بابل کی لاٹری: خورخے لوئیس بورخیس (ترجمہ: عاصم بخشی)

بابل  کے تمام باسیوں کی طرح  میں بھی سابق قونصل  رہا ہوں، سب کی طرح میں بھی غلام رہا ہوں۔ میں نے  بھی قدرتِ کاملہ، بدنامی اور قید دیکھی ہے۔ یہ دیکھیے! میرے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت غائب ہے۔ ادھر نظر ڈالیے! میری بے آستین قبا میں موجود چیر  کے بیچ سے آپ میرے  پیٹ پر گودا ہوا ایک قرمزی نقش دیکھ سکتے ہیں، یہ دوسرا حرف  ’’بیتھ‘‘[1] ہے۔

پورے چاند کی راتوں میں  یہ علامت مجھے  ان انسانوں پر قدرت عطا کرتی ہے جن کے اوپر ’’گمل‘‘[2] کا نقش  موجود ہے، لیکن   مجھے’’الف‘‘   کا نشان رکھنے والوں کے زیرِ تسلط کر دیتی ہے، جو  خود اماوس کی راتوں میں  ’’گمل‘‘  کا نشان رکھنے والوں کے تابع ہوتے ہیں۔

میں نےعلی الصبح کے دھندلکے ، ایک تہہ خانے میں کسی سیاہ  قربان گاہ  پر مقدس بیلوں  کے گلے کاٹ کربھینٹ دی ہے ۔ ایک بار توپورے قمری سال  کے لیے  ہی مجھے غیرمرئی قرار دے دیا گیا، چیختا رہتا  لیکن میری آواز پر کوئی کان نہیں دھرتا تھا، روٹی بھی چرا لیتا تو میرا سر قلم نہ ہوتا۔ میں اس شے سے واقف ہوں  جس سے یونانی لاعلم تھے، یعنی بے یقینی۔امید نے اس سمے بھی میرا ساتھ نہ چھوڑا جب  میں اُس کانسی کے حجرے میں ایک گلا گھونٹ دینے والے  کے رومال  کا نشانہ بنا  ،اور تو اور  دریائے مسرت میں  بھی  دہشت نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔  پونتیکا کے ہراکلیدس[3] سے یہ حیران کن روایت پہنچی ہے  کہ فیثاغورث کے خیال میں وہ پہلے ایپری کا پیروس[4]  تھا ، اس  سے پہلے یوفوربس [5]، اور اس سے پہلے کوئی اور انسانِ فانی ، مگر  اس قسم کی نیرنگی یاد رکھنے کے لئے  مجھے  نہ توموت کی طلب ہے اور نہ ہی مکروفریب کی ۔

تقریباً اسی قسم کا بھیانک  تنوع میں ایک  اور ادارے میں پاتا ہوں جس سے دوسرے ملک یا تو بالکل بے خبر ہیں یا  پھر وہ ذرا کمی بیشی کے ساتھ خفیہ طور پر وہاں بھی رائج ہے: یعنی لاٹری۔میں  نے آج تک  اس کی تاریخ نہیں چھانی۔ جانتا ہوں کہ  بڑے بوڑھےمجھ سے  اتفاق نہیں کریں گے۔ اس کے زبردست مقاصد کے بارے میں مجھے اتنا ہی معلوم ہے جتنا علمِ فلکیات سے نابلد کوئی شخص چاند کے بارے میں جانتا ہے۔ میرا تعلق جس چکرا دینے والے علاقے سے ہے وہاں لاٹری  حقیقت کا اساسی عنصر ہے۔ آج تک میں نے اس کے بارے میں اتنا ہی کم غورکیا ہے جتنامرموزدیوتاؤں کے طورطریقوں یا پھر اپنے دل کےبارے میں۔اب بابل اور اس کے محبوب ریتی رواج  سے بہت دور بیٹھا میں  ذرا حیرت کے ساتھ لاٹری اور ان   گستاخانہ قیاس آرائیوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو   ملگجی دھندلکوں میں چھپےپردہ پوش لوگوں کے بڑبڑاتے ہونٹوں پر منڈلاتی رہتی  ہیں۔

ابا کہا کرتے تھے کہ پرانے زمانوں میں  — نہ جانے صدیاں گزر  گئیں؟ یا پھر کئی سال؟  — بابل کی لاٹری گھر گھر میں عام تھی۔(نہ جانے درست ہے یا غلط لیکن) وہ بتایا کرتے تھےکہ  کس طرح حجام تانبے  کے سکّوں کے بدلےکسی آدمی کو  علامتی نقش و نگار سے مزین ہڈیوں یا چرمی کاغذ کےچوکورٹکڑے دے دیتے۔پھر دن نکلتے ہی قرعہ ڈالا جاتا۔قسمت کی دیوی جن پر مہربان ہوتی ، وہ مزید کسی قسمت آزمائی کے  بغیر چاندی کے سکّوں کے حق دار ٹھہرتے۔تم دیکھ ہی سکتے ہو کہ یہ ابتدائی درجے کا ایک اصولی نظام تھا۔

صاف ظاہر ہے کہ ان  نام نہاد ’’لاٹریوں‘‘نے ناکام ہی ہونا تھا۔ اخلاقی وصف تو ان میں نام کو بھی نہ تھا۔تمام تراکتسابی صلاحیتوں کی بجائے صرف  انسانی امید ہی ان  کا ہدف تھی۔عوام کی لاتعلقی  کے باعث جلد ہی وہ تاجر جو ان زرپرست لاٹریوں کے موجد تھے، پیسہ ہارنے لگے۔پھر کسی کوایک نئی اصلاح سوجھی: خوش نصیب اعداد کی فہرست میں کچھ بدبخت ٹکٹ بھی ملا دیے گئے۔ اس اختراع کے باعث اعداد سے منقش گوٹوں کے خریداروں کو اب دونوں صورتوں، یعنی رقم جیتنے  اور ممکنہ طور پرخطیر جرمانہ ادا کرنے کے دہرے امکانات کا کھیل کھیلنا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہلکا سا کھٹکا (ہر تیس   خوش نصیب اعداد کے   مقابل ایک بدبخت عدد  تھا) عوامی دلچسپیاں بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا۔بابل والے جوق در جوق اس کھیل میں حصہ لینے لگے۔لاٹری کا ٹکٹ نہ خریدنے والا ایک پست ہمت، گھٹیا، مہم جوئی کے جذبے سے عاری  انسان  کے طور پر جانا جاتا۔  رفتہ رفتہ یہ باجواز حقارت دگنی ہو گئی۔اب نہ صرف کھیل سے انکاری شخص بلکہ ہارنے اور جرمانہ بھرنے والے  پر بھی لعن طعن کی جاتی۔ کمپنی  (یہ نام انہی دنوں پڑ چکا تھا) کو اُن   جیتنے والوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا جنہیں اس وقت تک انعام کی رقم ادا نہیں کی جا سکتی تھی جب تک جرمانے کی پوری رقم نہ بھر دی جاتی۔یوں ہارنے والوں  کے خلاف  نالش کی روایت پڑی۔جج انہیں جرمانے کی اصل رقم اور  اخراجات بھرنے یا پھر کچھ روز کی  قید کی سزاسنا تا۔کمپنی کو تھوک لگانے کے چکر میں وہ سب قید ہی چنتے۔ چند لوگوں کی اسی خالی خولی اکڑفوں ہی نے کمپنی کو قادرِ مطلق بنا ڈالا اور اسی کارن اس کی مابعدالطبیعیاتی اور کلیسائی قوت کا ظہورہوا۔

کچھ اوروقت گزرا تو لاٹری کی فہرستوں سے جرمانے کی رقوم غائب ہو گئیں اور بس ہارے ہوئے بدبخت اعدادسے منسلک قید کے دن  شائع کیے جانے لگے۔ یہ پُرمغز اختصار پسندی در اصل بنیادی اہمیت کی حامل تھی جو اُن دنوں تقریباً نظروں سے اوجھل ہی رہی۔’’یہ لاٹری میں غیر مالیاتی عناصر کا اولین ظہور تھا۔‘‘  کامیابی کو چار چاند لگ گئے۔ گاہکوں کے پُرزور اصرار پرکمپنی کو بدبخت اعداد کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا۔

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ بابلی علمِ  منطق بلکہ تناسب و تشاکل کےبھی  شیدائی  ہیں۔لہٰذا یہ تو بہت  ہی  غیرمتناسب تھا کہ  خوش نصیبی کو گول سکّوں  اور بدبختی کو قید خانے  کے شب و روز میں شمارکیا جائے۔کچھ اخلاق پرستوں  کا استدلال تھا کہ خوشی کو ہمیشہ روپے پیسے میں نہیں تولا جا سکتا اور خوش بختی کی دوسری شکلیں شاید زیادہ بامعنی ہیں۔

شہر کےجھگی پاڑوں میں ایک اور بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ کلیسائی طبقہ اپنی شرطوں پر دوگنا چوگنا منافع بھی کما رہا تھا اور امید وبیم کی رنگارنگی کے بھی برابرمزے تھے، دوسری طرف غریب غرباء(ایک معقول اوراور ناگزیر رشک کے ساتھ) جانتے تھے کہ انہیں تو اس بدنامِ زمانہ لذیذ مدوجزر سے  یکسرباہر کر دیا گیا ہے۔امیر ہوں یا غریب، تمام عوام کی لاٹری میں برابری کی بنیاد پر شرکت کی جائز خواہش نے اُس غضب ناک شورش کو ہوا دی جس کی یادکئی سال گزرنے کے باوجود محو نہیں ہو سکی۔ چند ہٹیلی روحیں  یہ سمجھ نہ سکیں(یا شاید نہ سمجھنے کا ناٹک کر رہی تھیں) کہ یہ تو ایک نئے نظام یعنی تاریخ کے ایک ناگزیر موڑ کا سوال تھا۔کسی غلام نے ایک قرمزی ٹکٹ چرا لیا تو قرعے  میں  نکلا کہ اس کی زبان جلا دی جائے۔قانون میں لاٹری ٹکٹ چرانے والے کی یہی سزا تھی۔کچھ بابلیوں کا استدلال تھا کہ چوری کے کارن اس شخص کی مناسب سزا جلتا سیسہ تھی، کچھ دوسروں نے یہ فیاضی دکھائی کہ جلاد کی تلوار کو حرکت میں آنا چاہیےکیوں کہ تقدیر کا یہی فیصلہ تھا۔کافی افراتفری پھیلی، خونریزی  کے کچھ ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے، لیکن آخرکار بابل کے باسیوں کی کثیر تعداد طبقۂ  امراء کے تمام تر اختلاف کے باوجود اپنی رائے مسلط کرنے میں کامیاب ہو گئی۔عوام نے اپنی شورش کے بڑے اہداف بخوبی حاصل کر لیے۔ اوّل تو  کمپنی کو  عوامی طاقت کےسامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کرلیا گیا۔ (یہ اتحاد نئے عملی منصوبوں کی وسعت اور پیچیدگی کے باعث ناگزیر تھا)۔دوم، لاٹری کو  خفیہ، مفت اور  عام کر دیا گیا۔منافع کےبدلے پانسوں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔ ایک بار  بعل دیوتا  کےسرِّمعرفت کا طوق پہن لینے کے بعد ہر آزاد شخص خود بخود  ان مقدس قرعہ اندازیوں میں  حصہ لینے  لگتا جوہر ساٹھ  راتوں کے بعد  دیوتا کی پیچاپیچ چیستان گاہ  میں منعقد کی جاتیں اور  اگلی قرعہ اندازی تک اُس شخص کی تقدیر کا فیصلہ کردیتیں۔ نتائج ناقابلِ  شمار تھے۔ ایک خوش بخت کھیل کسی آدمی کوداناؤں کی مجلس میں  کوئی منصب دلوا سکتا یا اُس کے کسی(خفیہ یا کھلم کھلا) دشمن  کو زنداں میں ڈلوا سکتا تھا، یا  پھر اس کے حجرے کی  پُرسکون تاریکی میں یک دم وہ جذبات بھڑکانے والی عورت مل جاتی جس سے اُس نے کبھی  دوسری بار ملنے کا سوچا بھی نہ تھا۔ ایک بُرا کھیل: لنگڑالولاپن،مخصوص رُوسیاہی، موت۔ کبھی کبھار کوئی ایک واقعہ مثلاً زید کا مے خانےمیں قتل یا  بکر کی پُراسرار تجلیل و تقدیس یکے بعد دیگرے تیس چالیس قرعوں کا پُرمسرت نتیجہ ہو سکتا تھا۔ یوں تو بہت سی قرعہ اندازیوں  سے سلسلہ وار ایک ہی نتیجہ نکالنا مشکل تھا ،لیکن نہیں بھولنا چاہیے کہ  کمپنی کے تمام نمائندے قادرِ مطلق اور ہوشیار تھے (اور ہیں)۔کئی صورتوں میں ان کی اعلیٰ وصفی پر اس علمی حقیقت نے سوالیہ نشان بھی کھڑا کیا کہ کچھ خوشیاں محض اتفاقیہ ہیں۔اس رکاوٹ سے  بچنے کے لیے کمپنی کے کارندوں نے کھسرپھسر اور جادو ٹونے کی طاقت کا سہارا لیا۔ان کی چالیں اورداؤ پیچ خفیہ ہوتے۔ہر شخص کی قلبی امیدوں اور خوف  تک رسائی کے لئے ان  کے پاس جوتشی اور جاسوس تھے۔کچھ مخصوص پتھر کے بنے شیر تھے،قافقہ نامی ایک مقدس   پائے خانہ تھا، گرد وغبار سے بھرےایک نالے میں  کچھ ایسے شگاف تھے جو عام خیال کے مطابق ’’کمپنی تک لے جاتے تھے‘‘۔بیربھرے بدخواہ یا خیراندیش لوگ اِن جگہوں پر خفیہ معلومات چھوڑ آتے۔مختلف معیار کی حامل ان  سچی جھوٹی چیزوں کو حروفِ تہجی کے اعتبار سے ایک فائل میں جمع کر لیا جاتا۔

یقین نہیں آتا لیکن شکوے شکایتیں اب بھی تھیں۔ اپنے عمومی صوابدیدی رجحان کے مطابق  کمپنی نے براہ راست  تو کوئی جواب نہ دیا۔اس کی بجائے نقابوں کے ایک کارخانے کے کاڑکباڑ میں وہ مختصر سا بیان گھسیٹ لکھا جو آج کل مقدس صحیفوں میں منقول روایت کے طور پر درج ہے۔ اس اعتقادی نسخے میں نشاندہی  کی گئی   کہ لاٹری  ربطِ کائنات میں  اصولِ احتمال  کی شمولیت ہے اور غلطیاں قبول کرنے کا مطلب ردِّ احتمال نہیں بلکہ توثیقِ احتمال ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ وضاحت بھی پیش کی گئی کہ اس شیر اور مقدس سوراخ وغیرہ کا دھندا  کسی سرکاری پشت پناہی کے بغیر ہی چالو تھا گو کمپنی (مفیدمعلومات کی خاطر ان چیزوں میں تانک جھانک کا حق محفوظ رکھتے ہوئے) ان  سے اظہارِ لاتعلقی نہیں کرتی ۔

اس بیان نے عوام میں بڑھتی بے چینی کو دبا دیا۔ ساتھ ہی ساتھ  کچھ مزید اثرات پیدا ہوئے  جو غالباً راقم  کے خواب وخیال میں بھی نہ تھے۔ کمپنی کے رنگ ڈھنگ ہی بدل  گئے ۔کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا، اعلان ہو رہا ہے کہ جہاز  لنگر اٹھانے والاہے۔ بہرحال میں کچھ نہ کچھ وضاحت کی کوشش کرتا ہوں۔

دیکھیے، خواہ یہ کتنا  ہی انہونا لگے ، اُن دنوں کسی نے بھی  ایک عمومی نظریۂ احتمال وضع کرنے کی کوشش نہ کی تھی۔بابلی کچھ خاص قیاس آرائیاں کرنے والے نہیں ہوتے۔وہ قسمت کے لکھے  کو بڑا مانتے ہیں، اپنی زندگیوں، امیدوں، پریشانیوں کے معنی  لوحِ تقدیر ہی سے اخذ کرتے ہیں،لیکن انہیں کبھی  یہ خیال   ہی نہیں آیا کہ قسمت کے گھن چکرقوانین یا ان  کی  پردہ کشائی  کرنے والے گھماؤ کرّوں کی تہہ میں اترنے کی کوشش کریں۔ خیر پھر بھی  وہ نیم سرکاری بیان جس کا میں نے ذکر کیا ریاضیاتی جہت کے کئی قانونی مباحث کا محرک بنا۔ ان میں سے کچھ مباحث سے مندرجہ ذیل قیاس برآمد ہوا: اگر لاٹری اتفاق و احتمال کی افزونی شکل، یعنی کائنات میں بے ربطی  کا ایک سلسلہ وار نفوذ ہے تو پھر کیا ایسا نہیں کہ احتمال کو  قرعہ اندازی کےکسی ایک درجے میں نہیں بلکہ تمام درجات میں دخل اندازی کرنی چاہیے؟کیا عجب مضحکہ خیزی ہے کہ  ایک انسان کی موت کا  فیصلہ تو تقدیر کا اتفاقیہ قلم صادر کرے لیکن اس موت کے حالات میں، خواہ وہ مخفی ہوں یا سرعام، خواہ مدت کا تعین ایک گھنٹہ ہو یا ایک صدی  ، اتفاق و احتمال کا کوئی عمل دخل ہی نہ ہو؟  اس قسم کے معقول اعتراضات باالآخر ایک جامع اصلاح کا  باعث بنے، جس کی(صدیوں کے عمل دخل کے بعد مزید بڑھ جانے والی) پیچیدگیاں مٹھی بھر خواص ہی کی دسترس میں ہیں، لیکن چاہے علامتی طور پر ہی سہی،  میں ان  کی کچھ نہ کچھ تلخیص کی کوشش کروں گا۔

آئیے ایک ایسا اولین قرعہ فرض کیے لیتے ہیں جس کے ذریعے  کسی شخص کو موت سنائی گئی۔ اب اس فیصلے پر عمل کی خاطر ایک اور قرعہ ڈالا گیا جس کے نتیجے میں (باالفرض)نو  عددممکنہ جلاد تجویز کر دیے گئے۔ ان  جلادوں میں سے چار ایک تیسری قرعہ اندازی کے ذریعے اپنے درمیان کسی ایک کا نام متعین کر سکتے ہیں، دو کے لیے یہ نحس حکم کسی خوش بختی (جیسے بالفرض کسی خزانے کی تلاش)سے بدلا جا سکتا ہے، ایک کے ذمے سزائے موت کی شدت میں اضافے(جیسے مرنے والے کی ذلت و رسوائی یا دورانِ سزا تشددوغیرہ) کا  فریضہ ہے، بقیہ دو کو بس خود ہی انکار کی اجازت دے دی جاتی ہے۔یہ ایک علامتی سی منصوبہ بندی ہے۔اصلاً تو’’قرعہ اندازیوں کی تعداد لامتناہی ہے۔‘‘ کوئی بھی فیصلہ حتمی نہیں بلکہ آگے سے آگے دوسری شاخوں میں بٹ جاتا ہے۔ مورکھ اگیانی  اپنےاناڑی پن میں یہی خیال کرتے ہیں کہ لامتناہی قرعہ اندازیاں  لامتناہی وقت کا تقاضا کرتی ہیں حالانکہ دراصل بس یہی کافی ہے کہ وقت کی لامتناہی تقسیم ممکن ہو،جیسا کہ کچھوے دوڑ والی مشہور حکایت ظاہر کرتی ہے۔یہ لامتناہیت احتمالات کی بل کھاتی تعداد اور فلاطونیت پسندوں کو محبوب، لاٹری کی سماوی بناوٹ کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ ٹھہرتی ہے۔غالباً ہمارے  ریتی رواج کی کوئی اینٹھی ہوئی گونج دریائے تیبر میں سنائی دی ہے:ایلیس لامپریدس  اپنی کتاب’’حیاتِ انتونیوس ہیلیوگیبولس‘‘ [6]میں  ایک بادشاہ کا ذکر کرتا ہے جو سیپیوں کے ذریعے اپنے مہمانوں کے درمیان قرعہ اندازی کیا کرتا تھا کہ کسی کو دس پاؤنڈ سونا عطا کر دیا جائے،کسی کو دس مکھیاں، کسی کو دس گلہری چوہے، کسی کو دس ریچھ، وغیرہ وغیرہ۔اس یاددہانی میں کوئی قباحت نہیں کہ ہیلیوگیبولس ایشیائے کوچک میں نام دہندہ دیوتا کے پروہتوں کے بیچ  پلا بڑھا تھا۔

غیر شخصی قرعہ اندازیاں بھی ہیں جن کا مقصد واضح نہیں۔ ایک قرعہ نکلتا ہے کہ تاپروبانا[7] کا ایک یاقوت  فرات کے پانیوں کے سپرد کر دیا جائے، ایک اور کہ فلاں پرندے کو فلاں مینار کی چوٹی پر سے آزاد کر دیا جائے،ایک اور کہ ساحل پر موجود ریت کے بے شمار ذروں میں ہرایک صدی کے بعدایک ذرے کی کمی(یااضافہ) کر دیا جائے۔کبھی کبھار اس کے نتائج بھیانک ہوتے ہیں۔

کمپنی کے فیاضانہ اثرورسوخ کے باعث ہمارے ریت رواج احتمال سے لبریز ہیں۔مۓ دمشق کی ایک درجن صراحیوں کا  خریدار ہرگز حیران نہیں ہو  گا اگر کسی ایک میں سے کوئی تعویز یا سانپ نکل آئے۔شاذونادر ہی ایسا  ہوتا ہے کہ معاہدہ لکھنے والا کاتب بیچ میں کوئی نہ کوئی غلط معلومات درج کرنے سے چُوک جائے۔خود میں نے بھی اس  عجلت  پسند بیان بازی میں  شامل کسی  نہ کسی تابناک حقیقت، کسی نہ کسی ظلم و جبر میں غلط ردّوبدل کیا ہے۔بلکہ شاید کسی پُراسرار یکسانیت کو بھی الٹ پلٹ کر رکھ دیاہو۔ ہمارے مؤرخوں نے، جو روئے زمین پر زیرک ترین ہیں، تعدیلِ احتمال کا ایک طریقہ ایجاد کیا ہے۔اس طریقے کے اطلاقات(عمومی) طور پر قابلِ اعتماد مانے جاتے ہیں لیکن قدرتی طور پر  انہیں سامنے لانے میں یقیناً کسی نہ کسی قدر فریب کاری برتی جاتی ہے۔ پھر واقعہ یہ بھی ہے کہ کمپنی کی تاریخ سے زیادہ افسانوی ملاوٹ کسی چیز میں نہیں کی گئی۔عین ممکن ہے کہ کسی مندر سے کھدائی میں ملنے والا کوئی قدیم دستاویزی پارچہ ابھی کل ہی کی یا کسی  زمانوں پرانی لاٹری کا نتیجہ ہو۔ کوئی ایسی  کتاب شائع نہیں ہوتی جس کے ایک ایک نسخے کے درمیان کوئی نہ کوئی تضاد نہ ہو۔کاتبوں نے بھول چُوک، تحریف، تبدیلی کا خفیہ حلف اٹھا رکھا ہے۔پُرفریب دروغ گوئی بھی سکھائی جاتی ہے۔

کمپنی، الوہی عجز سے سرشار، ہر قسم کی شہرت  سے دامن بچاتی ہے۔ اس کے کارندے تو قدرتی طور پر  خفیہ ہیں ہی، احکام  بھی جو وہ مسلسل( یاشایدابدی طور پر) دیتی آئی ہے،ان  سے بالکل مختلف  نہیں جو پاکھنڈی نقال دل کھول کر دیتے ہیں۔
پھر آخر ایسا  بھی کون شیخی مار ہے جو محض نقالی کا ڈھنڈورا پیٹتا پھرے؟ کیا  وہ شرابی جو کسی لایعنی حکم میں ردّوبدل کر دے؟ کیا وہ خوابیدہ شخص جو اچانک جاگ کر پہلو میں لیٹی عورت کا گلا دبا دے؟ کیا ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ کمپنی ہی کے کسی خفیہ فیصلے پر عمل کر رہے ہوں؟ خدا سے ملتی جلتی اس قسم کی خاموش کارگزاری رنگ برنگی قیاس آرائیوں کو دعوت دیتی ہے۔کوئی بدزبان یہ گھناؤنی شہ دیتا ہے کہ کمپنی کا تو صدیوں سے کوئی وجود ہی نہیں اور ہماری زندگیوں کی مقدس بے ربطی خالصتاً موروثی  روایت سے چلی آتی ہے۔ایک اور اس پر دائمی  ہونے کا حکم لگاتے ہوئے یہ سبق پڑھانے لگتا ہے کہ یہ اُس شبِ آخر تک قائم ودائم رہے گی جب تک آخری  دیوتا  زمین کو نیست و نابود نہیں کرڈالتا ۔ ایک اور  کا یہ کہنا ہے کہ کمپنی قادرِ مطلق ہے لیکن صرف ننھی ننھی چیزوں پر ہی اثراندازہوتی ہے: کسی پرندے کی چیں چیں، زنگ آلودگی اور  گردوغبار کے مبہم نقوش، صبح تڑکے  ادھ بُنے خواب۔پردہ پوش زندیقوں کے ایک گُرو سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ’’کمپنی کا  نہ تو سرے سے کوئی وجود تھا اور  نہ ہی کبھی ہو گا۔‘‘ ایک اور استدلال جو اپنی خباثت میں کسی صورت کم نہیں یہ بھی ہے کہ اس  مبہم تنظیم کی حقیقت کے اثبات و انکار سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا  کیوں بابل اتفاق و احتمال کی ایک لامتناہی بازی سے زیادہ کچھ نہیں۔
 

 

[1]  یعنی سامی  ابجد کا دوسرا حرف  جس کی عربی شکل ’ب‘ ہے، اور اس کی عددی قیمت دو ہے۔
[2]  یعنی  سامی ابجد میں  تیسرا حرف یا ’ج‘۔
[3] Heraclides-Ponticus
[4] Pyrrhus
[5] Euphorbus
[6] The-Life-of-Antoninus-Heliogabal
[7] Taprobana
Recommended Posts

Leave a Comment

Jaeza

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search