کرونا تحریری مذاکرہ۔ مبصر: پیر الطاف

[کرونا وائرس کی وبا  پچھلے کئی مہینوں سے  پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے اثرات کی ہمہ گیری کے سبب  ہماری ویب سائٹ جائزہ نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ایک تحریری مذاکرے کا اہتمام کیا جائے۔ ایک سوالنامہ مختلف اہلِ علم کو بھیجا گیا جو اس لنک پر دیکھا جا سکتا ہے۔     ہمیں   کئی اہلِ علم کے جوابات موصول ہو چکے ہیں ۔ اس سلسلے کی تیسری کڑی جناب پیر الطاف کا یہ جواب ہے جو ان کے شکریے کے ساتھ جائزہ کے صفحات پہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر]

1۔سیاسی/معاشی نظام اب تک جس ڈھرے پر چل رہا تھا کیا مابعد کرونا بھی اسی طرح چلتا نظر آتا ہے یا آپ کوئی شدید (ریڈیکل) تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟

جواب:  میرا خیال ہے کہ معاشی نظام عارضی طور پر مفلوج رہے گا مگر جلد یا بدیر دوبارہ اپنی رفتار پر آجائے گا۔ البتہ مڈل اور لوئر کلاس کے طبقات کو مصنوعی ذہانت(AI) سے جو خطرات آسامیوں کی ذیل میں درپیش ہیں وہ دو چند ہوجائیں گے ۔عالمی سیاسی نظام البتہ جوں کا توں چلے گا تاآنکہ گلوبلائزیشن سے فزوں تر ہوتی طبقاتی کشمکش شاید کچھ انقلابات کا پیش خیمہ بن جائے۔ مگر یہ امکان ہی کی حد تک ہے۔

2۔کرونا کے خلاف جنگ اصلاً  سیاسی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے  اور  لامحالہ اس  کے اثرات بھی سیاسی ہوں  گے۔ اس جنگ میں کمزور سیاسی ڈھانچوں (خصوصَاً تھرڈ ورلڈ ) کے مستقبل کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ؟

جواب: میرا نہیں خیال کہ کرونا کے خلاف جنگ بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ اس سوال کی مزید وضاحت درکار ہوگی۔

3۔ کرونا کی وجہ سے  معاشی  اور سیاسی تباہ کاریوں   کو مغرب میں  بہت سے لوگ  فطرت  کے انتقام  (ماحولیاتی آلودگی) کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ کیا مشرق میں     کسی بیانئے مثلاً قدرت کا انصاف (مغرب کے نوآبادیاتی مظالم پر قدرت کی پکڑ ) کی علمی تشکیل کی جا سکتی ہے ؟

جواب: قدرت کا انصاف جیسے بیانیے کی علمی تشکیل تب ممکن ہوگی جب اس وبا کی گرد چھٹے گی۔ بادی النظر میں اس وبا سے بڑی معیشتوں کا نقصان واضح نظر آتا ہے لیکن ترقی پذیر دنیا کے نقصان کا کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے۔ چونکہ عالمی مالیاتی نظام قرض کی ایک گنجلک زنجیر کے مماثل ہے جس کے آخری سرے پر ترقی پذیر معاشرے ہیں لہذا یہاں تک اس کے معاشی اثرات پہنچنے میں وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی یہ بحث چھیڑی جا سکتی ہے کہ یہ قدرت کا انصاف تھا یا عذاب۔

4۔ کرونا سے نبٹنے کے لیے دنیا کی کئی حکومتوں نے  آمرانہ طرزِ حکومت اپنایا ،  لبرل اقدار  اور انسانی حقوق معطل ہو کر رہ گئے۔ کیا  اس امر سے انسانی حقوق کے آفاقی ہونے   پہ کوئی زد پڑتی ہے؟

جواب:  کچھ حکومتوں نے یقیناً آمرانہ طرز اپنایا مگر ان کے معاشروں میں جمہوریت بہت کمزور تھی۔ تاہم جمہوریت کے علمبرداروں نے پھر بھی اپنے قوانین سے روگردانی نہیں کی۔ اس ذیل میں انسانی حقوق کی بحث یقیناً دلچسپ ہے۔ تاہم مغربی معاشرے اپنی تاریخ کے ایک ایسے تاریک دور سے گزر چکے ہیں کہ شخصی آزادی کے موجودہ سحر کا  ٹوٹنا  بہت ہی مشکل ہے۔ آفاقیت کی بحث تب چھڑے گی جب مغرب کو اس کا کوئی ایسا متبادل نظر آئے گا جس کا تجربہ اس سے قبل نہ ہوا ہو۔ البتہ مشرقی معاشروں میں یہ بحث یقیناً چھیڑی جا سکتی ہے ۔

5۔  چین نے کرونا   سے نبٹنے کے لیے بڑی موثر حکمت عملی اپنائی لہذا  بہت سے تجزیہ کار  مغرب کے نیو لبرل  معاشی ماڈل  کے بجائے  چینی ماڈل کے بارے میں رطب اللسان ہیں  اور بعض  تو نیو لبرل  ماڈل کے خاتمے کی بات بھی کر رہے ہیں۔  آپ کیا سوچتے ہیں؟

جواب:  چین نے جو حکمت عملی اپنائی اس میں گزشتہ وباؤں کے باعث عالمی دباؤ نیز اپنے سیاسی اور معاشرتی ساخت کا بڑا عمل دخل تھا۔ یقیناً یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا امتحان ہے ۔ تاہم چین کے معاشی نظام کا اس ایک نکتے پر عالمی نظام سے موازنہ کرنا قبل از وقت ہے۔ چین کے بارے میں اب بھی ماہرین کا خیال ہے کہ   ؎

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائدار ہوگا

6۔۔کیا کرونا نے پوسٹ ماڈرن کنڈیشن کو چیلنج کیا ہے ؟

جواب: نہیں ۔ بلکہ اس میں تیزی لائے گا۔ وجوہات وہی ہیں جو جواب نمبر ۱ میں عرض کیں۔

7۔عوامی آگاہی کے تمام ذرائع (مثلاً صحت کے عالمی ادارے،  تھنک ٹینکس، ہمہ قسمہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹس،  میڈیا وغیرہ)  اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے زیر اثر ہیں۔ وبا کے بارے میں  یہ تمام ذرائع کسی بھی قسم کا تناظر فراہم کرنے میں  ناکام نظر آتے ہیں۔  آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: اس سوال کی اساس چونکہ ایک مفروضے پر ہے لہذا مجھے جواب دینے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان نے اس وبا کا مقابلہ اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کیا جب وہ اپنی تیاری کے جوبن پر تھا۔ مثلاً آج سے بیس برس قبل گھر سے آن لائن کام کرنا یا کسی وبا کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرنے کے تصورات ناپید تھے۔ تاہم عالمی نظام کے کچھ پہلو اس آفت کے لیے بالکل تیار نہیں تھے، جس میں بنیادی کردار کیپیٹلزم کے کچھ وحشیانہ پہلوؤں کا ہے۔ مثلاً فضائی سفر کے باعث فاصلوں میں طوالت کی کمی، معیشت کو انسانی زندگی سے مقدم جاننا وغیرہ۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search