دوقومی نظریے پر اعتراض- محمد دین جوہر

 In تاثرات

جناب اعمش حسن عسکری نے میری ایک پوسٹ پر تبصرہ فرمایا ہے جس میں ”دو قومی نظریے“ کی ترکیب محض زیب داستاں کے لیے تھی، اور موضوع کچھ اور تھا۔ بہر طور میں ان کے لطف کریمانہ کے لیے ممنونیت کے ساتھ کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں:

[دو قومی نظریہ سچ ہے۔ لیکن آدھا سچ ہے۔ کسی آدھے سچ پہ ریاست اور ملک کی بنیاد رکھیں گے تو وہ اتنی ہی کمزور ہوگی جتنا اس کا نظریہ۔ دو قومی نظریہ کی متفقہ تشریح یہ ہے کہ برصغیر میں دو قومیں آباد تھیں اور ہیں۔ اور چونکہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ایک الگ وطن ہونا چاہیے۔

اسی متفق علیہ تشریح کو ہی deconstruct کر لیتے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں۔ لیکن کیا یہ بھی سچ نہیں ہے کہ مسلمان اور سِکھ بھی دو الگ الگ قومیں ہیں۔ (مسلمانوں نے تاریخی طور پر ہندووں سے اتنی جنگیں بہرحال نہیں کیں جتنی سکھوں اور عیسائیوں سے۔) مسلمان اور عیسائی بھی دو الگ الگ قومیں ہیں۔ کیوں مسلمان کی تعریف ”ہندو“ کی نفی کی بنیاد پر رکھی جائے؟ مثلاً یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ مسلمان اور عیسائی بھی الگ الگ قومیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر اس جگہ الگ وطن کا مطالبہ کر دینا چاہیے جہاں وہ عیسائیوں کے ساتھ رہ رہے ہوں۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں تو پھر یہ مان لینے میں کیا حرج ہے کہ پشتون اور سندھی دو علیحدہ قومیتیں ہیں۔ تامل اور گجراتی بھی دو علیحدہ قومیتیں ہیں۔ کشمیری اور بنگالی علیحدہ قومیں ہیں۔ اس تشریح کے مطابق تو یوں لگتا ہے کہ دو قومی نظریہ کے خالق اتنے جاہل تھے کہ انھیں ہندوستان میں بسنے والی دیگر قومیتوں کا علم تک نہیں تھا۔ یا وہ دیگر قومی شناختوں کا گلا گھونٹ دینا چاہتے تھے۔

دو قومی نظریہ یہاں تک سچا ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلم دو قومیتیں ہیں۔ لیکن پورا سچ یہ ہے کہ ہندوستان میں دو نہیں ہزاروں قومیں آباد ہیں اور صدیوں سے آباد چلی آئی ہیں۔

دو قومی نظریہ ایک حقیقت ہے لیکن اس وقت تک جب مذہب کو قومیت کی بنیاد مانا جاتا رہے۔ لیکن کیا قومیت کی عمارت صرف مذہب پر کھڑی کی جا سکتی ہے؟ کیا زبان و ثقافت اور رسم و رواج کو قومیت کی بنیاد نہیں کہا جا سکتا؟ زبان وثقافت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پنجابی اور پشتون بھی دو الگ قومیں ہیں۔ بنگالی اور کشمیری دو علیحدہ قومیں ہیں۔ بلتی اور ہنزئی دو الگ قومیں ہیں۔ اور ایک مذہب کے اندر بھی تفریق ہے۔ دلِت اور برہمن الگ قومیں ہیں۔ اور دو قومی نظریہ کی رُو سے ان ساری قوموں کے لیے الگ وطن ہونا چاہیے۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ ایک ملک میں بسنے والی چھوٹی قوموں کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے لیے جائز حقوق مانگنے والوں کو غدار کہہ دیا جاتا ہے۔

دو قومی نظریہ کے پرچارک بھی علمی دیانت کے اعلیٰ درجے پہ فائز ہیں۔ اس لیے کہ وہ آج سے ستر سال پہلے دیے گئے نظریے کی صداقت ثابت کرنے کے لیے مثالیں آج کی دیتے ہیں۔ اور پچھلی ستر سالہ تاریخ سے وہ مثالیں بُھلا دیتے ہیں جو اس نظریے کی عمارت کو بار بار گراتی آئی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بنگالی ہم مذہب ہونے کے باوجود ہم سے جدا ہوئے۔

پورا سچ یہ ہے کہ ہندوستان میں دو نہیں بیسیوں قومیں آباد تھیں۔ جن کا آپسی ربط نہ تو اتنا مضبوط تھا کہ کچھ قوموں کو یکجا کر ایک الگ ملک بنایا جائے نہ اس قدر کمزور تھا کہ ایک کو دوسری سے الگ کیا جائے۔

دو قومی نظریہ اس لیے بھی آدھا سچ ہے کہ یہ مسلمانوں کو ایک الگ قوم کے طور پہ متعارف تو کرواتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے قیام کے جواز کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا ہے کہ ہم پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو وہ نمائندگی نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار تھے۔

ہمیں کسی ”دو قومی“ نہیں بلکہ ایک ”کثیر قومی“ نظریے کی ضرورت ہے۔]

جواب:
میں اس طویل تبصرے کے لیے شکرگزار ہوں۔ آپ کے موقف کے کچھ بنیادی پہلو محل نظر ہیں، جن کی نشاندہی ضروری ہے۔

اول گزارش یہ ہے کہ نظریے پر سچ یا جھوٹ کی ججمنٹ نہیں دی جا سکتی، کیونکہ یہ کوئی اخلاقی قضیہ نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کا بنیادی مفروضہ جس پر آپ نے پورے تبصرے کو تعمیر کیا ہے بالکل لغو ہے۔ جب آپ نے دو قومی نظریے کو ”آدھا سچ“ قرار دیا تو نظریے کی عدم تفہیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا شعور بھی باقی نہ رہا۔ بھئی ”آدھا سچ“ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ موقف تو اخلاقیات سے بھی دستبرداری کا اعلان ہے۔ نظریہ تو گیا ہی تھا، اب اخلاقیات کا سراغ بھی گم ہوا۔ میں ایسے ارادی افلاس پر افسوس کا اظہار ہی کر سکتا ہوں۔ اگر آپ دو قومی نظریے کو ثقہ (valid) بنیادوں پر رد کریں تو مجھے خوشی ہو گی کیونکہ میں بھی کچھ سیکھ پاؤں گا اور اپنی غلطی کی اصلاح چاہوں گا۔ محض تعصبات کو اعتراضات بنا کر ظاہر کیے جانے سے علم میں کوئی پیشرفت نہیں ہوتی۔ اعتراضات طاقت اور اخلاقی زعم سے پیدا ہوتے ہیں۔ میں تو اس کے لیے بھی حاضر ہوں لیکن ان کا علمی گفتگو سے کچھ لینا دینا نہیں۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ دو قومی نظریہ سیاسی علوم کی قبیل سے ہے اور اسی تناظر میں زیربحث لایا جا سکتا ہے۔ نظریے پر بنیادی سوال اس کی علمی validity کا ہوتا ہے، اور دو قومی نظریہ اس پر پورا اترتا ہے۔ دو قومی نظریہ سیاسی علوم کے ہر تناظر میں قطعی valid ہے، گو یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے۔

تیسری گزارش یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی نظریے کا اہم ترین پہلو تاریخ سے اس کی نسبتوں کا ہے، اور کوئی تاریخ مجرد محض نہیں ہوتی کیونکہ ہر تاریخ جغرافیہ بھی رکھتی ہے۔ اس لیے ہر سیاسی نظریہ ایک بنیادی ترین تہذیبی تناظر رکھتا ہے۔ دو قومی نظریے کا بنیادی اور درست تناظر برصغیر کی ہند اسلامی تہذیب ہے، اور اس جغرافیے میں مسلمانوں کا تاریخی تجربہ ہے۔ دو قومی نظریہ اس تاریخی تجربے کی سیاسی توسیط (political     mediation) کا غیرمعمولی مظہر ہے۔ اس لیے دو قومی نظریے پر یہ سوال اٹھانا کہ یہ سائبیریائی اسکیموز کی خیمہ سازی پر خاموش کیوں ہے یا گیمبیا کے مسلمانوں کو درپیش سیاسی مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے بالکل سینہ زوری ہے۔ دو قومی نظریے کے رد و قبول میں اس کی تہذیبی لوکال کو نظرانداز کرنا درست نتائج تک نہیں لے جاتا۔ دو قومی نظریے پر اس کی آفاقیت کے حوالے سے یقیناً بحث کی جا سکتی ہے، لیکن وہ صرف اس وقت ممکن ہے جب اس میں مضمر وجودی اور سیاسی قدر کا تعین کیا جائے اور پھر اسے علم کا موضوع بنایا جائے۔

چوتھی گزارش یہ ہے کہ جدید عہد میں نظریہ، سیاسی طاقت کا واحد معرِف (definer) ہے۔ عالمگیر مسلم تاریخ میں سیاسی طاقت کی تعریف اور توسیط کا ذریعہ دین کے سیاسی احکام و اقدار رہی ہیں۔ برصغیر کی جدید تاریخ اور اس میں ظاہر ہونے والی سیاسی اور سرمائے کی طاقت کا تحول (transformation) اس قدر گہرا، ہمہ گیر اور ہیبت ناک ہے کہ اس کے روبرو مسلمانوں کو اپنے دینی احکام و اقدار کا نام لینے کی جرأت بھی نہیں ہوئی۔ اس کے لیے دارالحرب اور دار اسلام کی بحث دیکھ لینا کافی ہے جو ہماری دینی اور علمی روایت کا ایک نہایت افسوسناک باب ہے۔ جدید سرمایہ اور سیاسی طاقت خود اور ان کے معاون علوم مذہب اور مذہبی شناخت کی سیاسی معنویت کے وجود ہی سے انکاری تھے۔ ایسے حالات میں دو قومی نظریے نے ہمارے دینی احکام و اقدار کی مکمل گنجائش رکھتے ہوئے جدید سیاسی طاقت کے روبرو مسلم سیاسی موقف کی تعریف و توسیط کو نہ صرف ممکن بنایا بلکہ اسے نتیجہ خیز بھی بنا دیا۔ یہ موضوع ابھی بحث طلب اور حل طلب ہے کہ دین کے سیاسی احکام اور اقدار کا دو قومی نظریے سے کیا تعلق ہے اور ان کی باہمی نسبتوں کو علم میں کیسے سامنے لایا جا سکتا ہے؟

پانچویں گزارش یہ ہے کہ توحید پرست معاشرہ ہوتے ہوئے اگر مسلمان اپنے سیاسی نظریے کی بنیاد جغرافیے پر استوار کرتے تو یہ یقیناً توحید سے دستبرداری کا اعلان ہوتا۔ کانگریسی سیکولرزم اور سنگھی ہندوتوا کے سیاسی نظریات کی اساس جغرافیہ ہے، جبکہ دو قومی نظریے کی اساس تاریخ ہے۔ ہمیں ابھی تک اس کی تہذیبی معنویت کو زیربحث لانے کی توفیق نہیں ہوئی۔

چھٹی گزارش یہ ہے کہ دو قومی نظریہ اسلام کی براہ راست تشریح و توضیح ہے اور نہ اس کی کوئی آفاقی سیاسی تعبیر ہے۔ یہ ہند اسلامی معاشرے کی ایک تاریخی واقعیت اور حقیقت کو اپنی بنیاد بناتا ہے، اور وہ اسلام سے اس کی وابستگی ہے، یعنی اسلام سے وابستگی کا کا واقعاتی امر اس نظریے کی بنیاد ہے۔ Pax         Islamica کے زیر اثر معاشرتی اور ثقافتی syncretism کی موجودگی اور استعماری علوم کے تمام تر دعاوی کے برعکس، اس تاریخی حقیقت کو ادھر ادھر نہیں کیا جا سکتا۔ نظریہ اور دین دو الگ چیزیں ہیں، لیکن ان کی فکری نسبتیں ایک جائز علمی موضوع ہے۔ ان دونوں کی عینیت پر آگے بڑھائی جانے والی گفتگو علمی شرائط پورا کرتی ہے اور نہ دینی احکام و اقدار کا لحاظ قائم کر سکتی ہے۔ ہمارا اول و آخر مقصود دینی احکام اور اقدار ہیں لیکن ہم نے اپنی کوتاہ نظری اور بے حمیتی سے ان کی ہم عصر توسیط کے تمام انسانی اسالیب فنا کر دیے ہیں، اور اب خود ان اقدار کے درپے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نظریے اور دینی احکام و اقدار کی جائز علمی نسبتوں کو سامنے لانے کی ذمہ داری پوری کی جائے تاکہ ایسا فکر و عمل سامنے لایا جا سکے جو ہمیں ہر طرح کے نظریوں سے بے نیاز کر دے اور ہم اپنے دین کی agency کے طور پر تاریخ میں اپنا رول ادا کرنے کے قابل ہو سکیں۔

ساتویں گزارش یہ ہے کہ جدید عہد کے سیاسی نظریات میں ایک مشترک خصوصیت ہے کہ وہ حصول اقتدار کی جدوجہد میں شریک ہونے کا راستہ فراہم کرتے ہیں اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاریخ کے ایک کڑے وقت اور کانٹے کے لمحے میں دو قومی نظریے نے ہماری یہ ملی ضرورت بہ تمام و کمال پوری کر دی۔ ہمارے مذہبی سیاسی احکام اور اقدار مابعد طاقت کی صورت حال سے متعلق اور مؤثر رہے ہیں۔ اگر طاقت چلی جائے تو اس کے حصول کی جدوجہد میں کون سے دینی احکام اور اقدار رہنما ہوں گی؟ اس کا جواب ہم آج بھی نہیں دے سکے۔ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں وہابیت کا فتنہ، پین اسلامزم، حکومت الٰہیہ، اقامت دین وغیرہ وغیرہ جیسی جعلی مذہبی تعبیرات سامنے آئیں اور ہمارے انتشار و ہلاکت کا باعث ہوئیں۔ ہماری پستی کی حد تو یہ ہے کہ جہاد کے دینی احکام و اقدار داعشی فتنے کی صورت میں بھی سامنے آنے لگے۔ حق، مسلم سیاسی طاقت کی وجودیات ہے۔ حصول طاقت کے بعد اس کی فعلیات عدلِ اجتماعی ہے جس کی اساس معاشی ہے۔ انہدام طاقت کے بعد اس کے حصول کا واحد راستہ جہاد ہے، جس کی حقیقی معنویت ایک تہذیبی مزاحمت میں بروئے کار لائی جا سکتی ہے۔ دو قومی نظریہ ہم عصر دنیا میں اس تہذیبی مزاحمت کا نقطۂ آغاز ہے۔

پوسٹ طویل ہو گئی، اور کچھ باتیں رہ گئیں۔ باقی باقی۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search