جدیدیت- ایک تاثر۔ تحریر: محمد دین جوہر

[نوٹ: جدیدیت کے موضوع پر یہ ایک تاثراتی تحریر ہے جو سنہ ۲۰۱۰ء لکھی گئی تھی۔ تاثر کے اظہار کا بہترین ذریعہ تو شعر ہی ہے لیکن مجھے فنِ شعر میں درک نہیں۔ اپنی نارسائی کو نثر کر دیا ہے۔  ]

جدیدیت کی نظری تشکیل میں، اور اس سے جنم لینے والے سرمایہ داری نظام کی اصلاحات اور انقلابات کی تاریخی ہیئت میں، وقت کا گہرا شعور اور اس کا ایک خاص تصور اس کے بنیادی عناصر میں سے ہے۔ روایتی معاشروں میں زماں نفسی (psychic)  ‪  سے زیادہ فطری تھا۔ نشاۃ الثانیہ میں مغربی انسان کے ہاں وقت کا شعور زیادہ گہرائی میں نفسی سطح پر مرتسم ہونے لگا، اور تحریک تنویر تک آتے آتے شعورِ زماں ایک خاص تصور تاریخ کی صورت میں متشکل ہو گیا۔ زماں کی اس نئی تشکیل میں سمت ایک اہم ترین عنصر کے طور پر داخل ہے۔ نئے تصورِ زماں اور تصورِ تاریخ میں جدید انسان کا شعورِ وقت نفسی ہے، اور اس کی سمتیت کے تعین میں انسانی ارادے کی کارفرمائی کو زبردست اہمیت حاصل ہے۔ اس تبدیلی سے جدیدیت کی تقویمِ زماں روایتی معاشروں سے یکسر مختلف ہو گئی ہے۔ ماورائی منابعِ ہدایت کے انکار کے ساتھ ہی علم کے آئیڈیل تک رسائی کی سمت عمودی سے افقی ہو گئی اور ماضی متروک اور مستقبل مبروک ہونے لگا۔

جدیدیت کی نئی تقویم اور اس سے پیدا ہونے والی تاریخ اور معاشرے میں ”مستقبل“ کو ایک غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مستقبل آنے والی بہار کا کوئی سہانا دن نہیں جو کسی دن آ ہی پہنچے، اور نہ یہ وقت کا کوئی ٹکڑا ہی ہے جو سیلِ ایام میں بہتا ہوا کبھی میرے ہاتھ لگ جائے۔ یہ زمانۂِ مستقبل ایسا بھی نہیں جو مرورِ ایام کے ساتھ خوش خرامی کرتے ہوئے میرے گھر کے آنگن میں اتر آئے یا میرے من کے کسی دریچے پہ آ کے دستک دینے لگے۔ یہ وقتِ آئندہ بےکلی کے سمندروں سے کشید کیا ہوا ہیچ پوچ بادل کا آوارہ ٹکڑا بھی نہیں ہے جو میری کشتِ زندگی پر برس جائے۔ یہ مستقبل ایک ایسا وقت ہے جو اپنے جلال اور جمال میں سکوت شاہانہ سے قائم ہے اور اشارے سے طلب کرتا ہے اور جدید انسان نے اس کی طرف لپک کر جانا ہے۔ یہ زماں خس و خاشاک پر قدم نہیں رکھتا۔ یہ مستقبل تاریخ کے دامن میں کبھی نہ اترنے والا صد رنگ سراب ہے جو دشتِ زماں کے مٹیالے مرغولوں کی اوٹ سے جدید انسان کو جھانکتا رہتا ہے۔ یہ مٹیالی گرد کبھی اتنی صاف ہی نہیں ہوتی کہ وہ اسے ڈھنگ سے دیکھ ہی لے۔ یہ مستقبل اتنا طاقتور ہے کہ جب دشتِ وقت میں تیرہ آشام بگولوں کا راج ہو جاتا ہے، اور تاریخ خود کشی کی تیاری کرتی ہے تب بھی اس کا صد رنگ پھریرا نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ دشتِ زماں سے گھوم کے آئی ہوئی تشنہ کام و جاں بلب تاریخ کا بیانیہ تو یہی ہے کہ اس دشت میں  زندگی کا آخری معنی مستقبل کا یہی صد رنگ علم ہے۔

جدیدیت کا مستقبل زماں کی نظریاتی تشکیل ہے۔ یہ مستقبل ترقی اور بہتر زندگی ہے۔ یہی وہ مقناطیسی آئیڈیل ہے جو سیاسی رومانویت کا یوٹوپیا ہے۔ جدید عہد  میں فرد کی نفسی ساخت اور معاشرے کی مکانی تشکیل اسی مستقبل کے سانچے میں ڈھالی جا رہی ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا مستقبل ہے جو کبھی حاضر نہیں بنتا، بالکل ویسے ہی جیسے مذہبی غیب کبھی شہود نہیں بنتا۔ اگرچہ اس مستقبل کی موجودگی وقتِ آئندہ میں ہے لیکن یہ کبھی وقت میں نہیں اترتا۔ آج کی دنیا کا ہر معاشرہ اسی منزل مراد کی طرف لپک رہا ہے۔ اس مستقبل پر یقین مذہبی یقین کی طرح ہے، اور اس یقین کا پروہت جدید ریاست ہے، اس کا منتر جدید علم ہے، اور اس کی عبادت گاہ سرمایہ داری نظام ہے۔ جدید علم کی تمام صناعی اور جدید ریاست کی تمام  قوت اس کی حفاظت پر مامور ہے۔ یہ مستقبل وقت کے برعکس متحرک نہیں ہے بلکہ یقین کی طرح مکمل طور پر جامد اور غیرمبدل ہے۔ اس میں نظری طور پر کوئی تبدیلی نہ لائی جا سکتی ہے، نہ سوچی جا سکتی ہےاور نہ اس کی کسی بھی قیمت پر اجازت دی جا سکتی ہے۔ مستقبل کے اسی متحجر اور ساکت آدرش کو تکتے تکتے جدید انسان کی آنکھیں پتھرا چکی ہیں۔ 

اسی مستقبل سے، جو وقت نہیں ہے لیکن وقت پر ہے، اسی کے ارد گرد کے زمانی دھاروں سے کچھ وقت بچ کر نکل آتا ہے اور تاریخ بنے بغیر حاضر بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے نصیب میں نہ ماضی بننا ہے نہ تاریخ۔ یہ حاضر اپنی آمد کے ساتھ ہی مندرس (Obsolete) ہو جاتا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے آئیڈیل کی جس تصدیق کا ڈاکیا بن کر آتا ہے، اس کی وردی ٹوپی، جوتی تھیلا ہماری منشا اور مراد کے مطابق نہیں ہے، یعنی ابھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی لائی ہوئی تصدیق ابھی قابل تشفی نہیں ہے کیونکہ اس حاضر میں اور میرے من میں موجاں مستقبل میں ابھی کوئی مشابہت نہیں ہے۔ یہ مستقبل کا میرے پاس پہنچنے والا کھوٹا سکہ ہے، یہ میری اس آرزو کی طرح ہے جو پوری ہوتے ہی مٹی بن جاتی ہے۔  یہ حاضر نہ صرف مندرس ہے بلکہ اس پر دھیان دینا اس دلخواہ اور دلبر مستقبل کے لیے مضر بھی ہے۔ حاضر کی فوری بے دخلی اس مستقبل تک جانے کے لیے ضروری ہے، اور اگر یہ لمحہ لمحہ، قطرہ قطرہ جمع ہوتا رہا تو وقت دلدل میں بدل جائے گا اور مستقبل کی طرف لپکتے میرے سفر کو مخدوش بلکہ شاید ناممکن بنا دے۔ کھوٹے سکوں کا یہ ڈھیر میری حیات کو بے معنی بنا دے گا۔ اس حاضر کی طرف جدید انسان کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اس حاضر منظر کی طرف ہوتا ہے جو فلم رک جانے پر نگاہوں کے سامنے ٹھہر جائے یا تازہ اخبار جس کا شدت سے انتظار تھا، لیکن آتے ہی ردی ہو گیا۔ فلم کا رکا ہوا منظر اور تازہ ردی اخبار حاضر لمحے کا استعارہ ہے۔ اس بد نصیب حاضر کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ یہ حاضر وقت، ماضی کے ذخیرے میں جمع نہیں ہو رہا، بلکہ ردی کی ٹوکری میں جا رہا ہے۔ دشتِ وقت کی مٹیالی گرد میں اٹا ہوا میرا نیم پوش ہر روز ہر لمحے مجھے اپنا سندیسہ ہزاروں چیزوں کی صورت میں بھیجتا ہے، لیکن ان میں نہ اس کے بدن کی خوشبو ہوتی ہے، نہ اس کے دستِ حنائی کے رنگ ہوتے ہیں، نہ اس کے لمس کے ذائقے ہوتے ہیں، جو میرے دل میں ترازو اس تصویر میں مچلتے ہیں جو میں نے دشتِ وقت میں مٹیالی گرد کے پیچھے جھلکتے، چھلکتے اپنے پیکر جمال میں دیکھے تھے۔ جدید انسان سوچتا ہے کہ یہی پیکرِ جمال میرا جاگتی آنکھوں کا خواب ہے، میرا واہمہ نہیں ہے۔ یہ مستقبل میری عقل نے تراشا ہے اور اس کا زیر تعمیر مجسمہ ایک پورے سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کی صورت میں میرے سامنے موجود ہے، جسے میں چھوتا ہوں، دیکھتا ہوں، اور جسے ابھی میں اپنے آئیڈیل کے مطابق بنا رہا ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ میری جبین سجدہ ابھی اس مستقبل کے قدوم میمنت لزوم سے ذرا سی پرے ہے، جن کی طرف میں گھسٹ رہا ہوں، لڑھک رہا ہوں، لپک رہا ہوں، اور ابھی کچھ ہی دور ہوں۔ ابھی ایک پانچ سالہ منصوبہ درمیان میں ہے، جامعات کے  کارخانوں سے کالے علم کے تازہ تعویذ ابھی پہنچنے والے ہیں، جن کو پہن کر میں اس اپنے دلربا صنم کے قدموں میں ضرور پہنچوں گا۔ میں حاضر پر جتنا دھیان دوں گا اپنا سفر  ہی گنواؤں گا۔ میں اپنے اس خواب تک ضرور پہنچوں گا بھلے مجھے ایٹم بم بنانا اور چلانا پڑے۔ کوئی چیز اس پیکرِ جمال  کی آغوش تک میری رسائی کو روک نہیں سکتی۔ 

کسی وقت کا تاریخ بننا یا کسی وقت کا تاریخ بننے سے رہ جانا جدیدیت کے ارادے کے تابع ہے۔۔۔ دشتِ جدیدیت کی طبع رواں میں مستقبل کی صد رنگ موجِ سراب کو خطرہ ماضی سے پھوٹنے والے کسی چشمۂ حیات سے ہے۔

وقت کی ساعتیں اگر خون جگر سے گندھیں تو تاریخ بنتی ہے، یا تیشۂ کردار وقت کے لمحوں کو تراشے تو تاریخ بنتی ہے، لیکن اگر وقت کی گھڑیاں آرزو کی بھٹی میں جلیں تو راکھ رہ جاتی ہے۔ جدید وقت جس بھٹی میں ستی ہوتا ہے اس کا ایندھن علم ہے اور اس بھٹی کی چاردیواری ریاست کا سیاسی اور سرمایہ داری نظام کا معاشی جبر ہے۔ یہاں وقت کو تاریخ بننے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی وقت کا تاریخ بننا یا کسی وقت کا تاریخ بننے سے رہ جانا جدیدیت کے ارادے کے تابع ہے۔ اب خود وقت میں یہ وصف باقی نہیں رہا، اور نہ مجال کہ وہ تاریخ بننے سے سرفراز ہو سکے۔ اب وقت خواہ کسی سمت کا ہو، اس کے تاریخ بننے یا نہ بننے کا فیصلہ خود جدیدیت کا ہو گا۔ جدیدیت کو معلوم ہے کہ مستقبل کا وقت ہر گز تاریخ بن کے مشتبہ، متنازعہ اور  رسوا نہیں ہو گا۔ حاضر کےکھوٹے سکے جیسے لمحوں کی پریڈ ہو گی اور اس میں کچھ کھوٹے سکے بطور تاریخ چلانے کے لیے منتخب ہوں گے۔ اور ماضی جو تاریخ بن چکا ہے؟ یہ بات سرے سے درست نہیں ہے۔ کیا ماضی نے حاضر کے بے آبرو لمحوں سے کوئی سبق نہیں لیا؟ کیا ماضی کو یہ معلوم نہیں کہ ماضی سے سبق لیا نہیں جا سکتا، ماضی کو صرف سبق دیا جاتا ہے؟ ماضی کو از خود تاریخ بننے کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ماضی نے بھی حاضر کی پریڈ میں شامل ہونا ہے، اور جدید انسان مستقبل سے پوچھ کر یہ فیصلہ کرے گا کہ ماضی کے کون سے وقت کو تاریخ بننے کا اعزاز بخشا جا سکتا ہے۔ اس عدالت میں مستقبل کا صد رنگ سرابی پھریرا ایک فلیپر بن جاتا ہے جو مکھیوں کی طرح بھنبھناتے ماضی کے بھوتوں کو دور رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 

اب جدیدیت کی پوری تقویم میں جو چیز ہر لحظہ بدل رہی ہے اور جسے بدلتے رہنا ہے اور جسے بدلتے چلے جانا ہے وہ صرف ماضی ہے۔ اس نئی تقویم میں وقت نہیں بدلتا، صرف ماضی بدلتا ہے، کیونکہ وقت انسانی نہیں رہا، یہ میکانکی اور  ahistorical ہو چکا ہے۔ ماضی کو ایک واقعاتی حقیقت سے، ایک تاریخی بیانیے سے، ایک ماورائی آدرش سے بدلنا ہے، اس حد تک بالجبر بدلنا ہے، درست تر معنوں میں اس حد تک مسخ ہونا ہے کہ وہ اپنی ہر ہر جہت میں ایک مکمل کابوس بن جائے۔ ماضی کو ایک کابوس بنانے کے لیے جدید علم کی پیداواری صلاحیتوں اور جدید ریاست کی ترجیحات اور وسائل کو کام میں لایا جائے گا، اور علمی دریافتوں کے استحضار کے لیے میڈیا کی مدد لی جائے گی۔ دشتِ جدیدیت کی طبع رواں میں مستقبل کی صد رنگ موجِ سراب کو خطرہ ماضی سے پھوٹنے والے کسی چشمۂ حیات سے ہے۔ اس لیے کسی بھی طرح کے ماضی کے ہونے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ ماضی کابوس پہلے ہے اور اس کی بطور کابوس تشکیل مابعد ہے، کیونکہ ماضی کو کابوس بنائے بغیر  مستقبل کے رومانوی  آدرش کا قیام ممکن نہیں۔ جدید علم کے اہم ترین فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ پہلے وہ ماضی کو کابوس بنائے، پھر اس کابوس کے پرتو سے بھی جدید انسان کے ذہن کو صاف کر دے اور پھر ایسا انتظام کرے کہ اس کابوس کے سائے کی واپسی کے امکان کو بھی ختم کیا جا سکے۔ اس کابوس کی مینجمنٹ میں جدید علم میڈیا کے چوکس پہلوان کو ہر وقت کرائے پر اپنے ساتھ رکھتا ہے۔

ایک فرد میں حافظہ اور اجتماع میں تاریخ ماورا  کی یاد اور حضور کے نقاطِ ماسکہ ہیں۔

لیکن گزرا ہوا وقت ہی تو بھوت ہے۔ بھوت کا مطلب ہی گزرا ہوا وقت ہے۔ انفرادی سطح پر یاد اور اجتماعی سطح پر تاریخ گزرے ہوئے وقت کے دو نام ہیں۔ یہی تاریخ اور یاد بھوت ہے، جس کا کام صرف آنا ہے اور آتے رہنا ہے۔ یہ ماضی کا کرم ہے کہ وہ آتا رہتا ہے بلکہ آیا ہی رہتا ہے، جاتا نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی حافظے میں کیا صرف گزرا ہوا وقت ہی آتا ہے یا اس کے ساتھ کوئی اور چیز  بھی؟ کیا میرا یہ حافظہ صرف ذہنی ہے یا روحانی بھی؟ کیا میری فطرت اس حافظے میں شامل ہے؟ لیکن کیا اس ماضی کا، اس بھوت کا کوئی اتار بھی ہے؟ مستقبل کا استحضار میکانکی، مصنوعی اور ارادی ہے، اور ماضی کا انسان کی داخلیت میں ورود غیر ارادی ہے اور اس کی تاریخی تشکیل جبری۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت کو مستقبل کا استحضار قائم اور مستحکم کرنے کے لیے جتنے انتظامات کرنے پڑتے ہیں  ماضی کو خارج کرنے کے لیے بھی اتنی ہی قوت صرف کرنی پڑ رہی ہے۔ لیکن آخر جدیدیت ماضی کو انسانی حافظے اور تاریخ سے کیوں بے دخل کرنا چاہتی ہے؟ ایک فرد میں حافظہ اور اجتماع میں تاریخ ماورا  کی یاد اور حضور کے نقاطِ ماسکہ ہیں۔ جدیدیت کو ایسی چیز بھی گوارا نہیں جو ماورا کی یاد کا کوئی پرتو اپنے اندر sustain کرنے کی استعداد رکھتی ہو۔ موجودہ تعلیم اور کلچر فرد کے اندر حافظے کو مٹانے کے زبردست داعیے کی ہمہ گیر کاوش ہے اور عصر حاضر کی پوری تاریخ نگاری وقت کے تاریخ بننے کی فطری نہاد کا خاتمہ، اور جو وقت جدیدیت سے پہلے تاریخ بن چکا ہے اس کو سزائے موت دینے کی کوشش۔ اب ماضی پرست لوگوں کو اپنی خیر منانی چاہیے، لیکن آئندہ زماں کے گھڑ سواروں کو زمان و مکاں کی تاریک خندقوں کا نقشہ بھی تیار رکھنا چاہیے، کہ سائس اگر صاحبِ زماں کی سواریوں کی باگیں اچک بھی لیں تو راہ کے غنیمِ وقت کا خراج ان کے پاس کہاں!

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search