فاؤسٹ کا تنقیدی جائزہ: سید عابد حسین(مرتب: عاصم رضا)

 In تنقید
نوٹ:    گوئٹے کی تصنیفات میں سے ’’ فاؤسٹ‘‘ کے پہلے  اردو مترجم  کی حیثیت سے سید عابد حسین کا نام کسی قسم کے تعارف کا محتاج نہیں ہے۔  ڈاکٹر سید عابد حسین نے سب سے پہلے 1931ء میں فاؤسٹ کے پہلے حصے کا نثری ترجمہ کیا  نیز اس کا تنقیدی جائزہ لیا جس کی علمی ، ادبی اور تاریخی اہمیت کے پیش نظر، اس کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔ فاضل مرتب نے صرف اس قدر تصرف کیا ہے کہ موجودہ قاری کا لحاظ کرتے ہوئے  مشکل الفاظ کے معانی ، رموز اوقاف اور املاء کو استعمال کیا ہے۔   

کسی نازک خیال معنی آفریں شاعر کے کلام کو پڑھنا اور سمجھنا ایسا ہے جیسے کسی گھنے تاریک جنگل میں راستہ ڈھونڈنا ۔ ایسے موقع پر بہترین  تدبیر یہی  ہے کہ انسان   بے (بغیر)دیکھے بھالے دلیری سے آگے بڑھا چلا جائے ، تھوڑی دیر میں اُس کی نظر تاریکی کی عادی ہو جاتی ہے ، اُسے اپنے گردوپیش کے درخت صاف نظر آنے لگتے ہیں اور وہ حسِ مکانی سے کام لے کر جسے ہم ’’اٹکل ‘‘  کہتے ہیں ، سب سے سیدھا اور آسان راستہ ڈھونڈ لیتا ہے ۔ اگر تاریکی بہت زیادہ ہو تو اُسے روشنی لے کر چلنا پڑتا ہے لیکن اُس پر بھی صحیح سمت معلوم کرنے میں اٹکل ہی سے کام چلتا ہے ۔ اسی طرح دقیق اور پیچیدہ نظموں کو سمجھنے کا بھی سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ پڑھنے والا ہمت کر کے پڑھنا شروع کر دے ۔ کچھ دن کے بعد وہ شاعر کے طرزِ ادا سے،  اس کی مخصوص  ترکیبوں سے ، اس کی محبوب تشبیہوں اور استعاروں سے مانوس ہو جائے گا اور اپنے صحیح وجدان کی بدولت اس کا مدعا سمجھنے لگے گا ۔ لیکن اگر وہ نظم جو زیرِ مطالعہ ہے ، بہت ہی پیچیدہ ہو، تو ضرورت پڑتی ہے کہ شاعر کی زندگی ، اس کے دوسرے کلام ، اس کے عہد کی ادبی تحریکوں کی روشنی میں اُس پر نظر ڈالی جائے  یعنی خارجی شہادت کی بنا پر اس کی تفسیر کی جائے ۔  پھر بھی تفسیر کرنے والا شاعرانہ وجدان سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔

تفسیر یا تنقید کرنے والوں کو عموماً یہ دِقت پیش آیا کرتی ہے کہ انہیں خارجی شہادت کا کافی مواد نہیں ملتا اور انہیں خود مفسر یا نقاد کے علاوہ محقق کا کام بھی انجام دینا پڑتا ہے ۔ لیکن گوئٹے کی شاعری خصوصاً فاؤسٹ  کی تنقید میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ، وہ اس کے بالکل برعکس ہیں ۔ یہاں خارجی مواد اس کثرت سے موجود ہے کہ اس کو صحیح طریقے سے ترتیب دینا اور اس سے صحیح نتائج نکالنا دشوار ہے ۔ اس گھنے جنگل کے رہرو(مسافر) کے لیے روشنی کی کمی نہیں بلکہ ہر طرف سے رنگ برنگ کی شعاعوں کا ایسا ہجوم ہوتا ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔ گوئٹے کی سوانح عمری پر متعدد کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اس کی زندگی کے ہر دور کا  منظوم کلام اور نثر شائع ہو چکا ہے ۔ اس کے خطوط، اس کے مکالمات کے متعلق اس کے ہم عصروں کی رائیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ اس کے شاہکار فاؤسٹ کی تفسیر ان سب چیزوں کی مدد سے ایسی کی جاتی جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ رہتی ۔ لیکن اس مقدمے (مقدمۂ فاوسٹ،  مصنفہ سید عابد حسین ) کے دوسرے اور چوتھے باب کے مطالعہ کے بعد ناظرین کو معلوم ہو گا کہ اس کا کلام مختلف اور متضاد عناصر کا مجموعہ ہے جن سے فاؤسٹ کی تفسیر کے متعلق قطعی نتائج نہیں نکل سکتے ۔ اسی لیے اس کے شارحوں اور نقادوں میں اس قدر اختلاف رائے ہے کہ گوئٹے کی روح ، فارسی شاعر(ناصر علی سرہندی)   کی زبان سے فریاد کرتی ہے : ’’ شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا‘‘ (مفہوم: کثرت تعبیر کی بدولت  میرا  خواب پریشان خیالی کا شکار ہو گیا، از مرتب) ۔

بظاہر ہمیں چاہیے تھا کہ ہم اس مقدمے کو پانچویں باب (خلاصہ فاؤسٹ) پر ختم کر دیتے  اور فاؤسٹ کا ترجمہ بغیر کسی تنقید کے ناظرین کے سامنے پیش کر دیتے کہ وہ خود شاعرانہ وجدان  اور ذوقِ سلیم کی رہنمائی سے اس کے مطالب کو سمجھیں اور اسے اعلیٰ شاعری کی کسوٹی پر کسیں (پرکھیں)۔ لیکن دو وجوہ سے یہ مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اول، تو ہم صرف پہلے حصے کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں  جس میں قصہ مکمل نہیں  ، اس لیے پڑھنے والوں کو شاعر کا منشا(مقصد) سمجھنے میں اور نظم کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے میں دشواری ہے ۔ دوسرے، ہمارے ملک کے لوگ ابھی تک عموماً مغربی شاعری اور خصوصاً جرمن شاعری کی روح کے محرم(واقف)  نہیں ہیں ۔ اس لیے اُن کے پیش ِ نظر وہ معیار ہی نہیں ہے  جس پر اس نظم کو پرکھنا چاہیے ۔ جس طرح قصے کا خلاصہ بیان کرنے میں جا بجا تنقیدی تشریح  سے کام لینا پڑا ، اسی طرح اب اس کی ضرورت ہے کہ باوجود ان مشکلات کے جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں ، پورے ناٹک(ڈرامہ )  پر ایک گہری تنقیدی نظر ڈالیں ۔ ظاہر ہے کہ ہم اس اہم فرض سے پوری طرح عہدہ برآ نہیں ہو سکتے ۔ لیکن کم سے کم ہمارے ناظرین کو یہ تو معلوم ہو جائے گا کہ گوئٹے کی اس معرکتہ الآرا تصنیف پر کن کن پہلوؤں سے نظر ڈالنا چاہیے اور اس کی قدروقیمت کن اصولوں کے ماتحت معین کرنا چاہیے ۔

شاعری کے ہر شاہکار کی تنقید میں دو اہم پہلو ہوتے ہیں :

  1.            یہ معلوم کرنا کہ شاعر محض انسانی زندگی یا عالمِ فطرت کی ایک تصویر پیش کرنا چاہتا ہے یا ان کی تفسیر بھی ۔ اس کا مقصد محض یہ ہے کہ آب و رنگ ، لحن و صوت ، الفاظ و معنی کے تناسب اور ہم آہنگی سے حسنِ ازل کا ایک جلوہ دکھا کر حسن پرستوں کو وجد میں لے آئے یا اُسے اس پردے میں حیات و کائنات کے کسی اہم مسئلے کو اپنے فطری مشاہدے اور شاعرانہ وجدان کی مدد سے حل کرنا مقصود ہے ۔
  2.               فیصلہ کرنا کہ شاعر اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے اور اُس کی نظم کی اجمالی اور فلسفیانہ اہمیت کیا ہے۔

پہلے مسئلے میں فاؤسٹ کے نقادوں میں سخت اختلاف ہے ۔ کسی کے نزدیک گوئٹے کا مقصد محض حیاتِ انسانی کی نقاشی ہے ، کسی کے نزدیک اس کی ترجمانی اور رہنمائی  بھی ۔ کسی کے خیال میں یہ محض چند متفرق تصویروں کا مجموعہ ہے ، کسی کے خیال میں ایک مکمل مرقع یعنی مسلسل ڈراما ۔  کوئی اسے  المیہ سمجھتا ہے  ، کوئی فرحیہ (طربیہ) ۔ کوئی آپ بیتی جانتا ہے، کوئی جگ بیتی ۔ کوئی کہتا ہے یہ عہدِ جدید کے انسان کی رومانی روح کا عکس ہے ۔ کوئی کہتا ہے نہیں ، اُس کے روحانی ارتقا  یعنی رومانی اور کلاسیکی عناصر کے امتزاج کا چربہ ہے ۔

اس اختلاف کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ فاؤسٹ ساٹھ برس کے طویل عرصے میں لکھا گیا اور اس دوران میں اس کے مقاصد کچھ سے کچھ ہو گئے ۔ یہ زمانہ ، یورپ خصوصاً جرمنی کی تمدنی زندگی میں انقلاب کا زمانہ تھا ۔ فاؤسٹ عہد انقلاب کا آئینہ ہے ، اس لیے اس میں متضاد عناصر کا پایا جانا حیرت انگیز نہیں ۔ اس حقیقت کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں ، لیکن یہاں ہم اس پر ایک دوسرے پہلو سے نظر ڈالیں گے ۔

متمدن قوموں کی زندگی ارتقا کے تین مدارج سے گذرتی ہے ۔ اس کے ادب کو بھی اگر وہ حقیقی معنی میں ادب یعنی زندگی کا آئینہ ہے ، یہی مدارج طے کرنا پڑتے ہیں ۔

جب کوئی قوم بدویت سے تمدن کی سرحد میں داخل ہوتی ہے تو اس کی معاشرت اور اس کے خیالات میں یک رنگی ، خشونت (کھردرا پن) اور مردانگی ہوتی ہے ۔ اس کی زندگی ایک مکمل اور سادہ نظام کے ماتحت ہوتی ہے ۔ اس کے پیشِ نطر ایک معین اور سہل الحصول نصب العین ہوتا ہے۔ یہی حالت اُس کے ادب کی بھی ہوتی ہے ۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار عموماً شاعری سے کرتی ہے اور شاعری میں بھی رزمیہ شاعری کو اختیار کرتی ہے ۔ اس میں کسی ایسے ہیرو کی زندگی کی مکمل تصویر پیش کی جاتی ہے جو ایک جانی بوجھی راہ پر چل کر رکاوٹوں کو آسانی سے دور کرتا ہوا کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔ دوسرا دور وہ ہوتاہے جب فطری قوتِ ارتقا کی بدولت انسان اپنے تنگ دائرہِ حیات کو توڑ کر اس میں وسعت پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی ابتدا ء جذبات کے ہیجان سے ہوتی ہے جو ساری زندگی پر چھا جاتا ہے ۔ انسان کے دل میں نئی آرزوئیں ، نئے مقاصد پیدا ہوتے ہیں اور وہ انہیں پورا کرنے کے لیے تڑپتا ہے ۔ زندگی کا بندھا بندھایا شیرازہ بکھر جاتا ہے ، ہر فرد جماعت سے الگ ہو کر ادھر ادھر بھٹکتا ہے ۔ یہ دور، رومانی دور کہلاتا ہے ۔ اس زمانے کے ادب میں جذبات پرستی ، بے چینی ، کشمکش ِ آرزو غالب ہوتی ہے جس کے اظہار کا ذریعہ غنائی شاعری اور ڈراما میں المیہ ہے ۔ تیسرا دور وہ ہے جب یہ پھیلی ہوئی زندگی سمیٹی جاتی ہے ۔ اس تمدن کی جو بہت وسیع ہو گیا ہے ، حدبندی ہوتی ہے ۔ اس میں ہم آہنگی اور ترتیب پیدا کی جاتی ہے ۔ اجتماعی زندگی کا نصب العین نئے سرے سے معین ہوتا ہے ۔ اور معاشرت کا نظام دوبارہ قائم ہوتا ہے ۔ زندگی کے پیچیدہ مسائل ایک معینہ نصب العین کے ماتحت حل کیے جاتے ہیں ۔ یہ دور، کلاسیکی دور کہلاتا ہے اور اپنے اظہار کے لیے ناول اور طربیے کا ذریعہ ڈھونڈتا ہے ۔

یورپ کی تمدنی زندگی کا پہلا دور قرونِ وسطیٰ کا زمانہ تھا ۔ حیاتِ اجتماعی پر عیسوی مذہب اور کلیسائی نظام حاوی تھا ۔ زندگی بہت تنگ تھی مگر مرتب اور مکمل ۔ اس عہد کا مصور اطالوی شاعر دانتے ہے اور اس کا مشہور رزمیہ ’’ طربیہ خداوندی ‘‘ (Divine Comedy) اس کی بے مثل تصویر۔ اس دور کا خاتمہ نشاۃ ثانیہ کے آغاز سے ہوا ۔ پندرھویں صدی میں جب ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا تو یونانی تمدن کے حامل بھاگ کر اطالیہ(اٹلی) آئے اور اُن کے آنے سے یورپ کی زندگی میں ایک نئی تحریک شروع ہوئی ۔ یورپی انسان کی  نظر کیتھولک عیسائیت کے تنگ دائرے سے نکل کر وسیع میدانِ حیات تلاش کرنے لگی ۔ اس کی توجہ کا مرکز عالم آخرت نہیں رہا بلکہ یہ دنیا اور یہ زندگی ، اس کی کشمکش ، اس کا نشیب و فراز ، اس کا راحت و الم ۔ اس انقلابی عہد کا مکمل نقشہ شیکسپیئر کی شاعری میں موجود ہے ۔ شیکسپیئر ڈراما نگار ہے اور اُسے اس فن کی تمام اصناف ، المیہ ، طربیہ ، تاریخی ڈراما پر قدرت ہے ۔ لیکن اس کا اصل آرٹ المیاتی ڈراما میں  نظر آتا ہے ۔ اس کا کمال یہی ہے کہ اُس نے انسانی جذبات کی رنگارنگی ، ان کے مدوجزر ، ان کی باہمی کشمکش اور ان کے عبرت انگیز نتائج کی جیتی جاگتی تصویریں دکھائی ہیں ۔

یہ رومانویت کا سیلاب ابھی اچھی طرح امنڈنے نہ پایا تھا کہ عقلیت کے پشتوں سے اس کی روک تھام کر دی گئی ۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ اٹھارویں صدی کا عقلیت  پسند فلسفہ فرانس میں پیدا ہوا اور پھر انگلستان و جرمنی وغیرہ میں پھیلا ۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ ذہن ِ انسانی کا عقلی عنصر جذبات و احساسات پر غالب آ گیا ہے ، روایات و رسوم کی قید سے آزاد ہو گیا ہے اور اب انسانی زندگی پر محض عقل کی حکومت ہو گئی ۔ ادب پر بھی آزاد خیالی کا رنگ چھا گیا تھا ۔ ڈراما کا زور تھا اور اس میں مخصوص مذہبی عقائد اور اعمال کا مضحکہ اڑایا جاتا تھا ، بے تعصبی اور روشن خیالی کی تلقین اور ’’ عقلی مذہب‘‘ کی تبلیغ کی جاتی تھی ۔ اُصول میں سختی کے ساتھ یونانیوں کی تقلید ہوتی تھی اور قدیم  یونان اور روما کے قصے ، ناٹکوں اور غنائی نظموں کے موضوع قرار دیے جاتے تھے ۔ ادبی تاریخ میں یہ دور کلاسیکی کے نام سے موسوم ہے ۔

لیکن اصل میں اٹھارویں صدی کی یہ فلسفیانہ اور ادبی تحریک یورپی ذہن کے فطری ارتقا کا نتیجہ نہ تھی ، بلکہ محض یونانیوں اور رومیوں کی تقلید سے پیدا ہوئی تھی ۔ اس سے واقعی مناسبت جو کچھ تھی ، صرف فرانسیسیوں کو تھی اور وہی اس کو فروغ دینے میں کامیاب ہوئے ۔ فرانس ، اس زمانے میں علم و ادب کا مرکز تھا اور اس کا ذہنی اقتدار سارے یورپ پر مسلم تھا ؛ اس لیے دوسرے ملکوں کو چاروناچار اس کی پیروی کرنا پڑی۔ اُن کے باشندوں کے ذہن میں ابھی اتنی پختگی نہ تھی کہ کلاسیکی طرزِخیال  کو اپنا سکتے ۔ یورپ کی عام تمدنی تاریخ میں اس تحریک کی اہمیت زیادہ تر منفیانہ ہے۔  یہ ایک دفاعی جنگ تھی ، قرون  وسطی کے ذہنی اثرات کے خلاف جو اب تک عوام کے دلوں میں راسخ تھے ۔اثباتی حیثیت سے اس تحریک میں تخلیقی قوت بہت کم تھی ۔ سچ پوچھیے تو اُس عہد کو کلاسیکی کہنا محض زبردستی ہے ۔ اس یک طرفہ عقلیت میں وہ توازن اور ہم آہنگی ہرگز نہ تھی جو یونانیوں کے دورِ آخر کے فلسفے اور ادب میں پائی جاتی ہے ۔

اٹھارویں صدی کے آخر میں عقلیت کے خلاف ردِ عمل شروع ہوا ۔ ایک طرف کانٹ کی دقیقہ سنجی  (باریک بینی) نے اور دوسری طرف روسو کی آشفتہ نوائی  (جذبات نگاری) نے اس کی کمزوریوں کا پردہ فاش کر دیا اور لوگوں کے دلوں سے اس کی حکومت اٹھ گئی ۔ رومانویت کی دبی ہوئی تحریک پھر اُبھری اور ساری تمدنی زندگی پر چھا گئی ۔ ادب اور شاعری میں ہرڈر(Herder: 1744 – 1803) نے مسلمہ  قواعد اور مسلمہ عقائد کے پشتوں کو توڑ کر طوفان و ہیجان کی راہ کھول دی ۔

رومانویت کی اس دوسری لہر میں پہلی لہر سے کہیں زیادہ زور تھا ۔ شیکسپیئر کے عہد تک رومانی جذبات پرستی ، قرون وسطیٰ کے بھولے پن کے ساتھ ملی جلی تھی ۔ شیکسپیئر نے اصولِ فن کی قیود کو توڈ  دیا لیکن رسم و رواج ، مذہب و اخلاق سے بغاوت نہیں کی ۔ وہ دنیا اور زندگی کی نیرنگیاں دکھاتا ہے اور ان سے لطف و عبرت حاصل کرتا ہے ۔ لیکن حیات و کائنات کے نظام پر اعتراض نہیں کرتا ۔ وہ رند ہے مگر مشکک  یا منکر نہیں ۔ اس کا المیہ جذبات اور کردار (character) کا المیہ ہے ، خیالات اور عقائد کا نہیں ۔ جذبات و احساسات  کے طوفان کے ساتھ خیالات اور عقائد کا ہیجان سب سے پہلے جرمنی میں ہرڈر (Herder)سے شروع ہوا اور نوجوان شلر اور نوجوان گوئٹے  کے یہاں اوجِ کمال کو پہنچا ۔

گوئٹے رومانویت کا مریض بھی تھا اور چارہ گر بھی ۔ اُسے خدا نے یہ کمال دیا تھا کہ وہ درد کا درماں(علاج)  اُسی درد سے اور ہر زہر کا تریاق اُسی زہر سے نکال لیا کرتا تھا ۔ طوفان و ہیجان کے عہد میں اُس نے شورش اور اضطراب کی خلش کو اس حد تک پہنچا دیا کہ وہ سکون و اطمینان کی آرزو میں تبدیل ہو گئی ۔ اس کا فاؤسٹ اسی تغیر کی یادگار ہے ۔ اسی لیے فاؤسٹ کا سمجھنا اس تغیر کے سمجھنے پر موقوف ہے ۔

سچا شاعر  سچے مجدد کی طرح اپنے زمانے سے بنتا ہے اور پھر اُسے بناتا ہے ۔ ابتداء میں وہ زمانے کے دھارے کے ساتھ بہتا ہے ، یہاں تک کہ اُس کی قوت کے راز کو سمجھ لے اور پھر اس قوت سے کام لے کر دریا کے رخ کو پلٹ دیتا ہے ۔ گوئٹے نوجوانی میں بالکل اپنے زمانے کے رنگ میں ڈوبا  ہوا تھا ۔ ’’ ویرتھر‘‘ (Werther)اور ’’ گوتس‘‘  وغیرہ سے قطع نظر کر کے اگر ہم صرف فاؤسٹ کے پہلے مسودے پر نظر ڈالیں جو Urfaust کے نام سے موسوم ہے تو خالص رومانویت کا مرقع نظر آتا ہے ۔ یہ قصہ سراسر المیہ ہے : شک ، اضطراب ، مایوسی ، ناکامی کی دل گداز داستان ۔ آگے چل کر شاعر کا تصور ِ حیات بدلتا ہے ، اب وہ ہنگامۂ ہستی کو محض اپنے جذبات کا طلسم نہیں بلکہ اعلیٰ مقاصد کا  نظام سمجھتا ہے ۔ اب وہ قیدِ حیات کو بندِ غم جان کر توڑنا نہیں چاہتا بلکہ روحانی ترقی کی ایک منزل سمجھ کر اُس سے مانوس ہونا چاہتا ہے ۔ جو تغیر اس کی طبیعت میں ہوا ہے ، وہی یہ پیغمبر ِ سخن اپنی کتاب فاؤسٹ میں اور فاؤسٹ کے ذریعے سے اپنے ملک کی زندگی میں کرنا چاہتا ہے ۔ فاؤسٹ کا قصہ وہی رہتا ہے ، اس کے اکثر  مناظر(scenes) وہی رہتے ہیں ، لیکن اُس کی روح بدل جاتی ہے ۔ اب اس کے شک میں یقین کی ، اضطراب میں سکون کی ، مایوسی میں اُمید کی اور ناکامی میں کامیابی کی جھلک نظر آنے لگتی ہے ۔ بظاہر وہ اب بھی المیہ رہتا ہے لیکن اس میں طربیے کی شان پیدا ہو جاتی ہے ۔

غرض فاؤسٹ مغربی تمدن کے ایک دور کا انجام اور دوسرے دور کے آغاز کی یادگار ہے ۔ یا یوں کہیے کہ رومانی ادب اور کلاسکی ادب کی درمیانی کڑی ہے ، اس لیے اس میں دونوں کی خصوصیات موجود ہیں ۔ وہ آرٹ کا نمونہ بھی ہے اور متفرق تصویروں کا مجموعہ بھی ؛ المیہ بھی ہے اور طربیہ بھی ؛ زندگی کا عکس بھی ہے اور اس کی تفسیر بھی ۔ ممکن ہے کہ ان مختلف عناصر کے امتزاج میں گوئٹے پوری طرح کامیاب نہ ہوا ہو لیکن اس کا مقصد یہی ہے اور ہم جب تک اس مقصد کو پیش نظر نہ رکھیں ، فاؤسٹ کو سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

اس بحث کے چھیڑنے سے اور بعض گزری ہوئی باتوں کو دہرانے سے ہماری غرض ایک تو یہ تھی کہ ناظرین فاؤسٹ کی ظاہری بے شکلی اور بے ترتیبی سے نہ الجھیں اور اس رشتہ اتحاد کو نظر میں رکھیں جو ان متفرق اجزاء کو ملاتا ہے ۔ اور دوسرے یہ کہ وہ اس اہمیت کو محسوس کر لیں جو فاؤسٹ کو یورپ کی ادبی اور تمدنی تاریخ میں حاصل ہے ۔ ورنہ اصل میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد سوا ئےان فضیلت مآب نقادوں کے جو اصطلاحی اور فنی بحثوں کی بھول بھلیوں میں پڑ کر حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں ، ہر شخص یہی سمجھے گا کہ یہ ڈراما ہے اور فلسفیانہ ڈراما ، کیوں کہ اس میں گوئٹے نے زندگی کے اہم ترین مسائل پر گہری نظر ڈالی ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فاؤسٹ میں گوئٹے نے خود اپنے نفس کے مختلف عناصر کی کشمکش اور اپنی سیرت کا ارتقا دکھایا ہے یا اپنے زمانے کی عام زندگی کی تحلیل اور تفسیر کی ہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ابتدائی مسودے میں گوئٹے نے پندرھویں صدی کے عالم اور ساحر، جان فاؤسٹ کی کہانی کو اپنے دردِ دل کی داستان کے ساتھ ملا جلا کر بیان تھا ، اس کے بعد پہلے حصے میں پرانا افسانہ تقریبا نظر انداز ہو گیا اور محض آپ بیتی رہ گئی اور دوسرے حصے میں یہ آپ بیتی ، زبردستی جگ بیتی بنائی گئی ۔ اطالوی فلسفی اور نقاد کروچے کی رائے ہے کہ دوسرے حصے میں کوئی مسلسل قصہ نہیں ہے ، بلکہ انسانی زندگی کی چند متفرق تصویریں پیش کی گئی ہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ گوئٹے نے ساٹھ برس کے عرصے میں فاؤسٹ کے خاکے کو کئی بار بدلا اور موجودہ صورت میں یہ نظم مختلف عناصر سے مرکب ہے ۔ لیکن ہمارے خیال میں باوجود اس اختلاف کے ، بنیادی  مقصد اول سے آخر تک ایک ہے ۔ ابتدائی مسودہ Urfaust بیشک محض آپ بیتی ہے ، لیکن موجودہ ترمیم شدہ اور مکمل فاؤسٹ کے دونوں حصوں میں شاعر آپ بیتی  کے پردے میں جگ بیتی سناتا ہے یعنی اپنے عہد کے یورپی انسانی کی روحانی مصیبتوں کی داستان ۔ فرق اتنا ہے کہ پہلے حصے میں آپ بیتی کا پردہ بہت گہرا ہے اور دوسرے حصے میں ہلکا ۔ پہلے حصے میں قصے کا سلسلہ پوری طرح قائم ہے ، دوسرے میں متفرق کڑیاں ملنے نہیں پائیں ۔

غرض ، گوئٹے کا مقصد یہی تھا کہ اپنی زندگی کی کہانی اس طرح کہے کہ وہ اس کے عہد کی عام زندگی کی کہانی بن جائے ۔ وہ اپنی ذات کو جدید یورپی انسان کی رومانی روح کی مثال بنا کر پیش کرتا ہے  ۔ اس روح میں دو متضاد قوتیں  ہیں ۔ ایک قوت کا رجحان یہ ہے کہ نظامِ ہستی کا منشا معلوم کرے ، روح کائنات کی حقیقت کو سمجھے اور اس سے اتحاد پیدا کرے ۔ دوسری قوت یہ چاہتی ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز کا عملی تجربہ حاصل کرے اور مادی لذتوں کا لطف اٹھائے ۔ پہلی قوت انسان کے دل میں بلند اور برتر آرزوئیں پیدا کرتی ہے مگر راہِ عمل نہیں دکھاتی ۔ دوسری اسے ذوق ِ عمل سے آشنا کرتی ہے مگر اسی کے ساتھ  خودی اور لذت پرستی میں مبتلا کر دیتی ہے  ۔ پہلی کا نمائندہ فاؤسٹ ہے ، دوسری کا شیطان ۔ انسانی زندگی کی تکمیل کے لیے ان دونوں کا ملنا ضروری ہے ، مگر اس طرح کہ فاؤسٹ غالب رہے اور شیطان مغلوب ۔ ان دونوں کی باہمی کشمکش میں ایک تیسری قوت مداخلت کرتی ہے یعنی جوہر انوثیت ۔ یہ محبت و عقیدت اور تسلیم و  رضا کا ابدی جوہر ہے ، جو کل کائنات میں جاری و ساری ہے ، لیکن اس کا اصلی مظہر عورت ہے ۔ یہی جوہر انوثیت ، گوئٹے کے نزدیک وہ چیز ہے جس کی جھلک ہر عاشق کو اپنی معشوقہ کی صورت اور سیرت میں نظر آتی ہے ۔ عشق  کا راز یہ ہے کہ روح ِ انسانی میں طلبِ حقیقت کی جو آگ بھڑکتی ہے وہ علم و عمل کی چھینٹوں سے نہیں بجھتی ، بلکہ اس التہاب (گرمی) کو تسکین دینے کے لیے کسی ایسی قوت کی ضرورت ہے جو ’’خلیل اللہ ‘‘ کی طرح اس آگ کو گلزار بنا دے ۔ یہ قوت ذوقِ بے خودی ، لذت ِ تسلیم ، کیفِ محبت ہے جو آسمان کے ستاروں میں ، سمندر کی لہروں میں ، پہاڑوں کی چوٹیوں میں ، جنگل کے درختوں میں ، غرض ساری فطرت ِ خاموش میں پائی جاتی ہے ؛ مگر اس کا زندہ مجسمہ عورت  ہے جو روحِ کائنات سے اتحادِ کامل رکھتی ہے ۔ جوہر انوثیت کا نمائندہ گوئٹے نے گریچن کو بنایا ہے ۔ فاؤسٹ اگر شیطان پر غالب آ سکتا ہے تو صرف گریچن کی مدد سے ۔ ان تینوں کے باہمی تعلق کو دکھانا اصل میں عہد ِ جدید کے یورپی انسان کی روحانی کشمکش کی تفسیر ہے۔

غالباً اب فاؤسٹ کی فلسفیانہ حیثیت ناظرین پر واضح ہو گئی ہو گی مگر جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں اس کا مصنف کوئی خشک علمی مقالہ  لکھنا نہیں چاہتا بلکہ فلسفہ حیات کے مسائل کو شاعرانہ آرٹ کا لباس پہنا کر  پیش کرنا چاہتا ہے ۔

آرٹ کی ہر صنف خصوصاً ڈراما کا بہترین نمونہ وہ سمجھا جاتا ہے جس میں عمومیت اور انفرادیت دونوں کی شان ہو ۔ یعنی حیاتِ انسانی کا جو مرقع پیش کیا جائے وہ ہو تو کسی خاص زمانے کے خاص شخص کی تصویر ، لیکن ایسی ہو کہ اس میں ہر عہد کے انسان کو اپنی زندگی کی جھلک نظر آئے ۔ جن لوگوں کا قصہ بیان کیا جائے اُن کی جداگانہ خصوصیات اس طرح دکھائی جائیں کہ وہ جیتے جاگتے چلتے پھرتے انسان معلوم ہوں ، مگر اسی کے ساتھ ان کے کردار میں وہ عام صفات بھی نمایاں کی جائیں جو ساری نوعِ انسانی میں مشترک ہیں ۔ فاؤسٹ کے پہلے حصے میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں ، البتہ دوسرے حصے میں استعاریت اتنی غالب آگئی ہے کہ واقعیت اور اس کے ساتھ انفرادی رنگ تقریباً معدوم ہو گیا ہے ۔ ہمیں یہاں دوسرے حصے سے بحث نہیں ۔ لیکن پہلے حصے کے متعلق ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ آرٹ کا مکمل نمونہ ہے ۔ قصے کا محل وقوع ، جرمنی اور زمانہ سولہویں صدی ہے ۔ مقامات اور مناظر سب اصلی ہیں ۔ اس عہد کے لوگوں کی طرزِ معاشرت ، ان کے خیالات ، ان کے عقائد کے دکھانے میں تاریخی صحت کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ کہیں کہیں جیسے روحوں کے تھیٹر میں گوئٹے نے اپنے ہم عصر نقادوں اور ادیبوں پر جوٹ کرنے کی غرض سے ایسی چیزیں بھی داخل کر دی ہیں جو فنی اور تاریخی نقطہ نظر سے بالکل نامناسب اور بے جا ہیں ۔ مگر مضموعی حیثیت سے فاؤسٹ کا پس منظر اصلیت کے  مطابق ہے جس سے اشخاص کی انفرادیت نمایاں کرنے میں بڑی حد تک مدد ملتی ہ ے ۔ پھر سیرت نگاری میں شاعر کے قلم نے یہ کمال کیا ہے کہ مارتھا اور واگنر سے لے کر(جو محض افراد کی حیثیت رکھتے ہیں )، گریچن ، فاؤسٹ ، اور شیطان تک (جو روح ِ انسانی کی مختلف قوتوں کے نمائندے ہیں ) سب کردار ایسے سچے اور زندہ معلوم ہوتے ہیں گویا ہم نے انہیں اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور ان سے باتیں کی ہیں ۔ مارتھا ، واگنر ، طالب علم اور دوسرے ضمنی کردار تو خیر معمولی اور یک رنگ طبیعت رکھتے ہیں ؛ ان کی تصویر کامیابی سے کھینچنے میں گوئٹے کی محض اتنی تعریف ہے کہ وہ اپنے مرقع کی جزیات پر بھی پوری توجہ صرف کرتا ہے لیکن گریچن ، فاؤسٹ اور شیطان کی سیرت گوناگوں عناصر سے مرکب ہے ۔ ان کی شبیہ میں مختلف رنگوں کو اس طرح ملانا کہ اس پر نقاش ِ ازل کے بنائے ہوئے نقش کا دھوکا ہو  جائے ، حقیقت میں فطرتِ انسانی کے مصور کا اعجاز ہے ۔

یہ تو انفرادیت ہوئی ، اب عمومیت کے لحاظ سے دیکھیے تو فاؤسٹ وہ آئینہ ہے جس میں ہر زمانے کے انسان کو اپنی صورت نظر آتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ اس کا اصل مقصد عہدِ جدید  کے یورپی انسان کی زندگی دکھانا ہے ۔ اس کے قصے کا سارا ماحول یورپ کا ہے اور دوسرے حصے میں جن اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا ذکر آیا ہے ، وہ بھی زیادہ تر یورپ سے متعلق ہیں ۔ لیکن جس روحانی کشمکش کا نقشہ اس میں کھینچا گیا ہے ، وہ ہر عہد اور ہر ملک کے انسانوں میں مشترک ہے ۔ ہر متمدن انسان کے دل میں راز کائنات کو سمجھنے اور روحِ کائنات سے متحد ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے ۔ ہر انسان اس مشکل کو علم کی مدد سے حل کرنا چاہتا ہے اور ناکام ہوتا ہے ۔ ہر انسان ذوقِ عمل اور مادی لذت کے دامن میں پناہ ڈھونڈتا ہے اور نہیں پاتا ۔ ہر انسان کو روحانیت اور مادیت ، اثبات و نفی ، بے خودی اور خودی کی کشمکش میں محبت اور عقیدت سے تقویت پہنچتی ہے اور اسی کی بدولت نجات کی راہ نظر آتی ہے ۔ اس لیے اگر فاؤسٹ ، شیطان اور گریچن کے قصے کو عام انسانی زندگی کا مرقع کہیں تو بے جا نہ ہو گا ۔

ہم نے اس تنقید کی بنیاد دو سوالوں پر رکھی تھی ۔ پہلا سوال یہ تھا کہ فاؤسٹ کے لکھنے میں گوئٹے کا مقصد کیا  تھا؟ اور دوسرا سوال یہ کہ وہ اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوا ہے؟ پچھلے صفحات میں ہم نے ثابت کیاہے کہ وہ اپنے زمانے کی روحانی کشمکش کی اجمالی تصویر اور فلسفیانہ تفسیر پیش کرنا چاہتا ہے اور ضمناً یہ بھی دکھا دیا ہے کہ اسے ان دونوں چیزوں میں پوری کامیابی ہوئی ۔

٭٭٭٭٭٭٭

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گوئٹے کے فاوسٹ نے روحِ انسانی کی جن مشکلات کا نقشہ کھینچا ہے ، ان کا حل بھی بتایا ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب ہم پانچویں باب میں قصے کا خلاصہ بیان کرنے کے سلسلے میں دے چکے ہیں ۔ گوئٹے کے نزدیک اس کے زمانے کی رومانی روح جسے ایک طرف علم و عرفان کی آرزو کھینچ رہی ہے اور دوسری طرف عملی زندگی اور مادی لذات کا شوق ، اگر اس کشمکش سے نجات پا سکتی ہے تو محض محبت اور عقیدت کے ذریعے سے ۔ مگر اس دولت کو پانے کے لیے اسے بہت سی کٹھن منزلوں سے گذرنا ہے ۔ پہلے اُسے قدیم یونان کی کلاسیکی روح سے متاثر ہو کر جمالی ترتیب اور ہم آہنگی حاصل کرنا ہے ، اس کے بعد مدنی زندگی کی تشکیل اس طرح کرنا ہے کہ قوت کے ولولے اور خدمت کے جذبے میں توازن پیدا ہو ۔ گوئٹے جانتا ہے کہ پہلا کام دشوار ہے اور دوسرا دشوار تر ۔ لیکن اسے یقین ہے کہ اگر روحِ انسانی خلوص سے اپنے امکان بھر کوشش کرے گی تو تائید الہٰی اُسے محبت و عقیدت کا جلوہ دکھا کر عالمِ حقیقت میں پہنچا دے گی   ۔ جہاں اس کی ’’سعی ‘‘، ’’اتمام ‘‘ سے ہم آغوش ہو گی۔ اس نے اپنے رفیقوں کو اور اپنے بعد آنے والوں کو روحانی ترقی کا زینہ دکھا دیا ہے ، لیکن یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس کی آخری سیڑھیوں پر چڑھنے کے لیے ’’کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے‘‘ ۔ اس ’’اشارے ‘‘ کی حقیقت کیا ہے اور یہ کیونکر ظاہر ہوتا ہے؟ اس کا جواب گوئٹے کے پاس نہیں ۔ وہ خود ایک گہرا مذہبی عقیدہ رکھتا ہے لیکن یہ عقیدہ محض باطنی وجدان کی حد تک ہے جسے وہ الفاظ میں ادا نہیں کر سکتا ، اس لیے اس بارے میں وہ اوروں کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہے ۔

فلسفی شاعر کا جو فرض تھا وہ اس نے ادا کر دیا ۔ فلسفی کی عقل اور شاعر کے تخیل کی حد بس یہیں تک ہے ۔ بقول حافظ شیرازی ،

کس ندانست کہ منزل گہ مقصود کجا ست

ایں قدر ہست کہ بانگ جرسی  می آید

مفہوم: کوئی اس بات سے آگاہ نہیں کہ اس کی منزل مراد کہاں ہے ۔ بس اتنی سی بات ہے کہ گھنٹی کی آواز آنے والی ہی ہے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search