فیض آباد دھرنا- تحریر: محمد دین جوہر

[نوٹ: فیض آباد دھرنا مولانا خادم حسین رضویؒ کی قیادت میں ۵/دسمبر سے ۲۶/دسمبر سنہ ۲۰۱۷ء تک جاری رہا تھا۔ دھرنے پر یہ مضمون اسی دسمبر کے آخری ہفتے میں تحریر کیا گیا تھا۔ اسے سہ ماہی ”جی“ کے اداریے کے طور پر لکھا گیا تھا، لیکن مجلے کی اشاعت میں تعطل کے باعث اس کی اشاعت نہ ہو سکی۔ ۱۹/ نومبر سنہ ۲۰۲۰ء کو مولانا خادم حسین رضویؒ کی رحلت کے پس منظر میں اس تحریر کو کسی کمی بیشی یا تبدیلی کے بغیر من و عن شائع کیا جا رہا ہے۔مصنف]

فیض آباد دھرنے سے ایک نئی سیاسی آواز قومی منظرنامے کا حصہ بن گئی ہے۔ اس کے دور رس اثرات کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا، لیکن ایک مذہبی اور سیاسی واقعے کے طور پر یہ دھرنا سنجیدہ تجزیے کا متقاضی ہے۔ اس پر جو بھی داد سخن دی گئی وہ بالعموم مخالفانہ تھی، اور خاص طور پر  مولانا خادم حسین رضوی کے اسلوبِ تقریر کے بعض اخلاقی پہلؤوں کو بجا طور پر ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ لیکن اس تنقید و تجزیے کو کافی فرض کر لینا درست نہیں۔ عموماً دھرنے کو ایک نظریۂِ سازش کے تحت زیربحث لاتے ہوئے اسے کچھ پس پردہ قوتوں کا کھیل قرار دیا گیا۔ موجود سیاسی منظرنامے اور پارٹی بازی کی صورت حال میں اس کی تفہیم عام طور پر سطحی اور تمسخر آمیز ہی رہی۔ اسی طرح دھرنے میں سامنے آنے والے مذہبی موقف کو بھی چٹکیوں میں اڑا دیا گیا۔ قومی میڈیا میں اس کو بہت کم جگہ ملی، اور اس کی خبریں زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے گردش میں آئیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں مثلاً مسلم لیگ (نون)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے عموماً خاموشی اختیار کی۔ مذہبی جماعتوں مثلاً جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے بھی اس دھرنے پر کوئی اہم بیان نہیں دیا۔ دھرنے کے خلاف پولیس ایکشن کے دوران قومی اور سوشل میڈیا بلیک آوٹ جنگی نوعیت کا تھا اور اس کارروائی کی قابلِ اعتبار تفصیلات بھی معلوم نہیں۔ اس دھرنے کی وجہ سے کچھ قومی حلقوں پر رنج کی کیفیت بھی طاری رہی۔ دھرنے کی جائے واقعہ پر سماجی زندگی کی درہمی کو بھی بجا طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ دھرنا بنیادی طور پر پنجاب حکومت کی کارروائی تھی، یا سول ملٹری کشمکش میں یہ وفاقی حکومت کا ایجنڈہ تھا، یا یہ کہ دھرنے کے پیچھے اصل ہاتھ قیامیہ کا تھا۔ پھر دھرنے کے حوالے سے سرمائے کے وسیع لین دین کا تذکرہ بھی چلتا رہا،  اور سرمایہ کاروں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ کچھ حلقوں میں فیض آباد دھرنے کو حکومت کی بڑی ناکامی، قیامیہ کی سازش اور بریلوی طبقے کو ریڈیکل بنانے کے منصوبے کے طور پر بھی دیکھا گیا۔

گزارش ہے یہ ساری باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ فیض آباد دھرنے کے بارے میں دستیاب اور باہم متضاد بیانیے درست ہیں، تب بھی اس کے تجزیے اور تعبیر کا کام فی الحال باقی ہے، اور اسلوب اظہار کے تاسف انگیز پہلوؤں کے علی الرغم اسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

دھرنے کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ (۱) دیوبند کا سیاسی مکتب فکر اس سے تقریباً مکمل طور پر لاتعلق رہا؛ (۲) قومی دھارے میں پہلے سے موجود بریلوی سیاسی قوتوں نے بھی اس کی مخالفت کی؛ (۳) انگریزی اور اردو میں لکھنے والے تقریباً تمام تجزیہ نگار نہ صرف دھرنے کے خلاف تھے بلکہ اس کے لیے سخت تحقیری جذبات کا اظہار کرتے رہے؛ (۴) متجددین پر فیض آباد دھرنے کی وجہ سے سکتے کی کیفیت طاری رہی؛ (۵) سیکولر خیال تجزیہ نگاروں کی رائے بھی نہایت سخت رہی؛ (۶) عام تعلیم یافتہ مسلمان حالتِ خوف میں تھے؛ اور (۷) مفلوک الحال طبقات بالعموم دھرنے کے ساتھ تھے یا اس سے گہری ہمدردی رکھتے تھے۔

روایتی اور تاریخی طور پر اہل سنت و الجماعت معاشروں کا اساسی بیان یہی رہا ہے جسے مولانا ایوب دہلوی علیہ الرحمہ نے خوب بیان فرمایا ہے کہ ’’اسلام حقیقتاً رسالت کا علم بردار ہے اور توحید اس میں متضمن ہے‘‘ ۔

جیسا کہ معلوم ہے کہ دھرنے کی فوری وجہ قانونِ ختم نبوت یا اس کی کچھ شقوں میں ایسی تبدیلی تھی جس کی اصل حقیقت ابھی تک پردۂ اسرار میں ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس تبدیلی کے ڈانڈے یقینی طور پر Atheist               Ireland تنظیم سے جا ملتے ہیں جو اقوام متحدہ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی غلام گردشوں سے ہوتے ہوئے پاکستان تک پہنچے تھے۔ قانونِ ختم نبوت میں رد و بدل کے پراسرار ماحول اور اس پر گہری قومی خاموشی میں دھرنے جیسا رد عمل حیرت انگیز ہے۔

تجزیے اور تبصرے کو تھوڑی دیر کے لیے مؤخر کرتے ہوئے مولانا رضوی کے قومی سطح پر ظاہر ہونے والے سیاسی اور مذہبی موقف کے بنیادی اجزا کو دیکھنا ضروری ہے:

(۱) مسلم شناخت کے حوالے سے انہوں نے توحید  کی بجائے غلامی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو مرکزی اہمیت دی ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت اور غلامی رسول صلی اللہ علیہ و سلم مسلم معاشرے کی نہ صرف اصلِ حیات ہے بلکہ اس کی سیاسی شناخت کی اساس بھی ہے۔ روایتی اور تاریخی طور پر اہل سنت و الجماعت معاشروں کا اساسی بیان یہی رہا ہے جسے مولانا ایوب دہلوی علیہ الرحمہ نے خوب بیان فرمایا ہے کہ ’’اسلام حقیقتاً رسالت کا علم بردار ہے اور توحید اس میں متضمن ہے‘‘۔  برصغیر میں وہابی اثرات اور تحریکِ مجاہدین کی سیاسی سرگرمی کے ساتھ ہی اس موقف میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور یہ بتدریج پس منظر میں چلا گیا۔ بعد ازاں ثقافتی اور سیاسی سطح پر اور علوم متداولہ میں حضور علیہ الصلوۃ و السلام سے نسبتِ غلامی کا اظہار اعتماد کی قوت سے محروم ہوتا چلا گیا۔

’’اسلام امن کا مذہب ہے‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے اسلام جنگ کا مذہب ہوا کرتا تھا۔ اس کا مطلب بہت سادہ ہے کہ اسلام کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں رکھتا اور اس حوالے سے مکمل طور پر مغرب کا متضمن ہے۔

(۲) مولانا رضوی کے مطابق اسلام امن کا مذہب نہیں ہے۔ سنہ ۱۸۵۷ء کی شکست کے بعد جب اسلام اور مسلمانوں کو پابجولاں استعماری کٹہرے میں لایا گیا تو جس اعترافی بیان پر ان دونوں کی جان بخشی ہوئی وہ یہی تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ ہماری طرف سے مولوی چراغ علی، سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد قادیانی وکلائے صفائی کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ اس فیصلے پر مسلم معاشرے کے بااثر اور جدید طبقات میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔  اسلام کو امن کا مذہب ہونے کی شرط پر، اسے مسلم معاشروں میں سر چھپا کر اور کہیں سر نیوڑھا کر زندہ رہنے کی اجازت مل گئی۔ اب تو بلا تفریق فرقہ و مکتبِ فکر سارے مسلمان ’الحمد للہ‘ اسلام کو امن ہی کا مذہب سمجھتے ہیں۔ اور یہ امر ہمارے استعماری اور استشراقی آقاؤں کے لیے غیر معمولی طمانیت کا باعث رہا ہے۔ مغرب سمیت تقریباً سارے اہل اسلام، اسلام کو امن ہی کا مذہب سمجھتے رہے ہیں۔ اس کی حتمی دلیل یہ لائی گئی ہے کہ لفظ “اسلام” کا مطلب امن اور سلامتی ہے۔ ’’اسلام امن کا مذہب ہے‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے اسلام جنگ کا مذہب ہوا کرتا تھا۔ اس کا مطلب بہت سادہ ہے کہ اسلام کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں رکھتا اور اس حوالے سے مکمل طور پر مغرب کا متضمن ہے۔ مولانا رضوی کا یہ کہنا کہ اسلام امن کا مذہب نہیں ہے عصر حاضر کے جدید اور نیم جدید مسلم اجماع کو خنجر کی طرح لگتا ہے اور جدید تعلیم یافتہ مسلمان اس پر شدید بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے، اور ڈیڑھ صدی کی ذہن سازی کے بعد اسے یہ بات ماننے میں تامل ہے کہ اسلام امن کا مذہب نہیں ہے۔

(۳) مولانا رضوی صاحب کا موقف یہ ہے کہ ہمیں تخت پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دین چاہیے۔ ان کی یہ بات بھی عمومی اجماع کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ تاریخی طور پر اور خاص طور سے بیسویں صدی کے آغاز سے آل انڈیا مسلم لیگ کے علاوہ مسلمانوں کی سیاسی اور مذہبی تحریکیں تخت کی دعویدار نہیں رہیں، اور نہ وہ  سیاسی طاقت کی جدوجہد میں شریک رہی ہیں۔ مثلاً تحریک خلافت تو براہ راست ہندوستانی معاشرے سے مخاطب ہی نہیں تھی اور اس کا سیاسی ایجنڈہ معروف معانی میں طاقت کی جدوجہد سے دستبرداری اور استعماری حکمرانوں سے ایک مطالبے تک محدود تھا اور جس کا برصغیر اور اس کے سیاسی حالات سے کوئی بالواسطہ یا  براہ راست تعلق بھی نہیں تھا۔ جبکہ اپنے منشور کے مطابق جمیعت علمائے ہند طاقت کی جدوجہد میں شریک نہیں تھی اور اس کا مطالبہ ہندو مسلم اتحاد تھا تاکہ ”انگریز“ کو یہاں سے نکالا جا سکے۔ ہندو مسلم اتحاد اصلاً ایک اخلاقی اور اصلاحی مطالبہ ہے جسے سیاسی محاورے میں سامنے لایا گیا۔ دوسرے لفظوں میں اس کا بنیادی مقصد بھی ”مذہبی تعلیمات“ کی روشنی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ”غلط“ سیاسی موقف کی اصلاح ہی تھا۔ خاکسار جیسی فسطائی تحریکیں زوال یافتہ مسلم معاشرے کی وجودی نراجیت اور نہلزم کا اظہار تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھی مذہبی جماعتیں اسلام کو آلاتی طور پر استعمال کرتے ہوئے، اور پاکستانی ریاست میں قائم طاقت کے متوارث استعماری نظام کو زیر بحث لائے بغیر، عین اسی سیاسی نظام سے اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ مولانا رضوی صرف اسلامی قوانین کے نفاذ کی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ ”تخت“ کہہ کر پورے سیاسی نظام اور اس کی ساخت کو زیر بحث لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

فرد کی آرزو فراستی علم اور ٹھوس عمل کے بغیر خام رہتی ہے۔ عین یہی شرط سیاسی جماعت اور اس کے نعرے پر بھی زیادہ شدت سے عائد ہوتی ہے۔ 

(۴) مولانا رضوی نے اجمالاً معاشی عدل کی بات کی ہے۔ مذہب کو آلاتی طور پر استعمال کرتے ہوئے پیروں اور پیشواؤں نے اسے معاشی جلب منفعت کا جس طرح ذریعہ بنایا ہے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

(۵) ہمارے ہاں فکر اقبال کو ’’اقبال ڈال‘‘ کے اصول پر ہر نوع کی سیاسی فکر کو قبول یا رد کرنے کے لیے جس طرح استعمال کیا گیا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ طالب علموں کی طرف سے ڈگریوں کے لیے جعلی مقالے لکھنے سے لے کر پرویز کے جعلی اسلام تک اقبال کی تفہیم لوٹ کے مال کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ کسی مذہبی جماعت نے بھی اقبال کو کبھی own نہیں کیا، اور”سیاسی“ اقبال عموماً ریاستی ملکیت میں رہا ہے، اور اب ریاست بھی اس سے دستکش ہوتی نظر آتی ہے۔  مولانا رضوی کے ہاں ظاہر ہونے والی اقبال کی تفہیم سیاسی دائرے (public               domain) میں بالکل نامانوس ہے اور مکمل طور پر فراموش گاری میں تھی۔ اقبال کی اس ”نئی“ اور ”بھولی بسری“ تفہیم پر کئی حلقے بے چینی اور تشویش کا شکار ہیں۔ اقبال کی یہ تفہیم بھی برصغیر میں مسلمانوں کے عمومی اجماع کی عین ضد ہے، اور جو عموماً فلسفی غیر فلسفی کے دُھرے پر گھومتی رہی ہے۔ اقبال مسلمانوں کی اصلِ حیات غلامیِ رسول کو قرار دیتے ہیں اور یہی غلامی اقبال کے ہاں معراجِ عشق ہے۔ مولانا رضوی اس پہلو کو جس شدت سے سامنے لائے ہیں وہ پہلی دفعہ ہوا ہے۔ اقبال ردِ مغرب کے جس پورے تناظر کا نام ہے وہ جدید اسلام کی شبانہ روز محنت سے نسیاً منسیاً ہو گیا تھا۔ مولانا رضوی نے اقبال کے ردِ مغرب کے تناظر کو جس طرح سامنے لانے کی کوشش کی ہے وہ نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ معاشرے کے محفوظ مسلمانوں کے لیے سراسیمگی کا باعث ہے۔

(۶) برصغیر کی مسلم تاریخ بھارتی وزیر اعظم نریندرا جی مودی اور بی جے پی کا ایجنڈہ ہے۔ ہندوتوا کے سیاسی فلسفے اور عمل کی تشکیل اس تاریخ سے مسلسل تعرض کیے بغیر ممکن نہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں اب اس کا کوئی وارث نہیں، کیونکہ اس تاریخ کے ہوتے ہوئے اسلام کو امن کا مذہب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا رضوی نظریۂ پاکستان، اقبال اور برصغیر کی مسلم تاریخ کو مکمل طور پر own کرتے ہیں۔ یہ پیکج بھی ہمارے ہاں نہ صرف نامانوس ہے، بلکہ  ایک بڑے حلقے کے لیے ”تشویشناک“ ہے۔ ہمیں بڑی خوش فہمی ہے کہ کسی بھی ماضی کے بغیر کوئی حال یا مستقبل ہو سکتا ہے۔ ہمارے نسیاً منسیاً ماضی کا ذکر بھی آج کے خوشحال اور جدید طبقات کے لیے باعث تسلی نہیں ہے کیونکہ ان کو موجودہ زمینی حقائق کی بنیاد پر کسی مفروضاتی اور ترقی یافتہ مستقبل میں زیادہ دلچسپی ہے۔

 مولانا رضوی نے ختم نبوت کے حوالے سے جس موقف کا شد و مد سے اظہار کیا ہے وہ نہ صرف عین دینی ہے بلکہ ہر لحاظ سے قابلِ ستائش ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ ہر زمانے کی طرح، جدید عصر میں بھی مسلمانوں کی اصلِ حیات ہے۔ مسلمان معاشرے کی یہ بنیادی ترین ذمہ داری ہے کہ اس عقیدے کی حفاظت اور دفاع کے لیے وہ اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے، اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ مولانا رضوی کی تحریک کا دوسرا پہلو سیاسی ہے اور اس ضمن میں انہوں نے دین کی جن سیاسی اقدار کا ذکر کیا ہے وہ بھی متفق علیہ اور معلوم و معروف ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اسلامی بنیادوں پر واقع ہونے والے سیاسی عمل میں یہ ایک نئی آواز ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مختلف بھی ہے یا پیشرو مذہبی سیاست کا اعادہ ہی ہے؟ یہ پہلو سنجیدہ تجزیے کا متقاضی ہے، کیونکہ اس کی پیشرو مذہبی سیاست ہماری تاریخ میں کوئی بڑا عملی مقصد حاصل نہیں کر سکی ہے اور نہ کوئی بڑی فکر سامنے لا سکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی سیاست نے طاقت کے متوارث نظام کی پیشرفت میں کئی روکیں ضرور لگائی ہیں اور کچھ قانونی قسم کی کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں۔ لیکن سیاسی عمل کا بنیادی ہدف طاقت کا نظام، اس کی نئی تشکیل یا اس میں تبدیلی اور اس کا کنٹرول ہوتا ہے، اور اس لحاظ سے ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں بالکل ناکام رہی ہیں۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ عام پاکستانی مسلمان دین کی اجتماعی اقدار سے باخبر ہے، اور وہ اس کی سیاسی آرزو ہیں۔ عین یہی اقدار ہماری مذہبی جماعتوں کا سیاسی نعرہ ہیں۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ فرد کی آرزو فراستی علم اور ٹھوس عمل کے بغیر خام رہتی ہے۔ عین یہی شرط سیاسی جماعت اور اس کے نعرے پر بھی زیادہ شدت سے عائد ہوتی ہے۔  معلوم اقدار کے اعادے سے انفرادی آرزو بامراد نہیں ہو جاتی۔ بعینہٖ اجتماعی اقدار کو نعرہ بنا دینے سے وہ قابل حصول نہیں ہو جاتیں۔ سیاسی نعرے کو فراستی علم اور ٹھوس اجتماعی عمل کی کمک کہیں زیادہ درکار ہوتی ہے، اور اگر اسے یہ حاصل نہ ہو تو وہ قائم و موجود طاقت کے نظام کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں،  اقدار، علم میں بول کر دنیا سے ہم کلام ہوتی ہیں اور عمل بن کر دنیا سے ملاقات کرتی ہیں۔ ہماری اقدار کو یہ بولنا اور یہ ملنا میسر نہیں۔ اگر اقدار معروف شرائط پر علم نہیں بن پاتیں، اور اپنا مطلوب سیاسی عمل بھی نہیں بن پاتیں، تو یقینی طور پر غالب نظام کی آلہ کار بن جاتی ہیں۔ اگر اقدار کا بیان درست ہو اور دنیا کا بیان دستیاب نہ ہو تو نتیجہ سازباز یا تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

اس حوالے سے مولانا رضوی کا سیاسی عمل پیشرو مذہبی سیاست کا تسلسل ہی ہے اور ان کی نعرہ زن اجتماعی اقدار سے تبدیلی کا امکان موہوم ہے۔ اس کا اندازہ مولانا کی ان گفتگوؤں سے بخوبی ہو جاتا ہے جو میڈیا کے ساتھ ہوئیں۔ مثلاً جب ایک ٹی وی اینکر نے مولانا سے آئی ایم ایف کے قرضوں اور ان کی واپسی کی قابل عمل صورت کے بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب نہ صرف غیر متعلق تھا، بلکہ مضحکہ خیز بھی تھا۔ اگر نعرہ زن اقدار کے مساوی اور ہم قدم علم بھی ان کو فراہم ہوتا تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی ہے۔ دین کی سیاسی اقدار کو وہ درست سمجھے ہیں، لیکن جس معاشرے اور دنیا کو بدلنے نکلے ہیں، اس کی جانکاری کیا مذہبی طور پر کوئی معیوب چیز ہے؟

 ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں یہ سمجھنے اور ماننے کو تیار نہیں کہ قانون قطعی ضمنی چیز ہے، اور اصل چیز سیاسی طاقت اور اس کا نظام ہے۔

 اہم تر یہ ہے کہ جدید عہد میں وقوع پذیر سیاسی عمل کو سمجھنے میں ہماری مذہبی جماعتوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔ وہ یہ سمجھنے اور ماننے کو تیار نہیں کہ قانون قطعی ضمنی چیز ہے، اور اصل چیز سیاسی طاقت اور اس کا نظام ہے اور سیاسی عمل کا بنیادی مقصد اس کا کنٹرول حاصل کرنا اور اسے اپنی اقدار سے ہم آہنگ بنا کر عوام دوست بنانا ہے۔ اس بنیادی حقیقت سے انکار اور غفلت ہماری تمام مذہبی جماعتوں کو قائم و موجود سیاسی نظام کا آلہ کار بنا دیتی ہے۔ اس بات کا حقیقی امکان موجود ہے کہ اپنے موقف کی ثقاہت کے باوجود مولانا رضوی کی سیاسی جماعت قائم و موجود طاقت کے نظام میں کسی عوام دوست تبدیلی کا باب نہ بن سکے۔ ہماری دینی سیاسی اقدار انسانیت کے لیے رحمت ہیں، لیکن ہر قدر کی طرح وہ خود نفاذی نہیں ہیں۔ ان اقدار کو تاریخی، معاشرتی اور انسانی حقیقت بنانے کے لیے فراست پر مبنی جس علم اور ٹھوس عمل کی ضرورت ہے، ہم ابھی اس سے بہت دور ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ مذہبی بنیادوں پر شروع ہونے والا ہر سیاسی عمل نہ صرف اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہتا ہے بلکہ عادلانہ معاشرے کا تصور ہی موہوم ہوتا چلا جاتا ہے۔

پرامن انسانی معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تشدد اور طاقت کے تمام ذرائع مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں ہوں، اور مزاحمت کے معروف سیاسی ذرائع معدوم نہ ہوں۔  تشدد کا منبع سیاسی نظام کی کوکھ ہے، اور اس کا جواز طاقت کے بیانیے اور سیاسی عدل سے حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مرکزی سیاسی طاقت کا بیانیہ ادھڑنے سے ریاست کا تشدد پر کنٹرول بھی کمزور ہوا اور تشدد کے منابع کو فروغ حاصل ہوا۔ جس کی قیمت پاکستانی عوام کو ادا کرنا پڑی۔ بدقسمتی سے برصغیر میں مسلم سیاسی طاقت کا بیانیہ اور مذہبی بیانیے باہم کبھی یک سمت نہیں رہے۔ مسلم سیاسی طاقت افتاں و خیزاں، بھلا برا، اپنا کام کرتی رہی ہے، لیکن ہمارے مذہبی سیاسی بیانیے نہ عوام کو کچھ دے سکے، نہ سیاسی طاقت کو راہ دکھا سکے، اور سازباز کی دھند میں گم ہو گئے۔ ہمیں منزلیں معلوم ہیں لیکن راستوں کا پتہ نہیں کہ سحر ابھی ہوئی نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی کا نیا بیانیہ شرر شب ہے کہ بانگ سحر؟

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search