ہماری مذہبی دانش اور گردشِ زمین۔ تحریر: محمد دین جوہر

”الحمد للہ، وہ نور کہ طور سینا سے آیا اور جبل ساعیر سے چمکا اور فاران مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے فائض الانوار و عالم آشکار ہوا۔ شمس و قمر کا چلنا اور زمین کا سکون روشن طور پر لایا آج جس کا خلاف سکھایا جاتا ہے اور مسلمان ناواقف نادان لڑکوں کے ذہن میں جگہ پاتا اور ان کے ایمان و اسلام پر حرف لاتا ہے۔ و العیاذ باللہ تعالیٰ“ ص ۲۴۵۔

اس ابتدائی پیراگراف سے والا تبار مولاناؒ کا مقصد ظاہر ہے کہ گردش زمین جو جدید فزکس کے اصولوں سے مبرہن ہے اور طبعی کونیات کا موضوع و موقف ہے دینی ہدایت کے خلاف ہے، اور سکون ارض کے موقف کو متروک یونانی سائنس اور مندرس کلامی دلائل سے مؤید کرنا دین کی خدمت ہے۔

والا تبار مولاناؒ مزید فرماتے ہیں: ”فقیر … … کے دل میں ملک الہام نے ڈالا کہ اس بارے میں باذنہٖ تعالیٰ ایک شافی و کافی رسالہ لکھے اور اس میں ہیأت جدیدہ ہی کے اصول پر بنائے کار رکھے کہ اسی کے اقراروں سے اس کا زعم زائل اور حرکتِ زمین و سکونِ شمس بداہتاً باطل ہو“ ص ۲۴۵۔ والا تبار مولاناؒ کا بیان کردہ یہ اصول نہایت صائب اور درست ہے کہ کسی بھی شعبۂ علم کے بنیادی قضایا کو مان کر ہی ان کے ساتھ رد و قبول کا معاملہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس میں اہم بات یہ ہے کہ جدید فزکس اور ہیئت قدیم میں کوئی علمی اور نظری قدر مشترک نہیں ہے۔ ہیئت قدیم بالعموم اجرام فلکی اور ان کی حرکت کو زیر بحث لاتی ہے، اور لوازمۂ بحث حس اور مشاہدۂ عمومی سے حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ جدید فزکس مادے کا سائنسی مطالعہ ہے۔ ’سائنسی‘ کہنے سے ہیئت قدیم اور جدید فزکس میں دو مزید امتیازات پیدا ہو جاتے ہیں اور ان کو محل نظر رکھے بغیر کوئی گفتگو نہیں ہو سکتی۔ اور وہ سائنسی طریقہ کار اور طرز استدلال ہے۔ چونکہ والا تبار مولاناؒ کے رسالے میں ان کا کوئی ذکر، شعور یا تفہیم موجود نہیں ہے، اس لیے ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے اپنے رد میں ”ہیأت جدیدہ ہی کے اصول پر بنائے کار“ رکھی ہے اور ”اسی کے اقراروں سے اس کے زعم باطل“ وغیرہ کا رد کیا ہے درست نہیں ہے۔ گردش زمین ایک بالکل نئے سائنسی اور نظری تناظر میں قائم شدہ موقف ہے، جس کے لیے قدیم ہیئت کے پورے پیراڈائم، اصول اور نظریات رد کرنے پڑے تھے۔ والا تبار مولاناؒ کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ گردش زمین کا نظریہ اور قانون قدیم ہیئت کے اصولوں میں رہتے ہوئے سامنے لایا گیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ جس تناظر، لوازمۂ بحث اور طرز استدلال پر گردش زمین کا قانون کھڑا ہے، اس کو ایک مسترد شدہ تناظر، لوازمۂ بحث اور طرز استدلال سے پھر کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ گردش زمین ایک ضمنی مسئلہ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ انسانی ذہن نے قدیم ہیئت سے جدید فزکس کی طرف جو پیشرفت کی ہے والا تبار مولاناؒ اس کا رد فرماتے۔ لیکن افسوس کہ یہ خبر والا تبار مولاناؒ تک نہیں پہنچی اور اس کے لیے جدید فزکس کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ابتدا ہی میں  والا تبار مولاناؒ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اس رسالے کی تحریر کا خیال الہامی تھا، اور اس علمی کاوش میں ان کو ملکِ الہام کی مدد و استعانت حاصل رہی ہے۔ بہرحال اسے والا تبار مولاناؒ کے روحانی مقام و مرتبے پر محمول کیا جائے گا، جس سے عامۃ المسلمین کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ الہام تائید ایزدی سے انفس و آفاق کے کچھ گوشوں کے منور ہو جانے کا عمل ہے۔ اگر الہام میں والا تبار مولاناؒ تھوڑی سی عقل شامل فرما لیتے تو شاید وہ نتائج سامنے نہ آتے جو اس رسالے سے ظاہر ہیں۔ ہمارے نزدیک دیموقراطیس اور نیوٹن کی مذہبی معنویت ایک جیسی ہے۔ ہم پر یہ بتانا فرض ہے کہ دیموقراطیس کے نظریات کیونکر مؤید دین ہیں، اور نیوٹن کے سائنسی نظریات و قوانین کیونکر دین کے خلاف ہیں۔ لیکن جدید عہد میں مسلم ذہن ہر ضروری قضیے کے وجود ہی سے انکاری رہتا ہے اور اُس طرح کا علم سامنے آتا ہے جو اس رسالے میں ہے۔ امکان حدس کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بالکل ظاہر ہے کہ نیوٹن کو کسی الہام وغیرہ کی کوئی مدد حاصل نہیں، اور اس کا ذریعۂ علم حس اور عقل ہے۔ دیانتداری کی بات یہ ہے کہ فرشتہء الہام بھی اتر آیا لیکن والا تبار مولاناؒ  سے نہ صرف یہ کہ جدید فزکس کا رد نہیں ہو سکا بلکہ اس کی درست تفہیم کا امکان بھی جاتا رہا، اور مسلم ذہن سے کشادِ قفل کی کوئی امید بھی پیدا نہ ہو سکی۔ گزشتہ دو ڈھائی سو سالہ علمی اور مذہبی روایت میں یہ امر علی الاطلاق ہے اور آج بھی اس میں سرمو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔  جدید عہد میں والا تبار مولاناؒ کا پیدا کردہ علم مسلمانوں کی خودکشی کا وظیفہ  ہے۔

والا تبار مولاناؒ نے ہیئت قدیم کے متون سے اپنے موقف کو مؤید فرمایا ہے۔ اپنے رسالے میں انہوں نے بہت سے اساطین قدیم کے دلائل کو رد کر کے نئے دلائل کھڑے کیے ہیں، جو مسترد شدہ دلائل جیسے ہی ردی ہیں۔  دوسری طرف، جدید سائنس علم محض (pure               knowledge) کی پیداوار میں پہلا کام ہی پرانے متون کے علی الاطلاق رد کا کرتی ہے۔ والا تبار مولاناؒ کا خیال ہے کہ شاید نیوٹن اجرام فلکی کا کوئی نظری مطالعہ کر رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ جدید فزکس نہ صرف زمین بلکہ پوری کائنات کو مادے اور توانائی کا ظرف سمجھتی ہے، اور اس ظرف کی بنت زمان و مکان ہے۔ جدید فزکس میں علمی تناظر کے ساتھ زمان و مکان بھی نئے ہیں۔  والا تبار مولاناؒ ایک ایسے فہم متن کو سامنے لا رہے ہیں جو ارضی مادی حقائق اور ان میں کارفرما توانائی کی قوتوں سے کوئی توافق یا تطابق (correspondence) نہیں رکھتا، کیونکہ نئے سائنسی تناظر میں والا تبار مولاناؒ ان کے وجود سے ہی بےخبر ہیں۔ سائنسی علم پر کئی پہلوؤں سے تنقید اس کی اپنی روایت میں گندھی (inbuilt) ہے، اور جدید علمی ترقی میں خود تنقیدی ایک اصول کے طور پر داخل ہے۔ جدید سائنس کے تناظر اور طرز استدلال میں اپنے ہی نظریات و قوانین کا بطلان اس کی بہت بنیادی سرگرمی ہے، اور اس کی ترقی کا راز اسی میں پنہاں ہے۔ جبکہ مسلمانوں نے قدیم اور مندرس علمی متون کو ہدایت کی طرح سینے سے لگا رکھا ہے، اور وہ علم و ہدایت کو ایک ساتھ ڈبونے پر گہرا یقین رکھتے ہیں۔

گردش زمین کا مسئلہ جدید فزکس کے مکتبی مسائل میں سے ہے۔ علمی دیانت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے رد سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کی تفہیم اسی نظام استدلال میں سامنے لائی جائے جس پر یہ علم اساس رکھتا ہے۔ مثلاً حرکت کی اقسام یعنی ویکٹر اور سکیلر، مومینٹم، فورس اور انرجی کے تصورات، سپیڈ اور ولاسٹی کے فروق، وزن اور کمیت کے بنیادی تصورات، فرکشن کا فینامنن، کشش ثقل کے حسی مظاہر اور ان کی نظری تعبیرات، نہایت صریح ریاضیاتی ثبوت اور ان کی exactness جدید فزکس کے اپنے متعین کردہ دائرے میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں رہنے دیتے۔ جدید فزکس میں ان جزئی پہلوؤں کی معنویت یا relevance اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک ہر قدرتی مظہر (نیچرل فینامینن) کو پہلے سے طے کردہ اور متعین فریم ورک میں رکھ کر نہ دیکھا جائے، اور جو زمان و مکاں کا ایک خاص، محدود اور شائع شدہ فریم ورک ہے۔ اقلیدسی اشکال یا ڈایا گرام اس فینامینن کے اجزا کو ایک ساتھ سامنے لانے اور تفہیم کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ فزکس ان اشکال کی پیروی نہیں کرتی بلکہ یہ اشکال فزکس اور اس کے سائنسی تصورات کی اردل میں ہوتی ہیں۔ مادے کے ساتھ نہ صرف کشش ثقل بلکہ برقناطیسی توانائی کا بھی ایک وسیع عریض نظام کارفرما ہوتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ کے ہاں ان میں سے کوئی چیز زیربحث نہیں کیونکہ وہ ان سے بے خبر ہیں۔

والا تبار مولاناؒ کا یہ فرمانا کہ ”واقعات کا کام فرضیات سے نہیں چلتا، مدعی کا مطلب ”شاید“ اور ”ممکن“ سے نہیں نکلتا۔ یہ لوگ طریقۂ استدلال سے محض نابلد ہیں“ (ص ۲۵۰)  محض سادہ لوحی نہیں بلکہ مخاصم کے ساتھ ناروا سلوک بھی ہے، اور مطلق بے خبری پر دلالت کرتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس بلا کے روبرو ہیں، کیونکہ علم الکلام کا زور فزکس کے روبرو نہیں چلا اور نہ چلتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ مزید فرماتے ہیں کہ ”پھر اگر شے  ثابت و متحقق ہے اور یہ سب متعین نہیں تو دفعِ اشکال پر بنائے احتمال ایک مجنونانہ خیال۔ اور اگر سرے سے شے  ہی ثابت نہیں، نہ اس کے لیے یہ سبب متعین، پھر اس میں یہ اشکال، تو کسی احتمال سے اس کا علاج کر کے شے اور سبب دونوں ثابت مان لینا دوہرا جنون اور پورا ضلال۔ پھر اگر علاج کے بعد بھی بات نہ بنے جیسا کہ یہاں ہے جب تو جنونوں کی گنتی ہی نہ رہی۔ یہ نکتہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ بعض جگہ مخالف دھوکا نہ دے سکے“ ص ۲۵۰۔ یہ مضطرب متن اور اختلالِ وقوف (cognitive               dissonance) کی عمدہ مثال ہے، اور مسلم ذہن کے نہایت گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ کا انتقال غالباً سنہ ۱۹۲۱ء میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب برصغیر میں استعمار ابھی بڑی قوت سے قائم تھا، اور جنگ عظیم اول ہو چکی تھی۔ آئن سٹائن کے سائنسی نظرات (theories) کے بعد جدید فزکس ایک پورے تحول سے گزر چکی تھی، اور ایٹم بم بنانے کی طرف پیشرفت میں تھی۔ پوری دنیا مواصلاتی رابطوں، تجارتی اسفار اور استعماری فتوحات سے مغرب کے غلبے میں ایک ہو چکی تھی۔ ایک روایتی دنیا کو جس علم نے ایک سسٹم میں تبدیل کیا، اور عسکری طاقت کی ڈپلائے منٹ کو پورے کرۂ ارض پر ممکن بنا دیا، وہ یقیناً فزکس ہی تھی۔ یعنی فزکس اور اس کی نیچر اور تاریخ میں نتیجہ خیزی روزمرہ انسانی تجربے میں داخل تھی۔ لیکن مسلم ذہن کی بدنصیبی ایسی جان لیوا اور حالتِ انکار اس قدر گہری ہے کہ وہ اپنے مشاہدے اور روزمرہ تجربے کی کوئی معنویت متعین کرنے سے بھی قاصر ہے۔ جائز طور پر یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ والا تبار مولاناؒ کے ارد گرد جو دنیا بدل چکی تھی، اور اس میں جدید فزکس کو جو مرکزیت حاصل تھی تو کیا وہ اس سے بے خبر تھے؟ اور جدید سائنس کی نتیجہ خیزی سے قدیم انفس و آفاق کے تیز تر ادھڑنے کی وہ کیا توجیہ رکھتے تھے؟ ہم عصر انفس و آفاق سے حالت انکار میں پیدا کیا جانے والا علم انسانوں کی کسی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔ یعنی ایسے جدید علوم جن کا تعلق نیچر سے تھا، ان کی تفہیم اس رسالے سے ظاہر ہے۔ کیا والا تبار مولاناؒ جدید تاریخ اور معاشرے میں نمودار ہونے والی قوتوں کا بھی کوئی ادراک رکھتے تھے؟ یہ سوال ہماری قومی اور ملی بقا کے لیے اہم ہے۔

والا تبار مولاناؒ نیوٹن سے جو سالماتی ساخت منسوب کر رہے ہیں، اور جسے وہ بقول نیوٹن ”بے جوف“  (۲۵۱) فرماتے ہیں، وہ ان کے وہم اور مندرس متون میں تو شاید باقی تھی، لیکن اس کا نیوٹن یا جدید فزکس کی کتابوں میں کوئی وجود نہیں۔ بچوں کے ساتھ گردش زمین پر گفتگو کرتے ہوئے ایک مولانا کی ویڈیو کے بعد بہت سے ایسے اہل ایمان ہیں جو والا تبار مولاناؒ کے موقف کا دفاع کر رہے ہیں، اور یہ امر نہایت خوش آئند ہے کیونکہ ہدایت کا دفاع قوتِ ایمانی سے ہی ممکن ہے۔ لیکن والا تبار مولاناؒ کی طرح ان اہل علم کو بھی ان امتیازات کی خبر نہیں ہوئی جو ہدایت اور سائنسی یا نظری علم میں اولاً اور خلقاً موجود ہیں۔ والا تبار مولاناؒ کے رد اور مدافعین کی تحریریں دیکھ کر ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عصر حاضر میں مسلم ذہن اپنے تہذیبی اور علمی انہدام کی آخری منزل طے کر چکا ہے اور اس میں علوم سے کسی قسم کی نسبتیں نہ صرف باقی نہیں رہیں بلکہ ان کو نئے سرے سے قائم کرنا بھی شاید ممکن نہیں رہا۔ یہ بات تو سرے سے ہی بعید ہے کہ وہ ذہن یہ بھی جان سکے کہ جدید نظری اور سائنسی علوم کی ہدایت سے کیا نسبتیں ہو سکتی ہیں۔ جدید مسلم ذہن اپنے مذہبی پیراڈائم میں رہتے ہوئے نیچر اور تاریخ پر جدید علمی تشکیلات سے مطلقاً بے خبر ہے۔ مدافعین اہل ایمان کے علاوہ جن اصحاب کا یہ خیال ہے کہ والا تبار مولاناؒ سے گردش زمین کے حوالے سے تسامحات ہوئے ہیں، ان کا موقف درست نہیں۔ یہ غلطی یا درستی کا معاملہ نہیں ہے، کیونکہ مسئلہ زیادہ گہرا ہے۔ مسلم ذہن علوم سے تمام ایمانی اور انسانی نسبتوں سے محروم ہو چکا ہے۔

ظاہر ہے والا تبار مولاناؒ علم الکلام میں کھڑے ہو کر اپنے دلائل دے رہے ہیں۔ کلاسیکل علم الکلام آخری تجزیے میں عقل کی ایک سلبی کارفرمائی تھی، اور جس کا مقصد عقلی ذرائع سے واجب الوجود کا ثبوت بالواسطہ قائم کرنا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عقل انسانی ہدایت کی طرف جارحانہ پیشرفت نہ کر سکے، اور عقل کو اس کے جائز دائرے تک محدود رکھا جا سکے۔ ہمارے اسلاف نہ صرف عقل اعلیٰ سے متصف تھے، بلکہ وہ اپنے کام سے خود بھی واقف تھے کہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کے عقلی نظریات آج بھی عقل کی معیاری اور ثقہ تعریفات پر پورے اترتے ہیں۔ وہ علم کی جدلیات اور اس کے داؤ پیچ بھی بڑے پہلوانوں کی طرح جانتے اور کام میں لاتے تھے۔ کلاسیکل علم الکلام ہمارے اسلاف کی غیرمعمولی صلاحیت اور بصیرت کا مظہر ہے۔ وہ عقل کی اوقات اور ہدایت کی وِلات سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی علمی سرگرمیاں ایک ایسا کارنامہ ہیں کہ کوئی انسانی تہذیب اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف جدید فزکس بھی عقل کی عین جائز اور اپنی طے کردہ ثقہ تحدیدات میں نتیجہ خیز کارفرمائی ہے۔ ایمانی بنیادوں پر جدید فزکس کو مسلم ایمانیات سے متغائر بتانا ظلم ہے، اور علم الکلام کے مندرس متون میں پناہ گزیں متروک و مسترد یونانی سائنس کو لاطائل آگے بڑھانا مسلمانوں کے لیے ہلاکت کے سامان کرنا ہے۔ سائنس سے ہمارا جھگڑا نہ عقل کی کارفرمائی میں ہے، نہ اس کی منہج میں ہے، اور نہ اس کے ٹیکنالوجیائی اطلاقات میں ہے۔ ہمارا لینا دینا فزکس کے ان اساسی اور وجودی قضایا سے ہے جو ایک باطل تصور حقیقت کو اس پورے علم اور عقل کی کارفرمائی کی بنیاد بنا دیتے ہیں۔ یہ اساسی اور وجودی قضایا عقل کی ایسی تشریط کرتے ہیں کہ وہ عالم صورت کی بازی گر بن کر رہ جاتی ہے، اور علم کے انسانی منصب کو پورا نہیں کر پاتی اور انسان میں قبولیت حق کی استعداد کو ختم کر دیتی ہے۔ ہمارا دوسرا مسئلہ ٹیکنالوجی کے زیر اثر مشینی عمل کے منتہائی غلبے اور عمل صالح کے تحول سے ہے۔ ان مہمات امور کی طرف والا تبار مولاناؒ کا دھیان نہیں گیا، اور جا بھی کیسے سکتا تھا کہ مسلم ذہن کی علم سے کوئی نسبت تو اس رسالے میں سامنے نہیں آتی۔

والا تبار مولاناؒ علم الکلام، علم نجوم، فرشتہء الہام، الہام اور بعونہ تعالی سے فزکس کے روبرو کھڑے ہوتے ہیں، اور جو نتیجہ سامنے آتا ہے اسے کم از کم افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ فزکس سے معاملہ کرنے کے لیے تائید ایزدی یقیناً درکار ہے، لیکن جو چیز لابدی ہے وہ عقل ہے، ایک ایسی عقل جو دیموقراطیس اور نیوٹن کے افکار کو سمجھ سکے اور ان سے اسی سطح پر معاملہ کرنے کی اہل بھی ہو۔ جس طرح اسلاف کی فتوحات ہمارے حافظے کی محتویات ہیں، اور ان سے حصول ولولہ کے لیے ہم عصر کلچر میں زندگی کے آثار ہونا ضروری ہے، بعینہٖ اسلاف کی علمی فتوحات کے لیے ہم عصر شرائط پر عقل کا فعّال ہونا ضروری ہے۔ حافظے کے بل بوتے پر گردانیں دہرائے جانے سے تہذیبوں کے مسئلے حل نہیں ہوتے۔

والا تبار مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ”مگر اس صحیح بات کو غلط استعمال کیا ہے۔ اس میں جاذب پر نظر رکھی کہ وہ مادۂ وزن مجذوب کے لائق اس پر قوت صرف کرتا ہے۔ یہ بھی صاحبِ ارادہ قوت کے اعتبار سے صحیح تھا، مگر اسے قوت طبعیہ پر ڈھالا کہ مجذوب میں جتنا مادہ ہو گا زمین اسے اتنی ہی طاقت سے کھینچے گی۔ اب یہ محض باطل ہو گیا۔ اولاً اس کا بطلان ابھی سن چکے اور انسان سے تمثیل جہالت، انسان ذی شعور ہے  زمین صاحب ادراک نہیں کہ مجذوب کو دیکھے اور اس کی حالت جانچے اور اس کے لائق قوت کا اندازہ کرے تاکہ اتنی ہی قوت اس پر خرچ کرے“ ص ۲۵۴۔ کشش ثقل کا ایسا رد چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا ہو گا اور نہ آئندہ کبھی دیکھ پائے گی! اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ یہ اعزاز بھی مسلمانوں ہی کے حصے میں آیا ہے! میں بلاوجہ یہ عرض نہیں کر رہا کہ مسلم ذہن اپنے انہدام کا سفر مکمل کر چکا ہے اور اسے علوم سے کوئی نسبت باقی نہیں رہی۔ مسلم ذہن کی مکمل تشکیل نو کے بغیر ہمارا دنیاوی مستقبل کوہ قاف کی کوئی گھٹا ٹوپ گھاٹی تو ہو سکتی ہے، کوئی عزت و بقا کی جگہ نہیں ہو سکتی۔ ایسے دنیاوی علم پر جو زندگی گزری ہو، اس پر اخروی بھلائی کیا ہو سکتی ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔

والا تبار مولاناؒ مرکز مائل اور مرکز گریز قوتوں کے تحت دائرے میں حرکت کرنے والے اجسام پر (اپنے خیال میں) نیوٹن کا موقف درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ”یہ سب تلبیس اور تدلیس ہے“ ص۲۵۷۔ یہ من چہ می سرائیم و طنبورہ من چہ می سراید کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ گزشتہ پیراگراف میں کشش ثقل کا رد کرتے ہوئے والا تبار مولاناؒ کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ جدید فزکس کا ایک بنیادی قضیہ یہ ہے کہ نیچر ایسی قوتوں سے معمور ہے جن تک عقلی ذرائع اور سائنسی طریقۂ کار سے نہ صرف رسائی ممکن ہے  بلکہ انہیں مسخر بھی کیا  جا سکتا ہے۔ اس موقف کے سچ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور جدید دنیا اسی موقف کی درستی اور اس کے نتائج سے پیدا ہونے والی دنیا ہے۔ لیکن چونکہ مسلم ذہن مشاہدے اور تجربے کے ادراکات کی معنویت جاننے کی استعداد سے بھی محروم ہو چکا ہے، اس لیے لگتا ہے کہ یہی کچھ چلتا رہے گا۔ جہاں تک تلبیس اور تدلیس کا تعلق ہے تو یہ ججمنٹ سائنسی علم پر نہیں دی جا سکتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سائنسی علم کو غلط اور درست کہا جا سکتا ہے اور وہ بھی اسی کے طرز استدلال اور پیراڈائم کے اندر رہتے ہوئے۔ سائنسی علم کا بطلان (falsification) ایک ضروری کارگزاری کے طور پر اس میں شامل ہے۔  والا تبار مولاناؒ اگر سائنس کی نظری جہتوں سے کوئی ابجدی واقفیت رکھتے ہوتے تو شاید رسالے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سائنسی رسوائی سے ہم بچ سکتے تھے۔ والا تبار مولاناؒ جس علم الکلام کی نمائندگی کرتے ہوئے سائنس سے پنجہ آزمائی کر رہے ہیں وہ جدید عہد میں ہر پہلو سے اپنی افادیت ختم کر چکا ہے، اور اس کی relevance جس عہد اور مسائل سے تھی وہ اب قصۂ پارینہ ہے۔ کلاسیکل علم الکلام مسلم ذہن کی جدید تشکیل میں کھپنے کے کوئی طرق نہیں رکھتا، اور اس کے قضایا پر جدید مسلم ذہن کی تشکیل کرنا اس کی ہلاکت کے انتظامات مکمل کرنا ہے۔

والا تبار مولاناؒ جگہ جگہ نیوٹن کو جاہل، جاہل مطلق، اور فزکس کو جہل شدید، جہل محض، جہالت سفسطہ وغیرہ قرار دیتے ہیں۔ یہ علمی گفتگو کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس رسالے کو پڑھنے کے بعد دیانتدارانہ رائے یہی ہو سکتی ہے کہ والا تبار مولاناؒ نے جہالت کو مذہبی تقدیس عطا فرما دی ہے۔ علما کی پیروی تو ضروری ہے اس لیے ہمارے لیے یہی بہتر ہے کہ ہم جہالت میں زندگی گزاریں، اس کو مذہبی تقدیس سے صیقل کرتے رہیں، اور ایک مذہبی عمل کے طور پر اس پر فخر کرنا بھی سیکھ لیں۔ اب ہمارے نصیب میں یہی کچھ ہے۔

والا تبار مولاناؒ نے کافی ڈایاگراموں سے اپنے رسالے کو مزین فرمایا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ان کے وہم مقدس میں کوئی ایسی کائنات ہو جو احتراماً ان ڈایاگراموں کے مطابق چلتی ہو۔ کلاسیکل علم الکلام بھی عقلی اور نظری دائرہ کار ہے، اور اس میں بھی مخاصم کے قضایا اور ان کے رد کی استدلالی رعایت شامل رہتی تھی۔ یہ کوئی یک طرفہ کارروائی نہیں تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ کلاسیکل علم الکلام کی علمی افادیت اب باقی نہیں رہی۔ صرف ہدایت غیرمبدل اور ہر زمان و مکان کے لیے ہے۔ مندرس عقلی علوم کو مذہب کی اردل میں بھرتی کرنا دین کی خدمت ہے اور نہ مسلمانوں کی بھلائی۔ والا تبار مولاناؒ کا یہ رسالہ اس امر کی بہت عمدہ مثال ہے کہ مندرس علوم مسلم شعور کی فنا کا کام کیسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ والا تبار مولاناؒ علم نجوم کو بھی فزکس کے مقابل لائے ہیں (ص ۲۷۶)۔ جدید فزکس علم الکلام یا قدیم منطق میں گفتگو نہیں کرتی، وہ ریاضی اور ریاضیاتی منطق میں بات کرتی ہے۔ جدید جیومیٹری میں اظہارِ مکاں (space) جس تحول سے گزرا ہے وہ قدیم جیومیٹری کے وہم سے بھی آگے کی چیز ہے۔ والا تبار مولاناؒ نے جتنی بھی ڈایاگرامیں بنائی ہیں وہ کسی مندرس اقلیدس کے استحضار پر تو یقیناً دلالت کرتی ہیں، لیکن زیربحث مسئلے سے قطعی غیرمتعلق ہی رہتی ہیں کیونکہ ان کو مؤید کرنے والا ریاضیاتی علم اور منطق ان کے لیے نامعلوم کے درجے میں ہے۔ جیومیٹری سے کوئی فزکس ثابت نہیں ہوتی۔ والا تبار مولاناؒ اقلیدس سے کسی گھر کا نقشہ بنانے کی سعی فرماتے تو بات سمجھ میں آتی تھی، لیکن وہ تو کائنات کا نقشہ بنانے نکل کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ کام صرف جوش ایمانی سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے تھوری بہت عقل بھی ضروری ہے۔

والا تبار مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ”ایسے [ذرے} کتنے بہت ہیں، ایسے [ذرے] کتنے چھوٹے ہیں، ذہنی تقسیم میں کلام نہیں جس پر کہیں روک نہیں، ایک خشخاش کے دانہ پر دائرہ عظیمہ لے کر اس کے ۳۶۰؍ درجے، ہر درجے کے ۶۰ دقیقے، ہر دقیقے کے ۶۰ ثانیے۔ یوں ہی عاشرے اور عاشرے کے عاشرے تک جتنے چاہیے حساب کر لیجیے، کیا یہ [حس] میں متمایز ہو سکتے ہیں، یہ فلک شمس جسے تم مدار زمین کہتے ہو جس کا محیط دائرہ ۸۵؍ کروڑ میل سے زائد ہے، ہم فصل اول میں ثابت کریں گے کہ اس کا عاشرہ ایک بال کی نوک کے سوا لاکھ حصوں سے ایک حصہ ہے تقسیم حسی میں کلام ہے جس کا انتفا اجزائے دیمقراطیسیہ میں کیا گیا ہے، اور شک نہیں کہ بال کی نوک کا پچاسواں حصہ بھی حسّاً جدا نہیں ہو سکتا تو جزء دیمقراطیسی زیادہ سے زیادہ ایک ذرے میں پچاس رکھ لیجیے نہ سہی ہر بال کی نوک ۱۳۲ فرض کیجیے، اب تو کوئی گلہ نہ رہا اور کاسے میں آش بدستور، جب ہر ذرہ دوسرے سے ۱۳۲ میل کے فاصلے پر تھا اب ہر جز دوسرے سے میل میل بھر کے فاصلے پر ہوا، اب کیا اس کا قطر بال کی ۶۰ نوک سے بڑھ جاتا، ایک نوک کے حصے کتنے ہی ٹھہرا لو اب کیا زمین محسوس ہو سکتی، اب کیا جسم واحد سمجھی جاتی اب کیا اس پر کھڑا ہونا یا مکان ہونا ممکن ہو جاتا، اب کیا ادھر کی آبادی نظر نہ آتی، اب کیا چاند سورج یا کوئی تارہ غروب کر سکتا، ہر دو جز میں ایک میل کا فاصلہ کیا کم ہے۔ ملاحظہ ہو ان کی تحقیقات جدیدہ اور یہ ہیں ان کے اتباع کی خوش اعتقادیاں کہ متبوع کیسی ہی بے عقلی کا ہذیان لکھے یہ آمنّا کہنے کو موجود“ ص ۲۸۴۔  اس نمائندہ اقتباس سے کم از کم ایک بات کا اندازہ ضرور ہو جاتا ہے کہ آقائے سرسید کو کس طرح کی مذہبی ذہنیت کا سامنا رہا ہو گا۔ اس میں یقیناً کچھ کلام نہیں کہ آقائے سرسید نے بہت ٹھوکریں کھائی ہیں، اور ان کے علم پر کوئی جس طرح چاہے گرفت کرے اور اسے غلط ثابت کرے کیونکہ وہ خود اس کی دعوت دیتے ہیں۔ عقلی علم ایک ایسا آسیب ہے جو فتوے سے دور نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ بھی تسلیم ہے کہ آقائے سرسید نے دینی روایت کی جدید تعبیرات میں مرضیاتِ استعمار کو بھی شامل رکھا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ والا تبار مولاناؒ دین کی کوئی خدمت فرما رہے ہیں تو یہ بھی محض خام خیالی ہے۔ آقائے سرسید نے عقل و ذہن کو استعمال کیا ہے اور ان کے حاصلاتِ علم کی غلطی میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ لیکن یہ رسالہ پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آقائے سرسید کا رد کیوں علما کے بس کی بات نہیں تھی۔ یہ رسالہ تو مسلم ذہن کے مطلق انہدام کا محضر نامہ ہے، اور مسلم معاشرہ ابھی تک ایسے ہی رسالوں کی زد میں ہے۔ آقائے سرسید نے کم از کم برصغیر کے مسلمانوں کی بقا کے لیے ضروری علم کا امکان پیدا کر کے اس کو ایک واقعاتی حقیقت بنا کر بھی دکھا دیا۔ والا تبار مولاناؒ جس علم کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ تو ہماری ہلاکت کی منصوبہ بندی ہے، اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلم ذہن میں جہالت مذہبی تقدیس حاصل کر چکی ہے، اور مسلم ذہن کی بازیافت کے امکانات بہت مخدوش ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ آقائے سرسید نے جدید علم کی ضربوں سے دینی روایت کو منتشر کر دیا، جبکہ والا تبار مولاناؒ مندرس علوم سے ہدایت کو حنوط کر کے اسے متحجر فرما رہے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے یہ دونوں ایک ہی طرح کے کام ہیں، اور ہمارے علما کی طرف سے دین کی خدمت کا موقف کوئی بہت زیادہ قابل دفاع نہیں ہے۔ 

والا تبار مولاناؒ نے نیوٹن کے جو اقتباسات دیے ہیں ان سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ نیوٹن یا جدید فزکس کا کوئی قضیہ سمجھ ہی نہیں پا رہے۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ رد کس بات کا فرما رہے ہیں؟ اگر ہمارے علما میں دینی انکسار اور علمی دیانتداری کا  پاس باقی رہا ہوتا تو جعلی علوم پر مشتمل اس طرح کے ان گنت رسائل لکھے ہی نہ جاتے۔ ان کے خیال اقدس میں جدید فزکس کوئی منطقی اور کلامی مسئلہ ہے۔ وہ نیوٹن کے کلیتاً اَن سمجھے اور بریدہ اقتباسات نقل کرنے کے بعد اپنے لاطائل اور مندرس علوم کا مظاہرہ شروع کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ نیوٹن جس علم کا نمائندہ ہے، اسے فزکس اور اس سے قبل               natural               philosophy               کہتے تھے۔ طبعی کونیات (physical               cosmology) جدید فزکس کا تضمناتی شعبہ ہے۔ وہ جدید فزکس کو بھی ہیأت جدیدہ ہی فرما رہے ہیں، یعنی وہ اسے فلکیات، علم نجوم اور جغرافیہ ہی کی کوئی قسم سمجھ رہے ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کوپرنیکس اور جدید فزکس سے پہلے کی ہیئت اور مذہبی کونیات میں کھینچ تان کے تطابق پیدا کر لیا گیا تھا، جبکہ جدید فزکس اور اس کے ذیلی علوم نے نئے انفس و آفاق پیدا کر دیے ہیں، اور اپنے معتدبہ وجودی قضایا میں جدید انسانی اور سائنسی علوم مذہب کی ضد ہیں۔ اس صورت حال نے مذہبی ذہن اور مذہبی انسان کے لیے نہایت سنگین نوعیت کے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ مذہبی انسان، اور خاص طور پر مسلمانوں نے ان کا جواب جہالت کی روحانی تقدیس، عقل سے مکمل فراغت، عصر حاضر سے مکمل حالتِ انکار، ملی بے حمیتی، اخلاقی بے کرداری اور کفر و شرک کی فتویٰ نگاری سے دیا ہے اور ابھی بھی پورا زور ما شاء اللہ انہی شعبوں میں لگ رہا ہے۔

یہ معلوم ہے کہ والا تبار مولاناؒ بنیادی طور پر بہت بڑے فقیہ ہیں، لیکن مباحث اصول سے ان کو کوئی نسبت نہیں ہے، اور یہ اپروچ ہماری متاخر دینی روایت میں ایک امر عام کی حیثیت سے جاری و ساری ہے۔  والا تبار مولاناؒ جدید نیچرل اور سائنسی علوم میں ایک خود مختار فاعل کے ظہور سے بے خبر ہیں، اور سائنس کے اس بنیادی موقف سے بھی کہ نیچر ایسی قوتوں سے مملو ہے جو impersonal ہیں، اور جو کچھ قابل دریافت نیچرل قوانین پر کام کرتی ہیں۔ جدید سائنسی علوم میں کارفرما تصور ادراک اور منہج سے جو positivistic یعنی اثباتیاتی [یہ لفظ کوئی اخلاقی معنی نہیں رکھتا بلکہ سائنسی معنوں میں استعمال ہوا ہے] علوم سامنے آئے ہیں، والا تبار مولاناؒ کو ان کی خبر بھی نہیں پہنچی۔ وہ اجرام فلکی، مظاہر فطرت اور اشیائے نیچر پر اس طرح گفتگو فرما رہے ہیں جیسے کہ  کوئی ملزم قاضی کی عدالت میں حاضر ہو۔ والا تبار مولاناؒ جدید اور قدیم علوم کے اس بنیادی فرق سے بھی بے خبر ہیں کہ قدیم علوم میں اقداری ججمنٹ بہت عام تھی اور اس کا روئے سخن اصلاً آدمی کی طرف ہوتا تھا۔ جدید علوم بہت حد تک impersonal ہیں، اور ایک خاص طرز استدلال اور منہج میں رہتے ہوئے ان کو صحیح اور غلط تو کہا جا سکتا ہے، لیکن ان پر براہ راست کوئی قدری ججمنٹ نہیں دی جا سکتی۔ ہماری دینی روایت کی بربادی میں ایک بڑا عنصر ایسی ججمنٹوں کا ہے، اور علما اس کے لیے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی علم اقدار یا وجودی مواقف سے خالی نہیں ہوتا، اور جدید سائنس کا یہ داعیہ بہت شدید رہا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو value               neutral ثابت کیا جائے۔ بطور مسلمان ہماری اول ذمہ داری تو یہ تھی کہ ہم جدید علوم کی بنیادوں میں کارفرما ان وجودی مواقف کو اپنے تناظر میں سامنے لانے کا کوئی ثقہ طریقہ کار وضع کرتے۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ ذرا سوال و جواب ملاحظہ فرمائیے کیونکہ ملزمہ زمین کٹہرے میں حاضر ہے، اگرچہ وہ اس کے ذی عقل مخلوق ہونے کو رد بھی فرماتے ہیں: ”… اب زمین نقطہ ہ پر تھی اور نافریت کے سبب اس نے مرکز سے دور ہونا چاہا۔ واجب ہے کہ خط ہ پر ہٹے کہ اسی طرف مرکز سے بعد ہے، اور سب بعد اضافی ہیں کہ ایک وجہ سے بعد ہیں اور دوسری وجہ سے قرب ہیں۔ بعد محض چھوڑ کر ان میں کسی کو کیوں لیا۔ یہ ترجیح مرجوح ہوئی۔ پھر اس میں جس خط پر جائے دوسری طرف اس کا مساوی موجود ہے ادھر کیوں نہ گئی ترجیح بلا مرجح ہے، اور دونوں باطل ہیں۔ زمین کوئی جاندار ذی عقل نہیں جسے ہر گونہ ارادے کا اختیار ہے اور جب وہ ب پر جائے گی دورہ محال ہو گا۔ اگر نافریت غالب آئے گی ب سے قریب ہو جائے گی اور جاذبیت تو اسے اور برابر رہیں تو ہ پر رہے گی کسی طرف نہ جائے گی، بہر حال دورہ نہ کرے گی“ ص ۲۹۵۔ اگر زمین جاندار ذی عقل نہیں ہے تو کلامی اور استخراجی منطق کے اطلاقات سے یہ سوال پہلے ہے کہ کیا یہ ان کا محل ہے بھی کہ نہیں؟ اگر محل نہیں ہے تو نتائج کیونکر اخذ کیے گئے؟ ناطقہ سربہ گریباں کہ اسے کیا کہیے!

جدید فزکس کی نتیجہ خیزی زندگی کے انفرادی شعبوں سے لے کر اجتماعی شعبوں تک ظاہر اور مسلم ہے۔ جدید فزکس نے مظاہر فطرت کی میکانکس کو جس طرح سمجھا ہے، اور جس باریک بینی سے اسے متعین اور مبرہن کیا ہے وہ کرشماتی سطح کا ہے۔ سائنسی علم میں مظاہر فطرت کی explanation  (شرح و وضاحت) اور prediction (پیش بیانی) ایک معمول کے طور پر داخل ہے اور ان کی نتیجہ خیزی میں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ میری ناقص رائے میں موجودہ رسالے کو بنیاد بنا کر والا تبار مولاناؒ کی غلطیوں کی گرفت کرنا بدذوقی ہے، اور مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میرا مسئلہ اور ہے کہ عصر حاضر میں مسلم ذہن نئے علم کی تحدی کو، تاریخ کی روند ڈالنے والی حرکت کو سمجھنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کے کیا وسائل سامنے لا رہا ہے؟ زیربحث رسالے کے حوالے سے اگر یہ موقف اختیار کیا جائے کہ والا تبار مولاناؒ کو سائنسی بات سمجھنے میں غلطی لگی ہے تو میری رائے میں یہ درست نہیں۔ انسانی ذہن کی کارفرمائی اور اس کے حاصلات علم میں اس طرح کی تفریقات ممکن نہیں ہوتیں۔ والا تبار مولاناؒ یہ رسالہ لکھ ہی اس لیے رہے ہیں کہ مؤید دین ہو۔ سوال یہ ہے کہ ان کا وہ تصور دین جو اس طرح کے رسائل سے مؤید ہو گا کیسے ثقہ یا وقیع ہو سکتا ہے؟ عصر حاضر میں مسلم ذہن کو درپیش کام یہ نہیں تھا کہ وہ دیموقراطیس کی مندرس فزکس اور ٹالمی کی مسترد شدہ ہیئت کو دین کی حمایت میں بھرتی کرنے کی بے وقت کی راگنی الاپے، بلکہ یہ کہ وہ نیوٹن اور آئن سٹائن کی فزکس کو ہدایت کا مؤید بنا کر دکھائے۔ یہ چونکہ پتہ پانی کر دینے والی بات ہے، اس لیے ادھر دھیان نہیں جاتا، اور جو کام والا تبار مولاناؒ نے کیا ہے، وہ ہمارے تہذیبی مستقبل کی تاریکی کو مزید گہرا کر دیتا ہے، کوئی روشنی کی کرن نہیں ہے۔

مسلم ذہن کے گزشتہ دو صد سالہ حاصلات علم کو دیکھتے ہوئے یہ موقف اختیار کرنا کہ اس کا دینی فہم تو درست ہے بس سائنسی اور جدید عقلی علوم کو سمجھنے میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، بہت بڑی خوش فہمی ہے۔ مسلم ذہن کی حالت انکار (state               of               denial) اتنی گہری ہے کہ اس سے نکلنے کے امکانات معدوم کے درجے میں داخل ہیں۔ دینی روایت اور اس سے جڑی ہوئی کلامی روایت ایک کنویں کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں، جس میں غلطاں مسلم ذہن اس سے باہر کسی چیز کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ یہ وہ ذہن ہے جو کلامی، عقلی اور نظری علوم پر بھی مذہب کی طرح ایمان رکھتا ہے۔ یہ ذہن جدید سائنسی علوم کی نتیجہ خیزی سے آفاق کو بدلتا ہوا دیکھ رہا ہے لیکن اس کا مشاہدہ اور تجربہ بھی اس کو اپنی پوزیشن rethink کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ٹیکنالوجی سے آفاقِ فطرت بدل رہے ہیں، لیکن مسلم ذہن کو اپنی حالتِ انکار میں رہنا عزیز تر ہے۔ اس سے بھی مشکل یہ سوال ہے کہ ایسا ذہن جو آفاق کو بنیادوں تک بدل دینے والی تبدیلیوں کے ادراک اور ان کی معنویت سمجھنے سے قاصر ہے، تو کیا وہ تاریخ میں وقوع پذیر تبدیلیوں کے ادراک کی کوئی استعداد سامنے لا سکتا ہے؟ یہ تو پہلی خوش فہمی سے بھی بڑی ہے۔ جو ذہن حسی دنیا میں سائنسی تبدیلی کی معنویت کو پکڑنے سے قاصر ہے، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ طاقت اور سرمائے سے تاریخ اور معاشرے کی ہیئت میں جو اساسی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں، ان کے ادراک کی استعداد بہم پہنچا سکتا ہے محض خام خیالی ہے۔

والا تبار مولاناؒ فرماتے ہیں:  ”اہل ہیأت جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی و ہندسہ و ہیأت میں منہمک ہے۔ عقلیات میں ان کی بضاعت قاصر یا قریب صفر ہے۔ وہ نہ طریق استدلال جانتے ہیں نہ [آ]داب بحث۔ کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصول موضوعہ ٹھہرا کر ان پر بے سر و پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں، اور پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑ سکتی ہے ان میں نہیں۔ ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے۔ دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنا نہیں چاہتے۔ جاذبیت ان کے لیے ایسے ہی مسائل سے ہے اور وہ اس درجہ اہم ہے کہ ان کا تمام نظام شمسی سارا علم ہیأت اسی پر مبنی ہے۔ وہ باطل ہو تو سب کچھ باطل۔ وہ لڑکوں کے کھیل کے برابر برابر کھڑی ہوئی اینٹیں ہیں کہ ایک گراؤ تو سب گر جائیں۔ ایسی چیز کا روشن قاطع دلیل پر مبنی ہونا تھا نہ محض خیال نیوٹن پر، ایک سیب ٹوٹ کر گرتا ہے وہ اس سے یہ اٹکل دوڑاتا ہے کہ زمین میں کشش ہے جس نے کھینچ کر گرا لیا مگر اس پر دلیل کیا ہے جواب ندارد“۔ اگر ثقہ علم سے منسلک اسطوریات یا الحاقی افسانوں پر تھوڑی دیر کے لیے یقین کر لیا جائے، اور سیب کے گرنے کو وہی اہمیت دے دی جائے جو والا تبار مولاناؒ اپنے رسالے میں بار بار دہراتے ہیں، تو صورت حال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے۔ نیوٹن نے تو ایک عام فطری واقعے کے حسی ادراک اور نظری تعبیر سے ایک عظیم الشان علم کی بنیاد رکھ دی، اور اس کے افکار تازہ نے ایک جہان تازہ بِنا کر کے کھڑا کر دیا۔ اور ہم ہیں کہ پورا آفاق ہی بدلتا ہوا دیکھ رہے ہیں لیکن ہمارے ذہن کو کام کی کوئی ایک بات بھی نہیں سوجھتی۔ اُدھر ایک سیب گرا اور افکار تازہ کا ایک جہان نو پیدا ہوتا چلا گیا، اور اِدھر ہماری پوری تہذیب ہی گر گئی اور ہمیں کام کا کوئی ایک فقرہ بھی نہ سوجھ سکا۔ یہ کیسا اچنبھا ہے! والا تبار مولاناؒ جس علم کا رد فرما رہے ہیں، اس کے درست نام سے بھی واقف نہیں۔ وہ سیب کے گرنے کا طنزیہ ذکر کئی مرتبہ کرتے ہیں۔ وہ ایک دفعہ بھی نیوٹن کی عہد ساز کتاب                              Philosophiae               Naturalis               Principia               Mathematica                 کا کوئی حوالہ نہیں دیتے، اور بزعم خویش نیوٹن، فزکس اور کشش ثقل کا رد کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ساتھ میں ان کا یہ فرمانا کہ مخاصم نہ استدلال سے واقف ہے، نہ آداب بحث سے، نہایت حیرت انگیز ہے۔ علم تو گیا ہی تھا، علمی دیانت بھی باقی نہ رہ سکی۔ ہمارے اسلاف کا یہ طریقہ تو نہیں تھا کیونکہ وہ ارسطو کو معلم اول کہنے کی کشادہ ذہنی رکھتے تھے اور ساتھ اس کے افکار کا رد بھی کرتے تھے۔ محولہ بالا اقتباس میں ہمارے علما کی جو self-perception کام کر رہی ہے، میں اس کا کوئی تجزیہ نہیں کرنا چاہتا کہ وہ زیربحث موضوع سے متعلق نہیں۔ لیکن وہ ہماری متاخر دینی اور علمی روایت میں علی الاطلاق ہے اور ہماری تہذیبی بد نصیبیوں کا بڑا سبب بھی ہے۔ اس میں اہم بات صرف یہ ہے کہ والا تبار مولاناؒ اپنے مخاصم پر جو الزامات رکھتے ہیں وہ درست نہیں۔ انہیں اپنے ذہن، علم اور استدلال کے تنقیدی تجزیے اور تحسین کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ رد دلائل میں حیرت انگیز چیز والا تبار مولاناؒ کا اعتماد ہے۔ حالت انکار میں پیدا ہونے والا اعتماد متحجر، میکانکی اور مخاصم کی تحقیر پر مبنی ہوتا ہے اور یہ رسالہ اس اعتماد سے چھَلکا پڑتا ہے۔

کشش ثقل کا رد کرتے ہوئے بیچ بیچ میں والا تبار مولاناؒ کے کئی دلائل نہایت خاصے کی چیز ہیں، اگر انہیں جواہر ریزے کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ رسالے کا مطالعہ بھی مسلمانوں کے لیے یقیناً مقوی ایمان رہا ہو گا اور اب بھی ہو گا۔ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ والا تبار مولاناؒ عنداللہ ماجور ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں اجتہاد کی غلطی پر بھی ایک ثواب کا موقف پایا جاتا ہے۔ اور مجھے والا تبار مولاناؒ کی نکتہ چینی اور خردہ گیری میں بھی واللہ کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ تقویٰ میں یقیناً بہت بلند ہیں، اور ہم ایسے خاک بسر لوگوں کا ان سے بھلا کیا موازنہ! میرا مسئلہ اور ہے۔ میرے لیے یہ رسالہ جدید عہد میں مسلم ذہن کا محضرنامہ ہے۔ یہ بات اب قابل نزاع نہیں کہ جدید دنیا میں سائنسی علوم اجتماعی بقا میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اس رسالے میں نیچر، تاریخ اور معاشرے کا جو ادراک ظاہر ہوا ہے، وہ قوموں اور معاشروں کے لیے صرف ہلاکت ہی لا سکتا ہے۔ خیر کی کوئی توقع رکھنا محض خوش فہمی اور خوش عقیدگی ہے۔

گزشتہ دو صد سالہ مذہبی اور صوفیانہ روایت میں کشف و الہام کی بہت کثرت ہے۔ آدمی واضح طور پر محسوس کرتا ہے کہ حوائج ضروریہ کے علاوہ سوتے جاگتے اوقات میں کشف اور الہام جاری رہتا تھا۔ ایک مہربان دوست نے میری تصحیح فرمائی کہ کشف و الہام چونکہ روحانی اور قلبی چیز ہے، اور جسم کو اس میں دخل نہیں، اس لیے حوائج ضروریہ کی شرط درست نہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہو گا۔ پختہ ایمان اور کلامی عقل کا کشف و الہام سے مؤید ہونا بلا شک بڑی سعادت ہے۔ ہمارے علما اور صوفیا کی self-perception اور public               perception میں کشف و الہام کا بہت دخل رہا ہے۔  لیکن حاصل وصول تجلیل ذات کے سوا کچھ نہیں۔ دین یا علم کی سربلندی تو کہیں نظر نہیں آتی۔ ہمارے علمائے متاخرین کے پاس کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں ہے جسے اسلاف کے حاصلات علم کے ساتھ رکھا جا سکے یا جدید اہل علم کے روبرو لایا جا سکے۔ نیوٹن نے اپنی عقل کے برتے پر جدید دنیا کے انفس و آفاق بدل کر رکھ دیے، اور ادھر یہ حال کہ ملائے اعلیٰ سے فیض کے بہتے دریا سے بھی کوئی گوہر معانی ہاتھ نہیں آتا۔ نہ جانے یہ کیسا کشف و الہام ہے کہ ہمارے انفس میں جہالت کے  اندھیروں کا کچھ نہ بگاڑ پایا اور آفاق و تاریخ میں تہذیبی غلامی کے ادراک سے بھی قاصر رہا۔ والا تبار مولاناؒ فرماتے ہیں کہ ”بہ فضلہٖ تعالیٰ ردِ نافریت میں وہ بارہ (۱۲) اور رد جاذبیت میں سینتالیس (۴۷) فیض قدیر سے قلبِ  فقیر پر فائض ہیں“ ص ۳۳۰۔ فیض قدیر سے بہتا دریائے معانی ہے، اور مندرس متون وفور قلبی میں نمود لاتے ہیں۔ کشف و الہام کی تجلیوں میں بھلا عقل کہیں دم مار سکتی ہے؟ یہ رسالہ مسلمانوں کے لیے ایک ہی سبق رکھتا ہے کہ اپنا گزارہ ابھی کشف و الہام پر رکھیں، اور عقل جو فزکس جیسے مذموم علم پیدا کرتی ہے، اور دینی طور پر مغضوب بھی ہے، ان کے ایمان کے لیے خطرناک ہے۔ 

استدلال کا معیاری طریقۂ کار یہ ہےکہ کسی موقف کے لیے جو دلائل دیے جاتے ہیں، اس میں فی دلیل ایک رد کافی ہوتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ نے لاطائل کلامی دلائل کا جو طومار جمع کیا ہے، وہ نہایت حیرت انگیز ہے۔ ان کا خیال ہے کہ درد پاؤں میں ہے لیکن دوائی کان میں ڈالی جائے گی، اور بار بار ڈالی جائے گی تاکہ پاؤں تک پہنچ جائے۔ شاید اسی لیے ایک دلیل کو کافی خیال نہیں کیا گیا۔ اس میں ایک پہلو شاید نیوٹن کے کان اینٹھنے کا بھی ہے کہ  اسے جرأت کیسے ہوئی کہ علما سے پوچھے بغیر اس نے کشش ثقل کا نظریہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ہمارے متاخرین کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ علم کا استناد روایت سے شخص میں منتقل ہو چکا ہے، اور وہ معتبر اس لیے ہے کہ وہ مہبط کشف و الہام بھی ہے۔  اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

استدلال میں اصطلاحات کا مسئلہ نہایت اہم ہوتا ہے۔ جدید فزکس نیچر میں جاری اور ساری                impersonal               forces کا ریاضیاتی ثبوت رکھتی ہے، اور اصطلاحات کا ایک غیرمعمولی نظام فطری قوتوں کی پوری میکانکس کو حیرت انگیز precision اور exactness کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔ والا تبار مولاناؒ کی اپروچ متاخر مسلم ذہن کی نمائندہ ہے، اور یہ صرف کسی خاص فرقے کی علمی کارگزاری تک محدود نہیں ہے۔ جدید مذہبی مسلم ذہن نے مغرب کے سائنسی اور سماجی علوم کو جہاں کہیں موضوع بنایا ہے وہاں اسی طرح کے کمالات سامنے آئے ہیں۔ اس میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ جدید مسلم ذہن کلاسیکل علم الکلام کی تفہیم پر کس حد تک قادر ہے؟ والا تبار مولاناؒ کے ہاں جدید فزکس کی جو تفہیم پائی جاتی ہے، اس پر کوئی تنقید وغیرہ کرنا لاحاصل ہے۔ ان کے استدلال، اصطلاحات اور دلائل اور نتائج دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ وہ کلاسیکل علم الکلام کی کوئی تفہیم رکھتے ہیں پرلے درجے کی خوش فہمی ہے۔ یعنی جو شے جس مقصد کے لیے وضع کی گئی ہے اس کی رعایت ضروری ہوتی ہے۔ اگر والا تبار مولاناؒ کے ہاں کلاسیکل علم الکلام کی کوئی تفہیم موجود ہوتی تو وہ اسے ہرگز جدید فزکس کے روبرو نہ لاتے۔ ہر نظری اور عقلی علم انسان کے خود وضع کردہ اصولوں پر کھڑا ہوتا ہے، اور اصول کا بنیادی مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ جامع  (inclusionary) اور مانع (exclusionary) ہوتا ہے۔ اصول چونکہ وضعی ہوتا ہے اور اس کا بنیادی وظیفہ موضوع کے تعین سے تحدید ہوتا ہے۔  کلاسیکل علم الکلام کے تمام دلائل جدید علوم کے حوالے سے نہ صرف غیرمتعلق ہیں، بلکہ گمراہ کن ہیں۔ پھر جدید فزکس کے روبرو علم نجوم کے دلائل لانا تو حد درجے کی بے خبری ہے۔ علم کا ایک بنیادی مقصد امتیازات پیدا کرنا اور ان کی تصریحات کو سامنے لانا ہے۔ والا تبار مولاناؒ کے ہاں علم الکلام اور جدید فزکس کی مڈبھیڑ کا نتیجہ تو نہایت افسوسناک ہے۔ مجھے اس میں شبہ ہے کہ جدید عہد میں کلاسیکل علم الکلام اور ایمانیات کے مباحث بھی کسی درجے میں مفید نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ کلاسیکل علم الکلام تاریخ کے ایک خاص لمحے میں ایک دینی تہذیب کو درپیش علمی تحدی سے نبردآزما ہونے کی روداد تو یقیناً ہے، لیکن کلاسیکل علم الکلام کے قضایا سے جدید علوم کا سامنا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہدایت کی طرح ہم نظری اور انسانی علوم کو بھی لازمانی اور لامکانی سمجھتے ہیں۔ ہمیں گزشتہ دو سو سال میں یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ علم صبح سے شام تک بدل جاتا ہے، اور ہمارا بنیادی چیلنج ہی یہ ہے کہ بدلتی ہوئی تاریخ اور علم کی طغیانی میں ہدایت کو انسانی شعور اور عمل سے کیونکر متعلق رکھنا ہے۔ زیربحث رسالے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات ہے مسلمانوں میں ابھی اس کا کوئی احساس اور شعور بھی پیدا نہیں ہو سکا۔ یہ رسالہ جعلی علم کا شاہکار ہے اور ہماری گزشتہ دو سو سالہ علمی روایت کے سارے نظری کمالات اسی طرح کے ہیں۔ ہدایت علمِ مطلق ہے، جبکہ نظری اور سائنسی علم اضافی اور بدلتا ہوا علم ہے۔ ان دونوں کا براہ راست تعلق انسانی شعور سے ہے، اس لیے ہدایت اور نظری علوم نوعاً باہم متعلق ہیں۔ اگر ہمارا شعور جعلی اور درست علم میں امتیازات کا ادراک نہیں رکھتا تو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہدایت کے درست ادراک اور اس کی حقیقی معنویت سے واقف ہے محض ایک خام خیالی ہے۔

والا تبار مولاناؒ کی یہ دلیل بھی ملاحظہ فرمائیے: ” ضرور ہے کہ اس مرکز کو حرکت اینیہ [ایسی حرکت جس میں شے اپنی جگہ تبدیل کر لے] نہ ہو ورنہ دو چیزیں کہ ان میں ایک فوق اور دوسری تحت تھی ایک جگہ رکھے رکھے بدل جائیں۔ حرکت اینیہ سے ممکن کہ وہ مرکز فوق کے قریب آ جائے اور تحت بعید ہو جائے تو باوصف اپنی اپنی جگہ ثابت رہنے کے لیے فوق تحت ہو جائے اور تحت فوق، اور اسے کوئی عاقل قبول نہ کرے گا۔ مثلاً ایک مکان کسی دوسرے مقام پر ہے جس کا صحن اس تحت ذاتی سے قریب ہے، اور سقف دور۔ اب وہ مرکز متحرک ہو کر اوپر آ جائے تو چھت اس سے قریب ہو جائے اور صحن دور۔ اب کہنا پڑے گا کہ بیٹھے بٹھائے سیدھے مکان کی چھت اس سے قریب ہو جائے گی اور صحن دور۔ یونہی وہاں جو آدمی کھڑا ہو بیچارہ بدستور کھڑا ہے مگر سر نیچے ہو گیا اور ٹانگیں اوپر، جب یہ مقدمات ممہد ہو لیے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ جب تم زمین پر سیدھے کھڑے ہو تمہارے سر کی جانب جہت فوق تا دور چلی گئی ہے تو بہ حکم مقدمہ ششم ضرور ہے کہ پاؤں کی جانب جہت تحت کسی حد کی جانب منتہی ہو جائے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس کرہ زمین میں ہے یا اس کے بعد، لیکن بداہتاً معلوم اور ہر عاقل کو معقول کہ جس طرح تم اس طرف زمین کے اوپر ہو اور تمہارا سر اونچا اور پاؤں نیچے، یونہی امریکہ میں یا تمام سطح زمین میں کسی جگہ کوئی کھڑا ہو اس کی بھی یہی حالت ہو گی۔ امریکہ والوں کو یہ نہ کہا جائے گا وہ زمین پر نہیں، بلکہ زمین اوپر ہے یا ان کا سر اوپر نہیں، بلکہ ٹانگین اوپر ہیں تو روشن ہوا کہ وہ حد زمین ہی کے اندر ہے اور اس کا مرکز تحتِ حقیقی ہے تو بحکم مقدمہ عاشرہ کرۂ زمین ساکن ہو اور اس کی حرکت اینیہ باطل“۔ ارضی حوالے سے تحت و فوق میں مکمل التباس اور گرنے کا معاملہ محذوف رکھتے ہوئے والا تبار مولاناؒ فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی آدمی چارپائی پر بیٹھا ہو اور اگر چارپائی گھمائیں تو وہ الٹا ہو جائے گا۔ یہ آنجناب کی سائنس ہے جو جدید فزکس کے مدمقابل ہے۔

میں اس طرز استدلال اور اس کے پیچھے کارفرما ذہن پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں بس  استغفار کرنا چاہتا ہوں، اور اللہ تعالی سے عافیت کا طالب ہوں۔ ہمارے علما اور دین یک جان دو قالب کی حیثیت رکھتے ہیں، اور بڑی مشکل یہ ہے کہ علما کے کسی غلط موقف کے رد سے دین کی ناقدری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔ میں اس پر بھی استغفار کرتا ہوں۔ اور ذیل میں علمائے کرام کے کچھ خطابات اور القابات کار ثواب کے طور پر درج کر رہا ہوں تاکہ ناچیز اور اس مضمون کے قاری کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے۔ میں بہ قائمی ہوش و حواس اور بہ صمیم قلب ان تمام القابات کو درست اور جدید فزکس سے غیرمتعلق جانتا ہوں۔ صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ القابات اور خطابات ”فوز مبین در ردِ حرکت زمین“ جیسی کتب و رسائل کے سرورق پر درج ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو کتاب مستطاب کہا جاتا ہے۔ یہ القابات و خطابات عموماً مناقب کی قبیل سے ہیں، اور ان میں کچھ کو مفید خلائق جان کر یہاں جمع کیا گیا ہے۔ ان کا ورد جلائے قلوب کے لیے نہایت مؤثر ہے۔ 

وردِ خطابات و القاباتِ علمائے کرام و عظام برائے جلب منفعت و ثواب و دفع مضرت و اضلال

ہادی العصر و الاوان، مجدد الزماں، قامع المبتدعہ و اہل الضلال، حامی الدین علی الکمال، مائدتہ وسیعۃ لکل حاضر و باد، و افادتہ العلوم عام لمن استفاد، مدرستہ منبع العلوم الدینیۃ و مجمع العلما و الفضلا یفرغ فی کل عام من تحصیل العلوم الکثیر من الطلبا، ھمتہ مصروفۃ لاشاعۃ العلوم الدینیۃ و تائید المسلمین، یداہ مبسوطتان لانجاح حوائج الفقرا و المساکین، فذاتہ مفیض الخلائق بغذاء الروح و البدن، المشتہرۃ اوصافہ فی الاقالیم و البلدان، صاحب الخلق الحسن، قاضی القضاۃ فی البلاد، اسمہ من الاسماء تتنزل من السماء العالم الفاضل، العارف الکامل مولانا خان بہادر لازالت الامطار برکاتہ علی الخلائق نازلۃ و ما برحت انوار فیضانہ علی الانام فایضہ۔[] ملک العلما بحر العلوم امام الوقت مولانا صاحب قبلہ فرنگی محلی استاذ مصنف علام۔ [] جناب عالم، علامہ فاضل زمانہ، جامع معقول و منقول، حاوی فروع و اصول، امام العلما، قاضی الملک، قاضی الاسلام، مدظلہ العالی۔ [] جناب عالم کامل مرجع ارباب فضائل، واقف حقائق، کاشف دقائق، مولوی دام مجدہ۔ [] عالی جناب قدوۃ الفقہا و المفسرین، حامی الملۃ و الدین، زین المجتہدین حجۃ الاسلام و المسلمین، صاحب قبلہ۔ [] مصنفۂ کشاف دقائق معقول و منقول، حلال غوامص فروع و اصول، عالم عامل، عارف کامل۔ [] مصنف صمصام اسلام۔ [] عالم نبیل، فاضل جلیل، آیت من آیات اللہ، راس المفسرین و المحدثین مد ظلہ العالی۔ [] کشاف مشکلات علوم عقلیہ، حلال معضلات فنون نقلیہ، سالک مسالک شریعت و طریقت، واقف مواقف معرفت و حقیقت، سلطان المشائخ، مرشد الانام، منبع الکشف، مہبط الالہام، حافظ القرآن، حاجی الحرمین۔ [] عالم اجل، و فاضل اکمل، علامہ زمان و فہامہ دوران، جناب مولوی صاحب۔ [] جناب مستطاب افضل الافاضل الکرام، امثل الاماثل العظام، حامی السنن السنی، ماحی الفتن الدنیہ، جامع الفضائل المنیعہ، قامع الرذائل الشنیعہ، تاج المحققین الکملہ، سراج المدققین الاجلہ، رأس الفقہا و المحدثین، رئیس الفضلاء المقدمین، بقیۃ السلف الاصفیاء، حجۃ الخلف الازکیاء، حضرت مولانا و مقتدانا و ملاذنا و ماوانا جناب مولنا صاحب۔ [] امیر کشورستان سخن، اسکندر ممالک علم و فن، عالم والا شکوہ، رفیع المقام، ناظم حقائق، پژوہ بلیغ الکلام، مخترع اعاجیب صنائع، مبدع اسالیب البدائع، جامع کمالات و فضائل، رشک اقران و اماثل، الحرّی بالمجد  و التفاخر و العرّیف التحریر جناب عظمت مآب مولوی خان بہادر المتخلص بہ امری ادام اللہ فیوضہم موسومہ بہ۔ [] سلطان المحققین، فخر المدققین، عمدۃ المحدثین، زبدۃ اکاملین و الراسخین، وارث الابنیاء و المرسلین، خاتمہ البرعۃ المخلصین، محی السنۃ السنیۃ مرج الملۃ الحنفیۃ معدن الصفات الرضیۃ، منبع الملکات المرضیہ من آیات الباری شیخنا و امامنا۔ [] سید العلما سلطان الفضلا امام ائمۃ المعقول، البحر الزاخر فی علوم التفسیر و الحدیث و الفقہ و الاصول، برہان السلف، حجۃ الخلف، مرشد زادۂ آفاق۔ [] شیخ سادہ الواصلین، سید شیوخ العارفین، سرخوش رحیق مروق خمخانۂ تحقیق، سرجوش صہبائے فیض امائے تدقیق سرمست نشۂ عرفان یزادنی، غریق بحر معرفت سبحانی، مستغرق و امائی گوہر امائی توحید، سباح لجۂ پر موجۂ تجرید، سیاح اقالیم کشف شہود، پرتو خورشید عین الوجود، ثمرۂ شجرۂ باغستان رشادت و ہدایت، رائحہ طیبہ چمنستان فضل و ولادت شیخ معرفت پیر طریقت شبلی دوران جنید زمان الشیخ الاجل، اکامل الفحول مولانا و مرشدنا حضرت سید شاہ صاحب۔ [] حضرت باعظمت قطب ارشاد مرجع ابدال و اوتاد صاحب احوال سنیہ مالک مقامات علیہ مرشد دین پناہ۔ [] از تصانیف بحر العلوم کہف اولی المفہوم العالم المدقق و الفاضل المحقق العریف الاکمل و التحریر الاسجل، جامع المعقول و المنقول، حاوی الفروع و الاصول حافظ ثغور الملۃ القویمہ، قالع قلاع البدع المحدثہ للماتردیدیہ و الاشعریہ  مولانا الموید المسدد۔ []  سالک حضرت ملکوت، شاہد عزت جبروت، امام اہل طریقت، سر حلقہ واصلانِ حقیقت، سلطان الموحدین تاج العارفین مجتہد دین آفتاب جہانی شمع ظلمت زندگانی شاہ باز کونین قبلہ دارین مخدوم جہاں قطب زمان واقف اسرار قل ھو اللہ مقبول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، شیخ المشایخ۔ [] قدوۃ العرفاء المدققین، و زبدۃ الحکماء المحققین، عارف آگاہ، واقف باللہ، ذخر الاتقیا و فخر الاولیا، فقیر ربانی و مؤئد رحمانی، الحاج مولانا و مقتدانا۔ [] حضرت قبلہ علیہ و کعبہ قدسیہ برہان قیاسات کونیہ و دلیل اشکالات انتاجیہ بحر علوم معقول و منقول بر رسوم علل و معلول جامع جواہر مسائل و عوامل لامع درر فضائل و  فواضل وحید العصر فرید الدہر خلاصہ خاندان مصطفوی زبدۂ دودمان مرتضوی ظہور بطون موسوی نور اصلاب رضوی السید۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search