الل ٹپ باتیں: راحیل احمد

وہ لکھو جو لکھنا چاہتے ہو۔کیا چاہتے ہو؟ مسئلہ بہت  بڑا ہے کہ جو ذہن میں ہے وہ ذہن میں ہی رہتا ہے۔جب قلم ہاتھ میں آئے تو اس کی اپنی حکمرانی ہوجاتی ہے۔ جو بات ذہن میں ہوتی ہے اس قلم تک آتے آتے کہیں کی کہیں نکل جاتی ہے۔اب میں کیا سوچتا ہوں ؟کیسے دیکھتا ہوں؟یہ سب لکھنا چاہتا ہوں لیکن قلم میں ایک غلطی ہے یہ چیزوں کے رخ،رنگ اور ہیئت بدل دیتا ہے۔آپ لیجئے،لکھنا شروع کیجیے۔قلم چل رہا ہے جو ذہن میں ہے،  وہیں کا وہیں ادھر اُدھر ہورہا ہے، ٹکرا رہا ہے، راستہ تلاش کررہا ہے، وہیں رہ رہ کر کیا سے کیا بنے جارہا ہے لیکن جو اس قلم سےدماغی سرپھٹول کے دوران نکلا ہے وہ تو کچھ اور ہے!وہ یہ ہے جو نہیں ہونا چاہیئے۔ہونا کیا چاہیئے؟ہونا یہ چاہیئے کہ سب کچھ لکھا جائے۔قلم جو کچھ لکھتا ہے اور جو ذہن میں ہے دونوں اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں۔ قلم کا لکھا کاغذ کا ’پیٹ بھرا‘ ہے اور ذہن کامال ذہن کے کاٹھ کباڑ میں ملتا جارہا ہے۔ سوچیں بنتی ہیں، اُبھرتی ہیں، تندوتیز ہوکر بیکار ہوجاتی ہیں۔ ایک کباڑخانے میں کافی مال اکٹھا کر لیا ہے میں نے۔ سب بیکار سوچیں اب وہیں رہتی ہیں۔ کبھی کبھار سر اُبھارتی ہیں، نئی سوچوں کو گمراہ کرکے ساتھ لیجاتی ہیں۔ یہ کاغذاور قلم سوچوں کے دشمن ہیں۔ کیا اِنہیں اس لیے بنایا گیا تھا کہ جس کام کیلیے بنے ہیں اسی میں رکاوٹ بن جائیں! توبات ہورہی تھی ذہن اور کاغذقلم کی دنیا کی۔ ذہنی دنیا کا تو بتا چکا ہوں کہ یہاں کاٹھ کباڑ سے بھری کافی جگہ ہے زبان کی دھول نے سب زرد کررکھا ہے۔ یہ قلم کسی کے قابو میں نہیں ہے۔ یہ بھی چاہتا ہے وہی لکھے جو اس کی اپنی مرضی ہے۔ ایک تکون ہے؛ایک قلم کی منشا ہے، دوسرا ذہن ہے جسکی اپنی سوچیں ہیں، تیسرا وہ متن ہے جو کاغذ پہ ظہور کرتا ہے۔ یہ متن دراصل لفظی جگالی ہے جو اس قابل بھی نہیں کہ پلٹ کر دور کی نظر ہی ڈالی جائے۔ اس تکون کے اندر میں کھڑا ہوں۔ تینوں کونے قابو میں نہیں آتے، اظہار کی نارسائی مجھے ہلکان کردیتی ہے۔ انسان کو اس نارسائی سے بچنے کیلیے کیا کرنا ہوگا؟خیال ضرور باہر آناچاہیئے۔ جب کاغذ ہے،قلم ہے تو خیال کاغذ پہ اترناہی چاہیئے۔ قلم کیا کرے؟ لفظ کیا کریں؟اب یہ جو کچھ الفاظ لکھے گئے ہیں کیا کروں انکا؟کس کیلیے لکھے جارہے ہیں،کون پڑھے گا؟ یہ بھی ایک چلتا ہوا فارمولا ہے کہ لکھتے جاؤ لکھتے جاؤ، پھر جو چاہتے ہو کہ لکھاجائے وہ بھی باہر آجائے گا۔ کیا بکواس ہے، لکھنا ایک بار ہی ہونا ضروری ہے۔ زور سے کنوئیں کا ڈول کھینچاجاتا ہے لفظ نہیں۔ ابھی جب یہ لکھ رہا ہوں ایک احمق کی آواز سنائی دی ہے، سالا عجیب انسان ہے کل جب اسکے پیچھے بائیک پہ بیٹھا تھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پلپلی شے گھٹنوں کے درمیان ہے، اوازاری اور کراہت۔ اب ایک لکھنے والے کو کیا لکھنا چاہیئے؟اسے وہ لکھنا چاہیئے جو وہ چاہتا ہے، جوچاہتا ہے وہ اگر نہ لکھاجائے تو لفظوں کی جگالی دنیا کو نہیں دکھانی چاہیئےورنہ جگالی کو پذیرائی مل جائے گی جو طالبِ شہرت کیلیے اکسیر اور لکھنے والے کی موت ہے۔ جب تک وہ کہانی جو آپ چاہتے ہیں نہ لکھی جائے، تب تک دنیا کو کسی صورت پیش نہیں کرنی چاہیئے۔کہانی کیا ہوتی ہے؟ بھئی میں کسی نقاد کو نہیں جانتا۔ نقاد ذہن کے اغوا کار ہوتے ہیں۔ اغوا کے بعد مرضی کی گاڑی پہ بٹھا کر نامعلوم کی منزل پہ پہنچا آتے ہیں جہاں اپنا سب کچھ نامعلوم کی دھند میں مٹ جاتا ہے۔ نقادوں سے چند چیزیں ہی لینی چاہیئں۔ مثلاً نقادوں سے وہ اشعار سمجھنے چاہیئیں جو آپ کو پسند نہیں ہیں لیکن سمجھ بھی نہیں آرہی، ایسے اشعار نقادوں کیلیے رکھنے چاہیئں۔ اگر آپ نے وہ اشعار سمجھنے کی کوشش کی جو آپکو پسند ہیں قطع نظر اس بات سے کہ آپکو انکی سمجھ ہے یا نہیں ،نقادوں کے سامنے نہیں کہنے چاہیئں۔ اگر ایسا کر دیا تو نقاد اس پر استادی دکھا دے گا اور آپ کا تخیل برباد کردےگا۔ جو شعر آپ کو پسند ہے اسے بار بار پڑھنے سے بھی سمجھ نہ آئے تو تشویش کی بات نہیں ہے۔ سمجھ میں اضافے کیلیے غیر دلکش اشعار کافی ہیں اُن پہ دادِ سخن دیجیے اور دادِ سُخن لیجیے۔ جو پسند ہوتی ہے اُسکا حجاب کبھی نہیں ہٹنا چاہیئے۔ فہم کی ضد حجاب کو تار تار کردیتی ہے اور آپ کے سامنے سوکھا بنجر میدان آتا ہے۔ ذہن کو صدمہ لگتا ہے جسکا مداوا ممکن نہیں ہوتا۔ جب سے انسان نیا ہوا ہے اور ”خود شناسی“ کے سفر پہ نکلا ہے، صدمےسے بے حال ہے اور بےچارہ بن گیا ہے۔ نقاد جو بھی کہیں انکے کہے پہ وہاں دھیان نہیں دینا چاہیئے جہاں آپ کی پسند پہ رائے زنی ہو۔ بات کہانی کی ہورہی تھی کہ میں اس باب میں نقادوں سے واسطہ نہیں رکھتا کہ وہ کہانی کسے کہتے ہیں۔ کہانی ذہنی دنیا ہوتی ہے یہ دنیا ”حقیقی دنیا“ سے ہر مرتبہ میں افضل ہے۔ افضل اس لیے کہ یہاں کی مٹی روڑہ بھی توجہ کا مرکز ہیں۔ انسانی ذہن ایسا ہے کہ لمحہ موجود میں خودفراموشی کی حالت میں رہتا ہے۔ بعد میں،کافی وقت کے بعد، یہ مذکورہ لمحے کو سوچتا ہے تو اصل سے زیادہ اصلی محسوس کرتا ہے۔ یہ اصلی ہونے کا احساس کہانی کاحاصل ہے۔ کہانی کے کردار کیا کرتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، کتنے بڑے ہیں، کتنے تہذیبی ہیں، کتنے خلاق ہیں، کتنے چالاک ہیں، کتنے ذہین ہیں، کتنے اچھے یا برے ہیں، کتنے ذلیل ہیں، کتنے رزیل ہیں، سب غیر اہم ہے۔ منظر ساحل سمندر کا ہے یا جھونپڑی کا، چھت ہے یا تہہ خانہ، زمین ہے یا آسمان ہے یا جنگل ہے۔ شمع پگھل رہی ہے یا برقی قمقے جلوے بکھیر رہے ہیں، سب غیر اہم اور فضول ہے۔ اصل چیز ذہن کا اصل سے زیادہ اصلی اس چیز کو تجربہ کرلینا ہے جو وہ ”حقیقی دنیا“ میں کبھی بھی نہیں کرسکتا۔ یہی ذہن کا حاصل ہے، یہی پسند کا شعر سننے سے حاصل ہوتا ہے، یہی پسند کی کہانی سننے سے ہوتا ہے۔ اگر آپ نے پسند کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو ہالہ ٹوٹ جائے گا۔ وہ ”حقیقی دنیا“ جو دانشورانہ حرکتوں کے کارن آپ کا موضوع رہنے لگی ہے، اس سے تعلق واضح ہوجائے گا، ہاتھ خالی رہ جائیں گے۔ اب انسانوں کے پاس خالص تجربے بہت کم رہ گئے ہیں۔ جمالیاتی تجربے کو ’جاننا‘ واصلِ اشیا ہوجانا ہے۔ یہ سب سے بُری صورت حال ہوگی جو انسان رہنا مزید مشکل بنا دے گی۔ یہ اصل سے زیادہ اصلی کیا ہے؟ فرض کیجیے آپ کو باغ جناح بہت پسند ہے لیکن یہ پسندیدگی کی تڑپ ہمیشہ اُس جگہ سے دور جاکر ہی کیوں اٹھتی ہے؟نہیں نہیں آپ کو یہاں وہ مبتذل بات سوچنے کی اجازت نہیں ہے کہ انسان جس چیز کو دسترس میں رکھتا ہے  اُسکی قدر نہیں کرتا!یہ بات اتنی پِٹ گئی ہے کہ محاورہ یا مقولہ بھی نہیں بن سکتی۔اب کچھ عرصہ کے بعد اسی وقت کو یاد کریں جو پسند کی جگہ پہ گزرا تھا۔ عرصہ کے بعد جیسا تجربہ آپ محسوس کریں گے وہ وہاں بیٹھ کر، موجود ہوکر بھی نہیں کر سکتے۔ یہی تجربہ جو زمان و مکان کی تبدیلی سے ہوا ہے، یہی اصل سے زیادہ اصلی ہے اور اسی تسلسل میں ”حقیقی دنیا“ سے زیادہ ذہنی دنیا افضل ہے۔ اس تجربے کے بعد ہجر کی کیفیت بھی بنے گی، ہجر کا محرک وہ تجربہ ہے جو ’یاد‘ سے جڑا ہوا ہے اسی لیے قرة العین حیدر نے کہا ہے کہ ’یاد زندگی کا سب سے بڑا عذاب ہے‘ لیکن رحمت بھی ہے کہ انسان رہنے میں اس سے بڑی مدد ملتی ہے۔ لمحہ موجود کی کثافت ذہن کی خودفراموشی کاسبب ہے،بعد میں اُس زمان و مکان سے باہر ذہن اس اصلی تجربے کو پکڑ سکتا ہے جو ایک بار گرفت میں آجائے تو ہاتھ سے نکلتا نہیں ہے۔ یہ اصل سے زیادہ اصلی اس لیے بھی ہے کہ موجود لمحے میں مکان کی کثافت بہت گاڑھی ہے چیزیں موجود ہیں لیکن اپنی تمامتر کثافت کیساتھ،ذہن خیالات کا منبع ہے، یہاں لطافت ہی لطافت ہے۔آپ مذکورہ زمان و مکان سے ایک بار مَس ہوکر آگئے تو کسی اور زمان و مکان میں یہ سب کثافتیں نہیں رہیں گی اور ذہن جوہر تک پہنچ جائے گا۔ یہی اصل سے زیادہ اصلی ہے۔ مانا لفظوں کی جگالی ہی سہی لیکن رگڑ بھی کچھ نہ کچھ برآمد کروا لیتی ہے۔ جوہر تک رسائی ذہن کی منزل ہے یا نہیں مجھے اس سے سروکار نہیں ہے۔ میرا مسئلہ اسکا اظہار ہے کہ اصیل تجربے کو بیان میں کیسے لاٶں؟ درجنوں کہانیاں سوچی ہیں چند ایک لکھی بھی ہیں لیکن وہ بالکل اور چیز ہیں۔ معلوم ہوتا ہے قلم بھی باشعور ہے جو ہاتھ میں آکر فعال ہوتا ہے۔ ذہن سے بات آتی ہے، یہ اِسے خام مال کے طور پہ بَرت کر کچھ اور بنا کر کاغذ پہ انڈیل دیتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے میں نے کیا لکھنا تھا اور کیا لکھا گیا۔میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں لےدے کر یہی ایک جگہ بچی ہے جہاں زور زبردستی جچتی نہیں ہے ورنہ دنیا کا ہرکام اب زور زبردستی ہی ہوتا ہے۔ میں کیا سوچ کر لکھنے بیٹھا تھا اور کیا لکھا گیا۔ ویسے خیالات کو روکنا اچھی بات نہیں ہے۔ خیال کو روکنا ذہن کی موت ہے۔ قلم جو پہلے  سےتیار بیٹھا تھا اُس نے ذہن کے مال کو مفت کامال سمجھا اور جو آپ پڑھ رہے ہیں، یہ بنا دیا! بہرحال کیا ہوسکتا ہے۔ اظہار کی نارسائی میں زبان اور اشیا کی زرد کثافت کے ساتھ ساتھ  قلم کا مُفتا پن بھی ذمہ دار ہے۔ زبان اور اشیا سے آدمی نمٹتا آیا ہے لیکن قلم کی منہ زوری کس کے تھامے تھمتی ہے؟اچھا میں اب خوش فہمی میں مبتلا ہوگیا ہوں کہ یہاں تھوڑی روانی آگئی ہے۔ خوش فہمی اپنی جگہ لیکن الفاظ بہت زیادہ لکھے جا چکے ہیں، اب ہمیں ذہنی دنیا بمعنی اصل سے زیادہ اصلی دنیا میں پیش رفت کی ضرورت ہے۔ کثافت کے بادل گاڑھے ہوتے رہیں، قلم کی بدمعاشی بھی ایسے ہی رہے گی، اسکے باوجود بھی کچھ روزن یقیناً باقی ہیں جہاں سے تازہ جھونکا ایک بار کچھ نہ کچھ نیا لیکر آئے گا۔ شاید وہ نیا ہونے کی وجہ سے بیان میں آجائے۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search