آؤ اخبار نہ پڑھیں اور روڈ میپ – تحریر: ذوالنورین سرور

صحافت کا اصل کام تو خبر پہنچانا ہے۔ ایک واقعہ جو رونما ہو چکا ہے، اس کے بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کرنا۔ اس وقت ملک میں بااعتماد معلومات فراہم کرنے کا ایک بھی ادارہ موجود نہیں ہے ۔ یعنی صرف خبر پڑھ یا دیکھ کر یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا واقعی ایک لڑکی کو پتھر مار کر بغیر تجہیز و تکفین کے دفن کر دیا گیا ہے یا کیا برطانوی وزیر اعظم دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں یا فلاں وزیر کی فلاں ادارے کے سربراہ سے ایک باضابطہ گفتگو ہوئی ہے؟ ان میں سے کوئی بھی خبر سن کر یا پڑھ کر اس پر یقین کرنا غلط ہو گا اور ہمارے تجربے میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے ۔ معلومات کی ایسی صورتحال افراتفری اور انارکی پیدا کرتی ہے اور کسی بھی سیاسی ڈھانچے کو مکمل طور پر ڈھا دینے کی بنیاد ہے لیکن ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے۔ یوں بھی انتشار ہمیں پریشان نہیں کرتا بلکہ وہ ہمارا معمول ہے۔ اور ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے ۔

صحافتی مواد اور فارمیٹ کی عادت صرف صحافی کو خراب نہیں کرتی بلکہ قارئین میں بھی یہ منتقل ہو جاتی ہے ۔


یہ کہنا کہ میڈیا غلط خبریں پھیلا رہا ہے، بالکل غلط دہائی ہو گی ۔ ایسی بات کرنا تو گویا میڈیا کو ایک قابلِ اصلاح خرابی کا مکلف بنانا ہے ۔ میڈیا غلط خبر نہ بھی دے تو بھی وہ کوئی کام کی بات کرنے سے قاصر ہے ۔ ایک آدمی جو اخبار پڑھتا ہے اور نیوز میڈیا کو باقاعدگی سے دیکھتا ہے، اگر ہم اس سے پوچھیں کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے تو اس کے پاس موجود سارا صحافتی مواد اسے اس سوال کا جواب دینے کا اہل نہیں بناتا ۔ بدقسمتی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ایک کالم نگار یا اینکر شاید زیادہ باخبر اور سمجھدار ہے اور وہ اس سوال کا جواب دینے کا اہل ہے ۔ ان کے دو مسائل ہیں : ایک تو وہ حاضر و موجود کے سوال کو غیر اہم سمجھتے ہیں اور ان کی زیادہ دلچسپی مستقبل کی صورتحال اور حل پیش کرنے پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی مثبت اور عمومی گفتگو کرنی آسان ہے لیکن یہ محض ان کی نااہلی کو مزید بےنقاب کرتی ہے ۔ دوسرا، ان کے اخلاقی اور پیشہ ورانہ مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ عام سمجھ بوجھ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پست اور عامیانہ ذہنی اپج انھیں بامعنی کام نہیں کرنے دیتی۔ صحافت بطور ادارہ ان کے ساتھ معاملہ ہی ایسا کرتی ہے کہ وہ بالکل کھوکھلے ہو جاتے ہیں ۔ شروع شروع میں کسی حد تک انھیں اس بات کا احساس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ احساس جاتا رہتا ہے اور وہ خبط عظمت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ صحافی کے موضوع کا انتخاب ادارہ کرتا ہے ۔ رفتہ رفتہ یہ مجبوری عادت بن جاتی ہے پھر وہ اپنی اس عادت کو باقاعدہ اپنی ذہانت اور فن پر محمول کرنے لگتے ہیں ۔ یعنی انھیں کسی موضوع کی دو باتیں پتا چل جائیں تو وہ کسی ایسے آدمی کے ساتھ آدھا گھنٹہ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں جس نے ساری زندگی صرف اسی چیز پر کام کیا ہوتا ہے ۔ اس طرح کے تجربات انھیں ہشیاری، تیزی اور نرگسیت کا مریض بناتے ہیں ۔ صحافت میں موضوع یا اس کا چھلکا بھی درکار نہیں ہے ۔ اسے صرف نام درکار ہے جو بیچا جا سکے ۔ یعنی مثلاً آج اقبال ڈے ہے تو آج اس پر گھنٹہ ایک بات ہونی چاہیے یا اس کا خصوصی ضمیمہ نکلنا چاہئے ۔ یہ ضمیمہ نکالنے والا یا پروگرام کرنے والا بھلے فکر اقبال کی مبادیات سے بھی واقف نہ ہو لیکن موسیقی، تصاویر، وقفوں، تیار شدہ سوالات اور چند گھسے پٹے فقروں کے ذریعے وہ نہایت کامیاب پروگرام کرنے یا فیچر لکھنے پر قادر ہے! صحافتی طرز فکر بنیادی طور پر فارمیٹ کی کامیاب پیروی کا نام ہے ۔ وہ بھلے کسی بھی نظریے کا ابلاغ کر رہا ہو، اس کی سطح پست ہی رہے گی ۔ اس میں ہم لایعنی قسم کے اینٹی فلاں اور پرو فلاں کے نعرے محض اپنے تعصبات کے اظہار کے لئے لگاتے ہیں ۔

خبر کے پیداواری عمل میں ایک صحافی جو واحد بامعنی سرگرمی انجام دیتا ہے، وہ مال بنانے کی ہے۔


پس صحافی غلط مواد (خبر) کی بنیاد پر غلط موضوع (مستقبل) کو اپنے معاشی مسائل اور پست ذہنی سطح کے ساتھ زیر بحث لاتے ہیں تو بجا طور پر غلط نتائج پر پہنچتے ہیں ۔ لہٰذا ان کے تناقض کی نشاندہی وقت کا ضیاع ہے۔ صحافی مستقل طور پر غلط ہیں ! ان کے مستقل طور پر غلط ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے مخالف کھڑے ہو کر درست ہو سکیں گے ۔ ان کی مدد سے ’’ غلط ‘‘ کی بھی درست نشاندہی نہیں ہو سکتی اور لہٰذا یہ بالکل کسی کام کے بھی نہیں! خبر کے پیداواری عمل میں ایک صحافی جو واحد بامعنی سرگرمی انجام دیتا ہے، وہ مال بنانے کی ہے۔ اگر کوئی صحافی ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اسے ایک باشعور آدمی قرار نہیں دیا جا سکتا!
باضمیر اور غریب صحافی کی مثال اس آدمی کی سے ہے جسے ایک جادوگر نے چند ہزار ماہانہ پر گردان کرنے کو رکھا ۔ کام یہ تھا کہ اِدَّڑ اِدَّڑ اِدَّاڑ، بِدَّڑ بِدَّڑ بِدَّاڑ، جِدَّڑ جِدَّڑ جِدَّاڑ کا جاپ جاری رہنا چاہیے ۔ جادوگر نے اسے یہ سبق بھی دیا کہ اس کی اس گردان کے سبب ہی دریاؤں میں پانی رواں ہے اور زمین سے سبزہ اگتا ہے۔ایسے میں ایک آدمی آ کر اسے بتاتا ہے کہ جو گردان وہ اس وقت کر رہا ہے یہ بالکل نئی ہے اور لہٰذا اس کا دریاؤں کے بہنے یا زمین میں سبزہ اگنے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ آدمی اس مہمل گردان میں تبدیلی کے چند لاکھ روپے دینے کو تیار ہے جو اس کی کئی برسوں کی تنخواہ کے مساوی ہیں ۔ گردان کے الفاظ یہی رہیں گے لیکن ترتیب بدلے گی اور کچھ یوں ہو جائے گی: اِدَّڑ اِدَّاڑ اِدَّڑ، بِدَّڑ بِدَّاڑ بِدَّڑ ، جِدَّڑ جِدَّاڑ جِدَّڑ۔ اندازہ لگائیں کہ اگر وہ فرد ایسا کرنے سے انکار کر دے اور کہے کہ اسے گردان پر یقین ہے اور وہ گردان کرنے کے عمل کو ایک مقدس فریضہ سمجھتا ہے ۔ یقیناً جادوگر کو داد دینی پڑے گی کہ اس نے کروڑوں انسانوں میں سے ایسا وفادار بےوقوف ڈھونڈ نکالا تھا ۔ عین ممکن ہے کہ کچھ زیادہ پیسے لے کر جادوگر خود ہی اسے گردان بدلنے کا حکم دے دے۔

میڈیا علم کا التباس پیدا کرتا ہے۔


صحافتی مواد اور فارمیٹ کی عادت صرف صحافی کو خراب نہیں کرتی بلکہ قارئین میں بھی یہ منتقل ہو جاتی ہے ۔ ایسے قارئین ہر تحریر پڑھنے کے بعد بڑبڑاتے ہیں، ’’ حل کیا ہے؟ ‘‘ ، ’’ اب کیا کریں؟‘‘ یہاں پر حل مانگنا اصلاً کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ سوال یا مطالبہ فرد کی ذہانت اور سنجیدگی نہیں بلکہ اس کے مزاج اور نفسیات کا اظہار ہے ۔ اسی لئے اسے بولنا نہیں بڑبڑانا کہیں گے ۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ اب کیا کریں؟‘‘ تو یہ ’’ اب‘‘ ہمیں ان کے قلب و ذہن میں برپا کسی طوفان کی خبر نہیں دیتا بلکہ یہ ’’اب‘‘ فارمیٹ کی جانب اشارہ ہے ۔ ایسا نہیں ہوا کہ تحریر پڑھنے کے بعد انھیں اس کی معنویت سمجھ میں آ گئی اور وہ اب بے قرار ہیں کہ اس شعوری سرگرمی کی اگلی منزل پر پہنچیں یا اپنے عمل کا حصہ بنائیں یا اس پر مزید غور و فکر کریں۔ وہ تحریر کے خاتمے پر حل کا انتظار کر رہے تھے اور اسے وہاں نہ پا کر خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ ان کی مثال اس ممتحن کی سی ہے جو طلباء کے پرچوں میں سرخیاں دیکھ کر نمبر لگاتا ہے ۔ جیسے طالب علم کی لکھی ہر بات ممتحن کی زندگی سے بالکل غیر متعلق ہے اور وہ بس اسے دیکھتا ہے، پڑھتا نہیں ہے ۔ بالکل اسی طرح ان لوگوں کا متن سے کوئی بامعنی تعلق ہی نہیں ہے۔ فارمیٹ کی پیروی کا مطالبہ ہی متن میں حل مانگنے کی اصل دلیل ہے۔ بدقسمتی سے یہ دلیل انھیں معلوم بھی نہیں یعنی یہ کوئی شعوری معاملہ نہیں جیسا کہ اکثر ایسے لوگ سمجھتے ہیں ۔صحافیوں کے خوشہ چیں یہ سادہ لوگ خود کو پڑھا لکھا، مدلل اور سنجیدہ فرد سمجھتے ہیں ۔ ان کا وجود صحافت پر تنقید کا بہت بڑا سبب فراہم کرتا ہے۔ یعنی یہ میڈیا کے پیدا کردہ شعور کی عمدہ مثال ہیں اور ایسے اذہان بنانے کے سبب ہی میڈیا قابل مذمت ہے ۔
میڈیا علم کا التباس پیدا کرتا ہے ۔ لوگ صحافیوں کو سننے اور پڑھنے کو ایک فکری سرگرمی سمجھتے ہیں ۔ اس طرح میڈیا انھیں ’’ جاننے ‘‘ کے گمان میں مبتلا کرتا ہے اور ان کے شعوری ڈھانچے کی شکست و ریخت کرتا ہے۔

میڈیا نہ دیکھنا لا-عمل نہیں بلکہ مہا-عمل ہے۔


اخبار کیسے نہ پڑھا جائے اور ٹی وی کیسے نہ دیکھا جائے ؟ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے ؟ کیونکہ اخبار پڑھنا یا ٹی وی دیکھنا تو ایک سرگرمی ہے اور انسان اگر کوئی چیز پڑھے یا دیکھے تو یہ ایک عمل ہے جبکہ کچھ نہ کرنا تو بے عملی ہے ۔ یہ ایک مغالطہ ہے ۔ اخبار پڑھنا اور ٹی وی دیکھنا صرف سرگرمی نہیں بلکہ مضر سرگرمی ہے۔ اسی طرح اخبار نہ پڑھنا اور ٹاک شوز نہ دیکھنا بھی ایک سرگرمی ہی ہے جو نہایت مفید بھی ہے ۔ یہ فرد کے علم میں اضافہ کرتی ہے اور اس کے شعور کو مہمیز کرتی ہے۔ جدید سول سوسائٹی کی تشکیل میں میڈیا بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہر فرد میڈیا کے بنے اس دلدل میں پھنسا ہوا ہے ۔ دلدل میں پھنسے فرد کو ہلنے جلنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے وہ مزید دھنستا ہے ۔ دلدل کے خلاف مزاحمت کا طریقہ کچھ بھی نہ کرنا ہے ۔ میڈیا سے گریز کرنے کی نوعیت بھی دلدل میں پھنس کر نہ ہلنے کے عمل کی سی ہے ۔ یعنی یہاں پر عمل نہ کرنا بے عملی نہیں ہے بلکہ ایک سوچا سمجھا اور بامعنی عمل ہے ۔ میڈیا نہ دیکھنا لاعمل نہیں بلکہ مہاعمل ہے !

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search