اتنی بہت سی دنیائیں – خورشید رضوی

 In نظم

میں نے اتنی بہت سی دنیائیں کیوں پال رکھی  ہیں

جیسے آستین میں سانپ

یہ دنیائیں میرے عنصری قفس کے اندر لہراتی ہیں

کس کس سانپ کو دودھ پلاؤں

میرے پاس کہاں ضحّاک کی ہیبت و  سطوت

جس کے بَل پر  میں اِن سانپوں کو

اوروں کا خون چٹاؤں

 

میں نے اتنی بہت سی دنیائیں کیوں پال رکھی ہیں

 

 

ماخذ : فنون

سنِ اشاعت : ۲۰۱۴

مدیر: نیّر حیات قاسمی

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search