مذاکرہ: سقوطِ مشرقی پاکستان اور نظریۂ پاکستان (مرتب: سلمان بلتی، عاصم رضا)

نوٹ:     1972ء کے لگ بھگ ریڈیو کراچی میں سقوطِ مشرقی پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک مذاکرے میں جناب امیر احمد خاں (راجہ صاحب محمود آباد)، مولانا جمال میاں فرنگی محلی اور ڈاکٹر زوار حسین زیدی شریک گفتگو ہوئے۔ ہم ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ صاحب کے نہایت ممنون ہیں کہ ان کے توسط سے جناب لطف اللہ خان صاحب کے آواز خزانے میں محفوظ اس بیش بہا  قومی سرمائے تک رسائی حاصل ہوئی ۔  تاریخ ِ پاکستان کے تناظر میں اس  قیمتی مذاکرے کی اہمیت  و معنویت کے پیش نظر اس گفتگو کو تحریری قالب میں ڈھال کر قارئین جائزہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ۔

Muslims      of      India      have      shown      to      the      world      that      they      are      a      united      nation,      their      cause      is      just      and      righteous      which      cannot      be      denied.      Let      us,      on      this      day,      humbly      thank      God      for      His      bounty      and      pray      we      might      be      able      to      prove      that      we      are      worthy      of      (QUAID’S      MESSAGE      TO      THE      NATION      –      15th      August,      1947)

میزبان: قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ پیغام آج سے پچیس (25) برس قبل صبحِ آزادی کے ساتھ گونجا اور مسلمانوں نے برصغیر میں ایک نیا وطن پایا۔ اپنی زندگی کےپچیس (25) برس میں پاکستان بے شمار مشکلات اور آلام سے  دوچار رہا ۔  لیکن کوئی  دور اتنا  کٹھن ، اتنا صبر آزما،  نہ   تھا جتنے پچھلے ڈیڑھ سال میں گزرا ہے   جس  نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلا دیا۔  اِس کا ایک حصہ اُس سے  بچھڑ گیا اور وہ اساس اور نظریہ پھر شبہ میں پڑنے لگاجس کی بدولت یہ ملک حاصل کیاگیا تھا۔  آج  اِس سٹوڈیو  میں  انھی حالات اور واقعات کا جائزہ لینے   اور محاسبہ کرنے کے لیے وہ اکابر موجود ہیں جنہوں نے پاکستان کی جدوجہد کو قائداعظم کی رہبری میں آگے بڑھایا اور اپنے سامنے اِسے  بنتے دیکھا ۔ میری مراد  جناب امیر احمد خاں  (راجہ  صاحب آف محمود آباد)، اور مولانا جمال  میاں فرنگی محلی سے ہے ۔ اُن کےساتھ ڈاکٹر زوار زیدی بھی تشریف رکھتے  ہیں جو لندن کے School      of      Oriental      &      African      Studies (درسگاہ برائے مشرقی و افریقی مطالعات)  میں پروفیسر ہیں  اور جنہوں نے مسلم لیگ کی دستاویزات کو محفوظ کرنے کی بڑی تگ و دو کی  ہے ۔

میزبان: راجہ صاحب ! کیا وہ نظریہ اور اساس  جس نے پاکستان بنایا ، اب بھی  ہمارے لیے برقرار ہے ؟ یا ہم اُس تخلیقی تصور سے بچھڑ گئے ہیں؟

راجہ صاحب: زیادہ مناسب یہ  ہے کہ مولانا جمال  میاں صاحب  اس پر روشنی ڈالیں۔

مولانا جمال میاں: میرمحفل تو راجہ صاحب ہی  ہیں مگر  اُن کے ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے میں اپنے خیالات کا اظہار ،ان سے پہلے کرنے کی بے ادبی کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اس کی وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ چودہ ( 14) اگست سن سینتالیس (47ء)کو جو تقسیم عمل میں آئی  ، وہ مسلمانوں کے مطالبے سے بالکل مختلف تھی۔ ہم نےسن چالیس (40ء) میں، لاہور کے اجلاس میں جس قومی وطن کا نصب العین پیش کیا تھا اورسن چھیالیس ( 46ء) کے ضلعی کنونشن میں جس کی توثیق کی تھِی  ،اس کا حصول باقی رہا ۔ جو ہمارے سفر کا آغاز تھا،  بد قسمتی اور کم ہمتی سے ہم نے اُس  کو اپنی آخری منزل سمجھ لیا۔  راجہ صاحب ہی کا ایک شعر مجھے یاد آرہا ہے:

 سفر ہے دور کا اور ناتوانی مجھ سے کہتی ہے

جہاں تو تھک کے بیٹھا ہے وہی منزل نہ بن جائے

مولانا جمال میاں: جن اسباب اور حالات نے پاکستان بنایا تھا ، وہ تو آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح سن سینتالیس (47ء)   میں تھے۔  بنگلہ دیش کی حمایت کر کے ہندوستان نے بھی مسلم اکثریت کے علاقے کی علیحدہ آزاد حکومت کے قیام کو خود بھی تسلیم کرلیا ہے۔ تو  اب پاکستان کے وجود اور اس کے نظریے میں شک کرنے کا کوئی سبب نظر نہیں آتا ہے۔

نہ تم بدلے، نہ ہم بدلے ،نہ دل کی آرزو بدلی

میں کیسے اعتبارِ انقلاب ِآسماں  کر لوں

میزبان: ڈاکٹر زوار زیدی ، آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟  

ڈاکٹر زوار زیدی: میں مولانا  صاحب سے اتفاق کرتا ہوں۔  لیکن جس صداقت اور نظریے کا آپ ذکر فرمارہے ہیں، وہ بد قسمتی سے تقریر اور گفتار تک محدود رہا ۔ نعروں سے قوموں کی حوصلہ افزائی تو ہو سکتی ہے لیکن قوموں کی تعمیر ناممکن ہے۔  اس اہم کام کے لیے ’’جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں‘‘ کی ضرورت تھی۔  اگر نظریات،  مولانا صاحب ، صرف نظریات رہیں اور ان پر دامے دِرَمے قدمے اور سخنے عمل نہ کیا جائے ، تو کسی  تصور کو بھی  عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔  ہمارے ملک کی تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے ارباب حل و عقد نے ملک اور قوم دونوں کو خیر آباد کہہ کر، بدقسمتی سے، اپنے مفاد اور اپنے حواریوں کے مفاد کو ترجیح دی۔  نظریے کا جہاں تک تعلق ہے وہ آج بھی موجود ہے۔ لیکن  ساتھ ساتھ قائد اعظم کی اُس تقریر کی طرف  میں آپ کو اشارہ کر نا چاہتا  ہوں جس میں انہوں نے یہ  فرمایا تھا کہ مذہب، ثقافت، زبان کے علاوہ مسلمانوں کے سامنے ایک اور اہم سوال بھی ہے  اور وہ  یہ کہ ان کا مستقبل جبھی روشن ہو سکتا ہے جب وہ ملک میں پوری طرح سیاسی، سماجی اور اقتصادی  حقوق حاصل کرلیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہماری اِس  پچیس (25) سال کی  تاریخ میں، کیا ہم نے وہ کام کیے جو خاص کر اقتصادی اور سماجی حقوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟

میزبان: میں، زیدی صاحب، اس سلسلے میں راجہ صاحب سے رجوع کروں گا کہ مسلم لیگ کی قیادت جس میں آپ بھی شریک تھے، یعنی  یہ کہ  سات سال میں یہ مطالبہ پورا ہوا، سن چالیس کی قرار داد کے بعد ، یعنی یہ کہ  ہم  میں اضمحلال اور تھکن کیسے پیدا ہو گئی  کہ ہم نے اُس کو فروغ نہیں دیا جیسے کہ مولانا ابھی فرما رہے تھے ۔

راجہ صاحب: میرے خیال میں ہم لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ  1947ء میں اتنی بڑی ذمہ داری ہماری سپرد کی جائے گی ۔  کوشش ہر ایک کی یہ تھی کہ اس مقصد کو سامنے رکھیں اور جس وقت بھی اس کا موقع ہوگا کہ یہ ذمہ داری ہمارے ہاتھ میں آسکے،  اس کے لیے ہم تیار ہوں۔  خود میرے خیال میں کانگریس  کے قائدین اور ہماری جماعت کے قائدین کو 1946ءکے آخر تک یہ پورا یقین نہیں تھا کہ اقتدار واقعتاً منتقل ہو گا۔ بہت کچھ یقین ہو چکا تھا لیکن پورا یقین نہیں تھا ۔   کچھ حالات ایسے تھے  کہ جن کی وجہ سے  حکومت برطانیہ نے یہ مناسب سمجھا کہ اس وقت کے قائدین جو موجود تھے  اور جن  سے وہ واقف تھے اور جن کو  وہ جانتے تھے ، ان کے ہاتھ میں  اقتدار منتقل کرنا بہتر ہوگا بہ نسبت اس کےکہ ایک ایسے افراد کے ہاتھ میں انہیں  منتقل کرنا پڑے جن کے وہ روشناس نہ تھے ۔ اور یہ سبب تھا کہ برصغیر میں انہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ اُن حالات میں اب اُن کی وہاں موجودگی ، اُن کے حق میں مناسب اور مفید نہیں  ہے ۔   بلکہ اگر اِس قیادت کے ہاتھ میں اقتدار منتقل ہو گیا اور پہنچ گئیں وہ چیزیں،  حکومت کا انتقال ان کے ہاتھ میں ہو  گیا،  تو  وہ تعلقات جو برطانیہ اور برصغیر کے تھے وہ ایک حد تک قائم رہیں   گے ۔

میزبان: لیکن اس میں ، راجہ صاحب! ۔۔۔

مولانا میاں: (بات کو قطع کرتے ہوئے ) اگر اجازت ہو ، تو  میں ۔۔۔  ڈاکٹر صاحب نے جو ابھی  سوال اٹھایا اور آپ نے مزید، راجہ صاحب کی طرف متوجہ کیا ۔  میں اس سے متعلق  کچھ عرض کر دوں ۔

میزبان: جی بالکل۔ جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے بات کہی تھی سماجی  اور اقتصادی مسائل کی ، اس کے ساتھ میں ایک اضافہ یہ بھی کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ ایسا تو نہیں تھا کہ  خود مسلم لیگ کی قیادت نے وہ جمہوری روایت قائم نہیں کی جن کی وجہ سے وہ  ملک چل سکتا تھا ۔

مولانا صاحب: دیکھیے، میں ایک چیز کی وضاحت کر دینا چاہتا ہوں کہ  گزشتہ سال جو واقعہ  پاکستان میں  پیش آیا۔ عظیم حادثہ، جس میں مشرقی حصہ، مغربی  سے الگ ہو گیا۔ اُس  کو میں ، اپنی اور  اپنے ملک کی کمزوریوں کی وجہ سے نہیں سمجھتا  ہوں ۔ ہم سے زیادہ کمزور اور پراگندہ لوگ دنیا میں موجود ہیں اور ان کی مملکتیں قائم ہیں ۔ پاکستان کو ٹکڑے کرنے میں ان طاقتوں کا حصہ ہے جو ایک عظیم مسلم سلطنت کی بقا کو اپنے سامراجی عزائم کی راہ  میں حائل سمجھتے تھے ۔   یہ حادثہ  ، محض  ہماری خامیوں اور کمزوروں کی وجہ سے پیش نہیں آیا ہے۔  اس میں کسی اور(دوسرے)  کی بھی ستم گری کا سلیقہ ہے ۔

مولانا جمال میاں: مگر ڈاکٹر صاحب نےجو بات ابھی  فرمائی اقتصادی امور کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ۔  پاکستان جس دن سے بنا،  پاکستان کی حکومت کی یہ  کوشش رہی کہ اِن علاقوں کی اقتصادی حالت بہتر ہو۔  بد قسمتی سے ہمیں تقسیم میں جو علاقہ ملا ، اس میں صنعتیں موجود نہیں تھیں ، اس میں ذرائع نقل و حمل  کے  نہیں تھے۔ مکمل حکومت کے،  منظم حکومت کرنے کے اسباب و  وسائل جیسے ہندوستان میں تھے ، وہ  پاکستان کوتقسیم  میں ملنے ہی  نہیں  پائے ۔  اس لیے ہمارے قائدین نے ابتدا ءسے، نیو (بنیاد) کی اینٹ سے  کام  شروع کیا ۔ اور یہ سمجھنا کہ پاکستانی قیادت نے اقتصادی امور کو نظر انداز کیا، یہ صحیح نہیں ہے۔  میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں  کہ جو مسلمانان بنگال کی حالت پارٹیشن(تقسیم) سے پہلے  تھی، اس سے  کہیں زیادہ  بہتراِس وقت  ہے۔ اُس وقت تھی اِس   حادثے (سقوط  مشرقی پاکستان) سے پہلے ۔  اب جو حالت ان کی ہو، اُس سے میں صحیح طور عرض نہیں کر سکتا  کیونکہ  میرے خیال میں ، ان کی حالت اس وقت بہت ہی تشویش ناک تھی۔  اس طرح سندھ اور دوسرے  علاقوں میں بھی  مسلمان بڑے پسماندہ تھے اقتصادی طور پر۔ اور پاکستان بننے کے بعد، حکومتیں چاہے کیسی ہی  رہی ہوں ضرور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی اور انہوں نے ترقی کی ۔ ہاں یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جن امیدوں کے ساتھ یہ وطن بنایا  گیا تھا، جن توقعات کے ساتھ ،وہ ہم نہیں پوری کر سکے ۔

ڈاکٹر زوار زیدی: میں مولانا  صاحب سے بالکل اتفاق کرتا ہوں کہ ڈارلنگ نے اپنی کتاب میں نہ صرف بنگال  کے مسلمان اور سندھ کے مسلمانوں کی طرف توجہ دلائی ہے ،  بلکہ پنجاب کے کسان کے لیے  کہا ہے کہ یہ کسان قرضے میں پیدا ہوتا ہے قرضے میں جیتا ہے اور قرضے میں مرتا ہے۔  میں عرض یہ کروں گا کہ 1947ء  میں جو قوم اور  جو مسلمان اُن تکالیف کو جھیل کر جو اُن پر 1947ء میں  پڑیں اور اُن تمام وسائل جو کسی حکومت کو چلانے کے لیے موجود ہونے چاہییں  اُن کی غیر موجودگی  میں اِس سلطنت کوایک  اچھے ڈگر پر چلا سکتے تھے۔  کیا وجہ ہے کہ اُس امتحان کے وقت ہم  لوگ  کامیاب ہوگئے جب دنیا یہ کہتی تھی کہ پاکستان خدا نخواستہ قائم نہیں رہے گا؟ اوراُن برسوں کے بعد کچھ ایسا دور آیا کہ ہم زوال کی طرف رجوع ہوئے۔

میزبان: کیا  آپ کے خیال میں، جیسا کہ دولتانہ صاحب نے یہاں یومِ آزادی  کی تقریبات میں کہا کہ اس کی بنیادی وجہ اُن کی نظر میں  یہ ہے کہ جمہوریت کو وہاں پنپنے نہیں دیا گیا ۔ اور میں ، چونکہ راجہ صاحب بھی یہاں موجود ہیں اور جمال میاں صاحب بھی موجود ہیں ،  یہ پوچھوں گا کہ کیا یہ خرابی  یا کمزوری جو تھی اُس  جماعت میں تھی، اس حد تک کہ  انہوں نے جمہوری روایات کو فروغ نہیں دیا؟

راجہ صاحب: مجھے اگر اجازت ہو، تو اس سلسلے میں کچھ عرض کروں ۔ وہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے  کہ قائد اعظم جمہوری طریقے سے فیصلے نہیں کیا  کرتے تھے ۔ میرا یہ صرف عقیدہ نہیں بلکہ اپنی پوری ریسرچ کا لب لباب ہے کہ کوئی فیصلہ نہ کونسل، نہ ورکنگ کمیٹی میں مسلم لیگ کی آج تک  پیش  کیا گیا ،جب تک قائد اعظم زندہ   رہے ، جب تک کہ تمام کونسل اور تمام ورکنگ کمیٹی کے ممبران نے اس پر بحث نہیں کی۔  وہ جمہوری نظام کے قائل تھے۔ انہوں نے جمہوری نظام کی بدولت پاکستان بنایا۔  جیسا کہ دولتانہ صاحب نے کہا کہ پاکستان اُس جمہوری جدوجہد کا  بچہ ہے یعنی اگر اور (دوسرے) ممالک آزاد ہوئے  ہیں، تو ان میں ریفرنڈم کی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں سلہٹ میں ریفرنڈم کیا گیا۔ نارتھ فرنٹیئر پروونس (صوبے) میں ریفرنڈم ہوا۔  پنجاب کی اسمبلیوں  نے ووٹ دیا، بنگال کی اسمبلیوں نے ووٹ دیا۔ یہ خیال کہ شاید اُس قیادت میں جمہوریت نہیں تھی، بالکل غلط ہے۔

میزبان: لیکن بعد میں جو حالات گذرے، اُن میں تو یہ  ظاہر ہے کہ وہاں جمہوریت کو ختم کیا گیا  جس کی بناء پر یہ حالات پیدا ہوئے ۔ دوسرا ،   جمال میاں صاحب یہ سوال پیدا ہوتا ہے   کہ جو اصل قرار داد تھی اور  اُس میں جو  صوبوں کو حقوق دینے کا  وعدہ کیا گیا تھا ، آیا اُس پر ہم قائم رہے ۔

مولانا جمال میاں: آپ کے سوال کا پہلا جُز ، جو  جمہوریت سے متعلق ہے ۔  میں کوئی اُس پر بحث نہیں کرنا چاہتا ۔  میرا حقیر خیال یہ ہے کہ ہمارے زوال کا اصلی سبب قیادت کا فقدان تھا ۔ جس شخصیت  کا آدمی، قائد اعظم  محمد علی جناح ، ہم کو  اللہ نے دیا تھا۔  بدقسمتی سے ہم ویسے لوگ مسلسل نہیں پا سکے۔  اور ہماری قوم کو، طرز حکومت چاہے وہ جمہوری  ہوتا یا کوئی اورہوتا، اس سے آگاہی نہیں تھی۔ اس کو آزادی نئی نئی  ملی تھی۔ یہ سب تجرباتی دور میں  تھے کہ  کیسا نظام حکومت ہو۔ لوگوں کی نگاہ، اصل میں اُس فرد پر رہتی تھی جو حکومت چلا رہا ہو۔ قائد اعظم کی حالت یہ تھی کہ ان کی طرف قوم پوری کھچ کے چلی گئی تھی۔  اس کے بعد یہ رتبہ، قائدِ ملت لیاقت علی خان کو حاصل رہا ، اور(دوسرے ) لوگوں نے  بھی رفتہ رفتہ حاصل کیا۔  اور میں ، پاکستان  میں سمجھتا ہوں  کہ نئی جوان قیادت ابھرے  اور ابھر رہی ہے ۔ ممکن ہے کہ اللہ پھر ہم میں وہی  جذبہ پیدا کردے۔ قوم کو کسی ایک شخص پہ متفق کر دے ۔ میرے خیال میں ، اصل میں ، نظام حکومت سے  زیادہ فقدانِ  قیادت تھا۔

مولانا جمال میاں: دوسری چیز جو آپ نے فرمائی ۔  دوسری بات لاہور ریزولوشن (قرارداد)اور  صوبائی اختیارات کے متعلق  ہے ۔  میں یہ عرض کردوں  کہ لاہور میں  ہماری ایک تجویز تھی ، پھر دہلی کنونشن میں ہم نے ایک ریزولوشن ( قرارداد) پاس کیا۔  یہ سب تو ایک جذبے کے ترجمان تھے جو ہمارے دل میں پورے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک وطن دینے کے سلسلے میں  تھا۔  یہ سب سیکنڈری (ثانوی ) چیزیں تھیں کہ صوبے کو اختیار زیادہ  ہو گا  یا مرکز کو ۔  ہم چونکہ  مسلمانوں  کےلیے مفید سمجھتے تھے کہ صوبائی خودمختاری زیادہ   ہو، اس لیے ہم اس وقت صوبائی خودمختاری  پہ زور دے رہے تھے  ۔ پاکستان کے قیام کے بعد، ہم نے اس  پر اس لیے زور نہیں دیا کہ ہمارا اصلی نصب العین  ،  وفاقی نظام یا  ایک وحدانی نظام نہ تھا۔  ہمارا اصل مقصد تو تھا کہ مسلمان  اپنی ایک مملکت پا (حاصل  کر )  جائیں ۔ اس لیے ہم نے اس پر زیادہ زور نہیں دیا  کہ صوبوں کو کیا اختیارات ملتے ہیں۔ 

میزبان: جی، میں اب راجہ صاحب  ۔۔۔۔۔

مولانا جمال میاں: یہ ، میں اس (بات ) کو ختم کر دوں  ۔ لاہور ریزولوشن (قرار داد) وغیرہ  پر  بہت گفتگو ہو چکی ہے ۔ اور  آج کل بھی اس کا ذکر کیا جارہا  ہے ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ  جب تک برصغیر  میں  تنگ دلی اور تعصب موجود  ہے ۔ اور  ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہ علیحدہ علیحدہ حیثیتیں موجود ہیں۔ جب تک  میں نہیں سمجھ سکتا ہوں کہ پاکستان بنا کر مسلمانوں نے کوئی غلطی کی تھی۔

میزبان: راجہ صاحب! اس سلسلے  میں ، جیسا کہ جمال میاں فرما رہے تھے کہ صوبوں کا مسئلہ یا اُس وقت اختیارات کا مسئلہ ہمارے   ذہن میں نہیں تھا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی نظر میں ، صرف مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا رکھا جا سکتا ہے ؟  یعنی اب تو مشرقی پاکستان کے واقعے سے  کچھ اور  ہمیں نظر آرہا  ہے ۔ اُس نظریے پر کوئی ضرب سی لگتی معلوم ہوتی ہے ۔

راجہ صاحب: میرا  تو یہ عقیدہ ہے کہ   اگرصحیح قسم کا مذہبی خیال ہو جس  کے معنی یہ نہیں   ہیں کہ تنگ نظری ہو ،   بلکہ واقعتاً  اگر کشادہ دلی ہو ، مذہب کے ساتھ ساتھ ۔ اور   مذہب کے معنی  سب سے بڑے تو یہی ہیں کہ   انسان کا اخلاق اوراُس کا  کردار اچھا ہو ۔  میں سمجھتا ہوں  کہ اگر مقصد کا بھی  تعین ہو ، اس کے سامنے مقصد ہے ، ہدف ہے ، تو وہ  چیز باقی رہ سکتی ہے اور ملک باقی رہ سکتے ہیں۔  لیکن مولانا نے جو چیز فرمائی تھی  کہ   بہت سے ایسے عناصر سازش میں شریک تھے  کہ پاکستان کو ختم کریں ۔ اور اب بھی ہیں ۔ سب سے زیادہ جو چیز  کھٹک رہی تھی اور کھٹک رہی ہے اب بھی ،  مسلمانوں کی وہ طاقت ہے   جو اُن کو ظاہر ہے کہ  مذہبی بنیاد پر  حاصل ہے ۔ اور وہ یقین ہےجس سے  دنیا گھبرا رہی ہے ۔ اور جہاں جہاں  پر بھی، آپ تاریخ میں دیکھیں گے ، جب بھی  اس کی کوشش ہوئی ہے کہ مسلمان متحد ہوں ، تو  کچھ قوتیں ایسی اُبھری  ہیں  غیر مسلم  یا خلاف ِ اسلام  جنہوں نے اندرونی سازشوں سے  اور باہر کے ذرائع اختیار کر کے ان تمام منصوبوں کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اس طرح اتحاد کو ختم کر دیا ۔ لیکن یہ کہہ دینا  کہ مذہب متحد نہیں کرتا ہے  یا کرتا ہے ،  اس پر منحصر ہے کہ کتنا آدمی  واقعتاً مذہبی ہے۔  یہ نہیں  ہے کہ مذہب میں کوئی قوت نہ ہو۔  ہر چیز میں قوت ہے ۔ زبان کا اتحاد ہوتا ہے،نسل کا اتحاد ہوتا ہے ،  رنگ کا اتحاد ہوتا ہے  ۔ لیکن  اخلاق  کا اور اقدار کا اور ہدف کا اتحاد،  بہت بڑی چیز ہے۔

میزبان: راجہ صاحب ! مستقبل  کی آپ کو کیا امید نظر آتی ہے؟

راجہ صاحب: مجھے تو امید ہے کہ مستقبل درخشاں ہے ۔ ہم نہ سہی، ہمارے بعد آنے والے جوہیں وہ  ان چیزوں کو اٹھائیں گے ۔اور  وہ  سرفروشی جو  ہم میں نہ سہی ، اُن میں ہوگی۔  اور ان کی قدرت مدد کرے گی۔  میں مایوس نہیں ہوں ۔ البتہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ موجودہ جو حالات اس وقت ملک میں ہیں یا عام طور پر مسلم مما لک میں ہیں،  اس سے دم گھٹتا ہے۔ لیکن  میں مایوس نہیں ہوں۔  میں اس وعدے پر بالکل  پورے طور پر یقین رکھتا ہوں۔ سَیعلَمُ الّذینَ ظَلَموا أَی مَنقَلَبٍ ینقَلِبونَ (آیت227، سورہ شعراء)

میزبان: آج کے دن ،راجہ صاحب ، آپ پاکستانیوں  سے  کیا کہناچاہیں گے ۔آخری بات!!!

راجہ صاحب: آج کہنے کی بات نہیں ہے ، آج کرنے کی بات ہے۔

میزبان: جزاک اللہ !!

راجہ صاحب: اور انھی میں شامل ہو کے، کچھ ان کے ساتھ اُن کی مصیبتوں کو جھیلنا ، یہی اُن کے آئندہ مستقبل کی ضمانت ہے ۔ یہ جذبہ اگر ہر شخص میں  پیدا ہو جائے ، صحیح ہے ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search