کرونا تحریری مذاکرہ۔ مبصر: محمد دین جوہر

[کرونا وائرس کی وبا  پچھلے سال بھر سے  پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اس کے اثرات کی ہمہ گیری کے سبب  ہماری ویب سائٹ جائزہ نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ایک تحریری مذاکرے کا اہتمام کیا جائے۔ ایک سوالنامہ مختلف اہلِ علم کو بھیجا گیا جو اس لنک پر دیکھا جا سکتا ہے۔  مذاکرے کا پانچواں جواب جناب محمد دین جوہر کی جانب سے موصول ہوا جو ان کے شکریے کے ساتھ جائزہ کے صفحات پہ پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر]

۱۔ سیاسی/معاشی نظام اب تک جس ڈھرے پر چل رہا تھا کیا مابعد کرونا بھی اسی طرح چلتا نظر آتا ہے یا آپ کوئی شدید (ریڈیکل) تبدیلی دیکھ رہے ہیں؟

جواب: عالمی سیاسی اور معاشی نظام کے ’ڈھرے‘ کو آپ پہلے جو بھی خیال کرتے تھے، وبائے کرونا اور مابعد پر آپ کی رائے اس کے مطابق ہی ہو گی۔ سنہ ۲۰۱۹ء کے آخر تک عالمی نظام کو بڑھتی ہوئی امریکہ چین محاذ آرائی کا سامنا تھا اور وبا اسی محاذ آرائی میں استعمال ہونے والا نیا اسلحہ ہے۔ سرکاری سطح پر چین اور امریکہ کے مابین مبدائے وبا پر جو الزام بازی ہوئی، اس کے بعد کرونا مظہر مکمل ابہام اور شکوک کا شکار ہو گیا ہے۔ وبا کا پھوٹ پڑنا ایک واقعہ ہے لیکن یہ واقعہ طبعی فطرت میں رونما نہیں ہوا بلکہ سسٹم کی کوکھ میں سامنے آیا ہے۔ اول روز سے ریاست ہی واقعے سے نمٹ رہی ہے، اور سائنس ٹاکی مارنے اور پوچا لگانے کا کام کر رہی ہے جبکہ بگ فارما (Big               Pharma) مہاجنی معیشت میں سرمایہ سمیٹنے میں جتی ہوئی ہے۔ اعداد و شمار ریاستوں کے قبضے میں ہیں، اور واقعے سے کہیں زیادہ سیاسی اور معاشی پالیسی کے تابع ہیں۔ عالمگیر نظام میں اس سوال کا جواب تقریباً ناممکن ہے کہ ”وبا بطور واقعہ کیا ہے؟“ معروضی سائنسی شواہد اگر ہیں تو عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔ کرونا میں تین چیزیں بہت اہم ہیں: میڈیائی معلومات و مہمات، لاک ڈاؤن اور ویکسین کی تیاری، اور یہ تینوں سرمایہ دارانہ مفاد اور ریاستی طاقت سے طے ہو رہی ہیں۔ جعلی خبر کے سیلِ رواں میں تبصرے اور تجزیے کی حیثیت خس و خاشاک کی ہے۔ اب صرف یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ عالمگیر ریاست انسانی معاشروں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے کیونکہ قلمدانِ علم پر اس کا اختیار مکمل ہو گیا ہے۔  ظاہر ہے جدید ریاست کی طرح سائنس کے سینے میں بھی دل نہیں ہوتا۔

لاک ڈاؤن کا بیان کردہ مقصد وبا کے تیز تر پھیلاؤ کو سست کرنا ہے تاکہ صحت/بیماری کا نظام مریضوں کے انبوہ میں نہ دب جائے۔ لیکن عالمگیر اور جبری لاک ڈاؤن کا بڑا اور لازمی نتیجہ عالمی معاشی نظام کا ڈھینا ہے۔ لاک ڈاؤن کے براہ راست معاشی نتائج جدید معاشی نظام کی تین سو سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ دور رس اور ہمہ گیر ہوں گے۔ میری رائے یہ ہے کہ مغرب کے غلبے کو چیلنج کرنے والی سابقہ بڑی قوتوں جاپان اور سوویت روس کے برعکس، چین نے عالمی سیاسی نظام کی پاسداری کرتے ہوئے طاقت حاصل کی ہے۔ مغربی اہل سیاست و دانش لاک ڈاؤن کے ذریعے عالمی نظام کو گرا کر اور چین کو باہر رکھتے ہوئے اسے دوبارہ بنانا چاہتے ہیں۔ امریکہ نے اپنے معاشی نظام کو سہارا دینے کے لیے جتنے وسائل جھونکے ہیں اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ جنگ کے بغیر صرف عالمی نظام کو گرانے سے چین کو بھی گرایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

موجودہ صورت حال کا اہم پہلو وبا کی سائنسیت کا نامعلوم یا مشتبہ رہنا ہے۔ وبا کی سائنسیت پر مستند اب صرف جدید ریاست کا فرمایا ہوا ہے۔ وبائے کرونا کی تعبیر و تدبیر میں جدید ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لیے وبا کے طبی اور سائنسی پہلوؤں پر کسی کو بات کرنے کی ہمت نہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کو اس وقت طبی سائنسدانوں کے حوالے سے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ بڑے بڑے سائنسدان جو روز نئی دریافتوں کی خبریں لایا کرتے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے اور اگر کہیں دکھائی بھی دیتے ہیں تو ریاستی یا بگ فارما کے ایجنڈے کی ترجمانی میں بھرتی ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم تک یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ فزکس سیاسی طاقت اور سرمایے کی باندی ہے کیونکہ سیاسی انتظام اور غیر معمولی سرمایہ کاری کے بغیر فزکس کا علم کوئی پیشرفت نہیں کر سکتا۔ طبی سائنس اپنی تحقیقات میں بگ فارما کے سرمائے کی دریوزہ گر رہی ہے اور وبائی صورت حال نے اس کی خودمختار علمی حیثیت کا بھی خاتمہ کر دیا ہے۔ اس بات کا امکان بھی کم  نظر آتا ہے کہ سائنس کسی بنیادی تبدیلی سے گزر کر اپنے خود مختار علم ہونے کے نئے جوازات تلاش کرنے کی طرف پیشرفت کرے۔

۲۔ کرونا کے خلاف جنگ اصلاً  سیاسی بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے اور لامحالہ اس کے اثرات بھی سیاسی ہوں گے۔ اس جنگ میں کمزور سیاسی ڈھانچوں (خصوصاً تھرڈ ورلڈ) کے مستقبل کو آپ کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ؟

جواب: جدید تاریخ کا انسانی تجربہ یہ ہے کہ سیاسی طاقت کے نظاموں کا ہدف وسیع تر معاشی مقاصد کا حصول ہوتا تھا۔ لاک ڈاؤن نے یہ ترتیب الٹ دی ہے، اور اندیشہ ہے کہ معاشی نظام کا انہدام غیرمعمولی سیاسی تبدیلیوں پر منتج ہو گا۔ کمزور ملک اور معاشرے اس وقت قیامت کی رہگزر میں ہیں۔ کرونا کے بارے میں غیر واضح طبی اور سائنسی موقف نے مسئلے کو بہت گہرا سیاسی اور معاشی رنگ دے دیا ہے۔ ایسی کوئی شماریاتی شہادت موجود نہیں ہے جو واضح اور سائنسی بنیادوں پر یہ بتا سکے کہ انسانی معاشروں میں معمولاً واقع ہونے والی اموات پر اس وبا نے کیا تبدیلی کی ہے، اور معمول کی اموات اور وبائی اموات کا کتنا فرق ہے۔ ان شواہد کی عدم موجودگی میں لاک ڈاؤن کے پیچھے کارفرما امکانی سیاسی ایجنڈے کو افواہ، نظریۂ سازش اور گمان سازی کا موضوع بنا دیا گیا ہے۔ دنیا کے کمزور ممالک پر اس کے اثرات معاشی تباہی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے کمزور معاشی اور سیاسی ڈھانچے کے حامل ممالک کرونا کے اثرات سے نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے اور نتائج کوئی بڑی انسانی تباہی سامنے لا سکتے ہیں۔

۳۔ کرونا کی وجہ سے  معاشی  اور سیاسی تباہ کاریوں کو مغرب میں بہت سے لوگ فطرت کے انتقام  (ماحولیاتی آلودگی) کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ کیا مشرق میں کسی بیانیے مثلاً قدرت کا انصاف (مغرب کے نوآبادیاتی مظالم پر قدرت کی پکڑ) کی علمی تشکیل کی جا سکتی ہے؟

جواب: گزارش ہے کہ موجودہ صورتحال پر مشرق اور خاص طور پر مسلم دنیا سے کسی نئے سیاسی، فکری یا تہذیبی بیانیے کے ظہور کا امکان بہت کم ہے، لیکن مواعظ اور آخرِ زمانہ کے نیم سیاسی، نیم مذہبی بیانیوں میں شدت آ سکتی ہے۔ مسلم ذہن ماحولیاتی آلودگی جیسی چیستاں سے واقف نہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مغربی علم کا کوئی ٹوٹکا اس کو سمجھ آ گیا تو شاید اس کا جھنڈا اٹھا کے چل پڑے۔ بیچارے کو جدید معنی میں طبعی فطرت و قدرت ہی سے واقفیت نہیں، تو انتقام وغیرہ کی کیا خبر ہو گی۔ نوآبادیاتی مغرب اور اس کے مظالم وغیرہ تو اور زیادہ مجرد چیز ہے۔ بیانیہ ذہنی فعلیت کا اظہار ہوتا ہے، اور ایسی چیزوں پر بنتا ہے جو ادراک میں ہوں۔ فی زمانہ ہمارا ادراک حسی دائرے سے اوپر نہیں اٹھ پایا اور ہمارے ذہن کی نظری استعداد کسی فکر میں سامنے نہیں آ سکی۔ جدید دنیا جن پیچیدہ انسانی اور طبعی عوامل سے تشکیل پاتی ہے مسلم ذہن ان سے مکمل طور پر بےخبر چلا آتا ہے۔ اس لیے مجھے کسی بھی نئے بیانیے کا امکان نظر نہیں آتا۔

۴۔ کرونا سے نبٹنے کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں نے  آمرانہ طرزِ حکومت اپنایا۔ لبرل اقدار اور انسانی حقوق معطل ہو کر رہ گئے۔ کیا  اس امر سے انسانی حقوق کے آفاقی ہونے پہ کوئی زد پڑتی ہے؟

جواب: انسانی حقوق کا جدید تصور مکمل طور پر سیاسی یعنی طاقت کی ترجیحات کے تابع ہے اور اس کے آلاتی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جدید ریاست خدا کی replacement ہے، اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ خدائی کے تمام اختیارات سے خود کو متصف بتاتی ہے۔ وبا سے پہلے بھی انسانی حقوق کو مغربی ممالک کی خارجہ پالیسی میں ایک آلاتی حیثیت رہی ہے۔ اپنی پوری سیاسی اور انسانی دانش کے ہوتے ہوئے کیا امریکہ یہ سوچ بھی سکتا ہے کہ ناسورِ ارض اسرائیل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے؟

یہ بالکل واضح ہے کہ وبائے کرونا کے آتے ہی ریاست اس سے نبردآزما تھی، اور غیریقینی صورت حال کے باعث سخت اقدامات اٹھانا کسی حد تک ناگزیر تھا۔ وبا کے دوران جدید ریاست کو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر کنٹرول کے نئے تجربات ہوئے ہیں، اور وہ اپنے حاصل کردہ یا نودریافت شدہ اختیارات سے قطعاً دستبردار نہیں ہو گی بلکہ قانون سازی کے ذریعے ان میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ وبا نے جدید ریاست کی قوت و طاقت، نگہداری و رسائی میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے۔ ڈجیٹل ٹیکنالوجی نے ہر فرد پر کل وقتی چشم داری کو  ممکن بنا دیا ہے اور اس طرح جدید ریاست کا کنٹرول ناقابل بیان حد تک بڑھ گیا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ جدید ریاست کی نویافتہ قوت کے تناظر میں لبرل اقدار اور انسانی حقوق کے تصورات اور عمل میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ اندازہ یہی ہے کہ جدید ریاست کا دائرۂ اختیار جسم اور شعور کے آخری گوشوں تک وسیع ہو جائے گا۔

۵۔  چین نے کرونا سے نبٹنے کے لیے بڑی موثر حکمت عملی اپنائی۔ لہٰذا بہت سے تجزیہ کار  مغرب کے نیو لبرل معاشی ماڈل کے بجائے چینی ماڈل کے بارے میں رطب اللسان ہیں اور بعض تو نیو لبرل ماڈل کے خاتمے کی بات بھی کر رہے ہیں؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟

جواب: مغرب کے کچھ نظریہ ساز دانشوروں نے ورلڈ آرڈر کی تبدیلی کی بات کی ہے۔ اس کی سادہ تعبیر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کو بڑی سیاسی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ موجودہ عالمی سیاسی نظام مغرب اور خاص طور پر امریکہ کا تعمیر کردہ ہے اور عین اسی نظام میں چین کو ایک طاقتور شراکت دار کی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے کچھ مختلف حیثیت اوائل بیسویں صدی عیسوی کے جاپان کو اس وقت کے عالمی نظام میں حاصل تھی۔ جنگ عظیم دوم سے جاپان کی یہ حیثیت ختم ہو گئی اور امریکی قیادت میں ایک محفوظ عالمی نظام قائم کیا جا سکا جس کے ذریعے درپیش سوویٹ خطرے سے بھی کامیابی سے نمٹا گیا۔ امریکہ اور یورپ نیا ورلڈ آرڈر صرف اسی صورت میں بنا سکتے ہیں کہ وہ چین اور روس کو اس نئے عالمی نظام سے باہر رکھتے ہوئے ان کو کسی حد تک زیر کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن موجودہ حالات میں اگر چینی اونٹ بدو کے خیمے میں نہیں سما رہا تو اس کا باہر نکالنا اور اُسی طاقت میں برقرار رہنا بدو کے خیمے کے لیے سلامتی کا ذریعہ نہیں ہے۔ نیا گلوبل آرڈر صرف اس صورت میں قائم ہو سکتا ہے کہ چین اور روس کی قوت کو قابل انتظام حد تک لایا جا سکے۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

جہاں تک وبا کو کنٹرول کرنے کی مؤثر حکمت عملی کا تعلق ہے تو اس میں التباس زیادہ ہے اور دونوں ملکوں میں موازنہ عقل افزا نہیں۔ چینی ماڈل کوئی چیز نہیں ہے، سب ماڈل اور نظام مغرب سے مستعار ہیں۔ چین نے یہ ضرور کیا ہے افکارِ مغرب سے اپنی نئی وجودیات متعین کرتے ہوئے اجزا کی ملونی اپنی مرضی سے کی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ دنیا کا کوئی ملک بھی امریکہ کا ہم چشم ہو گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ روس اور چین جیسے ممالک کی بقا امریکی آشیر باد سے مشروط نہیں رہی، اور جنگ کی صورت میں وہ امریکہ کو بھی ختم کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وبا کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

۶۔ کیا کرونا نے پوسٹ ماڈرن کنڈیشن کو چیلنج کیا ہے؟

جواب: پوسٹ ماڈرن کنڈیشن بنیادی طور پر ایک انہدام (breakdown) کی کنڈیشن ہے۔ اس صورت حال میں حق مطقاً اوجھل ہے، اور انسان کے واقعی اور ہر لحظہ تغیر پذیر انفسی احوال اور آفاقی اعمال ہی کو سچ فرض کر لیا گیا ہے۔ ایک دوسرے معنی میں پوسٹ ماڈرن کنڈیشن انسانی شعور کی انسانی جسم کے سانچے پر تشکیل کی کوشش ہے۔ وبا اور لاک ڈاؤن بھی ایک انہدامی صورت حال (breakdown               condition) ہی کا مظہر ہے اور جس میں فرد اور عالمگیر انسانیت شامل ہیں۔  کرونائی صورت حال میں انسانی شعور کے عالمگیر انتشار اور انسانی عمل کی عالمگیر نراجیت کے مابین ایک ظاہری تساوی قائم ہوتا نظر آتا ہے۔ میری گزارش ہے کہ کرونا نے پوسٹ ماڈرن کنڈیشن کو گہرا کیا ہے، چیلنج نہیں کیا ہے۔

۷۔ عوامی آگاہی کے تمام ذرائع (مثلاً صحت کے عالمی ادارے،  تھنک ٹینکس، ہمہ قسمہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹس،  میڈیا وغیرہ)  اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے زیر اثر ہیں۔ وبا کے بارے میں  یہ تمام ذرائع کسی بھی قسم کا تناظر فراہم کرنے میں  ناکام نظر آتے ہیں۔ آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: وبا اور لاک ڈاؤن کی موجودہ صورتحال میں ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ انسانی شعور اور علم کی خود مختار حیثیت کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔ کرونا اور لاک ڈاؤن کی صورتحال ذاتی طور پر مجھے تحریکِ تنویر کی اقدار کے خاتمے کا اعلامیہ محسوس ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ ہنری کسنجر نے تحریک تنویر کی اقدار کے احیا کا مشورہ دیا ہے جو بے وقت کی راگنی ہے۔ مغرب سے ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی آوازیں ایک ایسے وقت میں اٹھ رہی ہیں جب تنویری اقدار کے تحت جدید شعور اور اس کے پیدا کردہ علوم کے امکانات exhaust ہو چکے ہیں۔ نابودیت (nihilism) جو جدید علوم کی تقدیر ہے اس کا عملی اظہار تو جدید تاریخ میں ہوتا آیا ہے لیکن اس کا تکمیلی اظہار ابھی باقی ہے۔  مجھے ایسا لگتا ہے کہ انسانیت اپنے اسی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ امر بعید از امکان نہیں کہ ڈگمگاتا ہوا عالمی سیاسی اور معاشی نظام کسی ایسے مسئلے کو سامنے لائے جس کو سنبھالنا کسی طاقت کے بس میں نہ ہو اور انسانیت ”ہر ایک سب کے خلاف“ جنگ کی صورت حال سے دوچار ہو جائے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search