خود کو طویل لڑائی کے لیے تیار کیجئیے! احمد الیاس

جب پہلی اور دوسری عظیم جنگیں شروع ہوئیں تو کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ کتنا عرصہ چلیں گی، شروع شروع میں اقوام کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور کاروبارِ زندگی بند ہوگیا تاکہ لوگوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔ لیکن جب آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ یہ مصیبت تو کئی سالوں تک نہیں ٹلنے والی تو کاروبار اور تعلیمی اداروں سمیت سب کھول دیا گیا۔ حتیٰ کہ جس رات کسی شہر پر دشمن ملک کی طرف سے شدید بمباری ہوتی تھی، اس سے اگلے روز بھی بچے صبح اٹھ کر تباہ و برباد گھروں اور ملبے سے نکالی جارہی لاشوں کو دیکھتے ہوئے سکول جاتے تھے اور بڑی عمر کے لوگ اپنے کام پر۔ ہاں لیکن زندگی کو جنگ کے حساب سے ایڈجسٹ کرلیا گیا تھا، رات کی محفلیں نہیں ہوتی تھیں، گھر گھر مورچے تھے، ہر محلے کی میڈیکل ٹیم تھی اور ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے قوموں کی تربیت کردی گئی تھی۔ یوں انسانیت نے پہلی جنگ عظیم کے چار اور دوسری جنگ عظیم کے چھ انتہائی مشکل سال بسر کیے۔ کورونا وائرس کی وبا دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج، سب سے بڑی جنگ ہے۔ اگر کوئی اس کی اس سنگینی کا اندازہ نہیں کرسکا تو وہ اس وبا کو اب تک سمجھ ہی نہیں سکا۔ صرف دو ماہ کے لاک ڈاؤن نے دنیا کو ۱۹۲۹ کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ۲۰۰۸ کا معاشی بحران اس سے کئی گنا چھوٹا تھا لیکن اس کے خوفناک اثرات دنیا کی سیاست پر انتہائی قوم پرست اور آمرانہ مزاج رکھنے والے حکمرانوں اور بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات کی صورت آج تک نکل رہے ہیں۔ جب کہ اس نئے اور بڑے بحران کے اثرات تو کئی دہائیوں کو اپنی لپیٹ میں لیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں کہ یہ وبا کتنے سال چلے گی۔ ڈیڑھ دو سال بھی ایک انتہائی ہوائی اور رجائی نمبر ہے اور اس حوالے سے ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ ایک مخلوق جو پیدا ہی چھ ماہ قبل ہوئی ہے، اس کے بارے میں ابھی ہم بہت کم جانتے ہیں۔ ویکسین کی تیاری کی کوشش ابھی کوئی ثمر لاتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بالفرض ایک ڈیڑھ سال تک ویکسین آ بھی جائے تو اس کی اتنے بڑی پیمانے پر تیاری، تمام ملکوں میں فراہمی اور قیمتیں افورڈ کر پانا بھی کئی سالوں پر محیط ہوگا، اور پھر ویکسین کے حوالے سے جو سازشی مفروضے پھیلا دئیے گئے ہیں، سب لوگ اسے استعمال بھی نہیں کریں گے۔ اپنے آپ تو کورونا ختم نہیں ہوگا۔ ان سب باتوں کا یہ مطلب ہے کہ یہ کئی سالوں یا عین ممکن ہے کہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے پر محیط عرصے کی آزمائش ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اتنے طویل عرصے نہ دنیا کی معیشت بند رکھی جاسکتی ہے، نہ گھروں میں قید ہوکر رہا جاسکتا ہے اور نہ ملک اپنے دروازے بند رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ذہن میں بٹھا لینا چاہیے کہ سب کو اور اگر سب کو نہیں تو کثیر اکثریت کو کبھی نہ کبھی کورونا ہونا ہے، اور کورونا کروا کر ہی اس کے خلاف مدافعتی قوت ہم میں پیدا ہوگی۔ اس عمل میں لاکھوں نہیں، کروڑوں لوگ جان سے جائیں گے۔ لیکن اس کے سوا کوئی چارا قدرت نے انسان کے پاس نہیں چھوڑا۔ یہ تو ہیں تلخ حقائق جنہیں ہم جتنا جلدی تسلیم کرسکیں اور خود کو ذہنی طور پر ان کے لیے تیار کرسکیں، اتنا بہتر ہے۔ ہمیں ذہنی طور پر دوسری جنگ عظیم والے موڈ میں جانا ہوگا اور خود کو عظیم جانی نقصان کے لیے بھی تیار کرنا ہوگا کیونکہ اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ سالوں پر محیط لاک ڈاؤن اوّل تو دنیا کی کوئی پولیس یا فوج نافذ نہیں کرواسکتی، کروا بھی لے تو ایسا صدیوں کی ترقی پر پانی پھیرنے اور قحط اور بھوک کی قیمت پر ہوگا جو اس وبا سے بھی بڑا المیہ ہوگا۔ موت سے کہیں زیادہ بھیانک شے بھوک اور بالخصوص بچوں کی بھوک ہے۔ کاروبار کا دیوالیہ ہونا یا کئی کئی ہفتوں تک دیہاڑی کا نہ ملنا انسان کو زندہ مار دیتا ہے اور یہ والے جو اصلی انسان ہیں، کام کرنے والے انسان، یہ فیسبک پر بھی نہیں آتے اور پوسٹیں بھی نہیں لکھتے۔ لہذا اب ضرورت ہے کئی سالوں پر محیط ایک مستقل جنگی پالیسی کی کہ کیا کیا جائے اور کیسے کیا جائے۔ ایس او پیز کے حوالے سے قانون سازی سے کورونا کے لیے خصوصی پولیسنگ سسٹم تک، بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے اور اسے جنگ کے طور پر لیں، بجائے عارضی قسم کا رونق میلہ اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا موقع سمجھنے کے۔ یہاں کئی دوستوں کے ذہن میں سوال ہوگا کہ جب سب کو کورونا ہونا ہی ہے اور لوگوں نے مرنا ہی ہے تو پھر نئے طرز زندگی، نئے قوانین، نئی پولیسنگ، ایس او پیز، احتیاط وغیرہ کی کیا ضرورت ؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ دنیا کا طبی نظام اچانک کروڑوں مریضوں کی دکھ بھال کے قابل نہیں ہے۔ احتیاطوں کے ذریعے ہم کورونا سے کچھ وقت لیں گے، اس سے وبا طویل تو ہوجائے گی لیکن دباؤ وقت پر تقسیم ہوکر کم ہوجائے گا۔ وہ اس طرح کہ ایک وقت میں مریضوں کو لاکھوں میں رکھنے کی کوشش کریں گے اور آہستہ آہستہ، کئی سالوں میں لاکھوں لاکھوں کرتے کرتے کروڑوں اس پروسیس سے گزر جائیں گے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اٹلی، سپین، برطانیہ جیس یورپ کے وہ ممالک جہاں ایک ایک دن میں ہزاروں اموات ہوئیں، وہاں سیاحت سے سکولوں تک، سب کھل چکا ہے لیکن وائرس کے پھیلنے کا عمل جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں لاکھوں جانیں جاچکی ہیں، احتجاج ہورہے ہیں اور الیکشن کیمپین جاری ہے۔ کیونکہ یہ ممالک اس حقیقیت کو سمجھ چکے ہیں کہ کئی سالوں تک اس مصیبت سے کوئی فرار نہیں لہذا قوموں کو نئے طرز زندگی کی تربیت دینا شروع کی جائے۔ ہمیں بھی آج نہیں تو کل، اس مسئلے پر سیاست چھوڑ کر نئے طرز زندگی کے ساتھ تعلیمی اداروں اور سیاحت سمیت سب کھولنا پڑے گا۔ پانچ سال سکول بند رکھنے جیسے بیانات مجرمانہ ہیں اور قوم کو اٹھارہویں صدی میں دھکیلنے کی باتیں ہیں۔ شمالی علاقوں کے کئی شہر ہیں اور لاکھوں لوگ ہیں جو ان دو تین مہینوں میں سیاحت سے کما کر سارا سال اسی پر گزارا کرتے ہیں۔ نوکری پیشہ شخص کے لیے لاک ڈاؤن کی بات کرنا جس قدر آسان ہے، بزنس مین اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے یہ خیال بھی اتنا بھیانک۔ آفت یقیناً بہت بڑی ہے، نقصان بھی بہت بڑا اٹھانا ہی پڑے گا، لیکن لڑے بغیر بھی چارا نہیں، لہذا خود کو تیار کیجئیے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search