمہاری ساری جنسی خواہشات کی کامل تسکین کیسے ہوگی، اپنے چہرے کو اٹھاؤ اور کہو، ایسے‘‘ ( if      anyone      asks      you      how      the      perfect      satisfaction      of      all      our      sexual      wanting      look,      lift      your      face      and      say,      Like      this) ۔ اسلامی سیاق بالکل غائب ہو گیا ہے۔ تاہم، بارکس اسی نظم میں دوسرے مقامات پر یوسفؑ (Joseph) اور یسوعؑ (Jesus) کے حوالوں کو برقرار رکھتا  ہے۔ جب میں نے اس بابت دریافت کیا، تو بارکس کا جواب تھا کہ وہ نہیں سمجھتا کہ اس نے ایسا دانستگی میں کیا۔ بارکس کے مطابق، ’’ میری پرورش پریسبیٹیرین کلیسائی اصولوں کے مطابق ہوئی‘‘۔ اس کے بقول، ’’ میں بائبل کی آیات دہراتا تھا اور عہد نامہ جدید کو قرآن مجید سے زیادہ جانتا ہوں‘‘۔ مزید براں، ’’قرآن مجید کو پڑھنا  دشوار ہے‘‘۔

کئی دیگر افراد کی مانند، اومد صفی (Omid      Safi) بھی اس بات کا سہرا بارکس کے سرباندھتا ہے کہ اس نے رومی کو امریکہ میں لاکھوں قارئین سے متعارف کروایا ہے۔ رومی کو امریکی شاعری کے قالب میں ڈھالنے میں بارکس  نے اپنا بہت وقت اور توجہ رومی کے کلام اور حیات کے نام کر دی ہے۔ علاوہ ازیں، رومی کے دوسرے تراجم ہیں جو بارکس کے ترجمے کی نسبت اصل رومی سے کہیں زیادہ مختلف ہیں، جیسا کہ دیپک چوپڑا اور ڈینیئل  لاڈنسکی کی ’’ نئے دور کی کتابیں‘‘ (New      Age      Books) جو اگرچہ رومی کے نام سے فروخت ہوئیں تاہم ان میں اصلی کلامِ رومی سے  مشابہت خال خال ہے۔ روحانی تحاریر کے مصنف اور متبادل علم طب کے شوقین، دیپک چوپڑا اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس کے تراجم رومی کے افکار سے بہت مختلف ہیں۔ بلکہ وہ اپنی کتاب ’’رومی کے نغماتِ محبت‘‘ (The      Love      Poems      of      Rumi) کے تعارف میں لکھتا ہے، اس کے تراجم ’’ اپنے ماخذ کی ماہیت کو برقرار رکھتے ہوئے چند احساساتی تاثرات کو قلمبند کرتے مصرع ہیں جو نئے ہیں، پر فارسی میں اصل کلام کو پڑھ کر اخذ کیے گئے ہیں اور اصل کلام کا جوہر برقرار رکھتے ہیں‘‘۔

نئے دور (New      Age) کے ’’تراجم‘‘ سے متعلق بات کرتے ہوئے اومد صفی (Omid      Safi) نے کہا، ’’میں یہاں ایک قسم کی ’روحانی استعماریت‘ کو بروئے کار دیکھتا ہوں، جس کا مقصد بوسنیا اور استنبول سے لے کر قونیہ  اور ایران سے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے باطن میں ظہور پذیر ہونے والے مسلمانوں کے روحانی منظر نامے کو مٹانا، بدلنا اور اس پر قابض ہونا ہے‘‘۔ اسلامی سیاق و سباق سے روحانیت کو کشید کرنے کے بہت خطرناک مضمرات ہیں۔ اسلام کو مستقلاً ’’کینسر‘‘ کے مرض کی مانند تشخیص کرنے والوں میں منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب کردہ قومی سلامتی کے مشیر  جنرل مائیکل فلن (General      Michael      Flynn) بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ مبصرین آج کل بیان دیتے ہیں کہ غیر مغربی اور غیر سفید فام گروہوں نے تہذیب کی صورت گری میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

اپنے تئیں، بارکس مذہب کو رومی کے جوہر میں محض ایک  ثانوی اہمیت دیتا  ہے۔ اس کے بقول،   ’’ مذہب دنیا کے لئے فساد کی جڑ ہے‘‘۔’’ہم سب اپنے اپنے سچ کے مالک ہیں، یہ ایک مہمل بات ہے۔ ہم سب اس صورتحال میں اکٹھے ہیں اور میں دلوں کو کشادہ کرنے کے لیے کوشاں ہوں جس میں رومی کی شاعری میری مددگار ہے‘‘۔ بارکس کے اس فلسفے میں شاید کوئی شاعری سے متعلق  رومی کی حکمت عملی کا سراغ لگا پائے: رومی اکثر قرآنی آیات کو فارسی مصرعوں کی بحروں اور شاعرانہ تال میں ڈھالنے کے لیے ان میں ترمیم کرتا ہے۔ لیکن جہاں رومی کے فارسی قارئین اس حکمت عملی کو پہچان سکتے ہیں، وہاں بیشتر امریکی قاری اسلامی روایت سے ناواقف ہیں۔ اومد صفی، قرآن (کے سیاق) کے بغیر مطالعۂ رومی کو بائبل کے بغیر مطالعۂ ملٹن (Milton)سے تشبیہ دیتے ہیں: اگر رومی غیر روایتی سوچ یا عدم تقلید (heterodoxy) کا قائل تھا، تو پھر بھی ضروری ہے کہ اس رویے کو اسلامی سیاق و سباق میں دیکھا جائے اور سمجھا جائے کہ صدیوں پہلے اسلامی ثقافت میں عدم تقلید کی کافی گنجائش موجود تھی۔ کلامِ رومی محض مذہبی تصورات کی نمائندگی نہیں؛ بلکہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اسلامی علمیت کا دائرہ تاریخی طور پرکتنا نامیاتی ہے۔

رومی نے  روایتی تفہیم و مطالعہ پر سوال اٹھانے کی غرض سے قرآن، احادیث، اور اسلام کو تحقیقی انداز میں استعمال کیا ہے۔ بارکس کا ایک مشہور ترجمۂ رومی کچھ اس طرح سے ہے: ’’ ٹھیک اور غلط کے تصورات سے بالا ایک اقلیم ہے۔ ہم وہاں ملیں گے‘‘ (Out      beyond      ideas      of      rightdoing      and      wrongdoing,      there      is      a      field.      /      I      will      meet      you      there) ۔ اصل متن میں ’’ ٹھیک‘‘ اور ’’غلط‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ رومی نے ’’ایمان‘‘ اور’’کفر‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ اب فرض کیجئے کہ ایک مسلم عالم یہ کہہ رہا ہے کہ ایمان کی بنیاد مذہبی اصولوں پر نہیں بلکہ عشق و محبت کی عظیم سرزمین پر ہے۔ آج ہم، اور غالباً کئی مسلم علما، جسے (اسلام کا) انقلابی نظریہ گردانتے ہیں، وہ ایک ایسی تعبیر ہے جو رومی نے سات سو سال قبل پیش کی تھی۔

ایسے مفاہیم اور تعبیرات اس زمانے میں انوکھے نہیں تھے۔ کلامِ رومی نے منظم عقیدے (Institutional      Faith) اور مذہبی روحانیت کے درمیان وسیع تنوع کو ایک انوکھی ذہانت کے ساتھ منعکس کیا۔ اومد صفی کے مطابق، ’’ تاریخی اعتبار سے، مسلمانوں کے تخیل کو قرآن مجید کے علاوہ  کسی بھی دوسرے متن نے اتنا متاثر نہیں کیا، جتنا کہ حافظ اور رومی کی شاعری نے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ رومی کا ضخیم کام، جو اس زمانے میں ضابطۂ تحریر میں آیا جب کاتبوں کو ہاتھ سے لکھ کر نقل تیار کرنا ہوتی تھی، ابھی تک محفوظ رہا ہے۔

مصنف اور مترجم سنان آنتون (Sinan      Antoon) کے بقول، ’’ زبان محض ترسیلِ خیالات کا ذریعہ نہیں ہے۔ یہ حافظے، روایت، اور تشخص کا ذخیرہ بھی ہے‘‘۔ مترجمین، جو دو ثقافتوں کے مابین دروازہ بنتے ہیں، انہیں ایک سیاسی معاملے سے نمٹنا پڑتا ہے۔ ان کو لازماً اس بات کی کھوج لگانی ہے کہ تیرھویں صدی کے ایک فارسی شاعر کو موجودہ زمانے کے امریکی سامعین کے لیے کیسے قابل فہم بنایا جائے۔ تاہم ان پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اصل  متن سے وفاداری نبھاتے ہوئے یہ کام سرانجام دیں۔ انکا یہ فعل رومی کے قارئین کو یہ باور کرانے میں مدد دے گا کہ کیسے ایک شریعت کا عالم دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی رومانوی شاعری بھی لکھ سکتا تھا۔

جاوید مجددی ’’ مثنوی‘‘ کی چھ جلدوں کا ترجمے کرنے کے سالوں پر محیط منصوبے کو تقریباً نصف حد تک مکمل کر چکے ہیں۔ ان میں سے تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں؛ چوتھی جلد اس بہار(2018)  تک شائع ہو جائے گی۔ جاوید مجددی کے تراجم رومی کی شاعری میں موجود اسلامی اور قرآنی متون کا اعتراف کرتے ہیں اور جہاں کہیں بھی رومی عربی زبان استعمال کرتے ہیں تو مجددی دوسرے رسم الخط، یعنی Italics، میں اسکی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ مجددی کی کتابوں میں حواشی بھی شامل ہیں۔ ان کو پڑھنے کے لئے کچھ مشقت اور غالباً اپنے پیش قیاسی مفروضوں سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی خواہش درکار ہے۔ آخریہی ترجمے کا مقصد ہے: غیر وجود کو سمجھنا۔ ترجمہ ایک یاددہانی ہے، کیشاورز کے بقول، ’’ہر شے مخصوص خدوخال، ثقافت اور تاریخ کی حامل ہے۔  ایک مسلمان بھی یہ پہلو رکھ سکتا ہے‘‘۔

Recommended Posts
Showing 2 comments
  • Anonymous
    جواب دیں

    The title of this article is not rightly translated and not sure about the rest of the contents as I just opened original article from NewYorker. The original article title is "The Erasure of Islam from the Poetry of Rumi” which translates to Urdu as ” Rumi Ki Shairi Mein Sey Islam ka Khatma”. Current title gives the sense like Rumi’s poetry is erasing Islam, which rigid religious people already think about all Sufi school of thoughts.

  • واجد
    جواب دیں

    مولانا رومی کے ذاتی حالات ، نفس کشی اور زاہدانہ شان صرف مغربی تراجم سے غائب نہیں بلکہ شائید آج کی مسلم صوفی روایت کی ایک تفہیم بھی ان سب سے خالی ہے۔ باقی مغرب میں ظلم کا عالم یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک کتاب دیکھی جو مولانا رومی اور حضرت شمس تبریز کے باہمی تعلق کا ہم جنس پرستی کے تناظر میں بیان کر رہی تھی۔ العیاذ باللہ

Anonymous کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search