کرونا کا خوف کرونا سے زیادہ خطرناک ہے: ڈاکٹر سامی سلامہ (ترجمہ: حسین احمد)

ڈاکٹر سامی سلامه صحافت میں بیچلر ڈگری اور نفسیات میں پی ایچ ڈی ڈگری رکھتے ہیں۔ عملی زندگی سائیکوتھیراپی کے میدان میں گزار رہے ہیں۔ نفسیات اور سیاست اور نفسیات کے سیاست سے تعلقات سے متعلق لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا یہ مضمون الجزیرہ کی ویب گاہ پر چھپا جس کا عربی سے ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

علم نفسیات کا متخصص ہونے کے ناتے، میرے لئے اپنے موضوعات  پہ بات کرتے ہوئے  اپنے شعبے سے چھٹکارا حاصل  کرنا  قدرے دشوار ہے  اور یہ مسئلہ اہل علم کے ہاں  معروف ہے۔ شاید ابن خلدون پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی ۔ مقدمہ ابن خلدون میں  یہ بات ملتی ہے کہ  ” ملکۂ سابقہ،  نفس پر راسخ اثرات چھوڑ جاتا ہے “۔  بہر حال ، مجھے آج  جس موضوع سے متعلق معروضات پیش کرنا  ہیں ،  اس کی بابت مجھے امید ہے کہ میں اپنی   پیشہ وارانہ مہارت  سے تجاوز نہیں کروں گا کیونکہ میں اس وبا کے حیاتیاتی اور سیاسی پہلوؤ ں پہ بات نہیں  کروں گا کیوں کہ  فی الوقت میرے پیش نظر  وہ   پہلو ہے جو  شاید ان  دونوں  یعنی سیاسی اور حیاتیاتی پہلؤوں سے زیادہ اثر انگیز ہے۔ اگرچہ  زیرِنظر پہلو کو   مسئلے کی جڑ نہیں کہا جا سکتا مگر وہ اس  سے متعلقہ ایک بہت بڑے حصے پر مشتمل ضرور ہے۔ ابتداً،  اگر  اس وائرس اور اس کے پھیلاؤ میں موجود متوارث خطرے کی نشاندہی نہ کروں تو یہ بہت خطرناک اور نا معقول بات ہوگی۔ یہاں  میری  مراد خالصتاً حیاتیاتی  شے ہے جو کہ اس وائرس میں موجود متوارث مسئلہ ہے یعنی اس کے متاثرہ شخص کی موت کا واقع ہونا۔  مگر ہم اس وقت کرۂ ارض کے تمام انسانوں کو درپیش   خطرات  کے  بیان میں   اپنا  وقت خرچ نہیں کرتے ۔آج آپ کو دنیا میں کوئی ذی روح   ایسا نہیں  ملے گا جو کرونا کا شکار نہ ہوا ہو ، یا اس مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ رکھتا ہو ، یا وہ اس میں مبتلا تھا تو  شفایابی کیسے حاصل ہوئی ہے ؟ ، یا  پھر وہ   کہیں  اس وائرس سے محفوظ رہنے کا جتن نہ کر رہا ہو  ؟ حتی کہ وہ لوگ بھی اس صورت حال میں اپنے دل کی گہرائیوں سے خدشات کا شکار ہیں جو  بظاہر  عالی ہمت اور غیر متعلق ہیں۔ ایک لحظے کو  مذکورہ بالا  آخری فقرے کی جانب توجہ  کیجیے ۔  آپ خود ہی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آیا ،  آپ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا  ہے یا نہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ حقائق یقینی ہیں یا غالب گمان میں  حقائق ہیں ہی یہی ، مگر یہ وہ عمومی حقائق بہر حال ہیں جن کا اطلاق لوگوں کی اکثریت پر کیا جا سکتا ہے۔  اگرچہ ہم ان کے عمومی اطلاق کا خطرہ مول نہیں لیں گے کہ یہ حقائق تمام انسانوں میں پائے جاتے ہیں.مگر اکثر پر کل کے اطلاق کے قاعدے کے پیش نظر،  بہرحال ہمارے پاس اس بات کا  جواز  ہے کہ  بحیثیت مجموعی   اور   سائنسی طور پر اس کا اطلاق  تمام انسانوں کے لیے درست ہے۔  انسانی علوم میں یہ بات معروف ہے کہ کوئی مطلق اور عمومی قاعدہ نہیں پایا جاتا ، اس لیے علوم میں عمومی اطلاق اکثریت کا حامل ہی  ہوتا ہے نہ کہ تمام کو محیط۔  اور یہ بات علما ء اور ہر ایک  متخصص فی العلوم کے ہاں بنیادی حیثیت کی حامل  ہے ۔سوائے تنازع پسند اور کسی جاہل کے اس معاملے میں کوئی تمحیص نہیں کر سکتا۔ انسانی زندگی میں ایک رجحان ہے جسے ” گروہی خصلت“ (herd      instinct) کہا جاتا ہے. اس رجحان کے مطابق انسان بے شعور اور احساس و ارادے سے عاری ہے۔ آپ خواہ کچھ لیں یا دیں، اس کو کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔  یہ عموما خود بے ارادہ ہو کر اجتماعی ارادے  بالخصوص  ہنگامی صورتحال کے تحت  کام کرتا ہے۔  اگر لوگ دوڑ رہے ہوں تو یہ جانے بغیر کے ان کے دوڑ لگانے کی وجہ کیا ہے،  یہ بھی دوڑ  میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور اگر لوگوں کو کسی پردے یا رکاوٹ کے اُس جانب دیکھنے کی کوشش میں مشغول پاتا ہے ، تو اُن کی دانست میں لائے بغیر ہی   اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ بھی اس شے کو دیکھے جسے وہ دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ بالکل یہی کچھ کرونا کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے۔  اب صورت حال خاص مقام تک  پہنچ چکی ہے ، زمین کے چاروں اطراف میں  لوگ کرونا  میں مبتلا ہونے کے خوف سے ہسٹریریا کا شکار  ہو رہے ہیں۔متاثرین ِ کرونا  سے متعلق خوف  کی شدت ،  کرونا کے پھیلاؤ کے حوالے سے صحافتی  بوچھاڑ ، سفر کی بندش ، قرنطینہ اور اہل حکومت کا کرونا سے متعلق تعامل ، ان سب نے مل کر لوگوں کو اجتماعی ضعف کا شکار بنا دیا ہے اور خوف و ہراس ایک اجتماعی مظہر بن کرسامنے آیا  ہے اور اس پر اجتماعی رجحانات (herd      instinct) کی صفات کا اطلاق ہوتا ہے۔ نیز  افرادِ معاشرہ کی ذہنیت پر حاوی ہونے والا اجتماعی رجحان ،  انھیں ایک حالتِ بے شعوری کی جانب دھکیل رہا ہے مگر کس طرف لے کر جارہا ہے ؟ اس بابت کچھ کہنا دشوار ہے اور یہی مسئلہ ہے۔ میں سازشی دائروں ، سیاسی کھیل کے دائروں ، اور معاشی جنگ ومعاشی مقاصد سے تعرض نہیں کر رہا،مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا  کہ میں سیاسی جدل اور سیاسی تعلقات سے بھی بری ہوں۔کرونا وائرس سے نمٹنے   کے سلسلے میں  موجود خوف کے پیچھے ان مقاصد اور اہداف کو مسترد کرنا حماقت ہے۔   ہمارے پاس بہت سے  سراغ موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتاہے  کہ  خوف انگیز اور مبالغہ آمیز بیانات میں چیخ و پکار کا اظہار کرنے والے لوگ موجود ہیں تاکہ وہ اس وبا کے  خوف و ہراس کو بڑھا سکیں اور جن مقاصد کی پیشین گوئی  محال ہے  ان کو بھی حاصل کر لیا جائے ۔  اثراتِ بیماری  کی تفریط کے خوف نے لوگوں کو فرمانبردار بھیڑ بکریاں بنا چھوڑا ہے جو اپنے گھروں میں دُبکے  بیٹھے ہیں ،ماسک  پہن کے رکھتے ہیں خواہ  گھریلو غسل خانوں میں ہی  کیوں نہ ہوں ۔  اور اس صورتحال کے لیے کسی  قسم کے ثبوت کی ضرورت  نہیں ہے،  بل کہ ہر ایک فرد کھلے بندوں اس کا مشاہدہ کررہا ہے۔ کیا کرونا واقعتاً اس قدر خطرناک ہے کہ اس نے دنیا کے بیشتر ممالک کی سرحدوں  کو بند اور  تجارتی ، معاشی اور تفریحی  سرگرمیوں کومعطل کروا دیا ہے ۔  رہنماؤں کے  مابین  ہونے والی سیاسی ملاقاتیں بھی ماسک کے ساتھ ہونے لگی ہیں  یا بذریعہ انٹرنیٹ۔  اور دنیا کے اہم ترین ممالک کی سڑکیں لوگوں سے خالی ہو گئ ہیں۔ آپ وہاں چل پھر کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ تنہائی کا شکار ہیں گویا وہاں کبھی زندگی کا گزر ہی نہیں ہوا ۔  یہ ایسی شے ہے جو محض ہولناک خوف کا سبب ہی نہیں بنتی،  تمام دنیا کے لوگوں پر ایک ہولناک خوف کو مسلط بھی کرتی ہے۔ عظیم طبیب ، ابن سینا کا کہنا ہے : ”وہم آدھی بیماری ہے ، اور اطمینان نصف دوا ہے اور صبر شفا بخش علاج کی جانب اولین قدم ہے “ ۔ ابن سینا ایک عبقری ہیں اور یہ ایک عبقری کا قول ہے۔ اور یہ بات آج کی طب میں متفق علیہ قاعدہ ہےخواہ طبی ادویات کا میدان ہو  یا پھر طبی نفسیات  کا میدان ہو۔ اگر ابن سیناء کے بتلائے ہوئے  طبی قاعدے کا اطلاق، کرونا کے تناظر میں لوگوں کی موجودہ صورت حال پر  کیا جائے  تو ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں ؟ ہم دیکھ سکتے ہیں  کہ صحافتی  ” دھمکیوں “ نے انسانی نفوس کو  اطمینان سے دور اور وہم کا شکار کردیا ہے۔  نیز  انسانی نفوس کو ایک ایسی زرخیز زمین بنا چھوڑا ہے جو اس بیماری کی آماجگاہ اور دیگر کسی بھی قسم کی  بیماری کے سامنے سرنگوں ہونے کا باعث ہے۔ یہ کہنا قدرے مشکل ہے کہ یہی روئے زمین کے سیاست دانوں کی مراد ہے  یا ان میں سے بعض کی چاہت ہے کہ وہ لوگوں کو جوڑ توڑ میں مصروف رکھیں۔ اس بات کو  نظرانداز کرنا مشکل ہے کہ کورونا سے متعلق  مبالغہ آرائیاں  اور دھمکیاں نہایت خوف ناک ہیں۔اس سب میں کچھ سچ ہے یا نہیں یا اس سے بالاتر کوئی سچائی ہے یا نہیں،اس سے قطع نظر کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ ان سب باتوں اور ان سب چیزوں سے اوپر ایک حقیقت ضرور ہے۔اور وہ ارادۂِ ربانی ہے۔  اہل علم و دانش قدیم زمانے سے کہتے آئے ہیں کہ ” جب تقدیر اپنا رنگ دکھاتی ہے تو آنکھ کی بینائی جاتی رہتی ہے“ ۔ اور مختصراً یہی کچھ حقیقت ہے ۔

ماخذ: الجزیرہ

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search