کرونا تحریری مذاکرہ – سوالنامہ

جناب۔۔۔۔۔۔۔!

پچھلے کچھ مہینوں سے پوری دنیا کو  کرونا وائرس  کی وبا کا سامنا ہے ۔  اس صورتحال کا  سرسری جائزہ بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ وبا  دراصل ایک وبائے محض نہیں ہے بلکہ  نہایت   اہم  سیاسی و معاشی مضمرات کی حامل  صورتحال ہے۔ اس وبا کا ہر  لمحہ غیر یقینیت کا حامل ہے: اس کے منبع کے بارے میں بھانت بھانت  کی آراء سامنے  آ رہی ہیں ؛  وبا کے دوران  ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں بھی   درست اطلاعات کا فقدان ہے؛  اور مابعد کرونا     دنیا کے بارے میں بھی  یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔  البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وبا کے دوران    طاقت  کی گرفت سماج پر   مزید  مضبوط ہوئی ہے، وبا کے نتیجے میں کم از کم 84 ممالک میں  ایمرجنسی  کا نفاذ کیا گیا  نیز یہ کہ کمزور طبقات اور کمزور ممالک پر کرونا کے مہلک اثرات شدید تر ہیں۔  بدقسمتی  سے وطنِ عزیز پاکستان میں  کرونا وائرس کے مضمرات  کے حوالے سے  کوئی زیادہ سود مند گفتگو سننے میں نہیں آسکی لہذا ہماری ویب سائٹ ”جائزہ ڈاٹ پی کے” نے ایک تحریری مذاکرے کا فیصلہ کیا  ہے ۔ ہم نے  کچھ سوالات تیار کیے  ہیں جو   اہلِ علم کو ارسال کیے جا رہے ہیں  اوران  کے جوابات کو اکٹھا کر کے جائزہ کے قارئین کے  سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس سلسلے  میں ہم آپ سے بھی درخواست کر رہے ہیں ، امید ہے کہ آپ اپنے قیمتی وقت  میں سے کچھ  لمحات  ہمیں  ضرور عنایت کریں گے۔

سوالات:

1۔سیاسی/معاشی نظام اب تک جس ڈھرے پر چل رہا تھا کیا مابعد کرونا بھی اسی طرح چلتا نظر آتا ہے یا آپ کوئی شدید (ریڈیکل) تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟

2۔کرونا کے خلاف جنگ اصلاً  سیاسی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے  اور  لامحالہ اس  کے اثرات بھی سیاسی ہوں  گے۔ اس جنگ میں کمزور سیاسی ڈھانچوں (خصوصَاً تھرڈ ورلڈ ) کے مستقبل کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ؟

3۔ کرونا کی وجہ سے  معاشی  اور سیاسی تباہ کاریوں   کو مغرب میں  بہت سے لوگ  فطرت  کے انتقام  (ماحولیاتی آلودگی) کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ کیا مشرق میں     کسی بیانئے مثلاً قدرت کا انصاف (مغرب کے نوآبادیاتی مظالم پر قدرت کی پکڑ ) کی علمی تشکیل کی جا سکتی ہے ؟

4۔ کرونا سے نبٹنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں نے  آمرانہ طرزِ حکومت اپنایا ،  لبرل اقدار  اور انسانی حقوق معطل ہو کر رہ گئے۔ کیا  اس امر سے انسانی حقوق کے آفاقی ہونے   پہ کوئی زد پڑتی ہے؟

5۔  چین نے کرونا   سے نبٹنے کے لیے بڑی موثر حکمت عملی اپنائی لہذا  بہت سے تجزیہ کار  مغرب کے نیو لبرل  معاشی ماڈل  کے بجائے  چینی ماڈل کے بارے میں رطب اللسان ہیں  اور بعض  تو نیو لبرل  ماڈل کے خاتمے کی بات بھی کر رہے ہیں۔  آپ کیا سوچتے ہیں؟

6۔کیا کرونا نے پوسٹ ماڈرن کنڈیشن کو چیلنج کیا ہے ؟

7۔عوامی آگاہی کے تمام ذرائع (مثلاً صحت کے عالمی ادارے،  تھنک ٹینکس، ہمہ قسمہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹس،  میڈیا وغیرہ)  اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے زیر اثر ہیں۔ وبا کے بارے میں  یہ تمام ذرائع کسی بھی قسم کا تناظر فراہم کرنے میں  ناکام نظر آتے ہیں۔  آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ضروری گزارشات:

  • سوال کا جواب  250-200 الفاظ تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے البتہ اگر ضروری محسوس ہو تو جواب کی طوالت بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔
  • کسی سوال کا جواب نہ دینا  یا دو سوالات کے جواب کو ایک جواب  میں ضم کر نا آپ کی صوابدید ہے۔
  • ان سوالات  کے علاوہ بھی اگر آپ کوئی اہم بات کرنا چاہتے ہوں تو  ضرور لکھیے۔
  • جوابات کے لیے اردو زبان کو ترجیح دی جائے البتہ اگر   آپ انگریزی زبان میں لکھنا چاہیں تو  اس میں بھی کچھ حرج نہیں۔
  • جوابات لکھنے کے لیے  مائکروسافٹ ورڈ   کے سافٹ وئیر کو ترجیح دی جائے، البتہ  ہاتھ سے لکھ کر ان صفحات کی تصاویر بھی بھیجی جا سکتی ہیں اور اگر آپ جوابات  آڈیو میں ریکارڈ کروانا چاہیں تو  اس میں بھی کچھ حرج نہیں، ہم ٹرانسکرائب کر لیں گے۔

نوٹ: پہلے مرحلے میں ہم نے یہ سوالنامہ  کچھ منتخب اہلِ علم کو  بھیجا تھا اور ان میں سے بعض کے جوابات موصول ہو چکے ہیں جنھیں  ہم   دھیرے دھیرے  جائزہ کے صفحات پہ پیش کرتے رہیں گے۔ اب دوسرے مرحلے میں ہم اس سوالنامے کو  ہر خاص و عام کے لیے کھول رہے ہیں؛ کوئی بھی جواب لکھ سکتا ہے۔ ہم آپ کے معیاری جوابات کا بے تابی سے انتظار کریں گے۔شکریہ!

جوابات ارسال کرنے کے لیے رابطہ کریں:

کبیر علی (مدیر)

عثمان سہیل (معاون مدیر)

حسن رحمان (جائزہ ایڈمن)

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search