محترم عمران شاہد بھنڈر کی خدمت میں(۲) ۔ تحریر: محمد دین جوہر

میں محترم عمران شاہد بھنڈر کا ازحد ممنون ہوں کہ انہوں نے میری پوسٹ کا تفصیلی جواب مرحمت فرمایا، کیونکہ میری پوسٹ پر اپنے ابتدائی کمنٹ (تبصرے) میں ان کی بے دلی عیاں تھی جس کی وجہ آنجناب کے بقول میری پوسٹ میں ”عقلی دلائل“ کا نہ ہونا تھا۔ آنجناب کے ”عقلی دلائل“ سے میری طرح یقیناً اور لوگ بھی استفادہ فرمائیں گے، لیکن ان کا محض جواب ارزانی فرمانا ہی میرے اظہار امتنان کو واجب کر دیتا ہے۔ میں ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آئیے اب ان کے ”عقلی دلائل“ اور طریقۂ استدلال کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آنجناب کے جواب کا پہلا پیراگراف سوفسطائیت (sophistry) کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ ظاہر ہے کہ علمی بحث میں سوفسطائیت اور عقلی استدلال کے فرق کو روا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک ایک لفظ غور سے پڑھنے کے بعد، اور دریافت شدہ تضادات کے پہاڑ پر چڑھ جانے کے بعد وہ میرے سوال کا جواب آخر کیوں دے رہے ہیں جبکہ ان کے بقول وہ سوال ہی نہیں ہے؟ کیا سوفسطہ گری کوئی اور شے ہے؟ گزارش ہے کہ ان کے اعتراضات غلط ہیں یا جواب غلط ہے۔ پھر دلیل اور رد دلیل میں اعتراضات کیا معنی؟ اعتراض تو طاقت اور اتھارٹی کی پوزیشن سے پھوٹتا ہے، جس کی علمی بحث میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اور آنجناب کی تحریر مسلسل اعتراضات کا مجموعہ ہے۔ ہم مخاصمین (interlocutors)  کی یکساں انسانیت اور یکساں احترام پر مکالمے کی نیو اٹھانے پر یقین رکھتے ہیں، اور جو ان کی تحریر سے غیرحاضر ہیں۔ اعتراض ان کی اخلاقی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے جس کو جاننے میں ہمیں فی الوقت کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں تو ان کے علم اور اس کے لیے بہم کردہ عقلی دلائل سے سروکار ہے، جو ان کی تحریر میں کہیں نظر نہیں آتے۔ پھر یہ کہ کٹہرے میں کھڑے ہو کر ان کے اعتراضات نمٹانا بھی ہماری کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے۔

ہمارے ممدوح محترم کو حاصلاتِ عقل یعنی ”عقل کے کارہائے نمایاں“ گنوانا ازحد مرغوب ہے۔ فرماتے ہیں: ”عقل کے کارناموں کو بیان کرنا جس سے عقائد کی معذوری ازخود عیاں ہو جائے اس سے عقائد کی معذوری دکھانا ترجیح نہیں ہوتا، بلکہ ایک کے کارنامے ہی دوسرے کی معذوری کو عیاں کر دیتے ہیں۔ چونکہ عقیدے کے پاس انسانی جذبات کے استحصال کے علاوہ کوئی کارنامہ نہیں ہے، کہ جسے عقل کے مقابل رکھ کر موازنہ کیا جا سکے، اس لیے اس طرح کے رویے کا پیدا ہونا عین فطری ہے“۔ ان سے عرض ہے کہ ”ازخود“ کچھ نہیں ہوتا، عقل کی دلیل لانا پڑتی ہے، اور عقل نہ ہو تو سب کچھ ”ازخود“ ہی ہوتا رہتا ہے جیسا کہ ان کی شماریاتی فلسفہ دانی سے ظاہر ہے۔ وہ مجھ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ حاصلاتِ عقل کا میں وہی مطلب سمجھوں جو ان کے ہاں ازخود ہے۔ وہ یقیناً آگاہ ہیں کہ آج کی دنیا جو سائنس اور عقل انکار و خودمختار کی پیدا کردہ دنیا ہے، اور جہاں عقل کے کارہائے نمایاں گنوانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ دنیا کے ہر انسان کے روزمرہ تجربے میں ہیں، اور پھر بھی اربوں لوگ مذہبی ہیں اور مذہب سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ عقل کے کارناموں کی فہرست تو دور کی بات ہے روزمرہ کا تجربہ بھی انسانوں کو مذہب سے ”ازخود“ دستبردار ہونے پر قائل نہیں کر سکا۔ علمی بحث میں اپنے مخاصم سے اسی طرح کی توقع رکھنا نہایت بےخبری کی بات ہے۔ اب اس ”دلیل“ میں جو عقل کارفرما ہے وہ بھی ملاحظہ فرما لیں۔ ان کا ارشاد ہے اور بالکل درست ارشاد ہے کہ مثلاً ان کے پاس سو شرٹیں اور پچاس پینٹیں ہیں جو صاف ظاہر ہے میرے پاس نہیں ہیں۔ کوٹ اور رنگ برنگی ٹائیاں اس پر مستزاد ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ میں ان کے حاصلات صرف سن کر ہی زندگی میں اپنی بنیادی پوزیشن تبدیل کر لوں۔ یہ کوئی عقلی دلیل نہیں ہے، یہ تو عقلی دیوالیہ پن ہے۔  اخلاقی تناظر میں حاصلات کو گنوانا ہی تو ریاکاری ہے اور حیرت ہے کہ وہ ریاکاری کا الزام عقیدے پر رکھتے ہیں۔ میں اپنے ممدوح فلسفی جتنا پڑھا لکھا تو نہیں لیکن مجھے بھی بہت کچھ متون دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے، اور حاصلات اور تعقل میں التباس انہیں کی دریافت کردہ کوئی نئی منہج علمی معلوم ہوتی ہے جو شاید ابھی کتابوں میں درج نہیں ہوئی۔ مجھے تو سخت حیرت ہے کہ یہ کوئی decadent مذہبی ذہن اپنی guilt کا اظہار کر رہا ہے یا کوئی فلسفی کارِ تعقل میں ہے! ممدوح محترم سے میری گزارش ہو گی کہ وہ اپنی نفسیاتی، اخلاقی اور علمی حیثیت میں امتیاز کرتے ہوئے مجھ سے صرف علمی حیثیت میں خطاب فرمائیں۔ گزارش ہے کہ جب آدمی عقیدے کو عقلی اور عقل کو عقیدہ بنا کر عالم بننے کی کوشش کرے تو اسی طرح کی تحریریں لکھا کرتا ہے۔ 

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ممدوح محترم کی تحریر اعتراضات کا مجموعہ ہے، اور اعتراض کی اساس طاقت اور اتھارٹی ہے جو خاص اخلاقیات اور اتفاقی حیثیت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اعتراض اور عقلی دلیل قطعی مختلف چیزیں ہیں۔ ہم ان کے اعتراضات کو بالکل ردی سمجھتے ہیں، لیکن عقلی دلیل کو قابل قدر جانتے ہیں جو ان کی تحریر میں عنقا ہوتی ہے۔ وہ خود ہی اس بات کا اعتراف بھی فرماتے ہیں: ”وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مجھے عقیدے کے رَد کے لیے عقلی دلائل دینے چاہیے تھے، لیکن میں نے نہیں دیے“، یعنی وہ صرف اعتراض ہی کر سکتے ہیں۔ دلائل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدے کا رد تو دور کی بات ہے، وہ تو کسی عقلی قضیے کے حق میں بھی دلائل دینے کے قابل نہیں ہیں، اسی لیے حاصلات کی شماریات سے باہر نہیں آتے۔ حاصلات کی بنیاد پر ہم یہ ضرور عرض کر سکتے ہیں کہ ان کے پاس سرمایہ ہے، ان کے پاس طاقت ہے، ان کی حیثیت زیادہ ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سے موقف کی سچائی پر کوئی دلالت نہیں ہوتی۔ اور اس وقت یہی زیربحث ہے۔ ممدوح محترم کی حالت کو قابل رحم ہی کہا جا سکتا ہے جب وہ فرماتے ہیں: ”دلچسپ نکتہ بہرحال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہی مطالبات کی مسلسل نفی کرتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی میں عقلی دلائل پیش کرتا اور عقیدہ یہ کہہ اٹھتا کہ وہ ان دلائل کو تسلیم ہی نہیں کرتا، کیونکہ عقیدہ پسند نہیں کرتا کہ عقیدے سے ماورا جا کر اس کے خلاف عقلی دلائل پیش کیے جائیں۔ تو پھر مطالبے کی وجہ کیا ہے؟“ یہ وجوہات صرف اس وقت سمجھ آتی ہیں جب آدمی کو متن پڑھنا آتا ہو، استنباط کا طریقہ معلوم ہو، اور دلائل میں ظاہر ہونے والی عقل بھی سلامت ہو۔ 

عقیدے کے حامل ہونے یا نہ ہونے سے عقل پر exclusive               claims کا دعوی ازخود درست نہیں ہو جاتا، جیسا کہ ہمارے ممدوح محترم کی کوشش ہے۔ اگر آنجناب عقیدے کی وجہ سے ہماری پوزیشن کو غیر عقلی قرار دیتے ہیں تو عقلی پوزیشن کا دعویٰ کر کے عقلی دلائل سے تہی ہونا تو کہیں زیادہ غیر عقلی پوزیشن ہے۔

آنجناب کا ایک اور اعتراض ملاحظہ ہو: ”وہ عقل کے علاقے میں عقبی دروازے سے داخل بھی ہونا چاہتے ہیں، کہ کہیں عقیدہ بالکل ہی حماقت کی آماجگاہ نہ بن جائے، لیکن صرف سامنے والے دروازے سے اس وقت باہر نکلنے کے لیے جب پاس دلیل نہیں ہو گی۔“ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ یہاں عقل اور اعتراض کا موہوم تعلق بھی منقطع ہو گیا ہے۔ ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے، فرماتے ہیں: ”اگر وہ اپنی ہی اس بات پر قائم ہیں تو ہمیں یہ بھی بتا دیتے کہ وہ ”جائز علمی بنیادیں“ کون سی ہیں جو عقیدے کی ترجیحات ہیں اور ان کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہی یہ کیسے طے کر لیا گیا ہے کہ وہی ’’جائز‘‘ بنیادیں ہیں؟“ چونکہ آنجناب ہر قسم کی عقلی دلیل سے ناواقف ہیں، اس لیے وہ ”جائز علمی بنیادوں“ کے ذکرِ محض اور کسی موقف کی جرح و تنقیح میں امتیاز نہیں کر پا رہے۔ جب آنجناب عقل سے کام لیتے ہوئے ہمیں بتائیں گے کہ کوئی امر علمی طور پر جائز نہیں ہے، تو ہم ان کو عرض کریں گے کہ کیونکر جائز ہے۔ عین یہی امور تو مکالمے میں تنقیح طلب ہوتے ہیں۔ یہاں لگے ہاتھوں ان کی منتہائے عقل بھی ملاحظہ فرما لیں: ”اور مجھے ضرورت ہی کیا ہے کہ میں ان ”جائز“ علمی بنیادوں کو تلاش کروں، محض اس لیے کہ ان کا انکار کروا سکوں۔“ یہاں ان کی حالت بالکل ہی pathetic ہے، اور وہ مکالمے کے آغاز ہی سے انکاری ہیں۔ جعلی اخلاقیات پر مبنی اعتراضات اسی طرح کی نفسیاتی حالت پیدا کرتے ہیں۔ وہ تو اپنے حاصلات کی شماریات میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور جب ہم عرض کرتے ہیں کہ بھئی کوئی ٹائی وغیرہ دکھا ہی دو تو فرماتے ہیں کہ جاؤ جاؤ میں نہیں دکھاتا۔ یہ تو بالکل بچگانہ بات کی ہے آنجناب نے۔ اصل میں مذہبی آدمی کی decadence اسی طرح کے شعور پر منتج ہوتی ہے کہ نہ وہ عقیدے کا رہتا ہے اور نہ عقل کا۔

جیسا کہ میں عرض کر چکا کہ وہ اعتراض ہی کر سکتے ہیں، کیونکہ عقل معدوم اور دلائل محذوف ہیں۔ اعتراض مفصل ہو کر تفتیش بن جاتی ہے، اور تفتیش میں دلائل غیر ضروری ہوتے ہیں، وضاحتیں درکار ہوتی ہیں کیونکہ interlocutor کا وجود ہی نہیں ہوتا، بس ملزم سے خطاب ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں: ”دوسرا یہ وضاحت بھی درکار تھی کہ کیا انسان کی فکری تاریخ میں عقل نے عقیدے کو زیرِ بحث لاتے ہوئے کبھی عقیدے سے اجازت طلب کی ہے؟ اگر عقل نے عقیدے سے اجازت طلب کی ہے تو عقیدہ اس اجازت نامے پر کیا ”حکم“ صادر کرتا ہے اور عقل نے کب، کہاں اور کیسے عقیدے کے جاری کردہ احکامات کی پابندی کی ہے؟“ یعنی آنجناب کے نزدیک مکالمے کا مطلب ان کا اعتراضات کیے جانا ہے اور ہمارا کام یہ ہے کہ ان کی خدمت میں وضاحتیں پیش کرتے جائیں۔ بہرحال ”انسان کی فکری تاریخ“ سے جو جواہر ریزے وہ نکال لائے ہیں، ان کو وہ ڈھنگ کے اعتراضات بھی نہیں بنا سکے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا اس طویل تاریخ سے انہوں نے کوئی عقل بھی سیکھی ہے؟ اور اگر سیکھی ہے تو وہ کہاں اور کس دلیل میں ظاہر ہے؟

عقل انسانی شعور کا فعال اور پیداکار پرنسپل ہے لیکن عقیدے کے بغیر یہ اپنی فعلیت کا آغاز بھی نہیں کر سکتا۔ ہمارے ممدوح محترم مذہبی عقیدے کے خلاف ہیں، عقیدہ فی نفسہٖ کے خلاف نہیں ہیں۔ یہیں سے عقل کے اساسی مقدمات اور حاصلات کی بحث کا آغاز ہوتا ہے۔ عقل کا گھر اور منزل ایک ہوتی ہے کیونکہ عقل اپنے طریقۂ کار سے جن منتہی نتائج تک پہنچتی ہے وہ اس کے اساسی مقدمات کی انتاجی تشکیل ہی ہوتی ہے۔ عقل عقیدے کی تصدیق کے علاوہ اور کچھ کر نہیں سکتی، یعنی حاصلات عقل مقدمات اساسی کی تصدیق تک محدو ہوتے ہیں۔ چلیے ہم مذہبی عقیدے کی بحث چھوڑ دیتے ہیں، تو آنجناب سے سوال یہی تو ہے کہ عقل کے وہ اساسی مقدمات کیا ہیں، جن کو بنیاد بنا کر وہ اپنی فعلیات کا آغاز کرتی ہے؟ دوسرے لفظوں میں ہمارا سوال یہ ہے کہ عقل اپنی منہاج اور حاصلات علم کے لیے اپنی وجودیات کیونکر متعین کرتی ہے؟ جب عقل کی بات ہو تو وہ وعظ آغاز فرماتے ہیں: ”عقل جدید علوم کی خالق بھی ہے اور اس کا نتیجہ بھی۔ عقل کے حاصلات میں اس کا منہاج پنہاں ہے۔ عقل کے ہاں اس کا معروض موجود ہے، اور عقل اس کا استعمال کرنا بخوبی جانتی ہے۔ عقل کے سامنے جب بھی عقیدے کو لایا جاتا ہے تو عقل اپنا سب سے مؤثر اوزار منطق استعمال کرتی ہے، اور پہلے ہی جھٹکے میں عقیدے کی مسلمات کی نفی کرتی ہے، تاکہ اگلے ہی لمحے عقیدے کو اپنی شبیہ پر ازسرِ نو پیدا کر سکے، اسے کوئی معنی اور سمت دے سکے۔“ خوگر پیکر محسوس نظر حاصلات سے آگے صرف وعظ ہی کرسکتی ہے۔ اپنے واعظانہ تعصبات کو فلسفہ سمجھ لینا ہی اس کا کمال ہے۔

آنجناب سے مکالمے کی بنیاد فلسفے اور سائنس کا falsification کا نظریہ ہے۔ تغلیط کا نظری موقف اور اس کی منہج نہ صرف جدید سائنسی ترقی کی بنیاد ہے بلکہ مذہبی اور اسطوری توہمات وغیرہ سے انسان سے چھٹکارے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان توہمات میں سائنس اور فلسفہ کے اساسی مقدمات شامل نہیں ہوتے کیونکہ وہ انہوں نے خود بنائے ہوتے ہیں، اور جب ان کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے انہیں تبدیل بھی کر لیا جاتا ہے۔ سائنس کے تغلیط شدہ نظریات کو دیکھیں تو عقل کی کارفرمائی کو بھی درست طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ٹامس کون کے پیش کردہ پیراڈائم شفٹ کے نظریے کے بعد اگرچہ تغلیط کا فلسفہ کمزور ہو گیا ہے، کیونکہ پیراڈائم شفٹ کا نظریہ اصلاً عقل سے دستبرداری کا نام ہے۔ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ اگر کسی پہلے سے بنائے گئے پیراڈائم میں عقلی طور پر لاینحل مسائل زیادہ ہو جائیں اور وہ پورے پیراڈائم کو لغو بنا دیں تو اس مشکل زدہ پیراڈائم کو ترک ہی کر دیا جائے اور ایک نیا اور ایسا پیراڈائم سامنے لایا جائے جس میں عقلی طور لاینحل مسائل ابتدا میں موجود نہ ہوں۔ 

ہماری خوش بختی ہے کہ اپنی فلسفہ دانی سے مستفیض کرانے کے بعد ہمارے فلسفی علم الکلام کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور آنجناب کی عقلی مہمات یہاں بھی بدستور ہیں۔ فرماتے ہیں: ”متکلمین کو ’’عقلی نظامِ الٰہیات‘‘ کی تشکیل کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وہ اپنی مہمل تعبیرات سے باہر نکلنا چاہتے ہیں، اس لیے عقلی علوم کے احیا سے معنی حاصل کرتے ہیں۔ جدید علوم کی روشنی میں عقائد کی حقانیت اور ان کے متعلقہ یا غیر متعلقہ ہونے کا سوال خود عقیدے کی بقا سے جڑا ہوا ہے،خطرے میں اگر کوئی شے ہے، زوال کی علامت اگر کوئی چیز بن کر ابھر رہی ہے، یا انسانیت کے ارتقا کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے تو وہ خود عقیدہ ہے۔ … … جہاں تک عقیدے کو ”ریشنلائز“ کرنے کا معاملہ ہے تو اس کی گواہی تو متکلمین کی ساری تاریخ فراہم کرتی ہے“۔ عقل کی عدم موجودگی میں اعتراضات کو الزامات بنتے دیر نہیں لگتی۔ آنجناب کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ  عقیدے کو عقل سے اخذ کرنے یا پہلے سے قائم عقیدے  کو rational اور positivist بنا دینے میں شاید کوئی فرق ہے۔ علم الکلام کی بنیادی بحث واجب الوجود کی ہے، اور اسی بحث میں عقلِ انسانی کی تحدیدات قائم ہو کر مکمل ہو جاتی ہیں اور علم الکلام کے بنیادی مقاصد پورے ہو جاتے ہیں۔ اگر آنجناب کی یہ بات درست ہو اور اسے تسلیم کر لیا جائے کہ علم الکلام کا بنیادی مقصد عقیدے کو rationalize کرنا ہے تو ساری بحث ہی ختم ہو جاتی ہے، اور ان کی طرف سے عقیدے کو عقل کے حضور پیش کرنے کی ساری سرگرمی ہی لغو قرار پاتی ہے۔ علمی تضاد اسی کا نام ہے۔

گزارش ہے کہ ایمان صرف ضمناً ایک علمی یا عقلی قضیہ ہے۔ ایمان ایک فیصلہ ہے جس میں act               of               will انسان کی مکمل وجودی پوزیشن کا مظہر ہوتا ہے، اور انسانی عمل کو ریشنل کہنا یا اس کو rationality کے دائرے تک محدود سمجھنا عقل اور علوم سے قطعی بے خبری پر دلالت کرتا ہے۔ rational               act ایک oxymoron ہے۔ عقلی مباحث صرف خبر غیب تک محدود ہوتے ہیں، اور ان میں بھی بنیادی مبحث امکانِ وحی کا ہے۔ عقیدے کے حوالے سے عقلی موقف صرف اس وقت قابل اعتنا ہو سکتا ہے جب وحی کے عدم امکان کو ثابت کر  دیا جائے۔ عقیدے کے لیے عقلی دلائل کا مطالبہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے سورج کے لیے عقلی دلائل مانگے جائیں، آفتاب آمد آفتابی را دلیل۔ جس طرح فلسفے کا ایک بنیادی سوال ہے کہ:

 Why               is               there               something               rather               than               nothing?

اس سوال کی بنیاد یہ ہے کہ ہونا اور پھر معدوم ہو جانا غیر عقلی ہے، جبکہ سرے سے نہ ہونا عقلی ہے، یعنی کائنات کا وجود عقلی موقف کے علی الرغم ہے تاکہ عقل یہ جان سکے کہ ھو الظاھر اور اس میں اپنی حیثیت کا تعین کر سکے۔ اسی طرح عقل کے علی الرغم ھو الباطن عقیدے میں ظاہر ہے۔ لیکن جدید عقل شعور اور وجود کے بنیادی مسائل سے منہ موڑ کر برات میں بکھیرے ہوئے سکوں کو جمع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے اور انہیں یہ اپنے حاصلات بتانے پر بضد بھی ہے۔ ہمیں اس امر کا پورا یقین ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نعوذ باللہ کسی مابعد الطبیعیات یا کسی علم الکلام یا کسی سائنس کے ساتھ مبعوث نہیں ہوئے۔ آپ جس ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں وہ آج بھی اپنی مبادیات و جزیات میں واضح ہے۔ مذہبی آدمی کو اپنے عقیدے کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں کہ وہ کیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے جس طرح ایک مذہبی آدمی کو اپنے ممدوح فلسفی سے مکالمہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ مایۂ عقل دیکھا جا سکے، اسی طرح کسی کلامی یا مابعد الطبیعیاتی یا عرفانی سے بھی گفتگو کا موقع پیدا ہو سکتا ہے۔ اس میں کیا مسئلہ ہے؟

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اساسی مقدمات/ وجودی موقف/ اقدار کا مسئلہ عقل کے لیے لاینحل ہے، اور ان کا ذکر ہوتے ہی اس کو دورہ ہو جاتا ہے۔ فرماتے ہیں: ”یہی وہ خود ساختہ مگر فیصلہ کُن نکتہ ہے جہاں عقیدہ پرست عقل دشمنی میں اپنی آخری حدوں کو چھو لیتا ہے، اور انسان اور اس کے وجود سے متعلق کسی بھی انسانی قدر کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ اس کے اپنے وجود سے جڑے ہوئے معنی کو اس کی ذات سے حذف کرکے کسی اور شے کے سپرد کر دیتا ہے۔ عقیدہ پرست چونکہ فلسفیانہ علوم کی بنیادوں سے بھی نابلد ہوتے ہیں اس لیے یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ اخلاقی، جمالیاتی اور علمیاتی سطح پر ’’تعین قدر‘‘ کا سارا قضیہ ہی فلسفے کی ایک شاخ ’’ایگزیالوجی‘‘ سے جُڑا ہوا ہے، جبکہ سارے ہی علوم اور ان کی دریافت کا عمل بذاتِ خود قابل قدر ہے”۔ آپ بھی اس پیراگراف کا لطف لیجیے کہ جا اینجا است۔ ہمارے ممدوح محترم صاحبِ کمال تو یقیناً ہیں، لیکن  صاحبِ جمال بھی کچھ کم نہیں۔ یہ عقل کا ٹنٹا انہوں نے نہ جانے کہاں سے پال لیا، ان کی عقلی ترقی کے لیے تو غصہ ہی کافی تھا۔ یہ بھی خوب ہے کہ  ”عقیدہ پرست چونکہ فلسفیانہ علوم کی بنیادوں سے بھی نابلد ہوتے ہیں“ اور آنجناب تو بالکل ایسے نہیں ہیں، تو اقداری شعور (Axiological               Consciousness) سے ان کی واقفیت ملاحظہ فرمائیے اور سر دھنیے۔ اگر ممدوح محترم کو ناگواری نہ ہو تو عرض ہے کہ ہم ایسے ”عقلی کمالات“ پر بھی سبحان اللہ ہی کہتے ہیں۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search