امریکہ کی پہلی جنگی شکست – ویت نام: طارق عباس

اس تحریر میں موجود تمام واقعات اور اعداد و شمار امریکی تاریخ پر لکھی گئی مشہور اور معتبر ترین کتاب ”امریکہ کی عوامی تاریخ“ (مصنف: ہاورڈ ذِن) سے ماخوذ ہیں۔ط ع

سنہ 1964 سے 1972 تک ، تاریخِ عالم کی سب سے متمول اور طاقتور ترین قوم نے اپنی پوری عسکری طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے،ایک خفیف سی قومی انقلابی تحریک کو شکست دینے کیلئے،  دہقانوں کے ایک چھوٹے سے مُلک ویت نام پر حملہ کیا۔ امریکہ کی ویت نام میں لڑی جانے والی یہ جنگ، ایک منظم، جدید ٹیکنالوجی اور ویت نام کے نہتے مگر متحد انسانوں کے مابین معرکہ تھی جس میں متحد  انسان فتح یاب ہوئے ۔ 

اس جنگ کے دوران امریکہ میں، امریکی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ مخالف تحریک چلائی گئی۔ ایک ایسی تحریک جس نے آخر کار جنگ کے اختتام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پس منظر:

1945 میں جنگ عظیم دوم میں شکست کے بعد جاپان  انڈو چائنہ سے رخصت پر مجبور ہوا۔ انڈو چائنہ وہ علاقہ تھا جو جنگِ عظیم دوم کے آغاز میں ایک فرانسیسی کالونی تھی جس پر جاپان قابض ہوا ۔ اسی دوران وہاں ایک انقلابی تحریک شروع ہو چکی تھی جو کہ وہاں استعماری طاقتوں کے خاتمے کیلئے پر عزم  تھی۔”ہو چی من “  کی قیادت میں ان انقلابیوں نے جاپانیوں کا مقابلہ کیا اور جاپانیوں کی وہاں سے رخصت پر 1945 میں ہینوئی کے مقام پر ایک شاندار تقریب منعقد کی جس میں دس لاکھ لوگوں نے شرکت کی اور ہو چی من نے آزادی کا اعلان کیا۔ آزادی کا یہ اعلان انقلابِ فرانس اور امریکی آزادی کے اعلان کا مرکب تھا: ”تمام انسان برابر پیدا کئے گئے ہیں، اور خالق نے انہیں کچھ لاینفک اور ناقابلِ انتقال حقوق سے نوازا ہے؛ یہ حقوق زندگی، آزادی، اور مسرت کی  جستجو ہیں “۔

جس طرح 1776 میں امریکیوں نے برطانوی استعماری طاقت سے اظہارِ  نفرت کیا، بعینہ اسی طرح ویت نامیوں نے فرانسیسی استعمار کے خلاف اپنی تلخی کا اظہار کچھ یوں کیا: ”انہوں نے غیر انسانی قوانین کا نفاذ کیا، سکولوں سے زیادہ جیلیں بنائیں۔ ہمارے محب وطن شہریوں کو بے رحمی سے ذبح کیا، اورہر شورش کو خون کے دریا میں بہا یا۔ انہوں نے ہم سے ہمارے دھان کے کھیت، ہماری کانیں، جنگلات، اور ہمارا خام مال چھین لیا ہے۔ بے جواز ٹیکسوں کا نفاذ کیا ہے اور بالخصوص ہمارے کسانوں کو شدید غربت میں دھکیل دیا ہے۔ ایک سال کے اندر اندر ہمارے بیس لاکھ سے زائد  ہم وطن فاقہ کشی سے موت کی نیند سو چکے ہیں۔ہم یہ بتاتے چلیں کہ تمام ویت نامی باشندے ایک  مقصدی اشتراک رکھتے ہیں، اور وہ ہے فرانس کا ویت نام پردوبارہ قبضہ نا ممکن بنانا، ہم اس کیلئے اپنی جان مال سب کچھ لٹانے کو تیار ہیں۔ “

ہو چی من کی قیادت میں ویت نام پہلی مرتبہ بیرونی طاقتوں کے قبضے سے آزاد تھا۔ لیکن مغربی طاقتیں اس صورتحال کو جلد از جلد تبدیل کرنے کیلئے  کوشاں تھیں۔ برطانیہ نے انڈو چائنہ کا جنوبی حصہ فتح کر کے فرانس کے حوالے کیا۔ نیشنلسٹ چائنہ نے انڈو چائنہ کا شمالی حصہ فتح کیا اور امریکہ کی تجویز  پر اسے فرانس کے حوالے کر دیا۔  اس دوران میں ہو چی من نے ایک امریکی صحافی کو بتایا کہ ” ہم  اکیلے کھڑے ہیں اور ہمیں اپنی بقا کیلئے خود پر بھروسہ کرنا ہو گا۔“

امن معاہدے کی کوشش:

اکتوبر 1945 سے فروری 1946 تک ہوچی من نے ٹرومین کو 8 خطوط لکھےجس میں اس نے اٹلانٹک چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرومین کو یاددہانی کرائی کہ تمام اقوام کو خود مختاری کا حق حاصل ہے۔ ہوچی من کے ایک خط کا اقتباس کچھ یوں ہے: ”میں جناب کی توجہ خاص انسانیت کے ناطے اس امر کی جانب دلانا چاہتا ہوں کہ  بیس لاکھ سے زائد ویت نامی باشندے قحط سالی کے باعث 1944 کے موسم  سرما اور 1945 کے موسم  بہار کے مابین مارے جا چکے ہیں، اور اس مصنوعی قحط کے پیچھے فرانس کی قحط سالی کی پالیسی تھی جس نے ہماری ساری دھان کی فصل پر قابض ہو کر اسے ذخیرہ کر لیا اس پر مستزاد سرما 1945 کا سیلاب تھا جو  کاشت شدہ فصل کا بیشتر حصہ بہا لے گیا اور نتیجتاً ہمیں شدید قحط سالی کا سامنا کرنا پڑا۔  اب بھی تمام ویت نامی لوگ قحط سالی کا شکار ہیں اور دنیا کی عظیم قوتوں اور بین الاقوامی   تنظیموں کی فوری مدد کے متمنی ہیں  اور تباہی کے کنارے پر کھڑے آپ سب سربرآورداؤں کی راہ تک رہے ہیں ۔ “

ٹرومین نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اکتوبر 1946 میں فرانس نے شمالی ویت نام پر حملہ کر دیا اور یوں فرانس اور ویت نام کے درمیان آٹھ سالہ طویل جنگ کا آغاز ہوا  جو ویت نام کی فتح پر منتج ہوا۔ 1949 میں کمیونسٹ چائنہ کی فتح اور اگلے ہی برس کوریا کی جنگ کے معاً بعد امریکہ نے  فرانس کی  کثیر المقدار عسکری امداد شروع کر دی۔ 1954 تک امریکہ فرانس کو تین لاکھ ہتھیار اور مشین گنیں اور ایک ارب ڈالر، امدادی مد میں دے چُکا تھا، جو کہ انڈو چائنا میں موجود فرانس آرمی کیلئے کافی تھیں۔کُل ملا کر امریکہ فرانسیسی جنگ کا 80 فیصد خرچ برداشت کر رہا تھا۔

آخر کیوں؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ ایسا کیوں کر رہا تھا؟ عوام کو یہ بتایا گیا تھا کہ ایشیا میں کمیونزم کو روکنے کیلئے امریکہ فرانس کی مدد کر رہا تھا اگرچہ اس امر پر بھی عوامی سطح پر زیادہ  گفتگو نہیں کی گئی۔ اور  قومی سلامتی کونسل  کی خفیہ رپورٹ کے مطابق (جسے بعد میں عوام میں جاری کر دیا گیا) ڈومینو تھیوری  کی بنیاد پر فرانس کی مدد کا فیصلہ لیا گیا، یعنی اگر ایک ڈومینو ( ملک)  کمیونزم اختیار کرتا ہے تو اس ڈومینو کے’گرنے‘ سے اس کا ساتھ والا ملک بھی کمیونسٹ ہو جائے گا اور یوں یہ تعداد بڑھتی جائے گی، اور اسی لئے پہلے ہی ڈومینو کو گرنے سے بچانا ضروری تھا۔ اور اسی امر کی یقین دہانی کی خاطر امریکہ نے اپنی افواج چائنہ کے ساحل پر، فلپائن، تائیوان، جاپان، اور کوریا میں تعینات کر دیں۔ کیونکہ جنوب مشرقی ایشیا پر کمیونسٹ کنٹرول  بحر الکاہل اور مشرق بعید میں امریکا کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا تھا اور  انڈونیشیا قدرتی ربڑ ، ٹن، اور پٹرول کا بنیادی ذریعہ تھا۔ مزید یہ کہ جاپان کا مکمل انحصار جنوب مشرقی ایشیا کے چاول پر تھا اور وہاں پر کمیونسٹ فتح سے جاپان کا کمیونزم اختیار کر لینا یقینی تھا۔

ان تمام اوامر کو مدنظر رکھتے ہوئے فرانس کو فتح دلانا امریکہ کیلئے ناگزیر تھا اور اگر فرانس کو ناکامی ہوتی تو ہر حال میں امریکہ کو وہاں قابض ہونا تھا۔ بالاآخر 1954 میں فرانس کو  ویت نام سے دستبردار ہونا پڑا کیونکہ وہاں کی عوام کو ہوچی من کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور وہ فرانس کی حکومت کو کسی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔جینیوا میں ایک امن معاہدے کے بعد یہ طے پایا کہ  دو برس بعد باضابطہ الیکشن کرائے جائیں گے اور ویت نام کی عوام  سرکاری طور پر اپنا حکمران منتخب کرے گی اور ان دو برس کے دوران فرانسیسی جنوبی ویت نام میں رہیں گے ۔

امریکہ کیلئے یہ امن معاہدہ ناقابلِ قبول تھا، اس نے فوری طور پر سائی گون میں (جو کہ جنوبی ویت نام کا ایک شہر تھا  اورآج اس کا نام ہو چی من سٹی ہے) میں ایک سابقہ ویت نامی افسر دائم کو تعینات کر دیا جو کہ نیو جرسی کا رہائشی تھا۔ دائم کی ذمہ داری صرف یہ تھی کہ وہ دوبرس بعد منعقد ہونے والےانتخابات  ہر حال میں ملتوی کرائے  کیونکہ ان انتخابات میں ہو چی من کی فتح اور فرانس کی شکست یقینی تھی۔ دائم کی حکومت وقت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ  غیر معروف ہوتی گئی۔ دائم ایک کیتھولک تھا جبکہ ویت نامی بدھ مت کے پیروکارتھے۔ دائم  اُس سر زمین پر جاگیرداروں کے قریب تھا جہاں کی اکثریت مزارع تھی۔ مزید یہ کہ اُس نے منتخب صوبائی وزرا کو برطرف کر کے اپنی پسند کے وزرا کو تعینات کرایا۔ 1962 تک 88 فیصد وزرا فوجی افسران تھے۔

دائم کی مطلق العنانیت کے باعث  1958 میں وہاں گوریلا جنگوں کا آغاز ہو گیا۔ ایک امریکی حکومتی تجزیہ کار ڈگلس پائک  نے اپنی ایک کتاب Viet   Cong (جو کہ  باغیان کے انٹرویوز پر مبنی تھی) میں امریکہ کو درپیش صورتحال کی حقیقی تصویر کشی کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں

”جنوبی ویت نام کے 2561 گاؤں کی عوام نے مل کر ایک پارٹی تشکیل دی ہے اور کمیونسٹس معاشرتی سطح پر  یہاں گراں قدر تبدیلیاں لائے ہیں۔ اور ایسا اُن کی باہمی روابط کی صلاحیت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ تنظیمی زیادہ اور جنگجو کم تھے۔اور ان کی اس تنظیم NLF کا سب سے قابلِ تحسین امر یہ تھا کہ معاشرتی انقلاب ان کی پہلی ترجیح تھی اور جنگ دوسری۔ ان لوگوں کا مقصد نہ ہی سپاہیوں کا قتل تھا نہ ہی زمینی قبضہ۔ ان کا مقصد صرف باہمی یک جہتی تھا۔ “

پائک کے اندازے کے مطابق NLF کے ممبران کی تعداد 1962 تک تین لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔

1961 میں کینیڈی نے صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرومین اور آئزن ہاور کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ کم و بیش فوری طور پر اُس نے ویت نام میں خفیہ منصوبے کے تحت فوجی کاروائی شروع کرا دی۔

1963 کی ایک صبح اچانک ایک  راہب نے سائیگون میں ایک چوک پر خود کو نذرِ آتش کر لیا۔ اس کے بعد مزید بدھ مت راہبوں نے خود کو آگ لگا کر خود کشیاں کرنا شروع کر دیں اور یہ خود کشیاں دائم کی مطلق العنانیت کے خلاف احتجاج تھیں۔ دائم کی پولیس نے بدھ متوں کی عبادت گاہوں پر اچانک حملے شروع کر دئے، 1400 لوگوں کو حراست میں لے لیا اور فائرنگ کے ذریعے نو لوگوں کو مار ڈالا گیا۔ بعد ازاں  Hue میں دس ہزار لوگوں کا مجمع اکٹھا ہوا  اور انہوں نے لوگوں کی حراست اور قتلِ عام کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔

جینیوا معاہدے کے مطابق امریکہ 685 فوجی بطور مشیر و صلاح کار بھیج سکتا تھا۔ لیکن آئزن ہاور نے خفیہ بنیادوں پر کئی ہزار  فوجی مشیر بھیجے۔ اور ان میں سے کچھ نے فوجی آپریشنز میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔دائم ہار رہا تھا  اور جنوبی ویت نام کا بیشتر حصہ اب NLF کے متعین کردہ  مقامیوں کے قابو میں تھا۔

دائم جب ویت نام پر مؤثر قبضے میں ناکام رہا تو کچھ ویت نامی جنرلوں نے اُس کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی اور سی آئی اے کے ایک افسر”لوسی این کون یین“  سے خفیہ روابط کا آغاز کیا جو کہ  فوجی بغاوت (coup) کے ذریعے ویت نام پر کٹھ پتلی حکومت کے قیام  کا حمایتی تھا۔

بالآخر یکم جنوری 1963 کو جنرلز نے ایوانِ ڈسر پر حملہ کیا، دائم اگرچہ بھاگ  نکلا  لیکن بعد ازاں گرفتار ہوا اور قتل کر دیا گیا۔

1963 میں کینیڈی کے سکریٹری آف سٹیٹ الیکسس جانسن کے مطابق  جنوب مشرقی ایشیا کی کشش اس کی  شفاف آب وہوا، زرخیز زمین، قدرتی ذخائر، اور زمینی حکومت کی توسیع کے مواقع ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک  کثیر مقدار میں برآمدات پیدا کرتے ہیں جن میں چاول ، ربڑ، ٹن، مکئی، چائے، مرچیں وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن کینیڈی جب امریکی عوام سے مخاطب ہوتا تو وہ صرف دو امور پر گفتگو کرتا: کمیونزم اور  مقامی لوگوں کی آزادی۔

14 فروری 1962 میں ایک نیوز کانفرنس میں کینیڈی یہ کہتے ہوئے پایا گیا: ”جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکہ ویت نام کی حکومت اور اُس کی عوام، دونوں کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی آزادی برقرار رکھ  سکیں۔ “

دائم کے قتل کے تین ہفتوں بعد، کینیڈی کا بھی قتل ہو گیا اور نائب صدر لنڈن جانسن نے صدارت سنبھال لی۔

امریکی جنرل میکسویل ٹیلر نے 1964 میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں اُس نے کہا”گوریلا وار کی ایک پراسراریت یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنا مورال مسلسل بلند رکھتے ہیں اور کسی بھی نقصان کی صورت میں وہ اپنے جذبے میں کمی نہیں آنے دیتے۔ “

ویت نام پر حملے کا عذر

اگست 1964 کے اوائل میں،  امریکی صدر جانسن نےخلیجِ  ٹونکن  میں  رونما ہونے والے نا مکمل اور غیر واضح واقعات کو بنیاد بنا کر ویت نام پر شدید حملہ کر دیا اور اس طرح جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جانسن اور ڈیفینس سیکریٹری رابرٹ میک نامار نے عوام کو بتایا کہ شمالی ویت نامی  تارپیڈو نے امریکی جہاز Maddox پر، جبکہ وہ بین الاقوامی بحری حدود میں تھا، معمول کی پٹرولنگ کے دوران بلا اشتعال حملہ کر دیا۔ بعد ازاں یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ خلیجِ ٹونکن کا یہ واقعہ سفید جھوٹ تھا اور امریکہ کے  اعلیٰ ترین  افسران  نے عوام سے جھوٹ بولا تھا۔ بعینہ ویسا جھوٹ جیسا کینیڈی کی حکومت نے کیوبا پر حملے کے دوران بولا تھا۔

درحقیقت سی آئی اے شمالی ویت نام  میں  خفیہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئی تھی اوروہاں جو حملہ ہوا وہ  بلا اشتعال یا unprovoked نہیں تھا۔نہ ہی یہ   معمول کی پٹرولنگ کاروائی  تھی۔ Maddox ایک” سپیشل الیکٹرانک جاسوسی“ مشن پر تھا۔ اور یہ  بین الاقوامی  بحری حدود   میں  بھی نہیں تھا بلکہ ویت نام کی سمندری حدود کے اندر تھا۔اور بعد ازاں یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ Maddox پر کوئی تارپیڈو بھی فائر نہیں کیا گیا ۔

ٹونکن کے  ”حملے“ نےکانگریس میں  اکثریتی ووٹوں سے قرارداد پاس کروائی  اور جانسن کو جنوب مشرقی ایشیا پر حسبِ منشا حملہ کرنے کی اجازت مل گئی۔قراردادِ ٹونکن  پاس ہونے پر جانسن کو حملہ کرنے کی غیر مشروط  اجازت دے دی گئی۔ امریکی قانون کے مطابق صدر پر مخالف سر زمین کے ساتھ باضابطہ  جنگ کا اعلان کرنا لازم تھا لیکن جانسن نے ایسے کسی بھی اعلان کے بغیر حملہ کر دیا۔ امریکی سپریم کورٹ میں بہت سی درخواستیں دائر کی گئیں جن میں ایک ہی  مطالبہ تھا کہ اس حملے کو غیر قانونی قرار دے کر جنگ کو روکا جائے، سپریم کورٹ نے ان میں سے کسی ایک درخواست کو بھی درخور اعتنا نہ جانا۔

”واقعہ“ ٹونکن کے  فوری بعد  امریکی جنگی جہازوں نےشمالی ویت نام پر بم برسانا شروع کر دئے۔ 1965 کے دوران دو لاکھ سے زائد امریکی فوجی شمالی ویت نام بھیجے گئے اور 1966میں دو لاکھ مزید بھیجے گئے۔1968 کے اوائل تک وہاں 5 لاکھ سے زائد امریکی فوجی موجود تھے۔ اور امریکی فضائیہ وہاں جس رفتار سے بم گرا رہی تھی اس کی مثال انسانی تاریخ میں اس سے قبل کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 

اس بمباری کے نتیجے میں پیش آنے والے دکھ اور تکالیف کی خفیف سی جھلک امریکی عوام کو اچانک تب نظر آئی جب نیو یارک ٹائمز میں 5 جون 1965 کو ایک خبر چھپی ۔ خبر کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے  Quangngai پر جو حملہ کیا اس کا مقصود وہاں کے کمیونسٹوں کو مارنا تھا۔ نیز ”ہمارے اندازے کے مطابق 500 لوگ مارے گئے ہیں  لیکن اس وقت چار میں سے تین مریض جو napalm بمباری کے باعث جھلسنے کا علاج کرا رہے ہیں ، گاؤں کی عورتیں ہیں۔“

6 ستمبر کے پریس  کے مطابق 15 جنگی جہازوں  نے  غلطی سے چرچ پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیا اور وہاں عبادت میں مشغول لوگ مارے گئے۔ایک عورت زندہ بچی جس کے دونوں بازو جھلسے ہوئے تھے اور اُس کی آنکھیں ایسی بری طرح جھلسی ہوئی تھیں کہ وہ انہیں بند نہیں کر سکتی تھی، اسی عورت کے دو بچے بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

جنوبی ویت نام کے وسیع علاقے ”فری فائر زون“ قرار دے دئے گئے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں رہنے والے بچے، بوڑھے، اور عورتیں سب دشمن ہیں اور امریکی فوج کیلئے خطرہ ہیں لہٰذا انہیں مارنا لازم ہے۔ جن دیہاتوں پر شک ہوتا کہ وہ کمیونسٹوں کو پناہ دے رہے ہیں، وہ دیہات  ”تلاش کرو اور تباہ کر دو“ (search   and   destroy) مشن کا شکار ہوتے رہے۔ ان دیہاتوں میں موجود نوجوانوں کو قتل کر دیا جاتا اور بچوں، بوڑھوں، اور عورتوں کوپناہ گزیں کیمپ بھیج دیا جاتا۔

سی آئی اے نے اپنے ایک آپریشن ”آپریشن فینکس“ کے تحت بغیر کسی ثبوت اور عدالتی کاروائی  کے 20،000 ویت نامیوں کو محض اس شک پر قتل کر دیا کہ وہ کمیونسٹ تھے۔

چند اعداد وشمار

ویت نام کی جنگ کے خاتمے تک ویت نام پر 7 ملین ٹن وزن کے برابر بم گرائے جا چکے تھے، یہ مقدار جنگِ عظیم دوم میں پورے ایشیا اور یورپ پر گرائے گئے بموں سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی اوسطاً ہر ویت نامی باشندے پر 500 پاونڈ وزنی بم گرایا گیا۔ایک اندازے کے مطابق ویت نام میں دو کروڑ سے زائد کریٹرز (craters) تھے۔علاوہ ازیں جہازوں کے ذریعے زہریلے سپرے کئے گئے تاکہ درختوں کو تباہ کیا جا سکے اور فصلوں کی کاشت کاری کو روکا جا سکے۔ ویت نامی ماؤں نے ان زہریلے مادوں کے نتیجے میں اپنے بچوں میں پیدائشی نقص کا ذکر کئا۔

16 مارچ 1968 کوQuang Ngai صوبے کے شہر   My Lai 4  کے ایک چھوٹے سے  گاؤں میں امریکی فوجیوں کا ایک دستہ گیا۔  وہاں انہوں نے گاؤں کے سب لوگوں کو اکٹھا کیا، جن میں بچے، بوڑھے، اور عورتیں جن کی گود میں نومولود تھے؛ سبھی شامل تھے۔ان سب لوگوں کو ایک کھائی میں اکٹھا کیا گیا، جہاں امریکہ فوجیوں نے انہیں بڑے منظم طریقے سے فائرنگ کے ذریعے قتل کیا۔

نیو یارک ٹائمز میں ایک رائفل مین جیمز ڈرسی کی  گواہی شائع ہوئی، جو اُس نے لیفٹیننٹ ولیم کَیلے کے ٹرائل کےدوران دی تھی: ”لیفٹیننٹ کَیلے اور ایک روتے ہوئے رائفل بردار سپاہی نے ، جس کا نام پال ڈی میڈلو تھا، وہ سپاہی جس نے بچوں کو گولی مارنے سے قبل انہیں ٹافیاں کھلائی تھیں، سب قیدیوں کو کھائی میں دھکیلا۔ لیفٹیننٹ کَیلے کا حکم تھا کہ سب کو قتل کیا جائے۔میڈلو مُجھ سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا، Shoot!  Why   don’t   you   shoot, وہ بری طرح رو رہا تھا۔ میں نے کہا میں نہیں مار سکتا۔اور پھر میڈلو اور لیفٹیننٹ کَیلے نے رائفلیں خندق پر تان کر فائر کھول دیا۔لوگ ایک دوسرے پر  گر رہے تھے، مائیں اپنے بچوں کو بچا رہی تھیں۔“

1969 میں ایک فوجی تفتیشی ٹیم کے وہاں جانے پر یہ منکشف ہوا کہ کم و بیش پانچ سو لوگ ذبح کر کے یا فائرنگ کے ذریعے مارے گئے تھے۔

یقیناً My Lai کا واقعہ اپنی تفصیلات میں  نادر اور منفرد تھا لیکن اس جنگ میں ایسے بہت سے درندگی کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے۔

ایک گراؤنڈ انفنٹری سپاہی نے اپنے گھر خط لکھا  جس کو ایک جنگ مخالف اخبارنویس ہرش نے شائع کروا دیا: ”پیارے والدین۔ آج ہم ایک ایسے مشن پر گئے جس پر نہ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے، نہ ہی اپنے دوستوں پر، اورنہ ہی اپنے ملک پر۔ آج ہم نے تاحدِ نظر تمام جھونپڑیوں کو جلا کر راکھ کیا۔ یہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا اور یہاں کے لوگ انتہائی غریب تھے۔ میرے یونٹ نے ان لوگوں کی ادنیٰ سے ادنیٰ ملکیت کو بھی لوٹ لیا اور باقی سب کچھ جلا ڈالا۔ یہاں پر جھونپڑیاں   پام کے پتوں کی بنی ہوئی ہیں اور  ان پتوں کی بنی ہوئی جھونپڑیوں کو ہماری  یونٹ نے اپنے لئے خطرہ گردانا۔ آج صبح ان جھونپڑیوں کے وسط میں دس ہیلی کاپٹر اترے، ہر ہیلی کاپٹر سے چھ چھ فوجی باہر نکلے اور زمین پر اترتے ہی فائر کھول دیا۔ جتنی جھونپڑیوں پر ممکن تھا ہم نے فائر کیا۔ اس کے بعد ہم نے ان جھونپڑیوں کو آگ لگا دی۔ جو لوگ زندہ بچ گئے وہ ہماری منت سماجت کر رہے تھے کہ ہم ان کے باپ دادا کو ان سے جدا نہ کریں، عورتیں بین کر رہی تھیں۔اور ہاں! ہم نے ان کی دھان کی فصل بھی جلائی اور تمام پالتو جانوروں کو بھی مار ڈالا“۔

عوامی رد عمل کا آغاز

1968 کے اوائل تک جنگ کے مظالم نے امریکی عوام کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ اُن کیلئے یہ امر بھی پریشان کُن تھا کہ امریکہ ابھی تک جنگ جیت نہیں پایا تھا اور نہ ہی اس کے کوئی آثار نظر آ رہے تھے۔ جبکہ 40،000 امریکی فوجی اب تک مارے جا چکے تھے اور 250،000 زخمی تھے۔ جبکہ ویت نامی اموات اس سے کئی گنا زیادہ تھیں۔ جانسن نے ایک ظالمانہ جنگ کا آغاز کیا تھا اور جیتنے میں ناکام رہا تھا۔ اس کی شہرت بہت بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔ جہاں بھی وہ عوام میں کوئی تقریر کرنے آتا، اس کے خلاف اور جنگ کی مخالفت میں لوگ نعرے لگاتے۔

LBJ..LBJ.. How   many   kids   did   you   kill   today

اسی برس جانسن نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ صدارت کیلئے اگلا الیکشن نہیں لڑے گا اور  یہ کہ ویت نام کے ساتھ پیرس میں امن معاہدے کا آغاز کیا جائے گا۔ 1968 کے اواخر میں، صدارتی امیدوار رچرڈ نکسن نے امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ وہ امریکہ کو ویت نام کی جنگ سے باہر نکال لائے گا اور اُس نے صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد فوجی دستے واپس بلانا شروع کئے۔ 1972 تک  ویت نام میں 150،000 فوج باقی تھی لیکن بمباری جاری رہی۔ سائیگون کی حکومت نے امریکی پیسے اور ہتھیار کے ذریعے جنگ جاری رکھی۔نکسن جنگ کا خاتمہ نہیں کر رہا تھا بلکہ محض جنگ کے ناپسندیدہ  پہلو کا خاتمہ کر رہا تھا، اور وہ تھا امریکی فوج کا غیر ملکی سر زمین پر جنگ لڑنا۔

1970 کے اوائل میں نکسن اور سیکریٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر نے کمبوڈیا پر حملہ کر دیا۔اس حملے نے نہ صرف عوام میں شدید ردِ عمل پیدا کیا بلکہ یہ ایک عسکری ناکامی بھی ثابت ہوا جس کے نتیجے میں کانگریس نے یہ قرار داد پاس کی کہ نکسن کانگریس کی منظوری کے بغیر مستقبل میں کوئی بھی عسکری کارروائی نہیں کرے گا۔

دنیا کے عظیم سپورٹس مین اور باکسنگ  ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی نے  جنگ میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر علامتی انکار کر دیا کہ یہ ایک ”سفید فام امریکی کی جنگ ہے“۔ محمد علی کے اس بیان کے بعد باکسنگ اتھارٹی نے اُن کا چیمپیئن کا ٹائٹل واپس لے لیا ۔

مارٹن لوتھر نے 1967میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ”کسی طرح اس دیوانگی کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔ میں خدا کی مخلوق ہونے کے ناطے ویت نام کے غریب اور مظلوم لوگوں کیلئے آواز اُٹھا رہا ہوں۔ میں اُن کیلئے آواز اُٹھا رہا ہوں جن کی سرزمین تباہ کی جا رہی ہے، جن کے گھر جلائے جا رہے ہیں، جن کا سماج تباہ کیا جا رہا ہے۔ میں اُن غریب امریکیوں کیلئے آواز اُٹھا رہا ہوں جو اپنے مُلک میں نااُمیدی اور ویت نام میں قتلِ عام، دونوں کی قیمت چُکا رہے ہیں۔اس جنگ کو شروع بھی ہم نے کیا تھا اور اسے ختم بھی ہم ہی کر سکتے ہیں۔  “

امریکی نوجوانوں نے رضاکارانہ فوجی بھرتیوں سے انکار کر دیا۔ جو بھرتی کیلئے درخواست دے چُکے تھے انہوں نے  بطور احتجاج کھلے عام  اپنے کارڈز جلانا شروع کر دئے۔ 1969 تک 33960  نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چُکا تھا، وہ نوجوان جنہوں نے جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

دو نومبر 1965 کو پینٹاگون کے سامنے ، جب ہزاروں کی تعداد میں سہہ پہر کے وقت لوگ دفاتر سے باہر نکل رہے تھے ، 32 سالہ  نارمن موریسن نامی ایک شخص، جو کہ تین بچوں کا باپ تھا ،سیکریٹری آف ڈیفنس  رابرٹ میکنامارا کے  دفتر کی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوا، خود کو مٹی کے تیل میں بھگویا اور ہزاروں لوگوں کے سامنے خود کو نذر آتش کر لیا۔ موریسن نے جنگ کے احتجاج میں اپنی زندگی دے ڈالی۔ اسی سال ایک بیاسی سالہ خاتون نے  احتجاجاً خود کو آگ میں جلا کر کے جان دے دی ۔

ان واقعات نے لوگوں کے جذبات میں شدید اضطراب پیدا کر دیا۔ 1965 میں جب جنگ کا آغاز ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، بوسٹن کامن (ایک عوامی پارک) کے باہر احتجاج کیلئے ایک سو لوگ اکٹھے ہوئے تھے۔ اکتوبر 15، 1969 کو اسی جگہ پر 100،000 لوگ جمع ہوئے۔ اس دن پورے ملک میں کم و بیش بیس لاکھ لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ایسا اُس ملک میں ہوا جس نے اس سے قبل کبھی کوئی جنگ مخالف میٹنگ تک نہیں دیکھی تھی۔

1971 میں 20،000 لوگ واشنگٹن کی سڑکوں پر آئے اور احتجاجاً سول نافرمانی کی اور شہر کا سارا ٹریفک کا نظام  درہم برہم کر ڈالا۔  ان میں سے 14،000 لوگوں کو زیرِ حراست لے لیا گیا۔ تعداد کے اعتبار سے امریکہ کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی گرفتاری تھی۔

بحرالکاہل میں دو امریکی مانجھیوں نے امریکی اسلحہ بردار بحری جہاز ہائی جیک کر لیا۔ چار دن تک جہاز اور اُس کا عملہ اُن کی حراست میں رہا ، اور وہ چار دن مسلسل امفیٹامین (CNS   Stimulant،ایک دوائی جو ذہن کو متحرک کرتی ہے) کھا کر جاگتے رہے، یہاں تک کہ یہ جہاز کمبوڈیا کی  سمندری حدود میں داخل ہو گیا۔

مڈل کلاس اور پروفیشنلز کا طبقہ، جو  فعالیت اور سیاسی سرگرمیوں سے ناواقف تھا، سر اُٹھانے لگا اور احتجاج میں شامل ہونے لگا۔

جنگ اس حد تک بدنام ہو چُکی تھی کہ حکومت کے وفادار بھی حکومت کے خلاف بولنا شروع ہو گئے۔ اس ضمن میں سب سے اہم شخصیت ڈینیل ایلز برگ کی تھی، جو کہ ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ معیشت دان اورسابقہ نیوی افسر تھا، اور RAND کارپوریشن کا ممبر تھا، ایک ایسا ادارہ جو امریکی حکومت کیلئے خفیہ ریسرچ کا ذمہ دار تھا۔ ایلزبرگ نے امریکی شعبۂ دفاع کی جانب سے ویت نام کی جنگ کی تاریخ لکھوانے میں اہم کردار اداکیا لیکن بعد میں اپنے دوست  اینتھونی روسو کی مدد سے انتہائی خفیہ سرکاری دستاویزات کو عوام میں جاری کر دیا۔ یہ دونوں دوست سائیگون میں وقت گزار کر آئے تھے، ویت نام میں ہونے والے مظالم کے عینی شاہد تھے اور اسی وجہ سے ویت نام میں امریکی مظالم کے خلاف ہوئے تھے۔

ان دونوں دوستوں نے دن رات ایک کر کے سات ہزار صفحات پر مبنی دستاویزات کی کثیر التعداد کاپیاں کیں اور بعد میں مختلف جریدوں تک پہنچائیں، جن میں نیو یارک ٹائمز بھی شامل تھا۔ جون 1971 میں نیو یارک ٹائمز نے ان میں سے کُچھ صفحات کو شائع کر دیا۔ ان صفحات نے پورے مُلک میں سنسنی پھیلا دی اور انہیں Pentagon   Papers کے نام سے پکارا جانے لگا۔ نکسن کی حکومت نے ان دونوں دوستوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ درج کرایا اور غداری کے الزام میں ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کئے جانے کی سفارش کی۔ یہ کیس ضرور آگے بڑھتا لیکن بدقسمتی سے حضرت صاحب خود واٹر گیٹ سکینڈل میں ملوث پائے گئے اور  جج نے استغاثہ کا مقدمہ خارج کر دیا۔

امریکی طلبا کا کردار

امریکی طلبا جنگ کے خلاف احتجاج میں شروع دن سے   بھرپور طور پر شریک رہے۔ اربن ریسرچ کارپوریشن کے مطابق ، سال 1969 کے پہلے چھ مہینوں میں ملک کے 232 اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں کے 215،000 کے قریب  طلبا نے  احتجاج میں حصہ لیا۔ان میں سے 3652 طلبا کو گرفتار کیا گیا، 956 طلبا کو یونی ورسٹیوں سے نکال دیا گیا۔ 1969 ہی میں امریکہ کی اعلی ترین درسگاہوں میں سے ایکBrown یونی ورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں  جب  ہنری  کسنجر خطاب کرنے آیا تو دو تہائی طالبعلموں نے منہ پھیر لیا۔

احتجاج اپنے درجۂ کمال کو تب پہنچا جب نکسن نے کمبوڈیا پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ Kent سٹیٹ یونی ورسٹی میں چار مئی 1970 کو طالبعلم احتجاج کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے۔ گارڈز نے طالبعلموں پر فائر کھول دیا۔ چار طالبعلم موقع پر جاں بحق ہو گئے اور ایک طالبعلم عمر بھر کیلئے مفلوج ہو گیا۔

اس کے بعد چار سو کالجز اور یونی ورسٹیز  کے طلبا احتجاج کیلئے نکل آئے۔ یہ امریکی تاریخ کی پہلی جنرل سٹوڈنٹ سٹرائیک تھی۔

فوجی بغاوتیں

1967 کے اوائل میں کیپٹن ڈاکٹر ہاورڈ لَیوی نے مغربی کیرولائنا میں امریکی ایلیٹ فورس کو ٹریننگ کے دوران پڑھانے سے انکار کر دیا۔ لَیوی کا کہنا تھا کہ یہ لوگ عورتوں، بچوں، اور دہقانوں کے قاتل تھے۔ اس تبصرے کی بنیاد پر لَیوی کا کورٹ مارشل کیا گیا اور اس پر یہ فردجرم عائد کی گئی کہ وہ فوج میں بغاوت کو فروغ دے رہا ہے۔ جس کرنل نے لَیوی کے خلاف فیصلہ سُنایا تھا اُس کا کہنا تھا :”لیوی کے بیان کا دُرست اور حقیقی ہونا یہاں اہمیت نہیں رکھتا، یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس کا سچ  فوج میں بغاوت کے بیج بو رہا ہے۔“

لیوی کو فوج سے برطرف کر دیا گیا اور  اُسے قید بامشقت کی سزا  دی گئی۔

جنگ پر عدم اعتماد کی فضا میدانِ جنگ تک پہنچ چُکی تھی۔ جب 1969 میں امریکی عوام نے  اختتامِ جنگ (Moratorium   Day) کا دن منایا تو اُس روز ویت نام میں موجود امریکی فوجیوں نے بازو پر کالی پٹیاں پہن کر اُس احتجاج کی علامتی حمایت کی۔  حالات یہاں تک پہنچ چُکے تھے کہ فوجیوں نے لڑنے سے انکار کرنا شروع کر دیا تھا۔ فرانسیسی اخبار Le   Monde کے مطابق ایئر کیولری ڈویژن کے 109 فوجیوں کے خلاف جنگ نہ لڑنے کے باعث کارروائی کی گئی۔

Moratorium   Day   of   1969   in   USA

انہی دنوں ٹائم میگزین کے ایک سیاہ فام  امریکی رپورٹر والِس ٹیری  نے سینکڑوں سیاہ فام فوجیوں کے انٹرویو ریکارڈ کئے۔ اُن انٹرویوز میں فوجیوں نے فوج میں نسل پرستی کے شدید رُجحان کے خلاف نفرت اور مجموعی اعتبار سے  جنگی جذبے کے انحطاط کا تذکرہ کیا۔آئے روز فوجیوں کے اپنے افسران کو گرنیڈ سے اُڑا دینے یا گولی مار کر موت کی نیند سلا دینے کے واقعات سننے میں آنے لگے۔خاص طور پر اُن افسران کو مارا جا رہا تھا جو فوجیوں کو زبردستی لڑنے کیلئے بھیجتے تھے۔ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 1970 میں fragging (افسران کے قتل) کے 209 واقعات رپورٹ ہوئے۔

جو فوجی جنگ میں ایک لمبا  عرصہ گزارنے کے بعد امریکہ واپس لوٹے تھے، انہوں نے  Vietnam   Veterans   Against   the   War کے نام سے ایک گروپ  تشکیل دیا۔

Vietnam   Veterans   Against   the   War

دسمبر 1970 میں اُن میں سے سینکڑوں فوجی امریکی ریاست مشی گن کے شہر Detroit میں اکٹھے ہوئے تا کہ وہ لوگوں کو بتا سکیں کہ انہوں نے ویت نام میں کن گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اپریل 1971 میں ہزار سے زائدفوجی واشنگٹن ڈی سی میں اکٹھے ہوئے جہاں انہوں نے جنگ کے خلاف دھرنا دیا۔وہ سب ایک ایک کر کے کانگریس کی عمارت کی باڑ پر جاتے اور جنگ کے دوران جیتے ہوئے میڈلز کانگریس کی حدود میں پھینکتے جاتے اور ہر ایک جنگ کے خلاف ایک مختصر تبصرہ کرتا۔

1972 میں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ پائلٹ جہاز اڑانے سے بھی انکار کرنا شروع ہو گئے تھے۔ ایک فوجی نے جنگی قیدیوں کے ساتھ نرم لہجے میں گفتگو کی تو اُس کے افسر نے اُسے کہا :”دشمن سے تعاون کرنا بند کرو“، جس کے جواب میں فوجی چیختے ہوئے بولا:”دشمن کون ہے، اور کہاں ہے، اور ہم آٹھ برس سے کس کے ’خلاف ‘لڑ رہے ہیں؟“

تذلیل کا اختتامی سفر

1972 کے اواخر میں، جب فتح کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے، اور شمالی ویت نامی دستے جنوبی ویت نام میں بری طرح گھرے ہوئے تھے؛ تب امریکہ نے ویت نامی عوام کو ایک امن معاہدے اور اپنے فوجیوں کے انخلا کی پیشکش کی۔ لیکن سائی گون کی امریکہ نواز حکومت نے اس معاہدے سے انکار کر دیا اور  امریکہ نے جنوبی ویت نام کو محکوم کرنے  کی ایک آخری کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ نے سینکڑوں کی تعداد میں B-52 جنگی طیارے ہینوئی اور ہیپ ہونگ پر حملے کیلئے بھیجے، ہسپتال تک تباہ کئے لیکن ان سب کے باوجود یہ حملہ بھی ناکام رہا۔ بہت سارے جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ دنیا بھر میں احتجاج ہوا اور بالآخر ہنری کسنجر نے اُسی امن معاہدے پر دستخط کئے جس پر اس ”آخری معرکے“ سے قبل اُسے کرنا تھے۔

دا وار اِز اوور(جنگ کا خاتمہ)

امریکہ نے اپنی فوج واپس بلا لی لیکن سائی گون کی امریکہ نواز حکومت کو امداد دینا بند نہ کی۔ ادھر باغیوں نے جنوبی ویت نام پر 1975 میں حملہ کر دیا اور سائیگون پر قبضہ کر کے امریکہ نواز حکومت گرا دی۔ امریکی سفارت خانے کاعملہ بھاگ کھڑا ہوا اور بالآخر ویت نام کی طویل جنگ امریکہ کے لئے اپنے دامن میں تمام تر ذلتیں سمیٹے ہوئے اپنے اختتام کو پہنچی۔ سائیگون شہر کا نام تبدیل کر کے’ہوچی من سٹی‘ رکھ دیا گیا۔ویت نام کے دونوں حصے یکجا ہوئے اور Democratic   Republic   of   Vietnam کہلائے۔

اگرچہ روایتی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جنگ ہمیشہ راہنماؤں کی پیش قدمی ہی سے ختم ہوتی ہے، لیکن ویت نام کی جنگ نے ہمیں یہ دکھایا کہ اس جنگ کے اختتام کی کوشش کرنے والوں میں راہنما قطار کے سب سے آخر میں کھڑے تھے  اور عوام سب سے آگے تھی۔

امریکی قیادت نے عوام کو یہی بتلا کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ امن معاہدے کی خاطر امریکی کوششوں سے ہی جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی، نہ کہ اس لئے کہ امریکہ جنگ میں بری طرح پٹ چکا تھا یا پھر اس لئے کہ امریکہ میں نہایت طاقتور جنگ مخالف  احتجاج جڑ پکڑ چکا تھا۔

26 ستمبر 1969 کو امریکی صدر نکسن  نے جب دیکھا کہ مُلک میں جنگ مخالف  سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں تو اس نے  باقاعدہ یہ اعلان کیا کہ میرے فیصلوں پر عوامی احتجاج کوئی اثر نہیں کرے گا۔ لیکن نو برس بعد 1978 میں اپنی سوانح میں نکسن نے اعتراف کیا :”یہ عوامی احتجاج ہی تھا جس نے مجھے جنگ کی شدت میں اضافے پر مبنی منصوبے روکنے پر مجبور کیا۔اگرچہ بظاہر میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ احتجاج مجھ پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔“

جانسن کا یہ اعتراف کسی بھی امریکی  صدر کا ایک نادر اعتراف تھا جس میں عوام کی منظم قوت کا اعتراف کیا گیا۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search