ملفوف آئینے: خورخے لوئیس بورخیس(ترجمہ: عاصم بخشی)

        اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ  قیامت کے ناقابلِ اپیل دن جانداروں کی شبیہیں بنانے کے مرتکب سب لوگ اپنے اپنے  فن پاروں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور حکم ہو گا کہ ان میں زندگی پھونکیں،وہ ناکام ہوں گے اور انہیں اپنے فن پاروں سمیت آتشِ جہنم کے سپرد کر دیا جائے گا۔ بچپن میں مجھے حقیقت کی طیفی نقل یا افزائش کے ساتھ جڑی اس دہشت کی خبر تو تھی ہی لیکن اس واقعے کا ذاتی تجربہ اس وقت ہوا جب میں پہلی بار قدِ آدم آئینوں کی سامنے کھڑا ہوا۔جونہی باہر اندھیرا پڑنا شروع ہوتا، آئینوں کا مستقل غیر مشتبہ عمل یعنی  میری ہر ہر حرکت کے تعاقب میں لگے رہنا ، اُن کا وہ  کائناتی چُپ سوانگ مجھے کوئی آسیب معلوم ہوتا ۔ خدا اور میرے مَلکِ مربی سے میری مسلسل  یہی التجا ہوتی کہ خواب میں مجھے  آئینے نظر نہ آئیں ۔خوب اچھی طرح یاد ہے کہ میں حالتِ  اضطراب میں ان پر ایک آنکھ ضرور رکھتا۔ کبھی مجھے یہ خدشہ  ہوتا کہ وہ حقیقت   کی روش پھیرنے لگیں گے تو کبھی یہ خوف کھانے لگتا  کہ  کہیں میں عجیب و غریب بدبختیوں کے ہاتھوں ان میں  اپنی مسخ شکل  دیکھنے لگوں گا۔ اب معلوم ہوا کہ یہ دہشت ناک  عفریت پھر دنیا میں لوٹ آیا ہے۔یہ قصہ بہت سادہ ، لیکن شدید ناخوشگوار بھی ہے۔

۱۹۲۷ء میں میری ملاقات دھیمی طبیعت کی  ایک نوجوان خاتون سے ہوئی، پہلے  پہل ٹیلیفون پر (کیوں کہ جولیا کا  اولین تعارف ایک بےنام اور بے چہرہ آواز کا تھا) اور پھرایک روز  سرِ شام  ہم ایک خاموش سے الگ تھلگ گوشے میں ایک دوسرے سے ملے ۔ اس کی آنکھیں چونکا دینے والی حد تک بڑی  بڑی تھیں، بال تیز سیاہ اور سیدھے، بدن کسی قدر اکڑا ہوا۔ اس کے اجداد کا شمار وفاق پسندوں میں ہوتا تھا  جب کے میرے بڑے مرکزیت پسند تھے۔مگر ہمارے شجروں میں اس قدیم ناموافقت نے ہمارے لیے ایک بندھن ،  یعنی اپنے وطن سے ایک کامل تعلق کا کام کیا۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ بڑے علاقے پر پھیلی  ہوئی ایک  اونچی حویلی میں رئیسانہ غربت سے بھری آزردہ حال اور پھیکی   زندگی گزار رہی تھی۔ شام ڈھلتے ہی—بہت کم ایسا ہوتا کہ رات کو—ہم اس کی حویلی کے مضافات یعنی بیلوانیرا کے بیچ  سے چہل قدمی کرتے ہوئے گزر جاتے۔ ہم ریلوے احاطے کی  اونچی  دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے۔ ایک دفعہ تو ہم سارمین سے چلنا شروع ہوئے اور سینٹی نیریو پارک کے  خالی میدانوں تک جا پہنچے ۔ہمارے بیچ نہ تو محبت تھی،  نہ ہی کوئی  محبت بھرا افسانہ۔ مجھے اس  میں ایک ایسی شدت محسوس ہوئی جو شہوانی احساس کی شدت سے یکسر مختلف تھی اور مجھے اس سے خوف آتا تھا۔عورتوں کو دامِ  قربت میں پھنسانے کی خاطر مرد اکثر انہیں اپنی جوانی کے سچے جھوٹے قصے سناتے ہیں ۔ کسی ایسے ہی لمحے میں میں  نے اسے آئینوں سے اپنے ڈر کے بارے میں ضرور بتایا ہو گا،  یوں ۱۹۲۸ء میں  فریبِ تصور کا جو بیج    بویا گیا اس نے  ۱۹۳۱ء میں پھلنا پھولنا  تھا۔ تو  مجھے ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ وہ پاگل ہو چکی ہے ، اس کے کمرے میں تمام آئینے ملفوف ہیں کیوں کہ ان میں وہ میرا عکس دیکھتی ہے — جو اس کے عکس کو دبوچ رہا ہے—بات نہیں کر سکتی، کانپتی ہے اور بار بار بس یہی دہرائے چلی جاتی ہے کہ میں  طلسمی طور پر  اس کے تعاقب میں ہوں، اسے دیکھ رہا ہوں، اس  کے پیچھے لگا ہوں۔

        کیا ہی ہیبت ناک بندھن ہے، میرے چہرے کا —یا پھر میرے پچھلے چہروں میں سے  کسی کا بندھن ۔ اُس کی کراہت آمیز تقدیر مجھے بھی کراہت آمیز بنا رہی ہے، لیکن اب مجھے مزید کوئی پروا نہیں۔

Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search