مارکس کی اشتراکیت اور ہماری ارتیابیت: محمد بھٹی

حالیہ سرخ گہما گہمی میں ہمارے کچھ دوست ایسے کفگیر بنے دکھائی دیتے ہیں جو دیگ سے بڑھ کر حار ہے۔’’فرات کے کنارے کوئی کتا بھی مر جائے تو اس کا میں جوابدہ ہوں‘‘ ایسے جملوں کی معنویت مارکسی فکر میں تلاش کرنا یا مارکسی فکر کی معنویت،اسلامی علمیت میں کھوجنا ایسے سادہ دلوں کے محبوب مشاغل ہیں جو اپنے دامن میں یکساں لغویت و لایعنیت سموئے ہوئے ہیں۔ایسی لغویت اور لایعنیت کو دھڑلے سے معنی دار باور کروانا یقینا بڑی جرات آزمائی ہے۔ان کی مرنجاں مرنجی اور گومگوئی کا عالم یہ ہے کہ صبح اسلامی علمیت کا پھریرا لہراتے ہیں اور رات کو وہی مقدس پرچم مارکسی انتقاد کے الاؤ میں جھونک دیتے ہیں۔گویا

ہمیں سجدے سے مطلب،کعبہ ہو کہ بت خانہ
گزارش ہے کہ لبرل سرمایہ داری کی دلائی گئی آس جب یاس میں متبدل ہونے لگی اور جدید آدمی کی بھاونائیں فنا کے گھاٹ اترنے لگیں تو سرمایہ داریت کے اپنے ہی حرم میں بلوہ ہو گیا،اسی بلوے کا نام اشتراکیت ہے۔یہ بلوہ سرمایہ دارانہ تصور حیات کے خلاف نہیں تھا بلکہ اس تصور حیات کی تعمیم کے لئے اپنائی گئی حکمت عملی(لبرل سرمایہ داری) کے خلاف تھا۔یہ دراصل جدید آدمی کی شکستہ امید اور ناآسودہ حرص کی بحالی اور آسودگی کی تدبیر و تزویر تھی۔
سرمایہ داریت ایک مکمل تصور حیات ہے جس کے ڈانڈے تنویریت میں پیوست ہیں۔تنویریت اور بعد ازاں جدیدیت کی رُو سے انسان خود مختار اور خود مکتفی ہستی ہے جس کو اپنے ارادہ و عمل میں ہمہ قسم کی بیرونی حاکمیت(خواہ وہ سماجی و خاندانی آدرش کی صورت میں ہو یا مذہبی و روایتی قدغن کی صورت میں) آزاد ہونا چاہیے۔یہی ’آزادی‘ تہذیب مغرب کا بنیادی آدرش اور سرمایہ دارایت کا اصل الاصول ہے اور اپنی کنہ میں خالصتا ایک تجریدی تصور ہے تا آنکہ اسے سرمائے سے نتھی کر دیا جائے۔سرمایہ،آزادی کی مادی تشکیل ہے،جس کے بغیر آزادی متصور نہیں۔اسی آزادی کے امکانات کو مزید تابناک بنانے کے لئے سرمایہ داری نظام،تدریجاً انفرادیت کو فروغ دیتا ہے جبکہ یہی کام اشتراکیت اپنی رومانوی ساخت کی بدولت یکمشت انجام دیتی رہی ہے۔
سرمایہ دارانہ تصورِ عدل،مساوات ہے جو ’آزادی سب کے لئے‘ یا حصول سرمایہ کے مساوی حق سے عبارت ہے۔مساوات دراصل شخصی آزادی کی اسی تحدید کا نام ہے جس کا معرّف کانٹ کا آفاقی قانون universalizability ہے۔ اشتراکیت،سرمایہ دارانہ تصورِ عدل کے امکان کو ہی بروئے کار لانے کی نئی حکمت عملی تھی جو کہ تاریخ میں بری طرح پِٹ چکی ہے اور یہاں وہاں دکھائی دینے والے ’سرخے‘ دراصل اس کے اُدھڑے ہوئے بخیے اور بکھری ہوئی دھجیاں ہیں جن کو وقت کا گردباد کبھی اڑاتا ہے تو کبھی بٹھاتا ہے۔
باردگر عرض ہے کہ اشتراکیت اور سرمایہ داری اپنے اساسی بیانات،جوہری مفروضات اور بنیادی آدرشوں (آزادی،مساوات،ترقی) میں ہم نفس ہیں اور دونوں کی غایت بہشتِ ارضی کا قیام ہے۔ان کی باہمی آویزیش اور کشاکشی کی نوعیت کلی اور اصولی نہیں بلکہ فرعی اور جزوی ہے جبکہ حاملِ حق مسلمان کا بحیثیت مسلمان ان دونوں سے جھگڑا خالصتاً اصولی اور کلی ہے۔یہ بات سادہ ہے لیکن سمجھنا دشوار ہے اور دشوار کیونکر نہ ہو؟آخر ہوسِ زر کے پائیدان پر ایستادہ اور بحر تنعمات کا غواص جدید سرمایہ دار و اشتراکی آدمی کی کمندِ فہم اس امر واقعی کے ’معنی‘ تک رسائی پا بھی کیسے سکتی ہے:
فقیری  میں  بھی وہ  اللہ والے  تھے  غیور  اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
پستی کا حد سے گزرنا دیکھیے کہ جب ہمارے مارکس پرست دوستوں کو تطبیقی ارتیابیت پر علمی چوغا چست ہوتا دکھائی نہ دیا تو مطلب برآری کی سبیل یوں ڈھونڈی کہ اسی ارتیابیت کے کھاجے کو اخلاقی و رومانوی طست میں پیش کرنے لگے ہیں اور انہیں مارکس کی ذاتی زندگانی کی بپتائیں سنانے کا شوق چرایا ہے۔مارکس کے بچوں کی المناک موت اور ایک جاڑے کی وجہ سے مدت مدید اس کی کم خوابی،یار لوگوں کی گراں خوابی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ہمیں مارکس کے اندوہناک احوال یاد ہیں اور اس سے ہمدردی بھی ہے لیکن کیا کیجئے کہ ہمارا ضمیر ہمیں سمرقند و بخارا کے کوچوں میں بکھرے قرآن کے سوختہ اوراق اور کابل و قندھار کے بازاروں میں لہولہان دریدہ ابدان کے پراگندہ چیتھڑوں پر بھی دامنِ فراموشی پھیرنے نہیں دیتا اور نہ ہی ان خونچکاں مظالم پر خندہ زن منحوس چہرے لوحِ ذہن سے محو ہونے دیتا ہے!!!
عرض یہ ہے کہ ہم گہرے اور چوطرفہ علمی و فکری ابہامات کا شکار ہیں،گاہے کفر سے اسلام برآمد کرنے کو بے تاب،گاہے اخلاقی قضایا سے علمی نتائج نکالنے کو بے قرار!! ہم طنطناتے ہوئے خود کو دینِ حق کے علم بردار بھی ٹھہراتے ہیں اور یہاں وہاں کے گدلے چشموں سے کام و دہن بھی تر کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حاملِ دینِ ناب کیسے اس فکر کی آغوش میں پناہگزیں ہو سکتا ہے جس کے تمام تر حاصلات ماورائیت کا تمسخر ہوں،جس کی تمام تر معنویت جہنمِ شکم کی سیری تک محدود ہو؟!مذہب کا چولا اتار پھینکنے والے ظاہر بیں تاریخ کو سرمائے کی کشمکش کی نظر سے دیکھیں تو دیکھیں مگر وہ کہ جس کی تاریخ ’’الفقر فخری‘‘ کی تابندہ حقیقتوں سے اٹی پڑی ہو بھلا کیونکر اس ملمع کاری سے دامنِ امید باندھے؟! گزارش ہے کہ سرمایہ داری و اشتراکیت کے روبرو ہمارے علمی موقف میں بھلے کتنا ہی نقص،کجی اور ناتوانی ہو لیکن ہمارا ایمانی موقف بے لاگ،دوٹوک اور قطعی ہے اور وہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے:
یہ آب نجس اٹھوا،یہ جام و سبو لے جا
پیتے ہیں مدینے کی مے خوار مدینے کے
Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search