”سومنات“، ہندوتوا اور کسان مزدور احتجاج۔ محمد دین جوہر

اگر شاعر انفس اور آفاق کے درمیان پل صراط کی مانند کھنچی، مانجھا لگی تارِ جاں پر کبھی خیمہ زن، کبھی خانہ بدوش رہتا ہو تو منظر اس بلندی پر سارے کے سارے بدل جاتے ہیں۔ افسوس کہ جدید بے سُدھ اردو شاعری کے تارِ عنکبوت میں پھنسی، مکڑے کی منتظر، رہ رہ کے بھنبھناتی مکھی کو شاید یہ کبھی خبر نہ ہو کہ ن م راشد انہی بلندیوں کا شاعر ہے۔ راشد کا شعری تجربہ کشفِ ذات کے ساتھ ساتھ تہذیب کا روزن بھی ہے۔ وہ فرد اور اجتماع کے امتیاز کو قائم رکھتے ہوئے تاریخ کے جن ابھرتے ہوئے دھاروں کی نشاندہی کرتے ہیں وہ ان کی گہری انسانی بصیرت پر دلالت کرتا ہے۔ ہماری دانش کا حال تو یہ ہے کہ جب تک چیزوں کو ہاتھ سے اچھی طرح ٹٹول نہ لے یہ ان پر  گفتگو کی استعداد ہی پیدا نہیں کر پاتی۔ اپنی تخلیقی بلندی سے ایک منظر جو راشد نے اپنے قاری کو ارزانی کیا وہ موجودہ بھارت کی تہذیبی صورت حال کا ہے۔ بھارت میں جاری کسان مزدور احتجاج کے پس منظر میں ”سومنات“ کا مطالعہ کئی اعتبار سے دانش آفریں ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس نظم کے طالب علمانہ مطالعے کا آغاز کریں، ایک جملہ معترضہ ضروری ہے۔ زوال، انتشار اور استعمار کے ادوارِ نکبت میں ہمارا ملی ذہن جس بالعموم تعطل کا شکار ہوا، اس میں اردو شاعری نے جو تہذیبی ذمہ داری ادا کی وہ انسانی تاریخ کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔ اس کا آغاز لسان العصر اکبرؒ الہ آبادی سے ہوا اور اقبالؒ کے ہاں یہ اپنے نقطۂ عروج کو پہنچا۔ عین یہی تہذیبی ذمہ داری ہے جس کا تسلسل ہم ن م راشد میں دیکھتے ہیں۔ اصلاً یہ شاعری کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ تعلیم، طاقت اور معاش کی نئی ساختوں وغیرہ پر بھی داد سخن دے۔ لیکن تہذیبی ذہن کے مکمل تعطل کی کیفیت میں اردو شاعری نے یہ معجزۂ فکر بھی کر دکھلایا۔ اسی طرح ”سومنات“ میں جو موضوع زیربحث ہے وہ درحقیقت شاعری کا لوازمہ نہیں، عقلی اور فکری علوم کا موضوع ہے۔ لیکن ہماری عقلی دانش نے اس پر جو بھی اظہار خیال کیا ہے  وہ اس نظم کے سامنے پھوٹی کوڑی کے برابر بھی نہیں ہے۔ زمانہ ماضی ہو یا مستقبل، راشد کے سامنے ردائے وقت واقعات کا حجاب نہیں بن پاتی۔

”سومنات“ کی ہمعصر ریڈنگ ہم پر ایک قرض ہے۔ پاکستان کا سینہ کوب تہذیبی ذہن ہتھوڑے کی طرح کام کرتا ہے۔ ایسی صورت حال میں بھی سخت جاں امید پر واجب ہے کہ وہ آئینۂ معنی لے کر تہذیب کے در و بام کی طرف پیش قدمی کرے۔ ”سومنات“ ہندو مت کے احیا، اس کے وسائل اور ممکنہ مضمرات کی نظم ہے۔ ہندو مت کے احیا میں فکری وسائل زیادہ تر بنگال سے فراہم ہوئے اور عملی وسائل میں مہاراشٹر اور گجرات زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ راشد کے خیال میں احیائی ہندو مت کا براہ راست اثر مسلمانوں، دلتوں اور کسانوں پر مرتب ہو گا۔ اس میں مسلمانوں اور شودروں کی بابت کچھ پیش بینی کرنا حیرت کا باعث نہیں، لیکن احیائی ہندو مت کے دہقانی زندگی پر گہرے اثرات کو بھانپ لینا یقیناً ہے:

ستم رسیدہ نحیف دہقاں

بھی اس تماشے کو تک رہا ہے،

اسے خبر بھی نہیں کہ آقا بدل رہے ہیں

وہ اس تماشے کو

طفل کمسن کی حیرتِ تابناک سے محض دیکھتا ہے!

جلوس وحشی کی آز سے

سب کو اپنی جانب بلا رہا ہے

کہ ”ربۂ سومنات کی بارگاہ میں آ کے سر جھکاؤ!“

یہ ”تماشا“ ہندو مت کے احیا کا ہے۔ تو کیا کسی تہذیب کا احیا ”تماشا“ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ نظم سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ سومنات زندہ نہیں ہو رہا بلکہ اس کا پروہت کچھ درآمد شدہ مقویات سے توانا ہو کر کروٹ لے رہا ہے۔ یہ کسی تہذیب کا احیا نہیں بلکہ برہمن طبقے کی نئی خود باوری کا منظر ہے، اور اس کے بنیادی وسائل نسلی، فسطائی اور سرمایہ دارانہ ہیں۔ اپنی نئی خود باوری کے ذریعے یہ طبقہ اختتامِ استعمار پر پرانے آقاؤں کی جگہ لینے کی تیاری میں ہے، اور وہ یہ ذمہ داریاں عین انہی وسائل سے پوری کرنا چاہتا ہے جو روانہ شدگانِ استعمار کا ہی ترکہ ہے۔ بچارا دہقان تاریخ کی اس نئی کروٹ کو پورے مضمرات میں نہیں جان پا رہا اور ایک طفلانہ سادگی سے ان ہامانی واقعات کو تک رہا ہے۔ لیکن جلد ہی وہ اپنی ”حسِ ازل“ سے یہ جان لے گا کہ یہ احیا اس کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ کسانوں کا موجودہ احتجاج اسی ”حسِ ازل“ کا اظہار ہے۔ برہمن احیا جس طرح مہا سرمائے کا آلۂ کار بن کر سامنے آیا ہے اور بھارتی معاشرے کے کئی دیگر طبقات کی طرح دہقانوں کی اصلِ حیات ہڑپ کر جانا چاہتا ہے، وہ اب حیوانی سطح کی ”حس ازل“ کے حامل مجبور و مقہور طبقات پر بھی بالکل روشن ہے۔ عجوزۂ سومنات مہا سرمائے کا چہرہ ہے جو بھیانک استحصالی حقیقت کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ احتجاج کوئی علمی ڈسکورس وغیرہ تو ابھی سامنے نہیں لا رہا لیکن ”سسٹم کے حلق میں پانا“ گھسانے جیسے گیت اسی ”حسِ ازل“ کا اظہار ہیں جس سے دہقانوں کا یہ شعور سامنے آتا ہے کہ مہاسرمائے کا نظام انہیں نگل جانے کو ہے۔ اس احتجاج نے جو گیت اور آرٹ پیدا کیا ہے اس میں برہمنوں کے قبضے میں آئی ہوئی ”دلی“ ایک بے پایاں ظلم کی علامت بن کر ابھری ہے۔

”سومنات“ ہندو احیا کے منظر کو ایک جلوس کی شکل میں یوں پیش کرتی ہے:

نئے سرے سے غضب کی سج کر

عجوزۂ سومنات نکلی،

… … …

عجوزۂ سومنات کے اس جلوس میں ہیں

عقیم صدیوں کا علم لادے ہوئے برہمن

جو ایک نئے سامراج کا خواب دیکھتے ہیں

اور اپنی توندوں کے بل پر چلتے ہوئے مہاجن

حصول دولت کی آرزو میں بہ جبر عریاں،

جو سامری کے فسوں کی قاتل حشیش پی کر

ہیں رہگزاروں میں آج پاکوب و مست و غلطاں

دف و دہل کی صدائے دلدوز پر خروشاں!

کسی جزیرے کی کور وادی کے

وحشیوں سے بھی بڑھ کر وحشی،

کہ ان کے ہونٹوں سے خوں کی رالیں ٹپک رہی ہیں

اور ان کے سینوں پہ کاسۂ سر لٹک رہے ہیں

جو بن کے تاریخ کی زبانیں

سنا رہے ہیں فسانۂ صد ہزار داستاں!

اگر آج برہمنوں کے نسل پرستانہ احیا، فسطائی سیاست، اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے، مسلم، دلت اور دہقان دشمنی، انبوہ میں قتل (mob               lynching)، بے پایاں معاشی استحصال سے ہونے والی خودکشیوں کو ان کے پس پردہ محرکات سمیت بیان کرنا ہو تو کیا اس سے آگے جایا جا سکتا ہے؟ نظم کا یہ حصہ ہندقتوا کے سیاسی تصور و عمل کو غیرمعمولی صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ احیائی ہندو مت نے اپنے فکری پہلوؤں میں سائنسی مادیت کے ساتھ جو مکمل عینیت پیدا کی ہے اس سے دونوں کی اجرام پرستانہ (paganistic) نہاد بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ مغرب کے نسل پرستانہ اور فسطائی تصورات کے تابع ہندوتوا بھی تاریخی مادیت کا ایک مظہر ہے جس میں کسی آفاقی تصورِ انسان کی کوئی گنجائش ممکن نہیں۔

عجوزۂ سومنات عروسِ تاریخ بن کر جو نکلی ہے تو دیکھا چاہیے کہ اس کا ”ولی“ کون ہے؟ یہ وہی برطانوی سامراج ہے جو دو سو سال تک ہندوستان کے وسائل کو بے دردی سے ہڑپ کرتا چلا آیا ہے، اور اب وہ عجوزۂ سومنات کو اپنی جگہ تمکن دینے کی کوشش میں ہے۔ اس کے لیے تمام تر وسائل اس نے مغربی تاریخ کے تاریک و مہیب تہہ خانوں سے فراہم کیے ہیں: نسل پرستی، فسطائیت، معاشی جبر و استحصال، اور دیگر سازی کے عمل سے اقلیت کُشی۔ تاریخی عمل میں بھارت کی احیائی سیاسی قیادت کشاں کشاں مقامی اور بین الاقوامی مہاجنوں کے ایجنڈے پر ان کی مکمل آلۂ کار بن چکی ہے۔

”سومنات“ جدید تاریخ میں ہندو احیا کی حرکیات پر ایک غیرمعمولی تناظر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی طویل مسلم تاریخ کے ہم عصر احوال و حالات کو بھی پس منظر کے طور پر بیان کرتی ہے، اور وہ ازحد معنی خیز ہے۔ شاعر کا تخیل مسلم تہذیب کے فکر و عمل کی ہم عصر واقعیت کو کلیت میں ظاہر کر دیتا ہے۔ نظم سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ مسلم تاریخی اور سیاسی عمل گرد ہو چکا اور ان کی فکر co-opt ہو چکی۔ برصغیر میں مسلم حریتِ عمل اور حمیتِ فکر کے خاتمے کو یہ نظم جس طرح سامنے لاتی ہے وہ تہذیب کے انہدامی لمحے کا ایک المناک منظر ہے۔  عجوزۂ سومنات بن سنور کر جلوس میں نکلتی ہے:

مگر ستم پیشہ غزنوی

اپنے حجلۂ خاک میں ہے خنداں–

وہ سوچتا ہے:

”بھری جوانی میں سہاگ لوٹا تھا میں نے اس کا

مگر مرا ہاتھ

اس کی روح عظیم پر بڑھ نہیں سکا تھا“

برصغیر کی مسلم تہذیب اب لوٹ کا مال ہے، اور برطانوی سامراج ربۂ سومنات کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دے رہا ہے جو عجوزۂ سومنات کا نیا جنم ہے:

”کہ آؤ آؤ اس ہڈیوں کے ڈھانچے کو

جس کے مالک تمھیں ہو

ہم مل کے نورِ کمخواب میں سجائیں!“

اس ورثے کو خونِ مسلم کے غازے سے سجایا جا رہا ہے کہ شاید اسے کسی میوزیم میں جگہ مل سکے۔ درست تر یہ ہے کہ مسلم تہذیبی ورثہ اب ہندوتوا تاریخ کا مستقل ایندھن ہے۔ یاد رہے کہ استعمار نے بھی مسلم تاریخ کے ادراک کو بدلنے کے لیے بہت بنیادی علمی گھاؤ لگائے تھے، اور ہندوتوا سیاست بھی اپنی جواز سازی میں مسلم تاریخ کو ہر لحظہ چباتی رہتی ہے۔  برصغیر کی مسلم تاریخ استعمار اور ہندوتوا کے بہت کام آئی، اور اس سے اگر کوئی بےخبر رہا ہے تو وہ مسلمان ہی ہے۔ ربۂ سومنات کے جلوس میں شامل باجا کا ذکر بھی لازم ہے اور جس سے نظم کا تہذیبی تناظر مکمل ہو جاتا ہے:

اور ان کے پیچھے لڑھکتے لنگڑاتے چلے آ رہے ہیں

کچھ اشتراکی

کچھ ان کے احساں شناس ملا

بجھا چکے ہیں جو اپنے سینے کی شمع ایقاں!

اشتراکیوں کو خراج عقیدت تو ہم کسی اور وقت پیش کریں گے لیکن تاریخ کے ایک کانٹے کے لمحے میں ”احساں شناس ملاؤں“ کا ربۂ سومنات کی گھاگر کو اپنا حجلۂ وجود اور قبلۂ شعور بنا لینا برصغیر میں مسلم تہذیب کے انہدام کا تکمیلی مرحلہ بن جاتا ہے۔ ایک ایسی صورت حال میں جب مسلم عمل استخوانِ خاک ہے، اور مسلم ذہن ربۂ سومنات کے جلوس کی گرد میں کھو چکا ہے، ہم پر لازم ہے کہ اپنے تہذیبی وسائل کی بازیافت کا آغاز کریں۔ ”سومنات“ کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا کچھ فنا ہو چکا اور مستقبل کی طرف درپیش سفر کی کٹھنائی کس قدر ہے۔ ن م راشد زیاں کا مسافر ہے اور ویران راستوں کے شعری زائچے بناتے رہنا اس کا محبوب مشغلہ تو ہے ہی اس کی شعری عظمت کا بھی ثبوت ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search