نیّرمسعودکے ساتھ ایک مذاکرہ، مصاحبہ کار: اظہار کاظمی (ترتیب: شفتین نصیر)

(وائس آف امریکہ کے) پروگرام ادب اور ادیب کے ساتھ

اظہار کاظمی: لکھنئو میں ایک سڑک ہے ’دین دیال روڈ‘، اس سڑک پر واقع ایک گھر ہے جو پہلے کتاب گھر کہلاتا تھا، بعد کو ادبستان کہلایا۔ سن سنتالیس اڑتالیس میں اس گھر میں لکھنئو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر مسعود حسین رضوی ادیب رہتے تھے۔ یہ گھر ورثے میں پایا ہے جناب نیّر مسعود نے جنہوں نے گھر میں بھی باپ کی جگہ لی اور یونیورسٹی میں بھی۔ قیاس کہتا ہے کہ یہ گھر درختوں میں گھری اونچے اونچے مہرابی دروازوں والی پرانی پراسرار حویلی ہو گی۔ ایسا نہیں ہے تو نیّر مسعود صاحب کی منفرد ، ہیبت ناک بھیدوں بھری کہانیوں کا پس منظر کہاں سے آیا۔ ان کہانیوں کے بارے میں اس ہی گھر کے ٹیلی فون پر نیّر مسعود کی گفتگو سے آج کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

نیّر مسعود:  اصل میں، دو یا  تین میدان ہیں میرے، ایک تو تحقیق اور تھوڑی بہت تنقید اور زیادہ تو میں نے تحقیقی ہی چیزیں لکھی ہیں، لیکن مجموعے افسانوں کے دو آئے اور سن اکہتر سے میں نے افسانے چھپوانا شروع کیے، لکھتا تو پہلے سے تھا۔ پہلا مجموعہ تو ’’سیمیا‘‘ تھا، اس میں پانچ افسانے تھے اور یہ سن نوے میں چھپا ہے اور اس کے بعد پھر ’’عطر کافور‘‘، یہ دوسرا مجموعہ تھا یہ چورانوے میں چھپا ہے اس میں سات افسانے تھے۔ اور اب چند مہینے پہلے ستانوے کے آخر میں ’’طاﺅس چمن کی مینا‘‘ ، یہ تیسرا مجموعہ ہے۔ اور انگریزی میں، شاید آپ کی نظر سے گزرا ہو، اینوئل آف اردو اسٹڈیز  (Annual      of      Urdu      Studies)،    جو وسکانسن یونیورسٹی والا ہے۔

اظہار کاظمی:  جی ہاں، وہ محمد عمر میمن صاحب کا۔

نیّر مسعود:  جی ہاں، تو انھوں نے بھی کچھ افسانوں کے ترجمے کیے ہیں، لیکن اردو میں یہ تین مجموعے ہیں، اس میں سب ملا کر بائیس تئیس افسانے ہیں، زیادہ نہیں لکھے میں نے۔

اظہار کاظمی:  بہت۔اس لحاظ سے تو ہمیں خاصے زیادہ معقول تعداد لگتی ہے کہ غالبا ًآپ کسی مخصوص رجحان کے نمائندے نہیں کہے جا سکتے؟   کیا یہ صحیح ہو گا۔

نیّر مسعود:  جی نہیں بالکل۔بالکل نہیں! بلکہ اس سے ذرا دامن بچایا ہی تھا۔ اصل میں ہوا بھی یہی کہ ہمارے شمس الرحمن فاروقی صاحب جو چھاپ رہے تھے افسانے، ’’شب خون‘‘ میں، تو ان سے اکثر بحث ہوتی تھی کہ بھئی یہ افسانوں کا انداز اچھا نہیں ہے جو بہت ہی مبہم اور تجریدی قسم کے ہیں۔ اور جو پرانا انداز ہے خالص حقیقت نگاری والا یا بہت مقصدی پیغام والے افسانے، وہ بھی اب اچھے نہیں لگتے ہیں۔

اظہار کاظمی:  درست۔

نیّر مسعود:  تو اس ہی گفتگو کے نتیجے میں پھر میں نے ایک آدھ افسانہ لکھ کے ان کو دیا تو انھوں نے پسند کیا۔ اور وہ سب، ’’سیمیا‘‘ کے سب افسانے ’’شب خون‘‘ میں چھپے تھے۔

اظہار کاظمی:  جی۔

نیّر مسعود:  تو کوشش یہی تھی کہ ذرا الگ قسم کے افسانے ہوں اور اچھے یا برے کی اتنی اہمیت نہیں اس وقت سمجھی۔ بس یہ کہ جو ایک عام دھارا ہے افسانے کی، اس سے الگ کچھ اپنے طور پر لکھا جائے۔

اظہار کاظمی:  لیکن پھر بھی ایک مخصوص کیفیت ہے جو سب میں ہمیں رواں معلوم ہوئی، ممکن ہے غلط ہو، لیکن مجھے اس میں ایک قسم کی پراسراریت کا احساس مستقل تمام افسانوں میں ہوا۔ کیا یہ غلط ہوا کہنا؟

نیّر مسعود:  نہیں یہ پراسراریت تو ہے، اب پراسرار اس معنی میں نہیں جس معنی میں مثلا جاسوسی ناول ہوتے ہیں۔

اظہار کاظمی: نہیں، ظاہر ہے۔

نیّر مسعود:  لیکن یہ کہ کچھ یہ دنیا ایک طرح سے عالم رازہے اور جو چیزیں ہم کو بالکل سامنے نظر آ رہی ہیں ان میں بھی کچھ اور بھی ہے اور گویا ان کے باطن میں بھی کچھ ہے۔ تو یہی میرے ذہن میں بات تھی۔ اس کی وجہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ پراسرار ہیں، کچھ لوگوں کو خاصے خوفناک معلوم ہوتے ہیں، کچھ کو ان میں ڈرامائیت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ مقصد میرا، پراسرار افسانہ مسٹیریس (Mysterious) کے معنی میں نہیں  مقصد تھا۔

اظہار کاظمی:  تو اسے آپ عالم تحیر کہہ لیجئے پھر؟

نیّر مسعود:  عالم تحیر بہت مناسب لفظ ہے اس کے لیے اگرچہ حیرت کا اظہار کیا نہیں گیا ان میں، لیکن ہے یہی کہ ۔ حیرت بھی دو طرح کی ہوتی ہے نا ۔ایک تو حیرت محمودہ اور ایک حیرت مجہولا یا مضموما،    یعنی ایک حیرت جو علم کی وجہ سے ہوتی ہے کہ سورج اور چاند وغیرہ کو ہم معلوم کر لیں کہ کیا ہیں تو ہم کو حیرت ہو گی جو ہمیں علم کی وجہ سے حاصل ہوئی، ایک وہ ہے جو ہمیں سمجھ میں نہ آئے بات تو اسکی وجہ سے آدمی حیران ہو، مثلا یہ کہ گراموفون بجتا دیکھ کر کوئی بیچارا دیہاتی پریشان ہو کہ یہ کیا چیز ہے تو۔ میری تو حیرت وہی حیرت مجہولا ہی ہے کہ بہت سی چیزیں ہمارے بالکل سامنے جو ٹھیک سے ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں اور ان کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے آدمی تو اور زیادہ۔

اظہار کاظمی:  تو کیا یہ اس ہی قسم کی حیرت ہے جو زیادہ جاننے کے بعد آتی ہے، مطلب جیسے جیسے عمر گزرتی ہے تو سوچتے ہیں کہ بھئی یہ تو پہلے معلوم تھا مگر اب ہمیں اس میں شبہ ہے کہ یہ ہمیں معلوم بھی تھا؟

نیّر مسعود:  جی ہاں، اب وہ تو بالکل۔ حضرت علی علیہ السلام کا مقولہ ہے نا کہ ’’علم اپنی لاعلمی کی حدوں کے معلوم ہونے کا نام ہے۔ ‘‘ مگر میں نے تو حیرت مجہولا ہی کا۔ یعنی جو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے میری۔ اب یہ ضرور ہے کہ کچھ ایسی باتوں کا تذکرہ ہے جو۔ لوگوں کا مثلا خیال ہے کہ ’’یہ بات ہماری سمجھ میں آ رہی تھی لیکن  اب‘‘ ، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، ’’نہیں ہم اس بات کو بھی نہیں سمجھے۔ ‘‘ جو کچھ بھی ہمارے گردو پیش ہے۔ تو وہ ایک طرح کی حیرت (ہے) اور اس حیرت کے نتیجے میں آپ سمجھیے کہ ایک طرح کی افسردگی طاری ہوتی ہے۔

اظہار کاظمی: صحیح۔ اچھا، یہ بات بھی ہے کہ یہ مخصوص آپ کے مزاج کا ہی غالباً جز ہے کیونکہ آپ نے جو ترجمے کیے ہیں اور جو ہم نے پڑھے ہیں، مثلا ًایرانی کہانیوں کے، ان میں بھی آپ نے وہ افسانے چنے ہیں جن میں اس ہی قسم کا عنصر موجود ہے۔ کیا یہ غلط ہے؟

نیّر مسعود:  نہیں جی صحیح ہے بالکل، مجھ کو اس ہی طرح کے پسند آتے ہیں اور بعض تو لوگوں کو شبہ ہوا ہے میرے اپنے افسانوں کے بارے میں کہ یہ غالباً ترجمہ ہیں یہ۔ تو یہ ہے طبیعت میں ایک طرح کا، یعنی اس ہی طرح کے موضوع زیادہ پسند آتے ہیں شاعری میں بھی، افسانے میں بھی۔

اظہار کاظمی:  اچھا، یہ فرمائیے، دیکھیے جو ایران کے افسانے آپ نے لیے، ان میں ایسا نظر آیا کہ کسی نہ کسی حد تک وہ علامتی تھے انکے سماجی سیاسی حالات کے۔ کیا آپکے افسانے اس قسم کی تہمت برداشت کر سکتے ہیں؟

نیّر مسعود:  نہیں۔ افسانے چاہے برداشت کر لیں میں نہیں  برداشت کر پاؤں گا     [قہقہہ]          علامتی افسانہ لکھنے سے تو خاص طور پر میں نے گریز کیا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ افسانے میں ایک طرح کا علامتی عنصر تو آ ہی جاتا ہے، لیکن یہ سوچ کر کہ ہم مثلا درخت کو علم کی علامت قرار دیں اور فلاں چیز کو فلاں چیز کی، تو وہ بالکل کوشش نہیں کی ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو کئی جگہ ایسا ہے جو چیز بالکل علامت بنتی نظر آرہی تھی اس میں میں نے کچھ ایسا کردیا کہ وہ علامت  نہیں رہ گئی۔ مطلب علامت کے خلاف بعض باتیں جان کے میں نے لکھ دیں کیونکہ وہ علامتی تاویل مجھے نہیں پسند ہے ۔ یہ بہت بڑے دماغ کی بات ہے اصل میں، یعنی علامتی افسانہ لکھنا تو پھر یا تو ہرمن میلویل (Herman      Melville) کا سا آدمی ہو، جو موبی ڈک (Moby-dick)   میں اس نے سمندر کو مثلاً علامت بنایا۔ لیکن مجھ کو یہ محسوس ہوا کہ یہ بہت نازک کام ہے اور بھونڈے پن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ زبردستی علامت بنا رہے ہیں اس کو۔

اظہار کاظمی:  لیکن آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے جو کہانی لکھنے والے ہیں، ان میں بہت سے علامتی کہانیاں لکھنے والے ہیں اور ان میں اچھے بھی ہیں۔ آپ کو۔ آپ نے انکی کہانیاں پڑھی ہیں، آپکو کیسی لگی ہیں اور کس کی اچھی لگی ہیں؟

نیّر مسعود:  نہیں، مجھ کو سچ پوچھیے تو کوئی کہانی علامتی ہونے کی وجہ سے نہیں اچھی لگی۔ بس اگر اچھی کہانی ہے تو بہت اچھا ہےلیکن اس بنا پر کہ اس میں علامت کو نبھایا گیا ہے، اس لحاظ سے تو کوئی کہانی مجھے، مطلب صرف اس خصوصیت کی وجہ سے، نہیں اچھی لگی۔ ہمارے انتظار حسین ظاہر ہے بہت بڑے افسانہ نگار ہیں، انکی بڑی علامتی کہانیاں بھی ہیں۔ مجھ کو وہ بہت پسند ہیں مگر اس بنا پر نہیں کہ وہ علامتی لکھ رہے ہیں۔

اظہار کاظمی:  اچھا۔

نیّر مسعود:  ہاں، وہ کہانی بہت اچھی ہے اور کہانی کو علامت سے قطع نظر بھی مکمل کہانی ہونا چاہیے۔

اظہار کاظمی:  اپنی کہانیوں کا کچھ احوال اور پس منظر تو نیّر مسعود صاحب نے بیان کر دیا۔ اگلے منگل کو اس ہی وقت انکی ادبی تحقیق کے بارے میں گفتگو ہو گی۔

پروگرام ادب اور ادیب کے ساتھ

اظہار کاظمی: اب سے پچاس برس پہلے یہی دن تھے کہ ہم لکھنئو یونیورسٹی میں غالب کو سمجھنےکی کوشش کر رہے تھے۔ شعبہ اردو کے صدر تھری پیس سوٹ پہنے سامنے بیٹھے تھے جب غالؔب کی یہ غزل سامنے کھلی کہ:

کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مُو آئے

یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وہ آئے

شعر پڑھنے اور سمجھانے سے پہلے صدر شعبہ اردو نے اپنی مشرقی ٹوپی کو اتار کر سامنے رکھا جس سے سفید بالوں کے بیچ و بیچ ان کی مانگ اور بھی نمایاں ہو گئی اور پھر اپنی پاٹ دار آواز میں انھوں نے اتنی دھیرج سے معنی کے امکانات کو واضح کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا کہ اس کی تشریح کی ضرورت نہ رہی۔ صدر شعبہ اردو تھے جناب مسعود حسین رضوی ادیب۔ ان کے صاحب زادے نیّر مسعود نے یونیورسٹی میں بھی اور تحریر و تحقیق میں بھی ان کی جگہ لی اور ہم نے پچھلے منگل کو لکھنئو سے ٹیلیفون پر ان سے ان کے افسانوں پر بات کی۔ آج کا موضوع ہے، ’’تحقیق‘‘ ۔

اس زمانے میں بھی جب ہم لکھنئو میں طالب علم تھے اور آج بھی جب کہیں لکھنئو، مرثیہ، انیس، اور عزاداری کا ذکر ہوتا ہے تو حرف آخر جناب مسعود حسین رضوی کی تحقیق ہوتی ہے۔ مسعود صاحب نے اپنی تنقید اور تحقیق کا آغاز ’’ہماری شاعری‘‘ نام کی کتاب سے کیا تھا۔ اسکے بعد انہوں نے لکھنئو کے اسٹیج پر دو عظیم تحقیقی کتابیں لکھیں۔ لکھنئو کا شاہی اسٹیج اور لکھنئو کا عوامی اسٹیج ، جن میں اس عہد کے تھیئٹر کے تمام لوازمات موسیقی، رقص، لباس، میک اپ، انداز و اطوار، مکالموں کی ادائیگی، پیشکش کے طریقے، غرض کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ جس کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل انہوں نے اپنی تحقیق سے فراہم نہ کی ہو۔ ایک اسٹیج ہی کیا، مسعود صاحب نے شاہان اودھ کے لکھنئو اور لکھنوی تہذیب و تمدن کے بہت سے پہلوﺅں پر اپنی تحریروں سے یہ ثابت کیا ہے کہ لکھنئو کی تہذیب ہمہ جہتی ہندوستانی تہذیب تھی۔ اور اس کے بارے میں یہ کہنا غلط ہے کہ اس دور میں تمام شہری زندگی پُرتصنع اور لہب و لعب سے مملو تھی۔ ان کے صاحب زادے نیّر مسعود ان کی اس روایت کو آگے لے کر چلے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کا اصل میدان یا ایک بڑا میدان آپکا تحقیق کا ہے اور اتفاق سے میں آپکی وہ کتاب مختصر سی ’’مرثیہ خانی‘‘ ابھی حال میں دیکھ رہا تھا تو تحقیق کے موضوعات ویسے لکھنئو ہے زیادہ یا اور کیا کیا ہے؟

نیّر مسعود:         لکھنئو بھی ہے۔ تحقیق میں میں نے یہ دو تین چیزوں کا خیال رکھا کہ ایسے موضوعات پر لکھا جائے جس پر کوئی اور نہ لکھے، نہ لکھ سکے نہیں، بہت اچھے اچھے محقق ہیں جو مجھ سے بہتر لکھ سکتے ہیں لیکن۔ مثال کے طور پر ایک حکیم شفاء الدولا تھے یہاں وحدت علی شاہ کے شاہی طبیب، تو ان کی خود نویس مل گئی مجھ کو نامکمل تو میں نے پھر ان پر تحقیق کر کے ایک پوری ان پر کتاب لکھ دی، وہ چھپ رہی ہے کچھ دن میں آجائے گی۔ تو اب یہ معلوم ہے کہ ان پر کوئی نہیں لکھے گا۔ اچھا، مرثیہ خانی کے فن میں یہ ہے کہ اس پر تو لکھیں گے لیکن وہ اس لیے نہیں کوئی اور لکھے گا کہ اتنا ان کو مل نہیں پائے گا جتنا مجھ کو مل گیا خود اپنے والد مرحوم کی وجہ سے۔ اور چونکہ میر انیس پر میں کام کر رہا ہوں قریب پندرہ بیس سال سے۔

اظہار کاظمی:      کس اعتبار سے آپ نے انیس کو لیا ہے، مجموعی طور پربالکل؟

نیّر مسعود:      نہیں، جی نہیں اس میں یہ مجھے نہیں پسند ہے کہ حیات اور شاعری نہیں،   یہ دو الگ چیزیں ہیں اور دو الگ لوگوں کے کام ہیں یہ، تو میں نے صرف سوانح عمری لی ہے۔ اور اس ہی میں بہت ہو جائے گا۔

اظہار کاظمی:   اچھا۔ اور انیس کی قبر کا پتا ہے ابھی؟

نیّر مسعود:     جی ہاں، قبر تو ہمارے والد مرحوم کی کوششوں سے ان کا پورا مقبرہ پکا بہت اچھا بن گیا ہے اور قبر وغیرہ کی نشان دہی۔ کتبہ بہت اچھا اس پر لگوا دیا گیا ہے۔

اظہار کاظمی:     جی۔ تو اور پہلو جو اس وقت تک سامنے آئے ہیں ان میں ایسا ہے کوئی جس کا آپ بتانا چاہیں کہ یہ نیا پہلو آیا ہے؟

نیّر مسعود:    اب وہ کچھ چیزیں نیگیٹو (Negative) سی بھی ہوں گی یعنی ان کے مزاج وغیرہ کے سلسلے میں، ظاہر ہے فرشتہ نہیں تھے تو کچھ ان کی کمزوریاں وغیرہ بھی آئیں گی۔ اور واقعات بہت طرح کے مل رہے ہیں، لیکن میر انیس کا جو ایک امیج   (Image) ہے،  انیس کا ،   وہ برقرار ہے۔ تو ایسی کوئی چیز نہیں کہ آپ کہیں کہ اچھا ہم تو سمجھتے تھے کہ بڑے خود دار تھے انیس، وہ تو ایسے نہیں تھے۔ ایسا نہیں ہے۔

اظہار کاظمی:   کیا آپکو اس کی شہادتیں ملی ہیں یا آپ کے ذہن میں پہلے سے ہی ایک ان کے کردار کا تصور تھا؟

نیّر مسعود:   نہیں۔ یہ تو میں نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے دماغ کو دھو ڈالا۔ یعنی یہ نہ ہو کہ پہلے سے ذہن میں ہو۔ تو وہ جو کچھ بھی مل رہا ہے اس کو میں قبول کر لیتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے۔ یہ نہیں ہو گا کہ انیس تو ایسا نہیں کر سکتے۔ تو اگر مضبوط شہادت ہے تو اس کو لے لیا ہے۔ مثلا، ان کے بھائی میر اُنس کے ساتھ جو ان کا جھگڑا رہا، اس کو لوگ غلط بیان کرتے ہیں کہ ان میں کوئی جھگڑا وگڑا نہیں تھا۔ لیکن یہ بڑا سخت اور سنگین تھا اور اس میں انیس کی بہت زیادتیاں بھی تھیں۔ اس کے شواہد تو چونکہ مل رہے ہیں تو میں لکھ دوں گا کتاب اس سلسلے میں۔ پہلے سے کچھ ہمارے والد مرحوم صاحب نے سخت اسکی تاکید وہ کرتے تھے کہ پہلے سے کوئی فیصلہ نہ کرو اور اپنے دل کے چاہنے کی پرواہ نہ کرو۔ کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایسے نکلیں ویسے نہیں نکلیں یا پہلے سے کوئی فیصلہ کر لیا جائے۔

اظہار کاظمی:   انیس کے بارے میں یہ آپ کب تک شائع کر سکیں گے؟

نیّر مسعود: ابھی ادھر تو ذرا سمجھیے دس بارہ سال تو مواد جمع کرتے ہوئے ہو گیا۔ اب اس وقت صورتحال اس کی یہ ہے کہ قریب چار سو صفحے میں تو صرف اقتباسات اور ساڑھے چار سو پانچ سو کے قریب کتابیں کنسلٹ    (Consult)   کر چکا ہوں جن سے گویا ۔ جن کے حوالے دیے جائیں گے اس میں۔ مطلب یہ بہت ہوا جا رہا ہے میں یہ نہیں چاہ رہا ہوں کہ وہ ایسی کتاب ہو جائے جو معلوم ہو کہ حوالوں سے بھرپور ہو۔ چھے سو سات سو صفحے کی ہے تو اب میں یہ کر رہا ہوں کہ بعض چیزوں کو الگ سے میں لکھ رہا ہوں مضامین کی صورت میں تا کہ اصل کتاب میں پھر ان کے حوالے سے مختصر کر کے لکھا جا سکے۔ چنانچہ ابھی ’’معرکہ انیس و دبیر‘‘ پر قریب سوا سو صفحے کی کتاب ہی ہو گئی ہے وہ۔ تو اس کو میں پورا نہیں رکھوں گا اپنی کتاب میں بلکہ اس کے حوالے سے کچھ لکھ دوں گا۔

اظہار کاظمی:   اچھا۔ تو انیس کے علاوہ اور تحقیق کے موضوعات؟

نیّر مسعود:      اب مرزا رجب علی بیگ سرور پر تو میرا تحقیقی مقالہ ہی تھا، ’’یزدیکا ‘‘ وہ چھپ چکی ہے۔ تو جو فارسی میں بھی ایک کیا تھا اس میں شاعر کا دیوان محمد صوفی مازندرانی کا دیوان ایڈٹ        (Edit)         کیا تھا۔ اور کئی کتابیں۔ تحقیق کے موضوع پر بلکہ زیادہ ہی ہیں۔ لیکن یہ کہ بہت معرکے کی چیزیں تو نہیں ہیں بس ہاں یہ محنت سے کام کیا ہے رجب علی بیگ سرور والا اور خود یہ ’’مرثیہ خانی ‘‘ کے فن کو میں ان تحقیقی کاموں میں اب تک سب سے اچھا سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ یہ موضوع گویا تھا ہی نہیں۔ کسی کو یہ گمان نہیں تھا کہ اس پر اتنا بھی لکھا جا سکتا ہے۔

اظہار کاظمی:    [قہقہہ]۔ بہت اچھی بات ہے۔ میں نے پڑھا ہے، ابھی اتفاق سے ختم کی ہے میں نے۔ تو اب آپ یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں اب بھی؟

نیّر مسعود:     نہیں میں گزشتہ جون میں ریٹائر ہوا ہوں سن ستانوے میں۔ تو اب فرصت ہے تو زیادہ وقت گھر ہی پہ صرف کرتا ہوں۔ اور ایک اچھی بات یہ ہے کہ قلبی دورہ پڑ چکا ہے تو بہانا بھی مل گیا ہے گھر سے نہ نکلنے کا۔

اظہار کاظمی:      یہ تھے جناب نیّر مسعود جن سے گفتگو ہم نے ٹیلیفون پر لکھنئو سے ریکارڈ کی۔ پچھلے منگل کو انہوں نے اپنے افسانوں اور فارسی زبان سے ایرانی جدید افسانوں پر تراجم کے بارے میں بات کی تھی۔ اس ہی کے ساتھ آج کا پروگرام ادب اور ادیب ختم ہوتا ہے۔

ماخذ: وائس آف امریکہ

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search