ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کا انٹرویو (مرتب: احسن رومیز)

نوٹ:              جناب ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ صاحب کے توسط سے، جناب لطف اللہ خان خزانے سے معروف سائنس دان ، شاعر اور مصور  جناب ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی صاحب کا ایک قیمتی انٹرویو دستیاب ہوا۔ جس کو ہمارے نوجوان دوست احسن رومیز نے قارئین ِ جائزہ کے ذوقِ مطالعہ کی آبیاری کے واسطے قلمبند کیا ہے ۔

خاتون :           آج ہم آپ کی ملاقات ملک کے مشہور سائنس دان جناب ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی سے کرا رہے ہیں ۔ لیجیے، سماعت فرمائیے، ’’ریڈیو آڈیوگراف‘‘۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خالد صاحب:    سامعین ! اس وقت ہم محترم ڈاکٹر سلیم الزماں  صدیقی  صاحب کے پاس ہیں ۔ڈاکٹر صاحب کا  ایک ہلکا سا تعارف تو یہ ہے  کہ بین الاقوامی سطح پر آپ اُس وقت، خاص طور پر ،  عالمگیر شہرت کے مالک ہوئے کہ جب آپ نے اجملین اوراِسی قسم کی دوسری امراض قلب اور بلڈ پریشر (فشارِ خون ) کی  دواؤں پر اپنی کامیاب ریسرچ (تحقیق) دنیا کے سامنے پیش کی۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر صاحب!   اگر آپ اجازت دیں ، تو کچھ   آپ کی  کہانی ، ہم آپ کی  اپنی زبانی  سامعین کو سنوانا چاہتے ہیں۔اس بارے میں گفتگو کا آغاز کیا جائے۔

سلیم الزماں  صدیقی:    خالد صاحب !زندگی کی کہانی کا جو آپ نے قصہ چھیڑا  ہے ۔ ایک تو یہ آپ دیکھیں کہ زندگی ، ماشاء اللہ ،  بہت کافی طولانی ہو گئی ہے ۔ اور کچھ   سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں اور کس عنوان سے اُس کو  ترتیب دوں۔ اس سلسلے میں مجھے ای ایم  فوسٹر یاد آ رہا ہے ۔ آپ (خالد صاحب) نے اور دوسرے لوگوں نے Passage      to      India ضرور پڑھ رکھا ہو گا ۔ ان کی ایک کتاب  ہے،  Aspects      of      the      novel ۔ وہ نظر سے گزری عرصہ ہوا ۔ اس میں ایک ہی  چیز بہت دل کو لگی۔  انھوں نے کہا کہ ناول کے دو عنصر ہیں:  ایک کہانی کا عنصر اور دوسرے پلاٹ کا عنصر۔ یعنی گویا اس میں نفسیاتی  ربط قائم ہو،کہانی کے دوران ۔ جہاں تک کہانی کا  معاملہ  ہے ، اس میں سننے والا  یا  پڑھنے والا  برابر  یہ پوچھتا رہتا  ہے ، پھر کیا ہوا۔ اور پلاٹ کے سلسلے میں اس (سامع یا قاری ) کا سوال ہوتا  ہے،  کیوں۔ جوکچھ ہوا تو آخرکیوں ہوا؟  اور اس کے پیچھے کون سے عوامل اثر انداز تھے؟  میرا خیال ہے کہ  جو کچھ آپ پوچھیں گے ، آپ بھی اس سلسلے میں یہی دو پہلو، زندگی کہانی کے ،  آپ کے بھی پیش نظر ہوں گے۔

خالد صاحب:    جی ہاں! مثلاً  یہی کہ بچپن ہی سے شروع کیا جائے ۔ آپ کا بچپن  کہاں پر گزرا؟

سلیم الزماں صدیقی:     بچپن کا بہتیرا  زمانہ میرا،  لکھنو سے  کوئی ساتویں  میل پر جو کانپور کو سڑک جاتی  ہے اُس پہ  ایک  گاؤں  ہے  جس کا نام   چیلاں فاروق آباد  ہے، وہاں گذرا ۔   اور یہ بڑا اچھا ہوا کہ میرا بچپن اُس ماحول میں گزرا اور اُس کا اثر ساری زندگی میں نے  محسوس کیا۔میرے اُوپر بہت کچھ رہا ہے ۔ اور اس سلسلے میں اکثر  آپ بھی  سوچتے ہوں گے اور سامعین میں بھی اکثر سوچتے  ہوں گے  کہ پہلی یادیں  جو ہیں ، وہ کیا ہیں۔  اور کہاں تک پیچھے ذہن  میں  یادداشت کا  جو حصہ ہے ،(یادداشت ) کہاں تک پیچھے جا سکتی ہیں؟ سوچا ہوگا ناں (آپ نے)؟

خالد صاحب:    جی  ہاں ، جی ہاں ۔

سلیم الزماں صدیقی:     پہلی یاد جو ہے میری، وہ یہ ہے کہ  اس زمانے میں کھلائیاں ہوتی تھیں، دائیاں بھی ہو تی تھیں، ’آیا‘ اُس وقت اُس کو نہیں کہتے تھے۔ بہرحال  میری کھلائی (اَنّا یعنی بچوں کو کھلانے والی) جو تھی، وہ مئی جون کی چلچلاتی دھوپ میں، اس کو کسی سے ملنا تھا، وہاں کھلانے کے بہانے سے لے گئی اور جب واپس آئی تو اُس پر ایسی سخت ڈانٹ پڑی والدہ کی کہ صاحب، وہ  دوسرے دن بھاگ گئی۔  اِس کا دھچکا اتنا زبردست لگا ہوگا کہ  یہ بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے، آنکھوں کے سامنے وہ چیز ہے کہ کس طرح وہ ہمیں کھلانے کے لئے لے گئی ہو گی۔ خیر، اس کے بعد  پھر بسم اللہ شروع ہوئی،(یعنی) مبادی کا قاعدہ۔  ہمارے جو استاد تھے،  مولوی عبدالحق صاحب، بڑے اچھے استاد تھے ۔انہیں سے میں نے ابتدائی تعلیم دو تین سال حاصل کی ہے ۔

خالد صاحب:    گھر ہی پر؟

سلیم الزماں صدیقی:     گھر ہی پہ !  اس زمانے میں تعلیم کا معاملہ یہ ہوا کرتا تھا کہ کلام مجید ختم کیا اور اس کے بعد، خدا معلوم اس  دوران میں کچھ اردو بھی پڑھتے تھے ۔ مجھے نہیں یاد ہے کہ اردو کب شروع کی ۔ البتہ  کلام  مجید ختم کرنے کے بعد دستور یہ ہوتا تھا کہ آمد نامہ، صفوۃ المصادر ، وہ شروع  ہوئے ۔ والد کہا کرتے تھے کہ بیٹے، بس یہ ’آمد نامہ‘ تمھیں اگر آ جائے، تو سمجھو آدھی فارسی آ گئی۔ ’آمد نامہ‘ ختم کرنے کے بعد پھر ہمارا پہلا درسی تعلق قائم ہوا، وہ شیخ سعدی سے تھا۔ ان کی گلستان بوستان وغیرہ۔ جیسا کچھ بھی سمجھ میں آتا۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر  صاحب !آپ نے بتایا کہ شیخ سعدی سے آپ کی ملاقات اس طرح ہو  گئی کہ گلستان وغیرہ (پڑھے)۔

سلیم الزماں صدیقی :    جی ہاں، ’’ما مقیمان کوئے دل داریم‘‘ وغیرہ وغیرہ اس قسم کی چیزیں پڑھیں۔ اورمولانا  اسماعیل  میرٹھی کی   جو پانچ  کتابیں ہیں، وہ شروع سے پہلی سے لیکر پانچویں  کتاب تک پڑھیں۔صاحب، میں آپ سے کیا عرض کروں کہ کتنا کچھ اُن سے میں نے حاصل کیا ۔ اور بعد کی تربیت ،شعروسخن کی ،شعروادب کی   جو ہوئی  ہے اُس میں اس کا   بہت کچھ حصہ رہا  ہے ۔

خالد صاحب :   سکول میں ڈاکٹر صاحب، آپ کب پہنچے پھر؟

سلیم الزماں صدیقی :    بھئی ، سکول میں اس  زمانے کا دستور یہ تھا کہ  حساب وغیرہ گھر ہی پہ قاعدے وغیرہ پڑھاتے۔ اور چوتھے پانچویں درجے میں داخل کیا جاتا ۔ میں کوئی پانچویں  درجے میں کوئنز  ہائی سکول  ، جو لکھنؤ  کا ہے ، اُس میں داخل ہوا۔وہیں میرے بڑے بھائی چوہدری خلیق الزماں صاحب نے  تعلیم حاصل کی تھی اور  ان سے بڑے  ، دو سال بڑے جو تھے ، بھائی حمید الزماں صاحب ۔ انھوں نے بھی ابتداً  تعلیم وہاں سے  شروع  کی تھی۔ اس کے بعد، میٹرک کرنے کے بعد ۔۔۔ یہیں میں آپ سے کہہ دوں کہ میٹرک میں ۔۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچویں درجہ میں ہم ڈرائنگ میں فیل ہو گیے تھے ۔

خالد صاحب:    اچھا!

سلیم الزماں صدیقی:     جی !  اور لطیفہ یہ  ہے  کہ بعد میں جیسا   آپ سنیں گے ، میں نے  جیسا کہ مصوری  شروع کی ، اس کی ابتداء  ڈرائنگ سے  اور گرافک (graphic)سے ہوئی ۔ اور جو میری exhibition جرمنی میں ہوئی تھی ، اس میں ڈرائنگ جو تھی مصوری کی ، اس کی تعریفیں خاص طور پر کی گئی  تھیں ۔ مگر (ہنستے ہوئے ) ڈرائنگ کے پانچویں درجے کے امتحان میں  ہم رہ گیے تھے۔ دستور یہی تھا کہ  ایسے کوئی چوتھے ، پانچویں درجے میں داخل کرتے تھے۔ بعد میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد  خاندان سے جتنے بھی چچا زاد ، ماموں زاد ، خود میرے بڑے بھائی خلیق الزماں  صاحب ، انکی بھی  تعلیم وہیں ہوئی تھی علی گڑھ میں۔  سب سے بڑے جو تھے جمیل الزمان صاحب ، انہوں بھی بی اے وہیں سے کیا تھا۔

خالد صاحب:    علی گڑھ سے؟

سلیم الزماں صدیقی:     (جی ہاں ) علی گڑھ سے ۔

خالد صاحب:    تو ڈاکٹر صاحب، آپ پھر علی گڑھ پہنچے ۔ اور علی گڑھ کی یادیں۔۔۔۔ ؟  

سلیم الزماں صدیقی:     (بات کاٹتے ہوئے )  تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ  سکول میں ، چھٹے سال میں ، میں نے (بطور مضمون)  فارسی (زبان ) لی  تھی۔   متبادل تھا اس  کا ، ڈرائنگ  کی بجائے۔ ساتویں سال سے لیکر دسویں تک (بطور مضمون) سائنس  لی تھی ۔ alternative( متبادل) جو  تھا،  فارسی کا ۔

خالد صاحب:    فارسی ساتھ ساتھ آپ پڑھتے رہے؟

سلیم الزماں صدیقی:     ناں ۔ فارسی صرف   چھٹے درجے میں، میں نے  لی تھی ڈرائنگ کی بجائے۔

خالد صاحب:    ٹھیک !

سلیم الزماں صدیقی:     اور اس کے بعد سائنس جس میں فزکس کیمسڑی پڑھائی جاتی تھی۔

خالد صاحب:    جی (بہتر)

سلیم الزماں صدیقی:      میڑک میں ، میں نےسائنس لے رکھی تھی۔ اور انٹر(intermediate) سائنس میں کیا اس نقطہ نظر سے کہ میڈیسن پڑھ سکوں۔ خاص طور  سے میں چاہتا تھا میڈیسن پڑھنا۔ لیکن انٹر سائنس کرنے کے بعد میں نے کہا کہ صاحب،  جب تک فلسفہ، انگریزی ادب اور فارسی نہ پڑھی اُس وقت تک کچھ بھی  نہ  ہوا۔ میڈیسن بعد میں پڑھ لیں گے۔ تو میرے جو خلیق الزمان صاحب، بڑے بھائی تھے ۔ آٹھ سال مجھ سے  بڑے تھے ۔اُس زمانے میں یہ چھوٹائی بڑائی بہت ہوتی ہے ۔  وہ بضد تھے کہ  نہیں ، دو سال ضائع ہو ں گے۔ میں نے کہا کہ صاحب، ضائع ہونے دیجیے ۔  تو دیکھیے ، اس زمانے کے نوجوان بھی بہت کچھ کر لیتے تھے ۔ اور پھر بالآخر وہ بھی راضی ہو گئے اِس کے لیے ۔ تو میں نے بی اے کیا فلسفہ ،  فارسی اور انگریزی ادب (کے مضامین ) لے کر۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر صاحب! یہی میں عرض کر رہا تھا   ابتداء میں کہ آپ کی زندگی کے بہت سے پہلو ایسے بھی ہیں جو آپ کے سائنس دان ، محض سائنسدان ہونے پر دلالت نہیں کرتے ۔ مطلب  ہے  کہ انسانی نقطہ نگاہ سے جو باتیں  زیادہ اہم ہیں وہ یہ ہیں :  سائنس دان بھی عام انسانوں کی طرح سوچتے ہیں ، عام انسانوں کی طرح زندگی کے ساتھ ا ُن کا  برتاؤ ہوتا  ہے ۔  تو یہ جو  ادب اور فارسی یعنی انگریزی ادب ، فارسی اور  فلسفہ  جو آپ نے پڑھا ، اس کا  کچھ اثرزندگی پر  آپ کی ہوا؟

سلیم الزماں صدیقی:     بھئی ، بہتیرا کچھ اثر ہوااِس کا ۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا ہوں  کہ اس طرح سے آپ اِن مختلف ثقافتی  مضامین کو پنجروں میں بند کر سکتے ہیں اور Specialization (اختصاص)  ایک حد تک  تو لازم  ہے اور  ضروری بھی ۔ لیکن تعلیم کا جو پھیلاؤ ہے  اس کا  (کو)  وسیع ہونا چاہیے۔ اور یورپ میں بھی آپ دیکھیے ،  تیرہ سال کی سکولنگ کے بعد یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں ، Specialization کے  لیے ۔ اس وقت تک اس کی سکولنگ میں شعر و ادب بھی  ہے  ۔  دوسرے مضامین  ، تاریخ جغرافیہ زبانیں اور سائنس بھی ہوتے ہیں۔  یہ general(عمومی ) تعلیم جو ہے، عام تعلیم جو ہے ، اُس   کی مدت  وہاں تیرہ سال  رکھتے ہیں  ۔ اور جتنے بھی بڑے بڑے  سائنس دان  بھی گزرے ہیں ، ان کا بڑا گہرا تعلق رہا  ہے  شعر و ادب کے ساتھ، موسیقی کے ساتھ  اور دوسرے  اِس قسم کے ثقافتی مضامین (  کے ساتھ)۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر صاحب! اگر ہم اچانک اِس  طرف  آ جائیں کہ یہ  شعر و ادب سے جو آپ کا تعلق ہے ، وہ کس حد تک آپ کے دوسرے مشاغل پر اثر انداز ہوا ؟

سلیم الزماں صدیقی:     اثر انداز تو ۔۔۔۔۔ (بات درمیان میں  کٹ گئی )

خالد  صاحب:   مصوری بھی اور ادب بھی !

سلیم الزماں صدیقی :     دیکھیے ، یہ جو حس ِ  حُسن  جو ہے ، یہ شعر و ادب اور سائنس  دونوں میں قدرِ  مشترک  کی حیثیت رکھتی  ہے  ورنہ آدمی ایک Technician ہو کے رہ جاتا  ہے ۔

خالد صاحب:    صحیح !

سلیم الزماں صدیقی:     سائنس دان میں اور Technician میں ۔۔۔۔  اسی بات سے میں نے عرض کیا کہ کوئی (بھی)  بڑے بڑے نام لے  لیجیے   ۔ بین الاقوامی شہرت کے جو سائنس داں ہیں ،  ان  میں سب میں آپ یہ دیکھیں گے ۔ اور اس کا بڑا گہرا تعلق ہے ،  شعر و ادب  کا ،  ثقافت کا ۔  بلکہ مجھےافسوس یہ ہے کہ ہمارے  ہاں  یہ چیز نہیں سمجھی جاتی کہ شعروادب کا گہرا تعلق  ہے سائنس سے اور سائنس تو اب ثقافت کا ،  انسانی ثقافت کی لازمی جزو  ہے ۔

خالد صاحب:    صحیح !

سلیم الزماں صدیقی:      اور اس کی تعلیم ، ہمارے ہاں ایک  عام تعلیم،  ایک عام شعور۔۔۔۔سائنس کے جو  مسائل  ہیں اور وہ انسان کی زندگی پہ جس طرح سے  اثر انداز ہوئی  ہے ۔ اس کا شعور کم لوگوں کو  ہے ۔ اور میری کوشش برابر  یہ رہی  ہے  مختلف یونیورسٹیوں میں اور مختلف کانفرنسیں جو  ہوئی ہیں تعلیم کے سلسلے میں، (وہاں )  اس نظریے کو پیش کروں  اور کسی عنوان (کے تحت ) اسکی منظوری بھی حاصل ہو۔

خالد صاحب:    جی بہتر !!  ڈاکٹر صاحب،  بی اے آپ نے علی گڑھ سے کیا اور پھر آپ شاید  لندن تشریف لے گئے؟

سلیم الزماں صدیقی:     جی ہاں ! سن بیس(1920ء ) میں لندن گئے  ۔  یونیورسٹی کالج لندن میں داخلہ لیا۔

خالد صاحب:    اچھا!!!  کس سبجیکٹ (مضمون) میں ؟

سلیم الزماں صدیقی:     وہ بھی پری میڈیکل (pre-medical)۔ اب دیکھیے ناں ،  وہاں بھی پری میڈیکل  کیجیے ۔ ایک مصیبت یہ  ہو گئی  کہ  پہلے ہم نے پری میڈیکل کر لیا تھا، پھر بمبئی (ممبئی) یہ ہوا۔ پھر وہاں بھی انھوں نے  کہا گیا کہ صاحب، ہم اس پہ داخلہ نہیں دے سکتے، آپ یہاں کیجیے۔  یہی تمام  تمام عوامل تھے شاید  اور بالخصوص اس وجہ سے  کہ non-cooperation       movement میں ہمارے بھائی صاحب ، خلیق الزماں صاحب ، جیل میں تھے۔ ۔  اور انھوں نے دہلی سے لکھا  کہ صاحب ، یہ عجیب بات ہے  کہ  تمھارے بھائی جو ہیں انھوں  نے سکول اور کالج چھوڑ رکھے ہیں اور میں جیل میں ہوں اورتم  وہاں یہ  تعاون کر رہے ہو۔  کیوں نا ں، جرمنی  جاؤ ، وہاں  بجائے اس کے کہ کیمسڑی  جو وہاں کا خاص مضمون  ہے ،  کیمسڑی میں تعلیم حاصل کرو۔  ایک جو یہ پری میڈیکل کا چکر چلا تھا،  کچھ اس  کی وجہ سے بد دلی تھی میری اور دوسری طرف  یہ جو ان کا کہنا ہوا،  تو ہم نے طے یہ کیا کہ بھئی ، یہ  صحیح  ہے ۔ مارچ  سن اکیس(1921ء) میں، میں فرینکفرٹ  پہنچا  اور وہاں  یونیورسٹی میں داخلہ لیا اوراُس کے بعد  پھر ڈاکٹریٹ ڈگری ، میں نے وہاں (مکمل ) کی ،  سن ستائیس (1927ء )  کے نومبر میں  ۔ وائیوا (viva) ہوتا ہے  وہ ہو کے ڈاکٹریٹ ڈگری مجھ کو ملی ۔

خالد صاحب:    فرینکفرٹ میں؟

سلیم الزماں صدیقی:     فرینکفرٹ میں ۔ اور میرے جو استاد  تھے ،  organic      chemistry  کی عظیم شخصیت میں ان کا شمار ہوتا  ہے ،  پروفیسر   یولیس فان براؤن (Julius      Von      Braun )۔ اور میں آپ سے کیا کہوں کہ  کتنا  اثرساری زندگی میرے اوپر اُن کی شخصیت کا رہا  ہے ۔ ایک اور  بات اس سلسلے میں  کہنے کی ہے کہ جب میں  سن پچیس(1925ء) میں ڈاکٹریٹ کا امتحان پاس کر چکا تھا۔ ڈاکٹریٹ کے لیے مضمون  میں کیا ہونا چاہئے، اس سلسلے میں  اپنے استاد سے بات کرنی تھی مجھے، تو پیرس سے حکیم اجمل  خان صاحب کا ایک تار مجھے ملا۔ (  Comfort      Talks      to      Paris) ، وہ اس زمانے میں آئے ہوئے تھے۔ پہلے کسی  وفد کے ساتھ لندن گئے ہوئے تھے اس کے بعد وہ پیرس آ کے ٹھہرے تھے۔ میں پہنچا وہاں، تو انھوں نے کہا کہ  بھئی، میں چاہتا یہ  ہوں کہ تم اپنی تعلیم کا عنوان ایسا کچھ کرو، بقیہ تعلیم کا  کہ واپسی پر تم ۔۔۔۔    میں طبیہ کالج (دہلی) میں ایک ریسرچ انسٹیٹوٹ قائم کرنا چاہتا ہوں طبی مفردات پر تحقیق کے لئے اور دوسرے موضوعات پر جن کا تعلق یونانی طب سے ہے اور ویدک سے  ہے۔ کیونکہ وہ تو آیورویدک اور یونانی طبی کالج تھا جو حکیم صاحب نے  وہاں پہ دہلی میں کام کیا تھا ۔طے ہوئی  بات ان سے یہ ۔ میں بہت خوش ہوا کہ واپسی پر گویا ایک چیلنج ہوگا اپنے لئے کہ  کام کی اس نوعیت کے ساتھ زندگی کو، کام کو  آگے بڑھانا  ہے ۔  وہاں سے واپسی کے بعد جرمنی ، میں نے اپنے استاد سے ۔۔ تو وہ مجھے کچھ  اور مضمون دینا  چاہتے تھے تحقیق کا ۔ میں نے اُن سے کہا  کہ صاحب،  میں تو  Alkaloid پہ کام کرنا چاہوں گا۔اور پروفیسر فان  براؤن کی organic      chemistry  کے مختلف شعبوں سے انکی تحقیق کا اتنا پھیلاؤ  تھا کہ اس میں Alkaloids بھی شامل تھے۔  مثلا انھوں نے مارفین سے ایسا Derivative حاصل کیا تھا ، جو ضد  تھا مارفین کے اثرات کا۔

خالد صاحب:    اچھا!!

سلیم الزماں صدیقی:     یعنی  مارفین  تو paralyze  کرتا ہے سانس کو  اور یہ جو اسکا Derivative تھا،  یہ Stimulate کرتا تھا ۔تحریک ، تنفس کو دیتا تھا ۔ بالکل اس کی ضد ۔  اسی سلسلے میں مجھے انھوں نے اور کام خاص طور سے  Choline      Derivative،  جس کو  مارفین کی بہن سمجھیے جس میں ایک میتھائل گروپ زیادہ ہوتا ہے ۔  اس  پہ میں نے  کام کیا  اور اس کی  بناء  پر مجھے ٖڈاکٹریٹ کی ڈگری  وہاں سے حاصل ہوئی ۔  واپسی پر  افسوس مجھے بے حد ہوا کہ حکیم صاحب کا کچھ  ہی مہینوں  پہلے انتقال ہو گیا تھا  اور کیا کچھ مصیبتیں اس سلسلے میں ہوئیں کہ آیورویدک یونانی طبی کالج میں ایک   یونانی طبی ریسرچ  سینٹر  قائم ہو بھی سہی یا نہ ہو ۔ بالآخر انھوں نے  فیصلہ  یہی کیا کہ صاحب، قائم ہونا چاہیے اور میں اُس کا ڈائریکٹر  مقرر ہوا۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر  صاحب! ہندوستان  واپس ہم بعد میں آئیں گے۔ پہلے یہ جرمنی میں جو  آپ کی تصویروں کی نمائش ہوئی تھی ، آپ نے بتایا تھا ۔

سلیم الزماں صدیقی:     ہاں بھئی !  لطیفہ یہ  ہے  کہ پہلی آمدنی جو مجھے  حاصل ہوئی ، وہ سائنس  سے  نہیں بلکہ  مصوری سے (حاصل ہوئی)۔ اُس کا   قصہ یہ ہوا کہ میرے بڑے بھائی  چوہدری خلیق الزماں صاحب  ، اُن کو بچپن سے ڈرائنگ اور مصوری اور پلاسٹک سے مورتیں بنانے کا جو قصہ ہوتا ہے ، sculpture(مجسمہ سازی)  کا  بڑا شوق تھا۔اور  اسی وجہ سے وہ گئے کلکتہ  ،وہ (وہاں )  آرٹ سکول تھا ۔ اس میں تین چار سال انھوں نے  شاگردی میں گزارے،  ابھینندرناتھ ٹیگور (Abanindranath      Tagore) کی شاگردی میں ۔  ان کو میں تصویریں بناتا دیکھتا تھا۔ بیٹھ جاتا تھا اور دیکھتا رہتا تھا ۔ بڑی مجھ کو بھی اس سے دلچسپی تھی۔

خالد صاحب:    یعنی آپ نے کسی سے براہ راست  سیکھا نہیں  ہے ۔

سلیم الزماں صدیقی:     جی نہیں۔ وہ کس طرح سے  وصلی  (موٹا کاغذ) بناتے تھے ، کس طرح سے  پہلے خطوط  اس پر کرتے (کھینچتے )  تھے۔  پنسل سے خطوط کھینچتے تھے ۔ڈیزائن تھے اور پھر  پینٹگ کا  اُن کا کیا اسلوب تھا۔  یہ سب میں دیکھتا رہتا تھا۔ جرمنی پہنچنے سے پہلے میں نے  کبھی پینٹ نہیں کیا تھا۔  البتہ  مصوری پر اکثر مضامین لکھ چھوڑے تھے ۔ اب شوق  مجھے  بے حد  تھا مصوری سے بھی اور شعروادب سے بھی،  ابتداء  سے۔ تو وہاں میں نے modern      paintings (جدید مصوری) کی جو  نمائشیں  دیکھیں ، تو میرے اُوپر ان کا  بڑا  اثر  ہوا خاص طور  سے  پکاسو کا اور Franz      Marc ، جرمن کیوبسٹ تھے ، اُن کا۔ (چنانچہ ) ہم نے بھی ، ایسا کچھ زندگی کا معاملہ ہوا،  سن اکیس (1921ء)  اور بائیس (1922ء) کے دوران کہ ہم نے پینٹ کرنا شروع کیا ۔ اور خاص طور سے ڈرائنگ ۔ کیوبک ڈرائنگ سے ابتداء کی ۔ سال  ،ڈیڑھ  سال کے بعد ایک گیلری تھی Shamis نام تھا، وہاں گیا ، تو میں  جو کچھ تھوڑی بہت پینٹنگز تھیں ،  ڈرائنگ  کے نمونے ، گرافیکس کے نمونے (اپنے ساتھ ) لے گیا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ آپ ان کو exhibit (نمائش) کیوں نہیں کرتے ۔ اس طرح سے پہلی exhibition( نمائش) ہوئی اور سن سینتالیس (1947ء) میں گویا  دوبارہexhibition (نمائش) ہوئی۔  One man show سمجھ لیجئے ، وہ (نمائش ) تھی ۔ اس میں  ہماری ایک ہزار (جرمن)  مارک کی تصویریں اور ڈرائنگز  بکے ۔

خالد صاحب:    یہ کہاں ہوئی تھی؟

سلیم الزماں صدیقی:     میری فرینکفرٹ میں ہوئی تھی ۔اُت سی ایلی   (جرمن لفظ نہیں مل سکا ، از مرتب )  ایک صاحب تھے۔  اُن کی ایک گیلری تھی، اُس میں ہوئی تھی ۔

خالد صاحب:    ڈاکٹر  صاحب! اب ہم  دہلی چلیں پھر؟  میرا مطلب جہاں آپ نے طبیہ کالج  میں  اپنی تحقیق  دوبارہ شروع کی ۔

سلیم الزماں صدیقی:     سب سے پہلی  جو چیز میں نے  اپنی تحقیق کے لئے لی، وہ تھی Rauvolfia      serpentina۔ جس کو اسرول بھی کہتے ہیں ، چھوٹا چاند بھی کہتے ہیں۔  بہار میں اُس کو پگلے کی بوٹی کا نام بھی دیا گیا ہے ۔  حکیم (اجمل )  صاحب ایک عرصے سے،  کوئی دس پندرہ سال کے عرصے سے ، اسی بنا پراُس کو اکثر  دماغی امراض کے علاج کے لیے  استعمال کرتے تھے ۔ اس کا نام انھوں نے دوا الشفاء  رکھا تھا۔  سب سے پہلے میں نے اس پر کام  شروع کیا اور دوسری چیز جو تھی ،  پہلےہی سال ، وہ تھی بھلاواں ۔ اس کو بلادر کہتے ہیں، انگریزی میں کہتے ہیں مارکنگ نٹ، کیوں کہ شگاف ڈال کے کانٹے یا کسی  کپڑے سے نشان ڈالتے ہیں۔ پھر لائم واٹر(آبِ گندھک)  اس پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ Oxidize ہو جاتا  ہے  اور کالاسا نشان  پڑ جاتا  ہے جو کئی دھلائیوں تک صاف نہیں ہوتا ۔ پھر بعد میں اجملین جو  Alkaloid   ہے ،  اس کے متعلق یہ معلوم ہوا ۔کچھ کام اس  کے سلسلے میں ہندوستان میں بھی ہوا تھا pharmacology  کا ، کہ کارڈیوتھریمپیا  جسے کہتے ہیں ۔ شریانوں کی، نبض کی بے ترتیبی جو ہو جاتی  ہے ،  missing      beats وغیرہ ۔  اس میں جتنی بھی اب تک جو  دوائیں تھیں  ان سےاِس کے  سمی (زہریلے)  اثرات کم ہیں اور طبی اثرات زیادہ ہیں۔  چنانچہ جرمنی میں ٹنوں میں اجملین وہاں پہ  بنتی  ہے ۔ اس کا پروڈکشن ہوتا  ہے  وہاں پر۔ اور اس کے لئے جرمنی میں،  ہالینڈ میں اور دوسرے  continental، یورپ کے جو ممالک ہیں ،  میں استعمال ہوتی ہے ۔اور اس کی  بنا پر، ان دونوں چیزوں کی بنا پر خاص طور سے ،  پہلے تو مجھے medical      faculty، فرینکفرٹ یونیورسٹی  کی آنریری  ڈگری ملی یعنی ڈاکٹر آف میڈیسن۔ اور اُس کے بعد پھر ۔۔۔۔

خالد صاحب:    یہ 58ء (اٹھاون) کی بات ہے؟

سلیم الزماں صدیقی:     جی ،یہ58ء ( اٹھاون) کی بات ہے ۔ اور 58ء (اٹھاون)  ہی  میں روس کا لارج گولڈ میڈل، انھوں نے دیا  ۔ پھر 1961ء  میں  رائل سوسائٹی نے یہ اعزاز بخشا کہ ا ُس  کی  فیلوشپ  کے لیے میرا  الیکشن ہوا۔ اور 1964ء  میں  ویٹی کن اکیڈمی آف سائنسز میں منتخب  ہوا۔ بین الاقوامی اکیڈمی صرف یہی  ایک ہے  اور سب نیشنل ہیں۔ اور اس میں آپ خیال کیجئے کہ جس طرح  سے کارڈینلز ستر (70) ہوتے ہیں ،اسی طرح سے سائنٹسٹ  جن کو الیکٹ کیا جاتا ہے  وہ بھی  ستر ہوتے ہیں ۔

خالد صاحب:    اچھا!  میرا  خیال ہے کہ  ہم نے آپ کو  بہت زیادہ  زحمت دی  ہے ۔  اس وقت بھی  جب کہ آپ اِس کمرے میں کتابوں سے بھری  ہوئی الماریوں کے درمیان آپ بیٹھے ہیں۔ اوراردگرد  کئی لیبارٹریوں میں آپ کے طالب علم مصروف ہیں ۔ بل کہ  یہ بھی  میں  عرض کروں گا کہ ان دروں اور دریچوں سے ، لیبارٹریوں کے، ہمیں باہر آنے والی گیسوں نے بھی یہ احساس دلا دیا تھا کہ ہم کسی تحقیقی ادارے میں آئے ہیں۔ اس وقت آپ نے اب تک  جو بھرپور زندگی گزاری ہے ،  اس کے بعد آپ کا کوئی پیغام اگر ہو یا کوئی خاص بات اگر آپ کہنا چاہیں،  نوجوان نسل کے لئے یا سننے  والوں کے لئے خاص طور پر ؟

سلیم الزماں صدیقی :    بھائی،  سننے والوں کے لئے کہنا تو بہتیرا کچھ ہے ۔  لیکن جو  کچھ سوالات آپ سائنس اور فلسفے کے سلسلے میں کر رہے تھے کہ یہ  اتنی الگ الگ چیزیں جو ہیں یہ  کس طرح سے یکجا ہو پاتی ہیں۔ اس سلسلے میں البتہ مجھے یہ کہنا ہے کہ  سائنس اور فلسفے کی دشوار اور حسین منزلوں تک رسائی، جہاں تخلیق و تحقیق  کے اجالے آنکھوں کو چکاچوند کر دیں ،  اُن  برخوداروں کے بس کا روگ نہیں جن کا اپنے ادب اور تہذیب سے کوئی سروکار نہ ہو ۔  اور میں چاہتا یہ ہوں کہ نئی  پود، نئی جنریشن  جو ہے وہ اس چیز کو پیش نظر ضرور رکھے ۔ اور  میں برابر اپنے طلبہ و طالبات سے یہی  کچھ کہتا رہتا ہوں اور اِس کی  کوشش کرتا ہوں کہ اُن میں  مطالعہ کا شوق جسے Reading      habit کہتے ہیں،  وہ پیدا ہو۔

(موسیقی  کے ساتھ پروگرام ریڈیو آڈیو گراف اپنے اختتام کو پہنچتا ہے )

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search