عمر میمن کا افسانہ ’واپسی‘: ایم خالد فیاض

نوٹ:  یہ مضمون ’مکالمہ‘ کراچی سے لیا گیا ہے۔ 
[تعارف: محمد عمر میمن، عمر بھر ادبی کارگزاریوں میں مصروف رہے۔ اُن کی سب سے بڑی پہچان اگرچہ اُن کی ترجمہ نگاری کا فن ہے، یا پھر اُن کی مدیرانہ صلاحیتوں کا بھی کھلے بندوں اعتراف کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اعلیٰ پایے کے نقاد، محقق اور افسانہ نگار بھی تھے، یہ الگ بات کہ اس طرف اُنھوں نے زیادہ توجہ نہیں کی، اور اسی لیے اُن کی اِن حیثیتوں کا اندازہ بہت کم لگایا جاسکا۔ بےشک ہمیں عمر میمن کی موت کا بے حد افسوس ہے مگر یہ اطمینان بھی ہے کہ اُنھوں نے بساط بھر کام ضرور کیا؛ اور اگر کوئی شخص مرنے سے پہلے اپنے حصے کا کام کر جائے تو ہمیں اُس کی موت پر افسوس کم اور رشک زیادہ کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ کسی ادبی اور فکری شخصیت کی موت پر اگر ہم محض جذباتی اور تاثراتی اظہار کے بجائے اُس کے کیے گئے کام کا ذکر سنجیدگی سے کرسکیں تو یہ زیادہ بہتر اور مثبت ردِّعمل ہے، یوں بھی بلراج مین را کے ایک کردار کے بقول ’کسی بھی آدمی کی پہچان، اُس کا مرنا نہیں، اُس کا جینا ہوتی ہے‘(کمپوزیشن دو)۔ یہاں عمر میمن کی اسی پہچان سے معاملہ کرنے کے لیے اُن کی افسانہ نگاری کو موضوع بنایا جا رہا ہے۔(ا۔خ۔ف)]

عمر میمن کی افسانہ نگاری سے ہم بہت کم واقف ہیں۔ اُن کا ایک ہی افسانوی مجموعہ ’’تاریک گلی‘‘ کے عنوان سے ۱۹۸۹ء میں شائع ہوا تھا جس میں اُن کے نَو افسانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میری نظر میں اُن کا ایک افسانہ ’’فردا کے پھول‘‘ بھی ہے جو ’’نقوش‘‘ کے دسمبر ۱۹۶۱ء کی اشاعت میں تو موجود ہے مگر اُن کے اس افسانوی مجموعے کا حصہ نہیں۔ اس سے یہ بات ضرور معلوم ہو جاتی ہے کہ ’’تاریک گلی‘‘ میں شامل افسانوں کے علاوہ بھی عمر میمن نے کچھ افسانے لکھے تھے مگر وہ عمر میمن کے معیار پر پورے نہ اُترنے کی وجہ سے اُن کے اس افسانوی مجموعہ میں اپنی جگہ نہ بنا سکے۔ افسانہ ’’فردا کے پھول‘‘ پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ عمر میمن کا تنقیدی شعور واقعی سلجھا ہوا اور کافی ترقی یافتہ تھا لہٰذا اُن کے اس افسانے کی جگہ اُن کے افسانوی مجموعہ میں نہیں بن سکتی تھی۔ مزید یہ کہ اُن میں وہ ہُوکا بھی نہیں تھا جو بیش تر تخلیق کاروں سے اپنی ہر تخلیق کو مجموعوں میں شامل کرا لینے کا باعث ہوا کرتا ہے۔ اس لیے عمر میمن نے اپنے منتخب نَو ہی افسانوں کا یہ ایک مجموعہ شائع کرنا مناسب سمجھا۔

          اگرچہ ان نَو افسانوں کی الگ الگ جہتیں اور نوعیتیں ہیں اور کسی نہ کسی حوالے سے یہ سب اہمیت کے حامل ہیں۔ کہیں موضوع بڑی حد تک افسانوی گرفت مضبوط کرتا نظر آتا ہے تو کہیں کسی مقام پر کردار اپنا لوہا منواتے دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اسلوب اور افسانوی ٹریٹمنٹ ہے جس کی وجہ سے عمر میمن کے یہ نَو افسانے ایک الگ جہان کی تشکیل کرتے ہوئے ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ نَو افسانے مل کر عمر میمن کی افسانوی دنیا کی تعمیر کرتے ہیں مگر میرے نزدیک ان میں زیادہ قابلِ ذکر، اور فنی اور موضوعاتی سطح پر سب سے بھرپور افسانہ ’’واپسی‘‘ قرار پاتا ہے کہ اس میں تاریخ، روایت، حکایت، فلسفہ، مذہب، نفسیات، معاشرت اور انسانی سرشت؛ سب بہ یک وقت اس طرح ایک ہوئے ہیں کہ افسانے کی افسانویت اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ جلوہ ریز ہوتی ہے۔

          یوں تو اس افسانے میں مطلق سچائی پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے اور اِسے یہاں ایک اضافی قدر کے طور پر پیش کیا گیا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کے لیے جو افسانوی ٹریٹمنٹ برتا گیا ہے، جو کہ تلمیحی و تاریخی اور مذہبی روایت پر مبنی ہے، یہ ٹریٹمنٹ نہ صرف فکری دلچسپی کا، بلکہ اس افسانے کی فنی قدر میں اضافے کی بھی اصل وجہ بنتا ہے، کیوں کہ کسی مذہبی روایت یا شخصیت کی بنیاد پر سچائی کو سوال زد کرنا، بلاشبہ جرأت مندانہ اقدام تو ہے ہی، مگر ان سچائیوں پر لگائے گئے سوالیہ نشانوں کو قاری کے لیے قابلِ قبول بھی بنانا بہت بڑا فنی کمال ہے۔ اور عمر میمن کا یہ افسانہ ’’واپسی‘‘ اس فنی کمال میں کامیاب ٹھہرتا ہے۔

          افسانہ نگار نے اگرچہ کہیں نوحؑ کا نام نہیں لیا لیکن ہم سمجھ جاتے ہیں کہ اس افسانے کا بوڑھا بلاشبہ نوحؑ ہی ہے اور یہاں ’’طوفانِ نوحؑ‘‘ کے قصے کو اس افسانے کی بنیاد بنایا گیا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ عمر میمن نے اپنے افسانے ’’واپسی‘‘ کا سارا ڈھانچا اس تاریخی اور اساطیری قصے پر اُٹھایا ہے، جس کی وجہ سے معنویت میں زیادہ گہرائی اور وسعت ہی پیدا نہیں ہوئی اور دلکشی میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس تاریخی قصے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی ہاتھ آیا ہے جو صرف اور صرف ایک افسانہ نگار ہی فراہم کر سکتا تھا۔

          مذہبی روایت کے مطابق نوحؑ کی قوم کو اس کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں پر مسلسل کئی برس تک تنبیع کی گئی مگر جب اس قوم پر نوحؑ کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا تو خدا نے نوحؑ کو ایک کشتی تیار کرنے کا حکم دیا کہ جب وہ اُس قوم کو برباد کرنے کے لیے عظیم طوفان برپا کرے تو نوحؑ اپنے خدا کے ماننے والوں کے ساتھ حفاظت سے اُس کشتی میں سوار ہو جائیں۔ نوحؑ ایسا ہی کرتے ہیں اور طوفان آنے سے پہلے ایک بار پھر لوگوں کو نیکی کی طرف بلاتے ہیں؛ خاص طور پر اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کو آخری تنبیہ کرتے ہیں مگر اُن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آخر کار کشتی کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے اور طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ کشتی کئی دنوں تک پانیوں میں رہنے کے بعد کوہِ جودی پہنچتی ہے۔ وہاں  نوحؑ اپنے پیروکاروں کے ساتھ نئی بستی بساتے ہیں۔ اس ساری روداد میں (یعنی مذہبی روایت کے مطابق) نوحؑ اپنے بیٹے کو نہ یاد کرتے ہیں، نہ اُس کا ذکر اور نہ اُس کی ہمیشہ کی جدائی سے افسردہ ہوتے نظر آتے ہیں۔ صرف اتنا ذکر ملتا ہے کہ کشتی روانہ ہونے سے پہلے وہ خدا سے اپنے بیٹے کو ساتھ لینے کی دعا کرتے ہیں مگر اُنھیں سختی سے منع کر دیا جاتا ہے کہ وہ تم میں سے نہیں، وہ نافرمان ہے اس لیے اُس سے تمھارا کوئی رشتہ نہیں۔ اس کے بعد نوحؑ کی کسی طرح کی افسردگی یا دُکھ اور غم کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ عمر میمن کا افسانہ ’’واپسی‘‘ اِسی اَن کہی کو اپنا موضوع بناتا ہے۔

          مذہبی روایات میں خدائی احکامات اور اُس کے تناظر میں انسانی کردار و اعمال کی معنویت تلاش کی جاتی ہے اور پھر اُسی تناظر میں اچھے یا بُرے کی تمیز اور تفریق واضح کی جاتی ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر سزا اور جزا کا فیصلہ صادر کیا جاتا ہے کہ یہی بنیادی مذہبی شعریات ہے۔ انسانی رشتے اور جذبے یا احساسات؛ اُن کی انسانی زندگی میں معنویت یا اِن جذبوں کے تحت انسانی دُکھ یا غم اور بے بسی یا مجبوری وغیرہ اس مذہبی شعریات کا موضوع نہیں بن سکتی کہ یہ اس شعریات کی مجبوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی روایات (متھس) کو عوام میں ایک زاویے سے ہی دیکھنے کا رواج پایا جاتا ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیمؑ جب اپنے باپ آذر کے بت توڑتے ہیں تو ہماری نگاہ بلکہ تحسینی نگاہ ابراہیم ؑ کے فعل پر تو رہتی ہے مگر آذر کے قلب تک نہیں جاتی۔ آخر کیوں؟ ہم یہ کیوں نہیں جاننا چاہتے کہ ایک بیٹا جب اپنے باپ کے بنائے بتوں کو توڑتا ہے اور اُنھیں غلط اور بُرا بھلا کہتا ہے تو باپ کے دل پر کیا بیت سکتی ہے اور کیا بیتی ہوگی؟ ہم اس زاویے سے اس معاملے کو دیکھنے کی کوشش اور خواہش کیوں نہیں کرتے؟ پچھلے دنوں اس موضوع کو لے کر ہمارے ایک افسانہ نگار مبشر احمد میرؔ نے ’’کربِ آذر‘‘ کے عنوان سے ایک کامیاب افسانہ تحریر کیا ہے، جس میں آذر کے اسی دُکھ اور کرب کو پینٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

          یہ ہی صورت حضرت نوحؑ کے واقعہ کے ساتھ درپیش ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں اور اُن کا بیٹا اُن کی نگاہوں کے سامنے عذابِ الہٰی کا شکار ہوتا ہے تو ہم یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ایک باپ ہونے کے ناتے اُن پر اس سانحے کا کیا اثر ہُوا ہوگا، اُس وقت اُن کے احساساسات اور جذبات کیا ہوں گے، اُن کے دُکھ کی نوعیت کیا ہوگی؛ کہ مذہب کی داستان میں جیسا کہ ابھی ذکر ہُوا، اِنسانی جذبات و احساسات کی وہ اہمیت نہیں جو خدائی احکامات اور رضا کے سامنے انسانی کردار و اعمال کی ہے۔ لیکن یہ مجبوری مذہبی اور تاریخی شعریات کی ہو سکتی ہے، ادب کی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمر میمن مذہبی شعریات کی ان حدوں سے باہر جھانکنے میں کوئی ممانعت نہیں سمجھتے اور ’’واپسی‘‘ جیسا افسانہ تخلیق کرتے ہیں۔

          یہ طے ہے کہ تواریخ ہوں یا مذاہب؛ وہ انسان کے داخل میں اُترنے کی زحمت نہیں کرتے، وہ روح کی بات تو کرتے ہیں مگر روح کے درد کو حاشیے سے باہر کر دیتے ہیں کہ یہ اُن کا بنیادی میدان ہی نہیں۔ لہٰذا یہ ذمہ داری ادب پر آن پڑتی ہے اور یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں ادب؛ تاریخ اور مذہب کی سرحدوں سے بہت آگے کھڑا نظر آتا ہے۔ تاریخ اور مذہب جن معاملاتِ انسانی کو حاشیوں پر جا پھینکتے ہیں، ادب اُنھیں نہ صرف مرکز میں لاتا ہے بلکہ ہمارے لیے اُنھیں مرکز توجہ بھی بنا دیتا ہے؛ عمر میمن نے اپنے اس افسانے میں اسی سے معاملہ کیا ہے اور خوب کیا ہے۔

          افسانہ ’’واپسی‘‘ کا آغاز طوفان کے تھم جانے اور کشتی کے ارضِ موعود پر پہنچ جانے کے وقت سے ہوتا ہے۔ افسانے کا راوی، بنیادی کردار بوڑھے (نوحؑ) کا وفادار ساتھی اور پیروکار ہے جو لگ بھگ ۵۶۰ سال سے اُس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ ارضِ موعود پر پہنچ کر جب راوی معبد کے لیے آگ لینے جاتا ہے، اُس وقت تک افسانے کا بوڑھا؛ جوش، ولولے اور یقین سے معمور ہوتا ہے اور اسی لیے بوڑھا بھی محسوس نہیں ہوتا، لیکن جب راوی آگ کی ٹہنی لے کر لوٹتا ہے تو اپنے راہبر کو ایسی حالت میں دیکھتا ہے کہ اُس کی اپنی ٹانگوں میں لغزش آجاتی ہے، وہ بتاتا ہے:

’’جب ہم آگ لے کر چوٹی پر پہنچے تو بوڑھا ایک چٹان کے پاس بیٹھا نظر آیا۔ اس مدّت میں اُس کے بال برف کی طرح سفید پڑ چکے تھے، چہرے پر جھرّیاں کٹ آئی تھیں، اور اُس کی بائیں ٹانگ کسی بیچ سے ٹوٹی کمان کی طرح پڑی تھی۔ دوسری پر اُس نے رباب سنبھالا ہُوا تھا۔ اُس کے ہاتھوں میں اُس کا دل تھا جس سے وہ رباب کے تار چھیڑ رہا تھا، سر جھکائے۔ جہاں زمین کو آکر اُس کی آنکھیں چھو رہی تھیں، وہاں ایک چھوٹی سی مچھلی مردہ پڑی تھی۔ پھٹی پھٹی سرخ آنکھوں والی مچھلی۔۔۔ اُسے یوں چپ چاپ، بے بسی سے سر جھکائے دیکھ کر میرے قدموں میں ذرا سی لغزش آگئی۔ ہم اُس کے نزدیک کھڑے تھے، لیکن اُس نے ہمیں سر اُٹھا کر نہ دیکھا۔ اُس کی نظریں تو بس مردہ مچھلی پر مرکوز تھیں۔ زیتون کی خشک ٹہنی، جسے وادی سے سلگا کر ہم یہاں تک لائے تھے، سرے سے خود اپنے آپ کو راکھ کر رہی تھی۔ اُس کی دل گیر، سب سے پہلی اُداسی کو دیکھ کر مجھے زیتون کی جلتی ہوئی ٹہنی اور اُس (بوڑھے) میں بے حد مماثلت محسوس ہوئی۔‘‘

(’’تاریک گلی‘‘، ص:۵۰ تا ۵۱ اور ۵۲)                  

          اصل میں بوڑھے (نوحؑ) کی نظر جب مردہ مچھلی اور اُس کی پھٹی پھٹی آنکھوں پر پڑتی ہے تو اُسے اپنے بیٹے کی موت کا خیال اس قدر شدّت سے لاحق ہوتا ہے کہ اُس کی فکری کایا پلٹ ہو جاتی ہے اور طرح طرح کے سوالات سے اُس کا ذہن اَٹ جاتا ہے۔ وہ چند لمحوں میں دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھا، تھکا ماندہ، مایوس، افسردہ اور شکست خوردہ ہو جاتا ہے۔ اُس کے ذہن میں پہلی بار تشکیک کا بیج پوری شدّت سے اپنا سر اُبھارتا ہے۔ وہ، جو اپنی بستی میں سنگ سار کیے جانے کی دھمکی سُن کر بڑے تیقن کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ ’’مجھے پروا نہیں، میں سچا ہوں۔‘‘(ص:۵۳) اب یہ کہتا سنائی دیتا ہے:

’’اس سارے ہنگامے میں، محسوس ہوتا ہے، ایک سچائی ایسی بھی تھی جو ٹھیک ہماری اُنگلیوں سے سرسراتی گزرتی رہی، لیکن جس سے نظریں چار کرنے کا خیال بھی ہمیں نہ آیا۔۔۔ (کیوں کہ) ہم سبھی اپنے احساس کی آنکھ سے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔‘‘(ص:۵۶ اور ۵۷)

          اور پھر افسانے کا اختتام یہاں ہوتا ہے:

’’سچائی—-‘ فاصلوں سے اُس کی آواز آئی،— ’ہم سب کو خود اپنے اپنے طور پر اُسے تلاش کرنا ہوگا۔‘‘(ص:۵۸)

          بوڑھے (نوحؑ) کا خود سے یہ سوال کہ ’’وہ (اُس کا بیٹا) کیوں نہ آیا؟ وہ کیوں پیچھے رہ گیا؟‘‘ اُس کے ذہن سے چمٹ جاتا ہے۔ اس سوال پر غور کرتے کرتے بہت سی ایسی حقیقتوں سے پردے ہٹنے لگتے ہیں جن کے بارے میں اُس نے کبھی سوچنے کا سوچا بھی نہیں ہوتا۔ اُسے یہ خیال بھی آتا ہے کہ اُس نے بستی والوں کے لیے عذاب اور انتقام کی دعا کر کے خود اپنے بیٹے کی تباہی کا بھی سامان کر لیا تھا۔ اور پھر اسی خیال سے اُسے یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ اصل میں اُس کے بیٹے نے اپنوں سے محبت اور ہمسائیگی کا حق ادا کیا جب کہ وہ اپنے تمام تر سچ اور حق کے باوجود ایسا نہ کر سکا۔ یہ خیال اُسے اور بے چین کرتا ہے۔ جو بیٹا پہلے اُس کی نظر میں بدکار اور خود سر تھا، اب اُسے محبت، اپنائیت اور احساسِ رفاقت کی انتہا پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ سُن کر جب اُس کا ساتھی (افسانے کا راوی) اُسے کہتا ہے کہ ’’تم دیوانے ہو گئے ہو، وہ بدکار تھا!‘‘ تو بوڑھا (نوحؑ) جواب دیتا ہے کہ:

’’خود میں، تھوڑی دیر پہلے تک اُسے بدکار سمجھتا رہا ہوں۔ میں نے جس قدر اُسے بدی سے باز آنے کی تلقین کی، جس قدر عذاب سے ڈرایا، جس قدر اُن (بستی والوں) سے رشتہ توڑ لینے کے لیے کہا، وہ اُسی تناسب سے اُن کے لیے محبت میں نڈر ہوتا گیا۔ محبت تو میں اب کَہ رہا ہوں، تھوڑی دیر پہلے تک میں اسے بجز خودسری کے کوئی اور نام نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن یہاں اس پتھر پر بیٹھے بیٹھے یہ سوال اپنی تمام بے رحمی سے میرے دل میں گونجا کہ وہ آخر کیوں پیچھے رہ گیا؟ اور پھر مجھے عجیب مبہم طریقے پر محسوس ہُوا کہ میں کسی حد تک اُن (بستی والوں) سے اُس کی وابستگی کا راز جان گیا ہوں، کہ اگر وہ قیامت کی موج ہمارے درمیان نہ آ جاتی اور میں اُس کے چہرے کے آخری، بھرپور تاثر کو دیکھ لیتا تو شاید میں بھی اُس کے ساتھ وہیں رہ جاتا۔‘‘(ص:۵۷)

          اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بوڑھے (نوحؑ) کے اندر شدّت سے اپنوں کی محبت اور ہمسائیگی کا احساس جنم لیتا ہے جس کے آگے اُس کی سچائی جسے وہ مطلق سچائی سمجھتا ہے، دم توڑ دیتی ہے اور ایک نئی سچائی جنم لیتی ہے۔ جب افسانے کا راوی اُس سے سوال کرتا ہے کہ ’’تمھی نے تو کہا تھا کہ بدی اور ہم میں کوئی ہمسائیگی جنم نہیں لے سکتی۔‘‘ تو اُس وقت وہ انتہائی شکست خوردگی کے عالم میں کہتا ہے:

’’کیا تم کبھی اُس شخص کا تصور کر سکتے ہو جو ساری زندگی اس یقین کے سہارے ریگ زار کی جلتی، خشک تنہائی کو کاٹتا ہُوا آگے بڑھتا ہے کہ اس کی انتہا پر ٹھنڈک ہوگی، سایہ ہوگا، دل نواز نرمی ہوگی—– لیکن وہاں پہنچنے پر معلوم ہو کہ یہاں ٹھنڈک ہے نہ سایہ—– کہ ساری ٹھنڈک، ساری خوب صورتی، حسن، ہمسائیگی، رفاقت اور سایہ تو پیچھے رہ گئے ہیں۔‘‘(ص:۵۵ تا ۵۶)

          یہاں ہم اگر غور کریں تو ہندوستان کی نظریاتی تقسیم اور اُس کے نتیجے میں سنہرے خوابوں کا شکار ہونے والے ہجرت زدوں کے انجام کی طرف بھی اشارہ جاتا ہے۔  خاص طور پر جب راوی اور بوڑھے کے درمیان یہ مکالمہ ہوتا ہے کہ:

’’اگلے وقتوں کی یاد لے کر ہم کتنی دور جا سکتے ہیں؟‘ عجیب سی محتاجی میرے دل پر اُتر آئی تھی۔

’اگلے وقتوں کی یاد نہ ہو تو راستے آگے جا کر کہر میں کھو جاتے ہیں۔‘‘(ص:۵۸)

          یوں اگلے وقتوں کی یاد اور بچھڑے لوگوں کی رفاقت، اُن کی محبت، اپنائیت اور ہمسائیگی کے آگے بڑے بڑے نظریات اور عقائد اپنی اہمیت کھوتے نظر آتے ہیں۔ مہابیانیے شکست کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور مطلق سچائیاں ڈانواڈول ہو جاتی ہیں۔ یہاں انتظار حسین کا افسانہ ’’کشتی‘‘ یاد آتا ہے جس میں نوحؑ کھو جاتا ہے کہ انتظار حسین کو بقول ڈاکٹر سہیل احمد خاں ’’جدید معاشرتی صورتِ حال میں وہ مرکزی اصول غائب نظر آتا ہے جو بکھرے ہوئے اور شکستہ عناصر کو مجتمع کر سکے۔‘‘ جب کہ عمر میمن کے اس افسانے میں نوحؑ تشکیک کا شکار ہو جاتا ہے اور سچائی کو پھر سے تلاش کرنے واپس چل پڑتا ہے کہ آج کے اس عہد میں مطلق سچائیوں اور ٹھوس ایقانات کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

          افسانے میں واقعات کو بنیاد نہیں بنایا گیا، نہ ہی اس افسانے کو واقعات سے کچھ خاص نسبت ہے۔ واقعہ تو یہی ہے کہ طوفان کے بعد نوحؑ اس ارضِ موعود پر آگئے جہاں سے اس افسانے کا آغاز ہوتا ہے اور بس۔ اصل میں افسانہ نوحؑ کی اندرونی کیفیات کا بیانیہ ہے جس کو تشکیل دینے میں کسی حد تک راوی کے بیان اور بڑی حد تک نوحؑ کے مکالموں کا عمل دخل ہے۔ نوحؑ کے مکالمے ہی نوحؑ کے باطن کو، ہمارے اور راوی کے سامنے ظاہر کرنے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اس لیے اِسے بنیادی طور پر مکالماتی تکنیک کا حامل افسانہ کہا جائے گا، گو یہاں بڑی خوب صورتی سے حسبِ ضرورت فلیش بیک کی تکنیک بھی برتی گئی ہے۔

          یہاں بڑا کمال یہ ہے کہ افسانے کا راوی صورتِ حال کا بیان کنندہ تو ہے مگر اپنے بنیادی کردار کے باطن کا بیان کنندہ نہیں رہتا۔ اس ضمن میں وہ افسانے کے قاری ہی کی طرح حیران و پریشان کھڑا دکھائی دیتا ہے اور اُس پر بھی بوڑھے (نوحؑ) کے مکالمے ہی نوحؑ کی بدلی ذہنی کیفیات کا انکشاف کرتے ہیں۔

          اس میں شک نہیں کہ ایسے افسانے مذہب کے متوازی ایک ادبی بیانیہ تشکیل دینے کا اہم فریضہ ادا کرتے ہیں، جس کی اپنی ایک ادبی منطق ہوتی ہے۔ میلان کنڈیرا نے ایک جگہ کہا ہے کہ ’’لکھنے والا حقیقت کی اقلیم کو منکشف کرتا ہے جو اب تک نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔ یہ انکشاف استعجاب کو ابھارتا ہے، اور استعجاب جمالیاتی حظ کو۔‘‘ اگر ہم کنڈیرا کے اس بیان سے متفق ہوں تو کَہ سکتے ہیں کہ عمر میمن کا یہ افسانہ بلاشبہ ہمارے جمالیاتی حظ کی تسکین کا بہترین سامان فراہم کرتا ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search