آریا سماج اور مہاتما گاندھی، سوامی دیانند جی اور ہندو مذہب: سردار احمد خاں (مرتب: عاصم رضا)

نوٹ:    ایک  قادیانی  مشنری سردار خاں  نے  آریا سماجیوں کے رد میں سولہ صفحات پر مشتمل  ایک کتابچہ ترتیب دیا جس کو احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام ، لاہور نے شائع کروایا ۔ جناب مخمدوم  محمد عدیل عزیز صاحب نے اس نادر و نایاب کتابچہ کو مخدومہ امیر جہاں لائبریری (فیس بک گروپ ) میں شیئر کیا  جس کے لیے ان کا جس قدر شکریہ ادا کیا جائے ، کم ہے ۔ مخدوم صاحب  کے غالب گمان  کے مطابق،  مذکورہ کتابچہ 1923/24ء  میں قلمبند ہوا ۔ دھیان رہے کہ اس  کتابچہ سے قادیانیت کی ترویج و اشاعت   اور ان کے بنیادی عقائد کو کچھ سروکار نہیں ہے   اور نہ ہی  اس مضمون میں سوامی دیانند سرسوتی کےاسلام و عیسائیت  اور مذہبی شخصیات پر  اعتراضات اور دریدہ دہنی کا  بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا  ۔  بلکہ  مذکورہ مضمون ،  آریا سماج اور سوامی دیانند کے متعلق  مسٹر گاندھی کے مضمون و بیانات  کا دفاع کرتے ہوئے سوامی دیانند سرسوتی کی کتاب’’ستیارتھ پرکاش‘‘   نامی کتاب سے حوالے نقل کرتے ہوئے مسٹر گاندھی  کی رائے کو درست ثابت  کرتا ہے۔ مختصراً،  تاریخ ِ  پاکستان  کے حوالے سے  سوامی دیانند سرسوتی اور ستیارتھ پرکاش کی  مخصوص اہمیت و معنویت کے پیش نظر مذکورہ مضمون   کی اہمیت  پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے نیز  فاضل مرتب کے نزدیک برصغیر میں روشن خیالی  اورو مغربی تعلیم و تربیت کے اثرات کے حوالے سے بھی مذکورہ مضمون  ایک وسیع تر علمی دھارے کے  تحت  نہایت اہمیت کا حامل ہے۔چنانچہ جدید قاری کا لحاظ کرتے ہوئے  فاضل مرتب  نے  اس مضمون کی اشاعت ِ نو کی خاطر پرانی املاء کو موجودہ زمانے کے مطابق کر دیا ہے ؛ قوسین میں  ہندی  الفاظ کے اردو متبادلات ، چنیدہ انگریزی متبادلات  نیز بعض اردو الفاظ کے آسان مترادفات لکھے ہیں ؛   بعض مقامات پر عنوانات  کے اندراج کی صورت میں اضافہ کیا ہے اور مختلف مقامات پر عنوانات کی بجائے  الفاظ کو نمایاں (bold type)کر دیا ہے نیز مختلف حصوں کے مابین حد بندی کا نشان(٭)  استعمال کیا ہے   ۔  

حال ہی میں مہاتما گاندھی جی نے ہندومسلم اتحاد کے متعلق  ایک مضمون لکھتے ہوئے آریہ سماج ، اُس کے بانی سوامی دیانند جی کی تصنیف کردہ ستیارتھ پرکاش  ، سوامی شردہانند (شردھانند)  اور آریہ سماجیوں کے متعلق کچھ خیالات ظاہر کیے ہیں جن سے آریہ حلقوں میں سخت گھبراہٹ پیدا ہو رہی ہے ۔ مہاتما جی نے جو کچھ آریہ سماج وغیرہ کے متعلق لکھا ہے ۔ وہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:-

’’سوامی شردھانند پر بے اعتمادی کی جاتی ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ اُن کی تقریریں اکثر نارضگی پیدا کرنے والی ہوتی ہیں ۔ لیکن وہ بھی ہندومسلم اتحاد کے خواہاں ہیں ۔ بدقسمتی سے اُنہیں اِس امر کے امکان پر یقین ہے کہ وہ ہر ایک مسلمان کو آریہ(آریا) بنا سکیں گے ۔ شاید ٹھیک اسی طرح ہو کہ جس طرح اکثر مسلمان خیال کرتے ہیں کہ ایک دن تمام غیر مسلم اسلام قبول کر لیں گے ۔ شردھانند جی بیباک ہیں ۔ انہوں نے اکیلے ہی مقدس گنگا کے کنارے پر ایک جنگل کو ایک شاندار رہائشی کالج بنا دیا تھا ۔ انہیں اپنے آپ پر اور اپنے مشن پر وشواش (یقین)  ہے لیکن وہ جلد مزاج ہیں اورجلدی سے برہم مزاج ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے آریا  سماج کی روایات ورثہ میں حاصل کی ہیں‘‘  ۔

’’میرے دل میں دیانند سرستی (سرسوتی) کے لیے بھاری(بڑی)  عزت ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ انہوں نے ہندوم دھرم کی بھار ی(بڑی)  سیوا کی ہے ۔ اُن کی بہادری میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ لیکن انہوں نے اپنے دھرم کو تنگ بنا دیا ہے ۔ میں نے آریا سماجیوں کی بائیبل ستیارتھ پرکاش کو پڑھا ہے ۔ جب میں  یرودا جیل(ریاست مہاراشٹرا)  میں آرام کر رہا تھا تو احباب نے اِس کی تین کاپیاں بھیجی تھیں ۔ میں نے اتنے بڑے ریفارمر(مصلح)  کی تصنیف کردہ اس سے زیادہ مایوس کن کتاب کوئی نہیں پڑھی ۔ سوامی دیانند نے کیول (صرف)  ستیہ(حق )  پر کھڑا ہونے کا دعویٰ  کیا ہے ۔ لیکن انہوں نے جانتے ہوئے جین دھرم ، اسلام، عیسائیت اور خود ہندودھرم کو غلط طور پر ظاہر کیا ہے ۔ جس شخص کو ان مذاہب کا سرسری علم بھی ہے وہ بآسانی ان غلطیوں کو معلوم کر سکتا ہے کہ جن میں اِس اعلیٰ ریفارمر (مصلح ) کو ڈالا گیا ہے ‘‘ ۔

’’انہوں نے صفحہ دنیا پر بُردبار اور آزاد مذاہب میں سے ایک کو تنگ بنانے کی کوشش کی ہے ۔ اگرچہ وہ بُت پرستی کے خلاف تھے لیکن وہ ایک نہایت لطیف صورت میں بُت پرستی کا بول بالا کرنے میں کامیاب ہوئے ۔کیونکہ انہوں نے ویدوں کے الفاظ کی مورتی بنا دی ہے ۔ اور ویدوں میں ہر ایک علم کو جو سائنس نے معلوم کیا ہے ، ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ میری عاجزانہ رائے میں آریہ سماج، ستیارتھ پرکاش  کی تعلیمات کی  خوبی کی وجہ سے ترقی نہیں کر رہا بلکہ اپنے بانی کے اعلیٰ کیریکٹر (کردار) کی وجہ سے ۔ آپ جہاں کہیں بھی آریا سماجیوں کو پائیں گے وہاں ہی زندگی اور سرگرمی  موجود ہو گی ۔ تنگ نظری اور لڑاکی عادت کی وجہ سے وہ یا تو دیگر مذاہب کے لوگوں سے لڑتے رہتے ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ‘‘۔

پھرتحریک شُدھی کے متعلق خامہ فرسائی (لکھتے) کرتے ہوئے مہاتما جی لکھتے ہیں:- ’’جو بات ہندو اور مسلمانوں میں کشیدگی کو زندہ رکھ رہی ہے وہ ، وہ طریقہ ہے کہ جس میں شدھی یا تبدیلِ مذہب کی تحریک چلائی جا رہی ہے ۔ میری رائے میں ہندودھرم میں دوسروں کو ان معنوں میں اپنے مذہب میں ملانے کی کوئی بات نہیں ہے  جو عیسائیت سے اِس سے کم درجہ اسلام میں سمجھے جاتے ہیں ۔ میرے خیال میں آریا سماجی نے اپنے پروپیگنڈا میں عیسائیوں کی نقل کی ہے ۔ موجودہ طریقہ مجھے اِپیل   نہیں کرتا۔اِس نے فائدے کی بجائے نقصان زیادہ کیا ہے ۔ اگرچہ ِاِسے محض دل کا معاملہ اور ایسا معاملہ خیال کیا جاتا ہے جو پرماتما(خدا)  اور ایک شخص کے درمیان ہے تاہم یہ گِر کر خودغرضانہ جذبے تک لے گیا ہے  ‘‘۔

(مزید براں  کہتے ہیں  کہ )   ’’۔۔۔۔ آریا سماجی اُپدیشک (واعظ/معلم) کو اتنی خوشی کبھی نہیں ہوتی جتنی کہ دیگر مذاہب کی بدگوئی  کرنے کے وقت ہوتی ہے ‘‘۔ ۔۔۔۔۔  ’’میرا ہندوجذبہ مجھے بتلاتا ہے کہ تمام مذاہب کم وبیش سچے ہیں ۔ تمام ایک ہی پرماتما (خدا) سے نکلے ہیں ۔ لیکن تمام نامکمل ہیں کیونکہ یہ نامکمل انسانوں کی وساطت سے ہم تک پہنچے ہیں ۔ اصلی تحریک شدھی یہ ہونی چاہیے کہ ہر ایک مرد اور عورت اپنے اعتقاد کے مطابق بدرجۂ تکمیل پہنچنے کی کوشش کرے ۔ ایسی تجویز میں کیریکٹر (کردار) واحد کسوٹی ہو گی ۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے کی کیا ضرور ت ہے اگر اِس کے یہ معنی نہیں  ہوتے کہ ایک شخص اخلاقی طور پر بلند ہو ۔ میرے لوگوں کو خدا کی سیوا کے لیے (کیونکہ اس کے سوائے شدھی یا تبلیغ کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے ) دوسروں کو اپنے مذہب میں ملانے کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے جب کہ وہ لوگ جو ہمارے مذہب میں ہیں ہر روز اپنے اعمال سے خدا کا انکار کرتے رہتے ہیں ‘‘۔

٭٭٭٭٭٭٭

مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ مہاتما جی کے اِن الفاظ پر میرے آریہ سماجی بھائی کیوں سیخ پا (گرم) ہو رہے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ستیارتھ پرکارش ایک مایوس کن کتاب ہے ۔ اور اس میں جین دھرم ، اسلام ، عیسائیت  اور خود ہندودھرم کو غلط طور پر ظاہر کیا گیا ہے ۔ اور کیا یہ بھی سچ نہیں ہے  کہ اکثر آریہ سماجی تنگ نظری اور لڑاکی عادت کی وجہ سے دیگر مذاہب کے لوگوں سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ۔ میری رائے میں تو مہاتما جی نے ستیارتھ پرکاش وغیرہ کے متعلق جو الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ وہ نہایت نرم ہیں ورنہ ستیارھ پرکاش ایک ایسی گمراہ کن کتاب ہے کہ جس میں ہر ایک مذہب کے بانی کے متعلق نہایت دریدہ دہنی (زبان درازی) سے کام لیا گیا ہے ۔ جس پر ہر ایک حق پسند مطالعہ کرنے والا نہایت پُرزور الفاظ میں نفرت اور حقارت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

چونکہ آریہ سماجی اخبارات مہاتما جی کے مندرجہ بالا مضمون کے جواب میں یہ لکھ رہے ہیں کہ سوامی دیانند جی نے دیگر مذاہب کی تردید نہایت مہذبانہ الفاظ میں کی ہے ، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جو کچھ سوامی جی نے ہندومذہب کے متعلق دُرافشانی(شیریں بیانی ) کی ہے اُس میں سے مشتے نمونہ از خروارے (مفہوم: اناج سے مٹھی بھر شے بطور نمونہ نکالی گئی ہے) ، اِس جگہ نقل کروں تاکہ قارئین ِ کرام اِس بات کا اندازہ لگا لیں کہ سوامی جی کس قدر مہذب انسان تھے ۔ اور جب اُنہوں نے اسی مذہب کے متعلق جس میں انہوں نے پرورش پائی تھی ، ایسی دریدہ دہنی (زبان درازی) سے کام لیا ہے تو اسلام اور عیسائیت کے متعلق کیا کچھ نہ لکھا ہو گا۔

ستیارتھ پرکاش اور برہمن و پجاری

1۔       سب سے پہلے سوامی جی برہمنوں کی خبر لیتے ہوئے لکھتے ہیں : – ’’ آج کل کے فرقہ بند اور خود غرض برہمن وغیرہ جو دوسروں کو علم اور نیک صحبت سے ہٹا کر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور اُن کے تن من دھن کو برباد کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر کہشتری (کھشتری)وغیرہ ورن    ( ملک ) کے لوگ پڑھ کر صاحبِ علم ہو جاویں گے توہمارے گمراہ کر نے والے جال سے چھوٹ کر اورہماری چالاکی کو جان کر ہماری بے عزتی کریں گے ‘‘    ( ستیارتھ پرکاش ، صفحہ  95)

 ’’برہمنوں نے سوچا کہ اپنی روزی کا بندوبست کرنا چاہیے ۔ صلاح کر کے یہی ارادہ کر کھشتری وغیرہ کو اپدیش (وعظ/نصیحت) کرنے لگے کہ ہم ہی تمہارے معبود ہیں ۔ بغیر ہماری خدمت کے تم کو سورگ (جنت) یا مکتی (نجات) نہ ملے گی ۔ بلکہ جو تم ہماری خدمت نہ کرو گے تو گھور نرک (تاریک پاتال/ دوزخ )  میں پڑو گے ۔ جو جو (جو کچھ)  پورے عالموں دھرم پر چلنے والوں کا نام برہمن اور قابل قدر وید اور رشنی منیوں  کے شاستر (کتاب) میں لکھا تھا ، اُن کو اپنے جیسے بے عقل ، نفس پرست ، فریبی ، عیاش ، ادھرمیوں  (ملحدوں ) پر گھٹا(نافذ) بیٹھے ۔ بھلا وہ سچے  عالموں کے اوصاف ان جاہلوں پر کب گھٹ سکتے ہیں‘‘     (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 365)۔

’’جب کھشتری وغیرہ آنکھ کے اندھے اور گانٹھ کے پورے یعنی اندرونی علم کی آنکھ پھوٹی ہوئی اور جن کے پاس دولت کافی تھی ، ایسے ایسے چیلے ملے تو پہر(پھر)  اِن فضول برہمن نام والوں کو عیش و عشرت کا باغ مل گیا ۔۔۔۔ جیسی اپنی خواہش ہوئی ویسا کرنے لگے ۔ یہاں تک کہ ’’ہم بھودیو ‘‘     (برہمن یا زمین پر آنے والے دیوتا) ہیں ، ہماری خدمت کے بدون (بغیر) دیولوک (دیوتاؤں کی سرزمین یا جنت ) کسی کو نہیں مل سکتا ۔ اِن سے پوچھنا چاہیے کہ تم کس لوک (دنیا ) میں جاؤ گے ۔ تمہارے کام تو  گھورنرک بھو گئے (دوزخ  میں جانے لائق ) کے ہیں ۔ کیڑے مکوڑے پتنگا وغیرہ بنو گے ‘‘    (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 366)۔  

’’تم برہمن نہیں ہو بلکہ ’’پوپ ہو ۔۔۔ دغا فریب سے دوسرے کو ٹھگ کر اپنا مطلب نکالنے والے کو پوپ کہتے ہیں ‘‘    (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 366) (مرتب : پوپ عیسائیوں کے مذہبی رہنما یعنی اسقف اعظم کو کہتے ہیں ۔ بالفاظِ دگر ، برہمن نے پوپ کی طرح مذہبی پیشوائیت قائم کر رکھی ہے ۔)۔۔۔۔۔ ’’پھروہ  پوپ لوگ اپنی اور اپنے پاؤں  کی پوجا کراتے (کرواتے) اور کہنے لگے کہ اِسی میں تمہاری بہتری ہے ۔ جب یہ لوگ ان کے بس میں ہو گئے تب غفلت اور نفس پرستی میں غرق ہو کر گڈریے (بکریاں  چرانے والا) کی مانند جھوٹے گرو بن کر چیلے پھنسانے لگے ۔ علم، طاقت ، عقل ، ہمت، بہادری، شجاعت وغیرہ نیک اوصاف سب برباد ہوتے گئے ۔ پہر(پھر ) جب نفس پرستی میں ڈوبے تو گوشت، شراب کا استعمال چھپ چھپ کر کرنے لگے ، پہر (پھر) اُن ہی میں سے ایک ورم مارگ مت (دنیا  داری کا مذہب) قائم ہو گیا ‘‘     (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 369)۔ 

یہ تو ہوا برہمنوں کے متعلق ۔ اب سوامی جی پجاریوںوغیرہ کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:- ’’ایسی بُت پرستی وغیرہ برے کاموں ہی سے آریہ ورت (آریاؤں کے وطن) میں نکمے پجاری ، بھکھاری (بھکاری) ، سُست ، کم ہمت ، کروڑوں آدمی ہو گئے ہیں ۔ سارے جہان میں جہالت انہوں نے ہی پھیلائی ہے ۔ جھوٹ، فریب بھی بہت سا پھیلا ہے ‘‘    (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 415) ۔

2۔       مفسرین ِ وید کے بارے میں لکھتے ہیں :- ’’ہاں برہمنوں نے مُردے کا کریاِ کرم (ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق کفنانے اور جلانے کے افعال) اپنی روزی کی خاطر جاری کیا ہوا ہے ۔ پس چونکہ وہ ویدوں کے مطابق نہیں ، اس لیے بے شک قابل ِ تردید ہے ۔  اب کہیے اگر چارواک (کمہار کے گدھا) وغیرہ نے وید وغیرہ سچے شاستر (کتاب) دیکھے سنے یا پڑھے  ہوتے تو کبھی اِس طرح ویدوں کی مذمت نہ کرتے کہ وید بھانڈ، دھورت (دغاباز، فریبی ) اور نشاچر (اُلو، گیڈر یعنی احمق اور بزدل )  جیسے  آدمیوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔ وہ ایسی بات ہرگز منہ سے نہ نکالتے  ۔ البتہ ہیدھر(وید  کا شارح )  وغیرہ ٹیکارکار (شارحین ) بھانڈ، دھورت اور نشاچر تھے ۔ یہ اُن کی مکاری ہے ، ویدوں کا قصور نہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 520) ۔

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش اور ہندو نظام عبادت

3۔       پھر سوامی جی مورتی پوجا کا تمسخر آمیز لہجہ میں کھنڈن (تردید) کرتے ہوئے لکھتے ہیں:- ’’اِس لیے پتھر وغیرہ کے بُت بنا اُس کے آگے نذرانہ دھر گھنٹہ کی آواز ٹن ٹن پوں پوں اورسنکھ  بجا شور مچا اُن کو انگوٹھا دکھلانے لگے جیسے کوئی کسی کو چھلے یا چڑا دے کہ تو گہنڑ (گہنے ، زیور) لے اور انگوٹھا دکھلا دے ۔ اس کے آگے سے سب چیزیں لے کر آپ بھوگے (مزے اڑائے) ۔ ویسے ہی لیلا  (سوانگ یا بہروپ ) اُن پجاریوں یعنی پوجا بمعنی نیک اعمال کے دشمنوں کی ہے ۔ یہ لوگ چٹک مٹک ، چلک چھلک بتوں کو بنا ٹھنا ، آپ ٹھگوں کی مانند بن ٹھن کے بیچارے بیوقوف غریبوں کا مال اُڑا کر موج کرتے ہیں‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 414)۔

4۔       سوامی جی نے اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دوسری جگہ ہندو اوتاروں ، مندروں اور مورتیوں کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:- ’’جب پوپ جی (برہمن) اپنے  چیلوں کو جینیوں(جین مت کے ماننے والے) سے روکنے لگے اور تب بھی وہ مندروں میں جانے سے نہ رک سکے تو جینیوں کی کتھا (وعظ) میں بھی لوگ جانے لگے  ۔ جینیوں کے پوپ اُن پرانیوں (پُران کو ماننے والے) کے پوپوں کے چیلوں کو بہکانے لگے ۔ تب پرانیوں (پران کو ماننے والے ہندو) نے سوچا کہ اس کی کوئی تدبیر کرنی چاہیے ۔ نہیں تو اپنے چیلے جینی  ہو جائیں گے ۔ پھر پوپوں(برہمنوں) نے یہی صلاح کی کہ جینیوں کی مانند اپنے بھی اوتار، مندر، مورتی اور کتھا کی کتابیں بنا دیں ۔ اِن لوگوں نے جینیوں کے چوبیس تیرتھنکروں (مذہبی پیشواؤں) کی مانند چوبیس اوتار ، مندر اور بُت بنائے اور جیسے جینیوں کے آو (Anga)اور اُتر پران(Purvas) وغیرہ ہیں ویسے ہی اٹھار ہ پران بنانے لگے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 393)۔

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش اور ہندو مذہبی کتب

5۔       ہندوؤں کی متبرک کتابوں یعنی پُرانوںکے بارے میں لکھتے ہیں:-  ’’دیو پریاگ(Devprayag) پران کے گپوڑوں (گپ بازوں) کی لیلا  (ناٹک ) ہے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 423) ۔۔۔۔ ’’جو اٹھارہ پرانوں کے مصنف ویاس جی ہوتے تو اُن میں اتنے گپوڑے نہ ہوتے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 429) ۔۔۔۔ ’’اسی لیے سب سے پرانی برہمن کتابوں ہی پر یہ سب باتیں صادق آ سکتی ہیں ۔ اِن جدید فرضی شریمد بھاگوت ، شو پران وغیرہ بناوٹی یا غلط پُر عیب کتابوں پر نہیں صادق آ سکتیں‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 430) ۔۔۔۔ ’’ پرانوں کے گپوڑوں کا نمونہ ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 431)  ۔

شو پران(Shiv Purva) کی ایک کتھا پر تنقید کرتے ہوئے سوامی جی لکھتے ہیں:- ’’بھلا کوئی اِن پرانوں کے بنانے والوں سے پوچھے کہ جب ذرات اور پانچ مہا بہوت (عناصر) بھی نہیں تھے تو برہما ، وشنو، مہادیو کے جسم پانی ، کمل ، لنگ ، گائے اور کیتکی کا درخت اور راکھ کا گولا ، کیا تمہارے بابا کے گھر  سے آ گرے‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 433) ۔

پھر سوامی جی بھاگوت(بھگوت)  پُران کی کتھا پر خامہ فرسائی  کرتے ہوئے درافشانی کرتے ہیں :- ’’بھلا اِن پرلے درجہ کی جھوٹی باتوں کو وہ اندھے پوپ (برہمن) اور باہر اندر کی پھوٹی آنکھوں والے اُن کے چیلے سنتے اور مانتے ہیں ۔ بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ یہ انسان ہیں یا اور کوئی !!! ۔ اِن بہاگوت (بھاگوت) وغیرہ پُرانوں کے بنانے والے پیدا ہوتے ہی کیوں نہ رحم میں ہی ضائع ہو گئے ؟ یا پیدا ہونے کے وقت مر کیوں نہ گئے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 433، 434)۔

’’ مارکنڈے پُران اور بوب دیو کی تصنیف کردہ بہاگوت(بھاگوت) پُران کی گپوں کا نمونہ ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 434) ۔۔۔ پھر مارکنڈے پران کی ایک کتھا کا ذکر کرتے ہوئے سوامی جی تحریر فرماتے ہیں:- ’’دیکھیے ، کیا ہی ناممکن کتھا کا گپوڑہ بھنگ کی لہر میں اُڑا دیا جس کا کہ کوئی حدوحساب نہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 435) ۔۔۔۔ پھر  بہاگوت (بھاگوت) پُران کی ایک کتھا کو نقل کر کے لکھتے ہیں:- ’’ ایسی بے سمجھی کی باتیں بے سمجھ کرتے، سنتے اور مانتے ہیں۔عالم نہیں (مانتے یا مان سکتے)‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 437)۔۔۔۔۔ ’’اِس قسم کی جھوٹی  باتوں کا گپوڑہ بہاگوت( بھاگوت) میں لکھا ہے کہ جس کا کچھ حد حساب نہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 438) ۔ ۔۔۔۔۔’’اِسی طرح دیگر پرانوں کی بھی لیلا سمجھنی چاہیے ۔ لیکن اُنیس بیس اکیس یعنی ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 440) ۔۔۔۔۔۔ اِس بہاگوت (بھاگوت) کے مصنف نے ناواجب من گھڑت عیب لگائے ہیں ۔ دودھ ، دہی ، مکھن وغیرہ کی چوری کے الزام لگائے اور گنجا (؟) لونڈی  سے بدفعلی کرنا ۔ اور غیر عورتوں سے راس منڈل (ہاتھ پکڑ کے دائرے میں ناچ)  میں کھیل  کرنا وغیرہ جھوٹے عیب شری کرشن جی پر لگائے ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 440) ۔

سوامی جی گڑڑ(گرڑ)  پران کے متعلق اپنی رائے کا اظہار اِن الفاظ میں کرتے ہیں:- ’’ (سوال)  کیا گڑڑ(گرڑ) پران بھی جھوٹاہے؟(جواب) ہاں ، جھوٹا ہے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 445) ۔

پھر پُرانوں کے ماننے والوں یعنی سناتن دھرمیوں (لازوال قانون کے ماننے والے) کے متعلق سوامی جی حسبِ ذیل رائے صادر فرماتے ہیں:- ’’ان (پُرانوں) کا ماننا کسی عالم کا کام نہیں بلکہ اُن کو ماننا جہالت ہے‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 451)۔

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش اور مختلف ہندو فرقے

6۔       ہندومذہب کے مختلف فرقوں کے ساتھ سوامی جی نے جو سلوک کیا ہے وہ ذیل کے حوالہ جات سے ظاہر ہے:-

دام مارگیوں کے متعلق سوامی جی کا بیان :- ’’ جو دیکشٹ یعنی کلال (شراب فروش) کے گہر(گھر) میں جا کر بوتل پر بوتل چڑہاوے  ، رنڈیوں کے گھر میں جا کر اُن سے بدفعلی کر کے  سوئے  ، جو اِس قسم کے کام بے شر ، بے خوف ہو کر کرے ، وہی دام مارگیوں میں سب سے اعلیٰ شہنشاہ ِ عالم کی مانند مانا جاتا ہے ۔ یعنی جو بڑا بدچلن ہو وہی اِن میں بڑا ۔ جو اچھے کام کرے اور بُرے کاموں سے ڈرا، وہی چھوٹا ہے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 371تا 372) ۔ ۔۔ ۔’’کبھی کبھی کالی وغیرہ کے لیے کسی آدمی کو پکڑنا ۔ ہوم (بھینٹ دے ) کر کچا کچا  اُس کا گوشت کھاتے بھی ہیں ۔ جو کوئی بھیروی چکر میں شامل ہو اور گوشت و شراب نہ کھائے پیے تو اس کو مار کر اس کا ہوم (بھینٹ) کر دیتے ہیں ۔ اِن میں جواگھوری (جو نجاست کو بھی کھا لیتے ہیں) ہوتا ہے وہ مردہ انسان کا بھی گوشت کھا لیتا ہے ۔ اجری ، وجری کرنے والے بول و براز بھی کھاتے پیتے ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 456) ۔

چولی مارگی اور بیج مارگی ہندوؤں کے متعلق لکھتے ہیں:-  ’’ایک چولی مارگی اور دوسرے بیج مارگی بھی ہوتے ہیں ۔ چولی مارگ والے ایک پوشیدہ جگہ یا زمین پر ایک مقام بناتے ہیں ۔ وہاں سب کی عورتیں اور مرد ، لڑکا، لڑکی ، بہن ، ماں ، بہووغیرہ سب جمع ہوتی ہیں اور سب لوگ مل جل کر گوشت کھاتے ، شراب پیتے ہیں ۔ سب لوگ ایک عورت کا برہنہ کر اُس کی اندام نہانی کی پرستش کرتے اور اُس کا نام درگا دیوی رکھتے ہیں اور سب عورتیں ایک مرد کو برہنہ کر کے اُس کے آلۂ تناسل کی پرستش کرتی ہیں ۔ جب شراب پی کر مست ہو جاتے ہیں ، تب تمام عورتوں کی چھاتی کے لباس جس کو چولی کہتے ہیں ، ایک بڑے مٹی کے برتن میں اکٹھے رکھ دیتے ہیں ۔ ایک ایک مرد اُس میں ہاتھ ڈالتا ہے ۔ جس کے ہاتھ میں جس کا کپڑا آوے یعنی وہ کپڑے والی خواہ اس کی ماں ، بہن ، لڑکی اور بہو ہی کیوں نہ ہو، اس وقت کے لیے اُس کی عورت بن جاتی ہے ۔ بدفعلی کرنے اور بہت نشہ چڑھنے کے باعث جوتے وغیرہ سے باہم لڑتے بہڑتے (بھڑتے) ہیں۔  جب علی الصبح کچھ رات ہونے پر اپنے اپنے گھر کو چلے جاتے ہیں ، تب ماں  ماں ، لڑکی لڑکی ، بہن بہن اور بہو بہو ہو جاتی ہے ۔ اور بیج مارگی عورت مرد کی مجامعت کے بعد پانی میں منی ڈال ملا کر پیتے ہیں ۔ یہ پاجی(نیچ لوگ) ایسے کرموں (افعال) کو نجات کے ذریعے (کا ذریعہ) مانتے اور علم ، وچار (تفکر) ، شرافت وغیرہ سے محروم رہتے ہیں ‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 457) ۔

ویشنو (وشنو) مت کے متعلق اِن  الفاظ میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں: – ’’ (سوال) ، ویشنو (وشنو) تو اچھے ہیں؟ (جواب)، کیا خاک اچھے ہیں ۔ جیسے وہ  (دام مارگی ) ہیں،  ویسے یہ ہیں‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 458) ۔۔۔۔۔ ’’صاحبِ عقل دیکھ لیں کہ ویشنو (وشنو) ، اُن کے پیرو، اور ناراین ، تینوں چور منڈلی (چوروں کا گروہ)  ہیں یا نہیں ، اگرچہ مت متانتروں(مختلف مذاہب)  کے معتقدوں میں کوئی شخص قدرے اچھا بھی ہوتا ہے ۔ تاہم اِس مت (مذہب)  میں رہ کر بالکل اچھا نہیں ہو سکتا ‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 459) ۔

 ویشنو (وشنو) مت کے خاکی سادھوؤں کی کہانی سوامی جی کی زبانی :- ’’ اگر کسی نے بے عقلی اور جہالت کی شکل نہ دیکھی ہو تو خاکی جی کا درشن کرلے‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 460)  ۔۔۔۔ ’’  یہ لوگ سوائے نشہ پینے ، غفلت  میں رہنے، لڑنے ، کھانے، سونے ، جھانج پیٹنے ، گھنٹہ گھڑیال اور سنکھ بجانے ، دہونی جگا رکھنے، نہانے دھونے ، سب طرفوں میں آوارہ گردی کرنے کے اور کچھ بھی اچھا کام نہیں کرتے ۔ چاہے کوئی پتھر کو بھی پگھلا لے لیکن ان خاکیوں کی روحوں کو علم سکھانا مشکل ہے ۔ کیونکہ اکثر  وہ شودروں کی اولاد ہوتے یا مزدور، کسان ، کمہار وغیرہ اپنی مزدوری چھوڑ کر صرف خاک رما (مَل ) کر  بیراگی خاکی وغیرہ بن جاتے ہیں ۔ اُن کو علم یا نیک صحبت وغیرہ کی عظمت نہیں معلوم ہو سکتی ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 462) ۔ ’’ یہ باہر سے تارک الدنیا اور اندر سے بڑے حریص(لالچی)  ہوتے ہیں ‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 462) ۔

 کبیر پنتھیوں کے متعلق سوامی جی کی رائے:- سوامی جی کے نزدیک کبیر پنتھی بھی اچھے نہیں ہیں ۔ چنانچہ سوامی جی سوال و جواب کی صورت میں لکھتے ہیں ۔  ’’ (سوال) ، کبیر پنتھی تو اچھے ہیں؟ (جواب)، نہیں ‘‘۔

داؤد پنتھ ، رام سنہی پنتھ ، کونڈا پنتھ ، مادھو مت ، لنگا نکت مت ، برامھ ، ماج اور پرارتھنا کاج کو بھی سوامی جی نے اچھا نہیں کہا بلکہ ان میں سے بعض پنتھیوں کے متعلق نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں ۔

ولبھ مت کے متعلق سوامی جی لکھتے ہیں:- ’’یہ ولبھ مت بھی دام مارگیوں کی شاخ ہے ۔ اِسی لیے عورتوں کی صحبت گوسائیں لوگ عموماً کرتے ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 471) ۔۔۔۔ ’’ اور کوئی طریقہ عیبوں کے رفع کرنے کے لیے بغیر گوسائیں جی کے مت (ولبھ مت) کے نہیں ہے ۔ اِسی لیے بغیر سمرپن(وقف ) کیے کسی شے کو گوسائیں جی کے چیلے نہ بھوگیں (استعمال کریں) ۔ اِسی لیے اُن کے چیلے اپنی عورت، لڑکی ، بہو اور دولت مال وغیرہ ان چیزوں کو بھی وقف کرتے ہیں ۔ اور سمرپن (وقف)  کا اصول یہ ہے کہ جب تک گوسائیں جی کی چرن سیوا میں سمرپت (وقف) نہ ہو ، تب تک اُس کا خاوند اپنی بیوی کو نہ چھوئے ۔ اِس لیے گوسائیں کے چیلے سمرپن کر کے اپنی شے کا بھوگ کریں ۔ کیونکہ مالک کے بھوگ (استعمال) کر لینے پر سمرپن(وقف)  نہیں ہو سکتا ۔ اِس لیے اول سب کاموں میں سب اشیاء کو سمرپن کریں ۔ اول عورت وغیرہ گوسائیں جی کے سمرپن کر کے پھر حاصل کریں ۔ ویسے ہی ہریؔ کے تمام اشیاء سمرپن کر کے پھر حاصل کریں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 473) ۔۔۔۔’’ اور دیکھیے! یہ گوسائیں لوگ اپنے سمپروا (فرقہ) کو "پُشئی” مارگ کہتے ہیں یعنی کھانے، پینے، تروتازہ ہونے اور سب عورتوں سے حسبِ خواہش عیش و عشرت یا صحبت کرنے کا پشئی مارگ نام ہے‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 474) ۔ ۔۔’’ وہاں سب عورتیں گوسائیں جی کے پاؤں چھوتی ہیں  جس کو گوسائیں جی کا من چاہے یا جس پر عنایت ہو ، اُس کی انگلی پاؤں سے دبا دیتے ہیں ۔ وہ عورت اور اُس کے خاوند وغیرہ اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں ۔ اور اس عورت کو خاوند وغیرہ سب کہتے ہیں کہ تو گوسائیں جی کی خدمت گزاری کے لیے جا ۔ اور جہاں کہیں اُس کے خاوند وغیرہ خوش نہیں ہوتے ، وہاں دُوتی (نائکہ)  اور کُٹنیوں سے مطلب براری کرا لیتے ہیں ۔ سچ پوچھو تو ایسے کام کرنے والے ان کے مندروں میں اور اُن کے نزدیک بہت سے رہا کرتے ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 476)

سوامی ناراین مت کے متعلق سوامی جی کی رائے؛- ’’ جیسی گوسائیں جی کی دھن (مال) لوٹنے وغیرہ کی عجب لیلا ہے ویسی ہی سوامی ناراین کی بھی ہے‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 478) ۔۔۔۔’’لوگوں کے سامنے اُن کے سادھو  عورتوں کا مُنہ نہیں دیکھتے لیکن درپردہ نہ معلوم کیا لیلا ہوتی ہو گی؟ یہ بات سب جگہ معلوم ہوئی ہے ۔ کہیں کہیں سادھوؤں کی زناکاری وغیرہ کی لیلا ظاہر ہو گئی ہے ۔ اور اُن میں جو بزرگ ہوتے ہیں ،وہ جب مرتے ہیں تب ان کو پوشیدہ کنوئیں میں پھینک کر مشہور کر دیتے ہیں کہ فلاں مہاراج جسم سمیت             بیکنٹھ (سورگ) میں گئے ‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 482) ۔

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش اور دوسرے  ہندوستانی دھرم (بدھ مت، جین مت، سکھ مت)

7۔       چارواک ، بودھ (بدھ) ، جین دھرم کی مذمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-  ’’ جب اِن پوپوں(برہمنوں)  کی ایسی بدفعلیاں دیکھیں  اور مُردے کا ترپن شرادھ (مردے کے نام پر کھانا پینا) ہوتے دیکھا  تو ایک سخت خوفناک وید وغیرہ شاستروں کی مذمت کرنے والا بودھ یا جین مت رائج ہوا ۔ سنتے ہیں کہ اسی ملک میں گورکھپور کا ایک راجہ تھا ۔ اِس سے پوپوں نے یگیہ (قربانی) کرایا ۔ اُس کی پیاری رانی کا سماگم (ملاپ ) گھوڑے کے ساتھ کرانے سے اُس کے مر جانے پر ۔ بعد ازاں دنیا چھوڑ کر اپنے لڑکے کو سلطنت سونپ سادھو ہر کر پوپوں(برہمنوں)  کی قلعی کھولنے لگا ۔ اسی کی شاح کے طور پر چارواک اور ابہانک مت بھی ہوا تھا ‘‘    (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 275) ۔

 ’’ اب ناستک (ایشور کی ہستی سے منکر) متوں مین سے چارواک بودھ اور جین مت کے کھنڈن مندن (تردید و تائید) کا مضمون  تحریر کرتے ہیں ‘‘   (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 514) ۔۔۔۔۔  ’’انہوں (بدھوں ) نے کسی درجہ اپنی اودیا (بے علمی) کی ترقی کی ہے ، اس کی نظیر ان کے سوائے دوسری ہو نہیں سکتی ‘‘   (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 480) ۔  ۔۔۔ ’’ تمہارے (جینی) تیرتھنکروں کو پورا علم نہ تھا ۔ اگر اُن کو کامل علم ہوتا تو ایسی ناممکن باتیں کیوں لکھتے ‘‘  (ستیارتھ پرکاشِ، صفحہ 540) ۔۔۔۔۔  ’’جینوں کی بے ہودہ فلاسفی‘‘   (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 540) ۔۔۔۔۔    ’’ جب وہ (جینی) اور اُن کے تیرتھنکر سب ہی علم سے بے بہرہ ہیں تو پھر  عالموں کی تعظیم و تکریم کس طرح کریں ‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 558) ۔۔۔۔  ’’ اِس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے آچاریہ خود غرض تھے ، عالم کامل نہ تھے ۔ پس اگر وہ سب کی مذمت نہ کرتے تو ایسی جھوٹی باتوں میں کوئی نہ پھنستا اور نہ اُن کا مطلب پورا ہوتا‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 557) ۔۔۔۔۔    ’’ جینیوں کی بدخواہی اور کمینہ پن دیکھو‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 561) ۔   ۔۔۔۔۔’’ کیوں نہ ہو اگر جینی لوگ طفلانہ عقل والے نہ ہوتے تو ایسی باتیں کیوں مان بیٹھتے ۔ جس طرح بازاری عورت اپنے سوائے اور کسی کی تعریف نہیں کرتی ، اِسی طرح یہ بات بھی دکھلائی دیتی ہے ‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 566) ۔۔۔۔   ’’  بھلا کوئی عقل مند آدمی سوچے کہ ان کے سادھو (؟) اور تیرتھنکر جن میں بہت سے بیسوا ، گامی (رنڈی باز) اور پرہتری گامی (زانی ) ، چور وغیرہ تھے ۔ وہ جین مذہب  مذہب والے سب لوگ تو سورگ (ہندوؤں کی جنت) اور مکتی (نجات) کو گئے اور سری کرشن وغیرہ بڑے دھارمک (صالح) مہاتما سب نرک (ہندوؤں کی دوزخ) کو گئے ‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 478) ۔۔۔۔۔    ’’ اب دیکھو ، مورتی پوجا کا جتنا جھگڑا چلا ہے وہ سب جینیوں کے گہر(گھر) سے نکلا ہے اور وہموں کی جڑ یہی جین مذہب ہے ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 572) ۔ ۔۔۔   ’’ الغرض یہ لوگ (جینی ) اپنے مذہب کی کتابوں، مقولوں اور سادھوؤں وغیرہ کی ایسی بڑائیاں مارتے ہیں کہ گویا جینی لوگ بھاٹوں (نسب نام یاد رکھنے والے) کے بڑے بھائی ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 565) ۔

8۔       سکھ مذہب کے متعلق جو کچھ سوامی جی نے لکھا ہے اُس کا کچھ حصہ اس جگہ نقل کیا جاتا ہے:-   ’’دیگر اِ ن (بابا صاحب) کے پیچھے ان کے لڑکے سے اُداسی سادھوؤں کا سلسلہ جاری ہوا اور رام داس وغیرہ سے نرملے سادھوؤں کا۔ کتنے ہی گدی والوں نے اپنی عبارت بنا کر گرنتھ (سکھوں کی مذہبی کتاب) میں ملا دی ‘‘  (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 465) ۔ ۔۔۔    ’’ اُنہوں  (گرو  گوبند سنگھ جی ) نے ایک پرشچرن (ہَون کا عمل)  کرایا ۔ مشہور کیا کہ مجھ کو دیوی نے دعا اور تلوار دی ہے کہ تم مسلمانوں سے لڑو ، تمہاری فتح ہو گی ۔ بہت سےلوگ اُن کے ساتھی ہو گئے ۔ اور انہوں نے جیسے دام مارگیوں نے    ’’ پنچ مکار‘‘، چکرانکتوں نے    ’’پنچ سنسکار‘‘ جاری کیے تھے ، ویسے    ’’ پنچ ککار‘‘جاری کیے ” (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 465) ۔۔۔     ’’(سکھ) بت پرستی تو نہیں کرتے لیکن اِس سے بڑھ کر گرنتھ کی پرستش کرتے ہیں ۔ کیا یہ بُت پرستی نہیں ہے؟ کسی بے جان چیز کے سامنے سر جھکانا یا اُس کی پرستش کرنا تمام بُت پرستی ہے جیسے مورتی (بت) والوں نے اپنی دکان جما کر روزی کی صورت نکالی ہے ، ویسے اِن لوگوں نے بھی کر لی ہے۔ جیسے پجاری لوگ بت کا درشن کراتے ہیں اور نذریں لیتے ہیں ، ویسے نانک پنتھی لوگ گرنتھ کی پرستش کرتے کراتے بھینٹ بھی لیتے ہیں‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 466) ۔  (حضرت بابا نانک صاحب کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا )۔

9۔       اس کے بعد سوامی جی سب ہندو فرقوں کے متعلق لکھتے ہیں:- ’’ جس طرح جھوٹے دکاندار یا بیسوا اور بہڑوا (بھڑوا) وغیرہ اپنی اپنی چیز کی بڑائی اور دوسرے کی برائی کرتے ہیں، اسی طرح کے ان کو جانو‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 493)

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش اور بزرگانِ ہندو مت

10۔     ہندومذہب کے مختلف بزرگوں کے متعلق جن خیالات کا اظہارسوامی جی نے کیا ہے ، وہ ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔

ویشنو (وشنو) مت کے بانی کے متعلق لکھتے ہیں:- ’’راجہ بھوج کے ڈیڑھ سو برس بعد ویشنو (وشنو) مت کا آغاز ہوا ۔ ایک شٹھہ کوپ نامی کنجر قوم میں پیدا ہوا تھا  اس سے تھوڑا سا پہلا ، اس کے پیچھے منی واہن بھنگی خاندان میں پیدا شدہ اور تیسرا یادنا چاریہ (مسلمان ) خاندان میں پیدا شدہ آچاریہ ہوا‘‘  ( ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 394) ۔

بھگت کبیر صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں:- ’’  کیا کبیر صاحب بُھنگا تھا یا غنچہ جو پھولوں سے پیدا ہوا؟ اور آخرش پھول  ہو گیا ۔ یہاں جو یہ بات سنی جاتی ہے وہی سچی ہو گی کہ کوئی جولاہا کاشی (شہر) میں رہتا تھا ۔ اُس کے بال بچے نہیں تھے ۔ ایک دفعہ تھوڑی سی رات تھی،   ایک کوچہ میں جا رہا تھا  تو دیکھا سڑک کے کنارے ایک ٹوکری میں پھولوں کے اندر اُسی رات کا پیدا شدہ بچہ تھا ۔ وہ اُس کو اٹھا لے گیا ۔ اپنی عورت کو دیا ۔ اُس پرورش کی ۔ جب وہ بڑا ہوا، تب جولاہے کا کام کرتا تھا ۔ کسی پنڈت کے پاس سنسکرت پڑھنے کےلیے گیا ۔ اُس ا س کی بے عزتی کی ، کہا کہ ہم جولاہے کو نہیں پڑھاتے ۔ اِسی طرح کئی پنڈتوں کے پاس گیا ۔ لیکن کسی نے نہ پڑھایا ۔ تب اوٹ پٹانگ  بھاشا (زبان) بنا کر جولاہے وغیرہ نیچ لوگوں کو سمجھانے لگا ۔ تنبورے لے کر گانا گاتا تھا ، بھجن بناتا تھا ۔ خاص کر پنڈت شاستر ، ویدوں کی مذمت کیا کرتا تھا ۔ کچھ جاہل لوگ اس کے دام میں پھنس گئے ۔ جب مر گیا ، تب لوگوں نے اس کو (صاحب قدرت ) سِدھ بنا لیا ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 463) ۔

اُس (سوامی رام چرن) کا بھی حال ایسا سنا ہے کہ’’  وہ جے پور کا بنیا تھا ۔ اُس نے وانترا گاؤں میں ایک سادھو سے بھیس لیا اور اُس کو گرو کیا ۔ اور شاہ پور میں آ کر ٹکی جمائی ۔ سادہ لوح آدمیوں میں پاکھنڈ (دھوکا) کی جڑ جلد قائم ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ قائم ہو گئی ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 468)

رام سنہی  پنتھ کے ایک دوسرے فرقے سرگردہ کے متعلق سوامی جی لکھتے ہیں: – ’’ ایک شخص رام داس نامی ذات کا ’’ ڈھٹیرہ‘‘ (بھنگی )  بڑا چالاک تھا۔ اس کی دو بیویاں تھیں ۔ وہ پہلے بہت دن تک ’’ اوگھڑ‘‘ ہو کر کتوں کے ساتھ کھاتا رہا ۔ پہر(پھر) دامی کونڈا پنتھی بنا ۔ بعد ازاں ’’ رام دیو‘‘    کا کامڑیا بنا ۔ اپنی  بیویوں کے ساتھ گاتا تھا ‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 468) ۔

 ولبھ مت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:- ’’ کیا سری کرشن  گوپیوں ہی کو پیارے تھے ، دوسروں کو نہیں؟ عورتوں کا پیارا وہ ہوتا ہے جو سترین یعنی شہوت پرستی میں پھنسا ہو۔ کیا سری کرشن جی ایسے تھے؟ ‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 471) ۔ ۔۔۔ ’’ کیا سری کرشن کی کروڑہا عورتوں سے بال بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ اگر ہوتے ہیں تو لڑکے ہی لڑکے ہوتے ہیں یا لڑکیاں ہی لڑکیاں ؟ یا لڑکے لڑکیاں ملے جلے ۔ اگر کہو کہ لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں تو اُن کی بیاہ شادی کن کے ساتھ ہوتی ہوں گی ۔ کیونکہ وہاں بغیر سری کرشن کے دوسرا کوئی مرد نہیں ۔ اگر کوئی دوسرا ہے تو تمہارا دعویٰ باطل ہوا ۔ اگر کہو کہ لڑکے ہی لڑکے ہوتے ہیں تو بھی یہی نقص عائد ہو گا  یعنی اُن کی بیاہ شادیاں کہاں اور کن کے ساتھ ہوتی ہیں  ؟ یا گھر  کے گھر ہی میں گٹ پٹ کر لیتےہیں یا دیگر کسی کی لڑکیاں یا لڑکے ہیں‘‘ (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 475) ۔

حضرت بابا نانک صاحب کے متعلق جن کو تمام مسلمان ، سکھ اور ہندو عزت و تعظیم کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ سوامی جی یوں لکھتے ہیں:- ’’  نانک جی کا مدعا تو اچھا تھا لیکن علمیت کچھ بھی نہیں تھی ۔ ہاں ، زبان اُس ملک کی جو کہ گاؤں کی ہے اُس کو جانتے تھے۔ وید  آدی ، شاستر اور سنسکرت کچھ بھی نہیں جانتے تھے ۔ اگر جانتے ہوئے تو ’’ نِربھے ‘‘  لفظ کو ’’ نربھو‘‘  کیوں لکھتے ؟  اور اس کی مثال اُن کا بنایا سنسکرتی سِوتر (مقولہ/منتر) ہے ۔ چاہتے تھے کہ میں سنسکرت میں بھی قدم رکھوں لیکن بغیر پڑھے سنسکرت کیسے آ سکتی ہے؟ ہاں ، اِن گنواروں کے سامنے کہ جنہوں نے سنسکرت کبھی سنی ہی نہیں تھی ، سنسکرت بن کر سنسکرت کے بھی پنڈت بن گئے ہوں گے ۔ یہ بات اپنی بڑائی ، عزت اور اپنی شہرت کی خواہش کے بغیر کبھی نہ کرتے ۔ اُن کو اپنی شہرت کی خواہش ضرور تھی ۔ نہیں تو جیسی زبان جانتے تھے کہتے رہے ۔ اور یہ بھی کہہ دیتے کہ میں سنسکرت نہیں پڑھا ۔ جب کچھ خودپسندی تھی تو عزت و شہرت کے لیے کچھ دمبھہ (دھوکا فریب) بھی کیا ہو گا‘‘  (ستیارتھ پرکاش ، صفحہ 464) ۔۔۔۔۔ ’’  نانک جی کی زندگی میں تو اُن کا فرقہ بہت نہیں بڑھا ۔ یعنی بہت سے چیلے نہیں ہوئے تھے کیونکہ جاہلوں میں یہ طریقہ ہے کہ مرنے کے بعد اُن کو سِدھ (صاحب قدرت) بنا لیتے ہیں ‘‘ (ستیارتھ پرکاش، صفحہ 464)

٭٭٭٭٭٭٭

ستیارتھ پرکاش   کے  دو ہندو تبصرہ نگار

کیا سوامی جی کی ایسی فتنہ انگیز تحریرات کی موجودگی میں کوئی آریہ اپنی (اپنے) ضمیر کا خون کیے بغیر کہہ سکتا ہے کہ مہاتما گاندھی جی نے سوامی دیانند ، آریہ سماج اور ستیارتھ پرکاش کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے ، وہ غلط ہے ؟ جب سوامی جی کا اپنوں کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پہر(پھر) اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اسلام اور عیسائیت کے خلاف کیا کچھ زہر نہ اگلا ہو گا ۔

اغلباً (غالب ہے) اِن ہی تحریرات کی بنا پر مہاتما جی نے لکھا ہے کہ ستیارتھ پرکاش ایک مایوس کن کتاب ہے ۔ مہاتما جی پر ہی کیا موقوف ہے ، ہر ایک انصاف پسند ہندو جو ستیارتھ پرکاش کا مطالعہ کرتا ہے اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ستیارتھ پرکاش ایک مایوس کن کتاب ہے  کیونکہ اس میں دیگر مذاہب کے بزرگوں کو نہایت غیرمہذبانہ الفاظ میں یاد کیا گیا ہے ۔ چنانچہ مسٹر پرکاش لال ایڈیٹر ’’ برامھ پرچارک‘‘   لاہور اپنے اخبار مورخہ 18 جون 1924ء میں ’’سوامی دیانند و برامھ سماج‘‘   کے عنوان کے تحت رقم طراز ہیں کہ:-

’’ ہمارے آریا سماجی بھائی ، برامھ سماج پر اکثر یہ الزام لگاتے ہیں کہ برامھ لوگ دیگر ممالک و مذاہب کے نبیوں ، پیغمبروں کی تو تعظیم کرتے ہیں اور اں کے سامنے سر جھکاتے ہیں لیکن سوامی دیانند سرسوتی کے گنوں (اوصاف) کا کبھی گائن(چرچا)  نہیں کرتے ۔ اس کے جواب میں ہم یہی کہنا چاہتے ہیں کہ سوامی جی کو پیغمبر یا نبی کہنے کے لیے کافی وجوہات نہیں ۔ ہم انہیں موجودہ زمانے کا بھارت کا سپوت ، ہندو دھرم کا زبردست ریفارمر ، نیک و پاک شخصیت رکھنے والا ضرور خیال کرتے ہیں ۔ اور مورتی پوجا کے خلاف جو جہاد انہوں نے کیا، ہم اس کے سچے مداح ہیں ۔ اُن کا برہمچریہ  ، اُن کا اُتساہ(ثابت قدمی) قابل تعریف ہیں ۔ لیکن باوجود ان سب اوصاف کے نہ انہیں رشیوں جیسابر(براہما) امھ درشن ہوا تھا اور نہ ہی وہ بڑے بھاری ایشور بھگت خیال کیے جانے چاہییں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ستیارتھ پرکاش‘‘    میں ویدوں کی مہاشا(اونچی شان)  بتلانے کی غرض سے دیگر مذاہب کو نیچا ثابت کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اور دیگر مذاہب کے بزرگوں کو جن الفاظ میں یاد کیا گیا ہے ، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ اِن کا مصنف روحانی دھن سے مالامال نہیں ہوا۔ ہماری رائے میں کسی دھارمک (نیک) شخص کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ کسی بزرگ و مہان (بڑی) شخصیت پر حملہ کرے، یا اُس کی کمزوریوں کا ذکر کر کے اُن کا مخول (مذاق) اڑائے ۔ ادنیٰ سے ادنیٰ شخص کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھنا دھارمک شخص کے لیے شایاں نہیں ۔ بدھ ، مسیح ، محمد (ﷺ) ، نانک میں سے کسی نے کبھی کسی دووسرے بزرگ کی کمزوریوں کا ذکر تک نہیں کیا ‘‘   ۔

یہ تو ہوا برمھ سماج کا فیصلہ ۔ اب ذرا دیو سماجیوں کا فیصلہ بھی سن لیجیے ۔ مشہور دیوسماجی پنڈت دیورتن صاحب اپنی کتاب ’’ دیانند چرت حصہ اول‘‘  میں آریہ سماج اور سوامی دیانند سرسوتی کے متعلق لکھتے ہیں:-  ’’آریا سماج اگرچہ باہر سے مذہب کا لباس پہنے ہوئے ہے مگر اندر سے وہ دراصل مذہبی سوسائٹی ہرگز نہیں ہے” ( صفحہ 1) ۔۔۔۔ ’’ اس میں کچھ شک نہیں کہ سچے معنوں میں آریا سماج کبھی بھی مذہبی سوسائٹی نہ تھی ‘‘   ( صفحہ 2)۔۔۔۔۔ "آریہ سماج کے بانی نے آپ لکھ کر اپنے جو حالات مشتہر کیے ہیں اوران کے سوائے اپنی  جو تصنیف کردہ کتب چھاپی ہیں ، انہیں غور سے پڑھو۔ پھر  اس کے کئی پیروؤں نے جو اس کے جیوت چرت (سوانحی حالات) لکھے ہیں ، انہیں  مطالعہ کرو او رپھر دیو سماج کے مختلف انگریزی اور اردو ٹریکٹوں (تحاریر) میں ان کے متعلق جس قدر کامل شہادتوں کی بنا پر مختلف حالات مشتہر ہو چکے ہیں ، انہیں بھی معلوم کرو۔اور  اِن سب  کے سوائے بعض اور معتبر شخصوں کی تحریروں کو دیکھو اور پھر اگر تم متعصب شخص نہیں ہو اور اپنے دل کو آریہ سماج کے ہاتھوں میں فروخت نہیں کر چکے ہو تو تم اس نتیجہ پر پہنچنے کے بنا ہرگز نہیں رہ سکتے کہ آریہ سماج کا بانی ایک بہت بڑا جھوٹا ، مکار، او ر ضدی اور شہرت پرست آدمی تھا ۔ اور آریہ سماج جیسی ظاہر میں مذہبی سوسائٹی کہلانے والی مگر درحقیقت سچے دھرم اور اخلاق کو نشٹ (تباہ) کرنے والی اور درپردہ ملک کے لیے خطرناک پولیٹیکل مقصد رکھنے والے سوسائٹی کے لیے جیسے بانی کی ضرورت تھی اُس کے وہ ٹھیک شایاں تھا ‘‘   (صفحہ 5)۔

٭٭٭٭٭٭٭

اختتام

اب رہا آریوں کا تنگ نظر اور جھگڑالو ہونا ، سو وہ تو اسی بات سے ثابت ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ مہاتما جی کے خیالات کی اگر وہ درحقیقت خلاف واقعہ تھے ، کوئی مدلل تردید کرتے ۔ انہوں نے اُن کی شان میں نازیبا الفاظ کا استعمال شروع کر دیا ۔ اور کہیں قرآن و بائیبل پر حملے کر دیے اور کہیں مہاتما جی کے خلاف ریزولیوشن (قرارداد) پاس کرنے کا کھیل شروع کیا ۔ بھلا ان عقلمندوں سے کوئی پوچھے کہ سوال تو ستیارتھ پرکاش کے متعلق ہے ، آپ قرآن شریف اور بائیبل کی طرف کاہے کو دوڑے ۔ یہی تو مہاتما جی نے لکھا ہے کہ ’’آریا سماجی اپدیشک کو اتنی خوشی کبھی نہیں ہوتی جتنی کہ دیگر مذاہب کی بدگوئی کرنے کے وقت ہوتی ہے‘‘  ۔ جس کو آریا سماجی اپنے عمل سے سچ ثابت کر رہے ہیں ۔

اصل بات یہ ہے کہ مہاتما جی نے جو کچھ لکھا ہے وہ سچائی پر مبنی ہے اور آریہ سماجیوں کے پاس اس کا کچھ جواب نہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ کوئی معقول جواب پیش نہ کریں ۔ خصوصاٍ اس صورت میں جب کہ مہاتما جی نے صاف طور پر اعلان کر دیا ہے :- ’’  میں نے جوکچھ لکھا وہ پوری سوچ و بچار کا نتیجہ تھا ۔ لیکن اگر کوئی آریہ سماجی مجھے یقین دلا سکتا ہے کہ کسی ایک امر میں بھی میں نے غلطی کی ہے تو میں خوشی کے ساتھ اپنی غلطی کو قبول کر لوں گا ۔ اور معافی مانگتے ہوئے اپنے بیان کو واپس لے لوں گا‘‘  ۔

اگر اب یہی آریہ سماجی مہاتما جی کے بیان کی کوئی معقول تردید نہ کریں اور محض شوروشر اور بے جا چیخ و پکار سے کام لے کر اپنی فطرت اور عادت کا ثبووت دیتے رہیں تو پبلک سمجھ لے گی کہ دراصل آریہ سماجی مہاتما جی کے بیان کی تردید کرنے سے قاصر ہیں اور محض بے جا شوروشر سے مہاتما جی کو مرعوب کر نا چاہتے ہیں۔ مگر ایں خیال است و محال است و جنوں ۔

آخر میں ، میں اپنے آریہ دوستوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ اگر وہ فی الحقیقت خواہشمند ہیں کہ ہندوستان کی مختلف اقوام ان کے ساتھ اتحاد و اتفاق سے رہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنی لڑاکی عادت کی اصلاح کریں اور ’’ ستیارتھ پرکاش‘‘   میں سے اُن حصص (حصوں) کو خارج کر دیں جن میں دیگر مذاہب کے بزرگوں کے متعلق توہین آمیز الفااظ استعمال کیے گیے ہیں ۔ اس میں تو شک نہیں کہ میرے آریہ سماجی بھائی مہاتما جی کے بیان کو پڑھ کر دکھی ہوئے ہوں گے کیونکہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے لیکن ملکی اور قومی ترقی تبھی ہو سکتی ہے جب ہم اپنی کمزوریوں کو دیکھیں اور ان کی اصلاح کریں ۔ امید ہے کہ آریہ سماجی بھائی ان کمزوریوں کو جن کا ذکر مہاتما جی نے کیا ہے ، دور کرنے کا کچھ اُپائے (علاج) سوچیں گے ۔

اوم شانتی  

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search